عقل کا دائرۂ کار اور اسلام - مفتی محمد تقی عثمانی

زیرِ نظر مضمون عقل اور اس کے دائرۂ کار، شرعی احکام میں عقل کے استعمال کی حیثیت و حدود، نظامِ زندگی و حکومت کو شریعت کے تابع کرنے کی ضرورت کیوں ہے اور اس کے نفاذ کا طریقہ کار کیا ہو؟ اور اجتہاد کی گنجائش اور اس کی حدود پر ممتاز عالمِ دین اور بجا طور پر نہ صرف پاکستان بلکہ تمام عالمِ اسلام کے بطلِ جلیل مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ایک انتہائی پُر مغز تقریر پر مبنی ہے اور جیسا کہ شروع کے الفاظ سے ظاہر ہے، کسی اکیڈمی کے طلباء سے ان کا یہ خطاب ہے۔ میں نے یہ مضمون ان کی تحاریر و تقاریر کے دس جلدوں پر مبنی ضخیم مجموعے "اسلام اور ہماری زندگی" جو آجکل میرے زیرِ مطالعہ ہے، میں پڑھا تو افادیت کے پیشِ نظر اسے کمپوز کرکے یہاں بھی ممبران کے مطالعے کے لیے پیش کررہا ہوں۔ امید ہے کہ اس کا مطالعہ بہت سے شبہات و مغالطوں کے ازالے کے لیے مفید رہے گا ان شاء اللہ (احمد غزنوی)

عقل کا دائرۂ کار

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم و علیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اما بعد، میرے لیے اس اکیڈمی کے مختلف تربیتی کورسوں میں حاضری کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی جو تربیتی کورس منعقد ہوتے رہے ہیں، ان سے بھی خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس مرتبہ مجھ سے یہ فرمائش کی گئی کہ میں "اسلامائزیشن آف لاز" (Islamisation Of Laws) کے سلسلے میں آپ حضرات سے کچھ گفتگو کروں۔ اتفاق سے "اسلامائزیشن آف لاز" کا موضوع بڑا طویل اور ہمہ گیر ہے اور مجھے اس وقت ایک اور جگہ بھی جانا ہے، اس لیے وقت بھی مختصر ہے۔ لیکن اس مختصر سے وقت میں "اسلامائزیشن آف لاز" کے صرف ایک پہلو کی طرف آپ حضرات کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

"بنیاد پرست" ایک گالی بن چکی ہے

جب یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ ہمارا قانون، ہماری معیشت، ہماری سیاست یا ہماری زندگی کا ہر پہلو اسلام کے سانچے میں ڈھلنا چاہیے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ڈھلنا چاہیے؟ اس کی کیا دلیل ہے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ آج ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جس میں سیکولر تصورات (Secular Ideas) اس دنیا کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور یہ بات تقریباً ساری دنیا میں بطور ایک مسلمہ مان لی گئی ہے کہ کسی ریاست کو چلانے کا بہترین سسٹم سیکولر سسٹم (Secular System) ہے اور اسی سیکولر ازم (Secularism) کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاست کو کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں دنیا کی بیشتر ریاستیں بڑی سے لے کر چھوٹی تک، وہ نہ صرف یہ کہ سیکولر (Secular) ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں بلکہ اس پر فخر بھی کرتی ہیں، ایسے معاشرے میں یہ آواز بلند کرنا کہ "ہمیں اپنے ملک کو، اپنے قانون کو، اپنی معیشت اور سیاست کو، اپنی زندگی کے ہر شعبے کو اسلامائز (Islamise) کرنا چاہیے، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ معاشرے کو چودہ سو سال پرانے اصولوں کے ماتحت چلانا چاہیے تو یہ آواز آج کی اس دنیا میں اچنبھی اور اجنبی معلوم ہوتی ہے اور اس کو طرح طرح کے طعنوں سے نوازا جاتا ہے۔ بنیاد پرستی (Fundamentalism) کی اصطلاح ان لوگوں کی طرف سے ایک گالی بنا کر دنیا میں مشہور کردی گئی ہے اور ان کی نظر میں ہر وہ شخص بنیاد پرست (Fundamentalist) ہے جو یہ کہے کہ "ریاست کا نظام دین کے تابع ہونا چاہیے، اسلام کے تابع ہونا چاہیے" ایسے شخص کو بنیاد پرست کا خطاب دے کر بدنام کیا جارہا ہے، حالانکہ اگر اس لفظ کے اصل معنی پر غور کیا جائے تو یہ کوئی بُرا لفظ نہیں تھا۔ فنڈا مینٹلسٹ کے معنی یہ ہیں کہ جو بنیادی اصولوں (Fundamental Principles) کو اختیار کرے لیکن ان لوگوں نے اس کو گالی بنا کر مشہور کردیا ہے۔

