بلوچستان، اپنوں کی حماقت، دشمنوں کی سازشیں - ابومحمد

بلوچستان کی تاریخ اتنی قدیم ہے کہ سات ہزار قبل مسیح کے زمانہ کی آبادی و ثقافت کے نشانات بھی ملے ہیں۔ سکندر اعظم سے پہلے یہ خطہ قدیم ایرانی حکمرانوں کے زیر تسلط تھا۔ ابتدائے اسلام میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ سے سہیل ابن عادی کو بلوچستان کرمان تک اسلام کی روشنی پھیلانے بھیجا، جو کہ کرمان کی فتح کے بعد کرمان کے گورنر بنے۔ سلطان محمود غزنوی، غوری حکمرانوں کے بعد بارھویں صدی تک پورا بلوچستان اسلام کی روشنی سے منور ہو چُکا تھا۔ قدیم بلوچستان کا کُل رقبہ تقریبا 600975 یعنی چھ لاکھ اسکوائر کلومیٹر بنتا ہے، جو پچھلے کئی سو سال سے مختلف ممالک کے درمیان منقسم ہے۔

شمالی بلوچستان جو کہ پاکستان کے مغرب میں ایران کے جنوب مشرقی سمت اور افغانستان کا جنوب مغربی حصہ ہے۔ یہ افغانستان کے نیمروز صوبے، ہلمند اور قندھار کے جنوبی حصے میں واقع علاقہ ہے، اور تقریبا 72000 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بنتا ہے۔ یہاں بلوچوں کی کُل آبادی قریبا چھ لاکھ کے لگ بھگ ہے، جس میں چار لاکھ بلوچی بولنے والے اور دو لاکھ بروہی بولنے والے شامل ہیں، بلوچ اکثریت نیمروز جبکہ بروہی اکثریت قندھار میں رہتی ہے۔ تاریخی طور پر منگولوں کی طالع آزمائی (جو بعد میں منگول کہلائے) نے بلوچستان کے اس حصہ کا مستقبل قندھار کی حکمران قوت سے مستقل جوڑ رکھا ہے۔

ایران کے زیر تسلط بلوچستان کا حصہ ایران کے اکتیس صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے، جسے "استان سیستان و بلوچستان" کہا جاتا ہے، اس کا کُل رقبہ 181785 مربع کلومیٹر ہے۔ اس میں زابل، زاہدان، جالق، سراوان، سوران، نیک شہر، بزمان، خاش، نگور، کنارک، میر جاوہ اور چاہ بہار کے شہر شامل ہیں۔ اس صوبہ کی آبادی ڈھائی ملین یعنی تقریبا پچیس لاکھ کے قریب ہے اور اوائل اسلام سے ہی عرب حکمرانوں کی تبلیغ اور حکومت میں رہنے کی وجہ سے بلوچ اکثریت سنی مسلمان ہیں۔ برصغیر پر طویل برطانوی راج کے دوران برطانیہ اور ایران نے بلوچستان کو مشرقی اور مغربی بلوچستان کے دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ مغربی بلوچستان ایران کے زیر تسلط جبکہ مشرقی بلوچستان انگریزوں کے نمائندے قبائلی سرداروں کے کنٹرول میں آ گئے۔

بیسویں صدی کی ابتدا میں مغربی بلوچستان میں بلوچ سردار حسین نوری بلوچ نے ایرانی بادشاہوں کے خلاف سر اٹھانا شروع کر دیا، جسے برطانیہ اور ایران کی مشترکہ طاقت سے کچل دیا گیا۔ 1920ء میں میر دوست محمد خان بلوچ نے یہاں بلوچستان پر کنٹرول حاصل کیا اور "شاہ بلوچستان" کا لقب اختیار کیا، لیکن 1928ء میں رضا شاہ ایران کا بادشاہ بن گیا جس نے برطانیہ کی مدد سے کارروائی کر کے جلد ہی میر دوست محمد خان بلوچ کو گرفتار کر کے اسے تہران میں پھانسی دے دی، لیکن بلوچوں نے برطانیہ یا ایران دونوں کی بالادستی کبھی نہ تسلیم کی۔ ایران کے زیر تسلط بلوچ صوبے "استان سیستان و بلوچستان" میں ایک صدی سے جدوجہد آزادی جاری ہے، ایرانی جنداللہ اور اس کے سربراہ عبدالمالک ریگی نے ایک عرصہ تک ایرانی حکومت کو ناکوں چنے چبوائے رکھے، اور پورے ایران میں کارروائیاں کیں۔ بالآخر 23 فروری 2010ء کو ایران نے جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو گرفتار کر اسے بھی میر دوست محمد خان بلوچ کی طرح 20 جون 2010ء کو تہران میں سزائے موت دے دی۔

