ٹیوب کا راز - حنا نرجس

شام تک بالآخر سب ہی اپنی سی کوشش کر کے ہار مان چکے تھے. اب انہیں انتظار تھا بڑے تایا ابو کا جو دفتر سے واپس آ کر اس معمے کو حل کرتے. عمر نے ایک کوشش اور کرنے کی غرض سے ٹوتھ پیسٹ پھر سے اٹھا لی. ایک بار پھر ہر ہر زاویے سے اسے جانچا، پرکھا اور پھر سے دبا کر دیکھا. ٹوتھ پیسٹ تو یقینی طور پر اس کے اندر موجود تھی لیکن سوال یہ تھا کہ اس کو کھولنا کیسے ہے.

آج جب دوپہر کو بڑے تایا ابو کھانا کھانے کے لیے گھر آئے تو اپنے معمول کے خلاف خود بچوں کے کمرے میں چلے آئے. یہ ہال نما مشترکہ کمرہ سب بچوں کی پسندیدہ جگہ تھی. جہاں کچھ پڑھاکو بچے دل جمعی سے ہوم ورک کر رہے ہوتے تو کچھ دوسرے کیرم بورڈ اور لڈو کھیل رہے ہوتے. دوپہر اور رات کے کھانے کے علاوہ جب جب بھوک لگتی، بچے فرج اور باورچی خانے سے اپنی من پسند چیزیں لا کر یہیں بیٹھ کر کھاتے، اس لیے کچھ خالی پلیٹیں، پیالیاں اور گلاس ہمہ وقت یہاں پائے جاتے. بچے تھک جاتے تو یہیں سستا لیتے. لڑکیاں گھر گھر کھیلنے اور سوئی دھاگے کی مدد سے گڑیا کے کپڑے سینے کا کام بھی یہیں کرتیں.

عبدالرحیم صاحب کے تین بیٹے مشترکہ خاندانی نظام کے تحت اپنی بیویوں اور بچوں سمیت اس کشادہ مکان میں رہائش پذیر تھے. بچوں بڑوں کی ایک دوسرے سے محبت اور اتفاق مثالی تھا. سب کے دلوں کو جوڑ کر رکھنے میں دادا ابو اور دادی اماں کا وہی کردار تھا جو اینٹوں سے بنے مکان میں سیمنٹ کا ہوتا ہے.

بچوں کی ماؤں میں سے بھی کوئی نہ کوئی اکثر کوئی کام لے کر اسی بڑے کمرے میں آ بیٹھتیں لیکن گھر کے مردوں کا اس طرف آنا کم ہی ہوتا. ہاں، چھوٹے چچا کبھی کبھار بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لیے یہاں آ جاتے.

آج بڑے تایا ابو کھانا کھا کر اپنے کمرے میں جانے کے بجائے یہاں چلے آئے تو بچوں کی حیرت بجا تھی. بچے ان سے پہلے ہی کھانا ختم کر کے یہاں آ چکے تھے اور اپنی اپنی سرگرمیوں میں مگن تھے. اب وہ اپنے مشاغل عارضی طور پر ترک کر کے سیدھے ہو بیٹھے. تایا ابو کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ وہ اچھے موڈ میں ہیں. بچوں نے سلام کیا. وہ جواب دے کر کیرم بورڈ کھیلتے طلحہ اور اسامہ کے نزدیک قالین پر بیٹھ گئے. انہیں کھیل جاری رکھنے کو کہا اور کچھ دیر تک ان کا کھیل دلچسپی سے دیکھتے رہے. پھر سب بچوں سے ان کی پڑھائی کے متعلق دریافت کیا. بچے قدرے ریلیکس ہو گئے تو انہوں نے اپنے ویسٹ کوٹ کی جیب سے ایک چیز نکالی. اپنے ہاتھ میں پکڑے پکڑے اسے سب بچوں کو دکھاتے ہوئے پوچھا،
"یہ کیا چیز ہے، بچو؟"

"ٹوتھ پیسٹ!!!" بچوں کا جواب مشترکہ تھا.