اسلامائزیشن کیوں؟ آج کی مجلس میں، میں صرف اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ ہم کیوں اپنی زندگی کو اسلامیانا (Islamize) چاہتے ہیں؟ اور ہم ملکی قوانین کو اسلام کے سانچے میں کیوں ڈھالنا چاہتے ہیں؟ جبکہ دین کی تعلیمات چودہ سو سال بلکہ بیشتر تو ہزارہا سال پرانی ہیں۔

ہمارے پاس عقل موجود ہے

اس سلسلے میں، میں جس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ ایک سیکولر ریاست (Secular State) جس کو لادینی ریاست کہا جائے، وہ اپنے نظامِ حکومت اور نظامِ زندگی کو کس طرح چلائے، اس کے لیے اس کے پاس کوئی اصول موجود نہیں ہیں، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس عقل موجود ہے، ہمارے پاس مشاہدہ اور تجربہ موجود ہے، اس عقل، مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے اس دور کی ضروریات کیا ہیں؟ اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اور پھر اس کے لحاظ سے کیا چیز ہماری مصلحت کے مطابق ہے؟ اور پھر اسی مصلحت کے مطابق ہم اپنے قوانین کو ڈھال سکتے ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات میں ہم اس کے اندر تبدیلی لاسکتے ہیں اور ترقی کرسکتے ہیں۔

کیا عقل آخری معیار ہے؟

ایک سیکولر نظامِ حکومت میں عقل، تجربے اور مشاہدے کو آخری معیار قرار دے دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معیار کتنا مضبوط ہے؟ کیا یہ معیار اس لائق ہے کہ قیامت تک آنے والی انسانیت کی رہنمائی کرسکے؟ کیا یہ معیار تنہا عقل کے بھروسے پر، تنہا مشاہدے اور تجربے کے بھروسے پر ہمارے لیے کافی ہوسکتا ہے؟

ذرائع علم

اس کے جواب کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کوئی بھی نظام جب تک اپنی پشت پر اپنے پیچھے علمی حقائق کا سرمایہ نہ رکھتا ہو اس وقت تک وہ کامیابی سے نہیں چل سکتا۔ اور کسی بھی معاملے میں علم حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ ذرائع عطا فرمائے ہیں۔ ان ذرائع میں سے ہر ایک کا ایک مخصوص دائرۂ کار ہے۔ اس دائرۂ کار تک وہ کام دیتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن اس سے آگے وہ کام نہیں دیتا ہے، اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے۔

حواسِ خمسہ کا دائرۂ کار

مثال کے طور پر انسان کو سب سے پہلے جو ذرائع علم عطا ہوئے وہ اس کے حواسِ خمسہ ہیں، آنکھ، کان، ناک اور زبان وغیرہ۔ آنکھ کے ذریعے دیکھ کر بہت سی چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے۔ زبان کے ذریعہ چکھ کر علم حاصل ہوتا ہے۔ ناک کے ذریعہ سونگھ کر علم حاصل ہوتا ہے۔ ہاتھ کے ذریعہ چھو کر علم حاصل ہوتا ہے۔ لیکن علم کے یہ پانچ ذرائع جو مشاہدے کی سرحد میں آتے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ایک دائرۂ کار ہے۔ اس دائرۂ کار سے باہر وہ ذریعہ کام نہیں کرتا۔ آنکھ دیکھ سکتی ہے لیکن سن نہیں سکتی۔ کان سن سکتا ہے لیکن دیکھ نہیں سکتا۔ ناک سونگھ سکتی ہے، دیکھ نہیں سکتی۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ میں آنکھ تو بند کرلوں اور کان سے دیکھنا شروع کردوں تو اس شخص کو ساری دنیا احمق کہے گی۔ اس لیے کہ کان اس کام کے لیے نہیں بنایا گیا۔ اگر کوئی شخص اس سے کہے کہ تمہارا کان نہیں دیکھ سکتا، اس لیے کان سے دیکھنے کی تمہاری کوشش بالکل بیکار ہے، جواب میں وہ شخص کہے کہ اگر کان دیکھ نہیں سکتا تو وہ ایک بیکار چیز ہے تو اس کو ساری دنیا احمق کہے گی۔ اس لیے کہ وہ اتنی بات بھی نہیں جانتا کہ کان کا ایک دائرۂ کار ہے، اس حد تک وہ کام کرے گا۔ اس سے اگر آنکھ کا کام لینا چاہوگے تو وہ نہیں کرے گا۔