مشرقی بلوچستان میں قیام پاکستان کے وقت برطانیہ کے زیر تسلط علاقے جو کہ بعد میں پاکستان میں شامل ہوئے قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران جیسی ریاستوں پر مشتمل تھے۔ یہ ریاستیں باقاعدہ طور پر مشرقی بنگال، سندھ، پنجاب، اور سرحد کی طرح انگریزوں کی سلطنت میں شامل نہیں تھیں بلکہ ان پر انگریزوں کے نمائندے نگران تھے۔ پاکستانی بلوچستان کا کُل رقبہ 347190 اسکوائر کلومیٹر ہے، بلوچستان نہ صرف رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، بلکہ محل وقوع کے لحاظ سے بھی اہم ترین صوبہ ہے۔ اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خیبر پختونخوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران کے ساتھ 832 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔

مشرقی بلوچستان کے عوام تاریخی طور پر بلوچ سرداروں کے زیردست رہے، اپنے ہاں جمہوریت کو پروان چڑھانے والے برطانوی راج نے بلوچستان میں اسی سرداری نظام اور سوچ کو مزید مضبوط کیا جس سے انہیں عوام کے بجائے چند سرداروں سے معاملات کرنے پڑتے۔ بلوچستان کے عوام تحریک پاکستان کے پُرجوش حامی تھے، اس کے صوبائی چیف کمشنر اور چار ریاستوں نے 29 جون 1947ء کو پاکستان کا انتخاب کیا۔ لیکن مکران، لسبیلہ اور خاران کے برعکس چوتھی ریاست قلات نے بوقت تقسیم قلات کی آزادی کا مطالبہ کیا جس پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ تقسیم کے معاہدے کے تحت برطانیہ کی زیر تسلط ریاستوں کو ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ اس پر خان آف قلات احمد یار خان نے پہلے ہندوستان سے رابطہ کیا، لیکن ہندوستان نے ریاست قلات کو شاید اس وجہ سے قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ ریاست پاکستانی بلوچستان کے قلب میں واقع تھی۔ ہندوستان کے لیے یہ کبھی بھی ممکن نہ ہوتا کہ اس ریاست پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکے۔ ہندوستان کے انکار کے بعد 27 مارچ 1948ء کو خان آف قلات نے غیر مشروط طور پر پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

پاکستانی بلوچستان میں عسکریت پسندی کا آغار تب ہوا جب خان آف قلات کے اعلان کے ساتھ ہی خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم نے اپنے ہی بھائی سے بغاوت کر دی اور پاکستانی فوج پرگوریلا حملے شروع کر دیے۔ یہ حملے 1950ء تک جاری رہے حتی کہ حکومت پاکستان نے اسے اس کا لقب رکھنے کی اجازت دے دی، جو کہ 1956ء کے آئین میں ون یونٹ قائم بنانے تک رہی۔ لیکن شہزادہ عبدالکریم فتنوں کا دروازہ کھول چُکا تھا، اب بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اس کے بعد بلوچ سرداروں نے ہر بات پر ہتھیار اٹھا لینے کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ 1956ء کے آئین میں ون یونٹ قائم کیا گیا، اس کے تحت صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ تمام صوبوں کو صوبائی حیثیت کے بجائے ایک یونٹ کی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن دیگر صوبوں کے برعکس بلوچ سردار نواب نوروز خان نے 1958ء سے 1959ء کے دوران ریاست پاکستان سے گوریلا جنگ جاری رکھی۔ ان کے دو مطالبے تھے، ایک تو ون یونٹ توڑا جائے اور دوسرا بلوچستان سے نکلنے والی گیس کی رائلٹی "بلوچ سرداروں" کو دی جائے۔ انہوں نے گوریلا جنگ میں افواج پاکستان پر حملے کیے، بالآخر پاکستانی فوجیوں کے قتل کے الزام میں اس کے خاندان کے پانچ افراد کو پھانسی دی گئی، جبکہ نواب نوروز خان نے قید کے دوران وفات پائی۔