"ہاں، صحیح کہا تم لوگوں نے. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں اسے کھول نہیں پا رہا. لگتا ہے بنانے والے نے کوئی ہوشیاری دکھائی ہے. تم میں سے کوئی میری مدد کرے گا؟"

جھجھک ایک جانب رکھتے ہوئے بچے آگے بڑھے. سب نے باری باری طبع آزمائی کی. ایک نے ڈھکن کو دائیں جانب گھمایا تو دوسرے نے بائیں جانب گھما کر کھولنے کی کوشش کی. کسی نے نیچے کی جانب سے کھولنے کی راہ تلاش کرنا چاہی تو کسی نے دبا کر چیک کیا کہ شاید کوئی خفیہ میکینزم اندر موجود ہو اور دبانے سے خود کار طریقے سے ڈھکن کھل کر ٹوتھ پیسٹ نکل آتی ہو اور پھر خود بخود ڈھکن بند ہو جاتا ہو. ضیاء کو کچھ شک گزرا تو وہ دروازے کے قریب جا کر ٹیوب کو روشنی کے سامنے کر کے اس کے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگا. وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ٹوتھ پیسٹ اس کے اندر موجود ہے بھی یا نہیں. ٹوتھ پیسٹ سچ مچ موجود تھی کیونکہ روشنی کے سامنے پکڑنے سے وہ حد بندی صاف واضح ہو رہی تھی جو ٹوتھ پیسٹ کی بلند ترین سطح کی نشاندہی کر رہی تھی. ڈھکن کے قریب ٹیوب کا بقیہ حصہ مختلف رنگت کا حامل تھا اور خالی لگتا تھا.

سب مختلف بولیاں بول رہے تھے. ایک سے بڑھ کر ایک اندازے لگائے جا رہے تھے. بڑے تایا ابو نے بچوں کی دلچسپی اور جوش و خروش دیکھتے ہوئے کہا،
"ٹھیک ہے تم لوگ کوشش جاری رکھو. پھر رات کو ملتے ہیں ان شاء اللّٰہ. ابھی مجھے دفتر واپس جانا ہے.

بچوں کی ساری شام انہی کوششوں اور اندازوں کی نذر ہو گئی. ایک ایک کر کے تقریباً سب بچوں نے ہار مان لی اور اب تایا ابو کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگے.

عشاء کے بعد تایا ابو کے موٹر سائیکل کا ہارن بجا تو لڑکے گیٹ کھولنے کو دوڑے. لڑکیاں بھی باہر صحن میں نکل آئیں. تایا ابو کو گیٹ کے قریب ہی گھیر لیا گیا.

"ہاں بچو، کچھ معلوم ہوا، کیسے کھلے گی یہ ٹوتھ پیسٹ؟"

"نہیں، ہم سے تو نہیں کھل سکی. بچوں کے چہرے لٹکے ہوئے تھے.

" اچھا، لاؤ مجھے دکھاؤ."
حمزہ نے فوراً ٹیوب تایا ابو کے ہاتھ میں دے دی.

" بات یہ ہے، بچو... کہ... کہ... کہ... دراصل یہ ٹوتھ پیسٹ... کھلنے کے لیے بنائی ہی نہیں گئی..!" وہ متبسم لہجے میں ڈرامائی انداز اختیار کرتے ہوئے بولے.

"اوہ!!!"
"کیا!!!"
"ہم نے اس طرح تو سوچا ہی نہیں!!!"
حیرت اور تشویش سے پُر ملی جلی آوازیں بلند ہوئیں. بچوں کو افسوس اور شرمندگی بھی ہوئی کہ ہم اتنی آسانی سے بیوقوف بنا لیے گئے. ہلکا ہلکا غصہ بھی آ رہا تھا خود پر کہ عقل کے گھوڑے تھوڑے مزید دوڑا لیتے تو شاید اس راز کو پا ہی لیتے.

" یہ دراصل ایک پیپر ویٹ ہے جو میز پر رکھنے کے لیے اصل ٹوتھ پیسٹ کی مشہوری کی خاطر ڈمی کے طور پر بنایا گیا ہے." تایا ابو نے بتایا.

اب بچوں نے غور کیا تو واقعی ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کی ایک سائیڈ تھوڑی چپٹی سی تھی تاکہ میز پر بآسانی ٹک سکے. بچوں کا دھیان اس جانب اس لیے بھی نہیں جا سکا کہ انہیں اپنے سنجیدہ سے بڑے تایا ابو سے کسی شرارت کی توقع نہیں تھی. اور پھر یہ واقعہ بھی تو اس عہد کا ہے جس کے بچے ابھی چالاک نہیں ہوئے تھے..!

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.