دوسرا ذریعۂ علم "عقل"

پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم کے حصول کے لیے یہ پانچ حواس عطا فرمائے ہیں، ایک مرحلہ پر جاکر ان پانچوں حواس کی پرواز ختم ہوجاتی ہے۔ اس مرحلہ پر نہ تو آنکھ کام دیتی ہے، نہ کان کام دیتا ہے، نہ زبان کام دیتی ہے، نہ ہاتھ کام دیتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اشیا براہِ راست مشاہدہ کی گرفت میں نہیں آتیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اور آپ کو علم کا ایک اور ذریعہ عطا فرمایا ہے اور وہ ہے "عقل"، جہاں پر حواسِ خمسہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں وہاں پر "عقل" کام آتی ہے۔ مثلاً میرے سامنے یہ میز رکھی ہے، میں آنکھ سے دیکھ کر یہ بتا سکتا ہوں کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ ہاتھ سے چھو کر معلوم کرسکتا ہوں کہ یہ سخت لکڑی کی ہے اور اس پر فارمیکا لگا ہوا ہے۔ لیکن اس بات کا علم کہ یہ میز وجود میں کیسے آئی؟ یہ بات میں نہ تو آنکھ سے دیکھ کر بتا سکتا ہوں، نہ کان سے سن کر، نہ ہاتھ سے چھو کر بتا سکتا ہوں۔ اس لیے کہ اس کے بننے کا عمل میرے سامنے نہیں ہوا۔ اس موقع پر میری عقل میری رہنمائی کرتی ہے کہ یہ چیز جو اتنی صاف ستھری بنی ہوئی ہے، خود بخود وجود میں نہیں آسکتی۔ اس کو کسی بنانے والے نے بنایا ہے، اور وہ بنانے والا اچھا تجربہ کار ماہر بڑھئی (Carpenter) ہے، جس نے اس کو خوبصورت شکل میں بنایا ہے۔ لہٰذا یہ بات کہ اس کو کسی کارپینٹر نے بنایا ہے مجھے میری عقل نے بتائی۔ تو جس جگہ پر میرے حواسِ خمسہ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، وہاں میری عقل آئی اور اس نے میری رہنمائی کرکے ایک دوسرا علم عطا کیا۔

عقل کا دائرۂ کار

لیکن جس طرح ان پانچوں حواس کا دائرۂ کار لامحدود (Unlimited) نہیں تھا، بلکہ ایک حد پر جا کر ان کا دائرۂ کار ختم ہوگیا تھا، اسی طرح عقل کا دائرۂ کار (Jurisdiction) بھی لامحدود (Unlimited) نہیں ہے۔ عقل بھی ایک حد تک انسان کو کام دیتی ہے۔ ایک حد تک رہنمائی کرتی ہے۔ اس حد سے آگے اگر اس عقل کو استعمال کرنا چاہیں گے تو وہ عقل صحیح جواب نہیں دے گی، صحیح رہنمائی نہیں کرے گی۔

تیسرا ذریعۂ علم "وحی"