جہاں بلوچ سرداروں نے اس بغاوت سے ملک کو نقصان پہنچایا، وہاں وفاقی سطح پر جمہوری اور فوجی حکمرانوں نے بھی ناعاقبت اندیشی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بلوچستان کے مسئلے کو صرف عسکری طور پر "دبایا" گیا، اور اس کے انتظامی، معاشی اور جمہوری پہلو کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ 1960ء کے بعد بجائے یہ کہ عسکریت پسندی کی کمر کو سیاسی اور عوامی میدان میں توڑ دیا جاتا، اس میں مزید تیزی آ گئی۔ 1960ء تک دیگر بلوچستان ان باغیوں کے ساتھ نہ کھڑا تھا، لیکن اس کے بعد یہ عسکریت پسندی پھیلتی گئی۔ وفاقی حکومت کے ایماء پر پاکستان فوج نے بلوچستان میں کئی چھاونیاں بنائیں، تو شیر محمد بجارانی مری نے 1963ء سے 1969ء تک ریاست کے خلاف گوریلا جنگ لڑی اور اسے مینگل، مری اور بگٹی قبائل کے زیر تسلط 72 ہزار اسکوائر کلومیٹر کے رقبے تک پھیلا دیا۔ اس کے نتیجے میں فوج نے 1969ء میں مری قبائل کے زیر قبضہ علاقے تباہ کر دیے اور یہ گوریلا جنگ اس شرط پر تھمی کہ جنرل یحیی خان نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے 1970ء میں ون یونٹ توڑ دیا، جس سے بلوچستان سمیت چاروں صوبوں کو ان کے نام سے شناخت مل گئی، لیکن اب بھی بلوچستان کے عوام کی معاشی بہتری کے لیے خاطر خواہ انتظامات کرنے کے بجائے چند سرداروں ہی کو مطمئن کیا جاتا رہا۔

1973ء میں جب بھٹو نے بلوچستان کی جمہوری صوبائی حکومت کو ختم کیا تو بلوچستان کے میر ہزار خان رمخانی نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کی بنیاد رکھی، جس میں بڑی تعداد میں مری اور مینگل قبائل کے لوگ شامل تھے، انھوں نے وفاقی حکومت کے خلاف گوریلا جنگ شروع کر دی، جس پر ملٹری آپریشن کرنا پڑا۔ اس آپریشن میں جہاں 400 کے قریب فوجی جاں بحق ہوئے وہاں 7300 سے 9000 کے درمیان بلوچ عسکریت پسند اور شہری بھی اپنی جانوں سے گئے، عسکریت پسندی کی یہ لہر بھی دبا تو دی گئی لیکن اس بار بھی بلوچ عوام کے دل جیتنے کو کوئی خاطر خواہ سیاسی اور معاشی پیکج نہ دیا گیا۔ دوسری طرف وہی ہندوستان جو کہ بوجوہ قلات کو لینے سے انکاری تھا، ان عسکریت پسندوں کی براستہ افغانستان مسلح امداد کرتا رہا۔ اس پس منظر میں جہاں بلوچ قوم تین ممالک میں بٹی ہوئی ہے، یہ بہت آسان تھا کہ باغی سرداروں کو ساتھ ملا کر گریٹر بلوچستان کے ایجنڈے کو سپورٹ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کی سیاسی ماحول کی بحالی، ہم سب کی ذمہداری - گہرام اسلم بلوچ