جس جگہ عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے، وہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو ایک تیسرا ذریعۂ علم عطا فرمایا ہے اور وہ ہے "وحی الٰہی" یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وحی اور آسمانی تعلیم۔ یہ ذریعہ علم شروع ہی اس جگہ سے ہوتا ہے جہاں عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جس جگہ "وحی الٰہی آتی ہے، اس جگہ پر عقل کو استعمال کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ آنکھ کے کام کے لیے کان کو استعمال کرنا۔ کان کے کام کے لیے آنکھ کو استعمال کرنا۔ اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ عقل بیکار ہے۔ نہیں بلکہ وہ کار آمد چیز ہے، بشرطیکہ آپ اس کو اس کے دائرۂ کار (Jurisdiction) میں استعمال کریں۔ اگر اس کے دائرۂ کار سے باہر استعمال کریں گے تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص آنکھ اور کان سے سونگھنے کا کام لے۔

اسلام اور سیکولر نظام میں فرق

اسلام اور ایک سیکولر نظامِ حیات میں یہی فرق ہے کہ سیکولر نظام میں علم کے پہلے دو ذرائع استعمال کرنے کے بعد رک جاتے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان کے پاس علم کے حصول کا
کوئی تیسرا ذریعہ نہیں ہے، بس ہماری آنکھ، کان، ناک ہے اور ہماری عقل ہے۔ اس سے آگے کوئی اور ذریعۂ علم نہیں ہے۔ اور اسلام یہ کہتا ہے کہ ان دونوں ذرائع کے آگے تمہارے پاس ایک اور ذریعۂ علم بھی ہے اور وہ ہے "وحی الٰہی"۔

وحی الٰہی کی ضرورت

آج کل عقل پرستی (rationalism) کا بڑا زور ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کو عقل کی میزان پر پرکھ کر اور تول کر اختیار کریں گے، لیکن عقل کے پاس کوئی ایسا لگا بندھا ضابطہ
(Formula) اور کوئی لگا بندھا اصول (Principle) نہیں ہے، جو عالمی حقیقت (Universal Truth) رکھتا ہو۔ جس کو ساری دنیا کے انسان تسلیم کرلیں اور اس کے ذریعہ
وہ اپنے خیر و شر اور اچھائی اور برائی کا معیار تجویز کرسکیں۔ کون سی چیز اچھی ہے؟ کون سی چیز بُری ہے؟ کون سی چیز اختیار کرنی چاہیے؟ کون سی چیز اختیار نہیں کرنی چاہیے؟ یہ فیصلہ جب ہم عقل کے حوالے کرتے ہیں تو آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ جائیے، اس میں آپ کو یہ نظر آئے گا کہ اس عقل نے انسان کو اتنے دھوکے دیئے ہیں جس کا کوئی شمار اور حد و حساب ممکن نہیں۔ اگر عقل کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا جائے تو انسان کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے لیے میں تاریخ سے چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔

بہن سے نکاح خلافِ عقل نہیں

آج سے تقریباً آٹھ سو سال پہلے عالمِ اسلام میں ایک فرقہ پیدا ہوا تھا، جس کو "باطنی فرقہ" اور "قرامطہ" کہتے ہیں۔ اس فرقے کا ایک مشہور لیڈر گزرا ہے جس کا نام عبید اللہ بن حسن قیروانی ہے۔ اس نے اپنے پیرو کاروں کے نام ایک خط لکھا ہے وہ خط بڑا دلچسپ ہے۔ جس میں اس نے اپنے پیروکاروں کو زندگی گزارنے کے لیے ہدایات دی ہیں۔ اس میں وہ لکھتا ہے:

"میری سمجھ میں یہ بے عقلی کی بات نہیں آتی ہے کہ لوگوں کے پاس اپنے گھر میں ایک بڑی خوبصورت، سلیقہ شعار لڑکی بہن کی شکل میں موجود ہے اور بھائی کے مزاج کو بھی سمجھتی ہے۔ اس کی نفسیات سے بھی واقف ہے۔ لیکن یہ بے عقل انسان اس بہن کا ہاتھ اجنبی شخص کو پکڑا دیتا ہے۔ جس کے بارے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ نباہ صحیح ہوسکے گا یا نہیں؟ وہ مزاج سے واقف ہے یا نہیں؟ اور خود اپنے لیے بعض اوقات ایسی لڑکی لے آتے ہیں جو حسن و جمال کے اعتبار سے بھی، سلیقہ شعاری کے اعتبار سے بھی، مزاج شناسی کے اعتبار سے بھی اس بہن کے ہم پلہ نہیں ہوتی۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اس بے عقلی کا کیا جواز ہے کہ اپنے گھر کی دولت تو دوسرے کے ہاتھ میں دے دے، اور اپنے پاس ایک ایسی چیز لے آئے جو اس کو پوری راحت و آرام نہ دے۔ یہ بے عقلی ہے۔ عقل کے خلاف ہے۔ میں اپنے پیرؤوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بے عقلی سے اجتناب کریں اور اپنے گھر کی دولت کو گھر ہی میں رکھیں" (الفرق بین الفرق للبغدادی، و بیان مذاہب الباطنیہ للدیلمی) بہن اور جنسی تسکین اور دوسری جگہ عبید اللہ بن حسن قیروانی عقل کی بنیاد پر اپنے پیروؤں کو یہ پیغام دے رہا ہے، وہ کہتا ہے کہ:

"کیا وجہ ہے کہ جب ایک بہن اپنے بھائی کے لیے کھانا پکا سکتی ہے، اس کی بھوک دور کرسکتی ہے، اس کی راحت کے لیے اس کے کپڑے سنوار سکتی ہے، اس کا بستر درست کرسکتی ہے تو اس کی جنسی تسکین کا سامان کیوں نہیں کرسکتی؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ تو عقل کے خلاف ہے" (الفرق بین الفرق للبغدادی، و بیان مذاہب الباطنیہ للدیلمی)

عقلی جواب ناممکن ہے

آپ اس بات پر جتنی چاہے لعنت بھیجیں، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ خالص عقل کی بنیاد پر جو وحی الٰہی کی رہنمائی سے آزاد ہو، جس کو وحی الٰہی کی روشنی میسر نہ ہو، اس عقل کی بنیاد پر آپ اس کے اس استدلال کا جواب دیں۔ خالص عقل کی بنیاد پر قیامت تک اس کے اس استدلال کا جواب نہیں دیا جاسکتا۔

عقلی اعتبار سے بد اخلاقی نہیں

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یہ تو بڑی بد اخلاقی کی بات ہے، بڑی گھناؤنی بات ہے، تو اس کا جواب موجود ہے کہ یہ بد اخلاقی اور گھناؤنا پن یہ سب ماحول کے پیدا کردہ تصورات ہیں۔ آپ ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوئے ہیں جہاں اس بات کو معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے آپ اس کو معیوب سمجھتے ہیں۔ ورنہ عقلی اعتبار سے کوئی عیب نہیں۔

نسب کا تحفظ کوئی عقلی اصول نہیں

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اس سے حسب و نسب کا سلسلہ خراب ہوجاتا ہے تو اس کا جواب موجود ہے کہ نسبوں کا سلسلہ خراب ہوجاتا ہے تو ہونے دو۔ اس میں کیا برائی ہے؟ نسب کا تحفظ کون سا ایسا عقلی اصول ہے کہ اس کی وجہ سے نسب کا تحفظ ضرور کیا جائے۔

یہ بھی انسانی خواہش (Human Urge) کا حصہ ہے

اگر آپ اس استدلال کے جواب میں یہ کہیں کہ اس سے طبی طور پر نقصانات ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ اب یہ تصورات سامنے آئے ہیں کہ استلذاذ بالاقارب (Incest) سے طبی نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ آج مغربی دنیا میں اس موضوع پر کتابیں آرہی ہیں کہ استلذاذ بالاقارب (Incest) انسان کی فطری خواہش (Human Urge) کا ایک حصہ ہے اور اس کے جو طبی نقصانات بیان کیے جاتے ہیں، وہ صحیح نہیں ہیں۔ وہی نعرہ جو آج سے آٹھ سو سال پہلے عبید اللہ بن حسن قیروانی نے لگایا تھا، اس کی نہ صرف صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے بلکہ آج مغربی ملکوں میں اس پر کسی نہ کسی طرح عمل بھی ہورہا ہے۔