اوائل ایام سے ہندوستان سے تجارتی اور عسکری تعلقات رکھنے والا ایران اسی رشین بلاک کا حصہ تھا، جس کا دم ہندوستان بھرتا رہا، جبکہ پاکستان روس کے افغانستان حملے اور اس کے خلاف مزاحمت سے پہلے بھی امریکی بلاک میں رہا۔ جب تک ایرانی بلوچستان میں مزاحمتی تحریک چلتی رہی، ایران پاکستان کو اس کے لیے مورد الزام بھی ٹھہراتا رہا، لیکن مشترکہ مفادات کے تحت بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان حکومت کی مدد بھی کرتا رہا، لیکن عبدالمالک ریگی کو پکڑ کر سزائے موت دینے کے بعد سے ایران اس مشترکہ مفاد سے بھی آزاد ہو گیا۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں دوسری اور بڑی دراڑ تب پڑی جب پاکستان نے گوادر بندرگاہ کو آپریشنل کرنے کی تیاری شروع کی۔ بلوچستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، یہاں سے ان پر گرم پانیوں تک رسائی اور بین الاقوامی تجارت کے دروازے کھل جاتے ہیں جبکہ ایران سیستان میں ہندوستانی مدد سے چاہ بہار بندرگاہ بنا رہا ہے اور اس کے ذریعے وسط ایشائی ممالک کی تجارت کا خواہاں ہے۔ ہندوستان اور ایران کے اس مشترکہ مفاد میں پاکستان اور سی پیک سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ حقیقت بھلا کیسے فراموش کی جا سکتی ہے کہ یہ چاہ بہار ہی وہ شہر ہے جہاں ہندوستانی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا بیس کیمپ تھا، کلبھوشن بارہا ایرانی سرحدی محافظوں کی پناہ میں پاکستان کا بارڈر کراس کرتا، اور انھی بلوچ عسکریت پسندوں کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کراتا رہا۔ ایران میں کلبھوشن جیسے ہندوستانی دہشت گردوں کے بیس کیمپ اس بات کا واضع ثبوت ہیں کہ بلوچستان کی آزادی کے نام پر اٹھنے والے عسکریت پسند ہندوستان اور ایران کے مشترکہ مفادات کے ہاتھوں اغوا ہو چُکے ہیں۔ ان دونوں ہمسایہ ممالک کی پاکستان میں مہم جوئی کا ایک اور ثبوت حال ہی میں گرفتار ہونے والے عزیر بلوچ کے انکشافات بھی ہیں۔ عزیر بلوچ نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ایک بااثر ایرانی شخصیت حاجی ناصر نے ایرانی انٹیلی جنس افسر سے ملاقات کرائی. ایرانی انٹیلی جنس کے اس افسر نے عزیر بلوچ کو اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے پاکستانی فوج سے متعلق کچھ خاص معلومات حاصل کرنے کا ٹاسک دیا. اسی افسر نے عزیر بلوچ کو ایرانی شہریت اور ایرانی پاسپورٹ بھی لے کر دیا، جو کہ بعد ازاں عزیر بلوچ سے برآمد ہوا. عزیر بلوچ کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ 14 ساتھی تھے جن میں سے 6 اس وقت بھی چاہ بہار میں موجود ہیں، اور ایرانی مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہیں. عزیر بلوچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں انھیں ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ را کی طرف سے بھی ہدایات ملتی تھیں۔ نہ صرف ان عسکریت پسندوں سے پاکستان سے ایران آنے جانے والے زائرین پر حملے کرانا اس شیطانی مہم کا حصہ تھا بلکہ حال ہی میں تربت میں ہونے والی دہشت گردی بھی اسی اتحاد کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں صوبائی اور مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو نقصان پہنچا کر عوامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا سوچنے والے کل بھی ناکام ہوئے ہیں اور ان شاءاللہ آئندہ بھی ناکام ہوں گے۔