وحی الٰہی سے آزادی کا نتیجہ

یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ اس لیے کہ عقل کو اس جگہ استعمال کیا جارہا ہے جو عقل کے دائرۂ کار (Jurisdiction) میں نہیں ہے۔ جہاں وحی الٰہی کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اور عقل کی وحی الٰہی کی رہنمائی سے آزاد کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ ہم جنس پرستی (Homosexuality) کے جواز کا بل تالیوں کی گونج میں منظور کررہی ہے اور اب تو باقاعدہ یہ ایک علم بن گیا ہے۔ میں ایک مرتبہ اتفاق سے نیویارک کے ایک کتب خانہ میں گیا۔ وہاں پر پورا ایک علیحدہ سیکشن تھا، جس پر یہ عنوان لگا ہوا تھا کہ "گے اسٹائل آف لائف" (Gay Style Of Life) تو اس موضوع پر کتابوں کا ایک ذخیرہ آچکا ہے اور باقاعدہ ان کی انجمنیں ہیں، ان کے گروپ اور جماعتیں ہیں، اور وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ اس زمانے میں نیویارک کا میئر بھی ایک Gay تھا۔

عقل کا فریب

پچھلے ہفتے کے امریکی رسالے ٹائم کو اگر آپ اٹھا کر دیکھیں تو اس میں یہ خبر آئی ہے کہ خلیج کی جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں میں سے تقریباً ایک ہزار افراد کو صرف اس لیے فوج سے نکال دیا گیا کہ وہ ہم جنس پرست (Homosexual) تھے۔ لیکن اس اقدام کے خلاف شور مچ رہا ہے، مظاہرے ہورہے ہیں اور چاروں طرف سے یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ بات کہ ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے آپ نے ان لوگوں کو فوج کے عہدوں سے برخاست کردیا ہے، یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے اور ان کو دوبارہ بحال کرنا چاہیے۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ تو ایک Human Urge ہے اور آج "Human Urge" کا بہانہ لے کر دنیا کی ہر بُری سے بُری بات کو جائز قرار دیا جارہا ہے۔ اور یہ تو صرف جنسِ انسانی کی بات تھی۔ اب تو بات جانوروں، کتوں، گدھوں اور گھوڑوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اور اس کو بھی باقاعدہ فخریہ بیان کیا جارہا ہے۔

عقل کا ایک اور فریب

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا (Encyclopedia of Britannica) میں ایٹم بم پر جو مقالہ لکھا گیا ہے اس کو ذرا کھول کر دیکھیں۔ اس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ دنیا میں ایٹم بم کا استعمال دو جگہ پر کیا گیا ہے۔ ایک ہیروشیما اور دوسرے ناگاساکی پر، اور ان دونوں مقامات پر ایٹم بم کے ذریعہ جو تباہی ہوئی اس کا ذکر تو بعد میں آگے چل کر کیا ہے، لیکن اس مقالے کو شروع یہاں سے کیا گیا ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر جو ایٹم بم برسائے گئے اس کے ذریعہ ایک کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی گئیں، اور ان کو موت کے منہ سے نکالا گیا اور اس کی منطق یہ لکھی ہے کہ اگر ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم نہ گرائے جاتے تو پھر جنگ مسلسل جاری رہتی اور اس میں اندازہ یہ تھا کہ تقریباً ایک کروڑ انسان مزید مرجاتے۔ تو ایٹم بم کا تعارف اس طرح کرایا گیا کہ ایٹم بم وہ چیز ہے جس سے ایک کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی گئیں۔ یہ اس واقع کا جواز (Justification) پیش کیا جارہا ہے جس پر ساری دنیا لعنت بھیجتی ہے کہ ایٹم بم کے ذریعہ ہیروشیما اور ناگاساکی میں ان بچوں کی نسلیں تک تباہ کردی گئیں، بے گناہوں کو مارا گیا، اور یہ جواز بھی عقل کی بنیاد پر ہے۔ لہٰذا کوئی بُری سے بُری اور کوئی سنگین سے سنگین خرابی ایسی نہیں ہے جس کے لیے عقل کوئی نہ کوئی دلیل اور کوئی نہ کوئی جواز فراہم نہ کردے۔ آج ساری دنیا فاشزم (Fascism) پر لعنت بھیج رہی ہے اور سیاست کی دنیا میں ہٹلر اور مسولینی کا نام ایک گالی بن گیا ہے۔ لیکن آپ ذرا ان کا فلسفہ تو اٹھا کر دیکھیں کہ انہوں نے اپنے فاشزم (Fascism) کو کس طرح فلسفیانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ایک معمولی سمجھ کا آدمی اگر فاشزم کے فلسفے کو پڑھے گا تو اسے اعتراف ہونے لگے گا کہ بات تو سمجھ میں آتی ہے، معقول بات ہے۔ یہ کیوں ہے؟ اس لیے کہ عقل ان کو اس طرف لے جارہی ہے۔ بہرحال! دنیا کی کوئی بد سے بدتر بُرائی ایسی نہیں ہے جس کو عقل کی دلیل کی بنیاد پر صحیح تسلیم کرانے کی کوشش نہ کی جاتی ہو۔ اس لیے کہ عقل کو اُس جگہ استعمال کیا جارہا ہے جہاں اس کے استعمال کی جگہ نہیں ہے۔

عقل کی مثال

علامہ ابنِ خلدون جو بہت بڑے مؤرخ اور فلسفی گزرے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل دی ہے وہ بڑی کام کی چیز ہے لیکن یہ اسی وقت تک کام کی چیز ہے جب اس کو اس کے دائرے میں استعمال کیا جائے۔ لیکن اگر اس کو اس کے دائرے سے باہر استعمال کروگے تو یہ کام نہیں دے گی اور پھر اس کی ایک بڑی اچھی مثال دی ہے کہ عقل کی مثال ایسی ہے جیسے سونا تولنے کا کانٹا۔ وہ کانٹا چند گرام سونا تول لیتا ہے اور بس اس حد تک وہ کام دیتا ہے اور وہ صرف سونا تولنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کانٹے میں پہاڑ کو تولنا چاہے گا تو اس کے نتیجے میں وہ کانٹا ٹوٹ جائے گا اور جب پہاڑ تولنے کے نتیجے میں وہ ٹوٹ جائے تو اگر کوئی شخص کہے کہ یہ کانٹا تو بیکار چیز ہے، اس لیے کہ اس سے پہاڑ تو تلتا نہیں ہے، اس نے تو کانٹے کو توڑ دیا تو اسے ساری دنیا احمق کہے گی۔ بات در اصل یہ ہے کہ اس نے کانٹے کو غلط جگہ پر استعمال کیا اور غلط کام میں استعمال کیا اس لیے وہ کانٹا ٹوٹ گیا۔ (مقدمہ ابنِ خلدون، بحث علم کلام)

اسلام اور سیکولر ازم میں فرق

اسلام اور سیکولر ازم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ بیشک تم عقل کو استعمال کرو، لیکن صرف اس حد تک جہاں تک وہ کام دیتی ہے۔ ایک سرحد ایسی آتی ہے جہاں عقل کام دینا چھوڑ دیتی ہے بلکہ غلط جواب دینا شروع کردیتی ہے، جیسے کمپیوٹر ہے۔ اگر آپ اس کو اس کام میں استعمال کریں جس کے لیے وہ بنایا گیا ہے تو وہ فوراً جواب دے دے گا۔ لیکن جو چیز اس کمپیوٹر میں فیڈ نہیں کی گئی، وہ اگر اس سے معلوم کرنا چاہیں تو نہ صرف یہ کہ وہ کمپیوٹر کام نہیں کرے گا، بلکہ غلط جواب دینا شروع کردے گا۔ اسی طرح جو چیز اس عقل کے اندر فیڈ نہیں کی گئی، جس چیز کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک تیسرا ذریعۂ علم عطا فرمایا ہے، جو وحی الٰہی ہے، جب وہاں عقل کو استعمال کروگے تو یہ عقل غلط جواب دینا شروع کردے گی۔ یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ جس کے لیے قرآن کریم اتارا گیا۔ چنانچہ قرآن کریم کی آیت ہے:

(ترجمہ: ہم نے آپ کے پاس یہ کتاب اتاری جس سے واقع کے موافق آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں) (النساء 105)

یہ قرآن کریم آپ کو بتائے گا کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے؟ یہ بتائے گا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ یہ بتائے گا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے؟ یہ سب باتیں آپ کو محض عقل کی بنیاد پر معلوم نہیں ہوسکتیں۔

آزادئ فکر کے علمبردار ادارے کا حال

ایک معروف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا نام "ایمنسٹی انٹرنیشنل" ہے۔ آج سے تقریباً ایک ماہ پہلے اس کے ایک ریسرچ اسکالر سروے کرنے کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ خدا جانے کیوں وہ میرے پاس بھی انٹرویو کرنے کے لیے آگئے اور انہوں نے آکر مجھ سے گفتگو شروع کی کہ ہمارا مقصد آزادی فکر اور حریتِ فکر کے لیے کام کرنا ہے۔ بہت سے لوگ آزادی فکر کی وجہ سے جیلوں اور قیدوں میں بند ہیں، ان کو نکالنا چاہتے ہیں اور یہ ایک ایسا غیر متنازع موضوع ہے، جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے اس لیے پاکستان بھیجا گیا کہ میں اس موضوع پر مختلف طبقوں کے خیالات معلوم کروں۔ میں نے سنا ہے کہ آپ کا بھی مختلف اہلِ دانش سے تعلق ہے۔ اس لیے میں آپ سے بھی کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔

آج کل کا سروے

میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سروے آپ کس مقصد کے لیے کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے مختلف حلقوں میں اس سلسلے میں کیا آراء پائی جاتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کراچی کب تشریف لائے؟ جواب دیا کہ آج صبح پہنچا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ واپس کب تشریف لے جائیں گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ کل صبح میں اسلام آباد جارہا ہوں (رات کے وقت یہ ملاقات ہورہی تھی) میں نے پوچھا اسلام آباد میں کتنے روز قیام رہے گا؟ فرمایا کہ ایک دن اسلام آباد میں رہوں گا۔ میں نے ان سے کہا کہ پہلے تو آپ مجھے یہ بتائیں آپ پاکستان کے مختلف حلقوں کے خیالات کا سروے کرنے جارہے ہیں اور اس کے بعد آپ رپورٹ تیار کرکے پیش کریں گے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ان دو تین شہروں میں دو تین دن گزارنا آپ کے لیے کافی ہوگا؟ کہنے لگے کہ ظاہر ہے کہ تین دن میں سب کے خیالات تو معلوم نہیں ہوسکتے۔ لیکن میں مختلف حلقہ ہائے فکر سے مل رہا ہوں۔ کچھ لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اور اسی سلسلے میں آپ کے پاس بھی آیا ہوں، آپ بھی میری کچھ رہنمائی کریں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آج آپ نے کراچی میں کتنے لوگوں سے ملاقات کی؟ کہنے لگے: میں نے پانچ آدمیوں سے ملاقات کرلی ہے اور چھٹے آپ ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ ان چھ آدمیوں کے خیالات معلوم کرکے ایک رپورٹ تیار کردیں گے کہ کراچی والوں کے خیالات یہ ہیں۔ معاف کیجیے، مجھے آپ کے اس سروے کی سنجیدگی پر شبہ ہے اس لیے کہ تحقیقی ریسرچ اور سروے کا کوئی کام اس طرح نہیں ہوا کرتا ہے۔ اس لیے میں آپ کے کسی سوال کا جواب دینے سے معذور ہوں۔ اس پر وہ بے حد معذرت کرنے لگے کہ میرے پاس وقت کم تھا۔ اس لیے صرف چند حضرات سے مل سکا ہوں۔ احقر نے عرض کیا کہ وقت کی کمی کی صورت میں سروے کا یہ کام ذمہ لینا کیا ضروری تھا؟ پھر انہوں نے اصرار شروع کردیا کہ اگرچہ آپ کا اعتراض حق بجانب ہے، لیکن میرے چند سوالات کا جواب تو آپ دے ہی دیں۔ احقر نے پھر معذرت کی اور عرض کیا کہ میں اس غیر سنجیدہ اور ناتمام سروے میں کسی تعاون سے معذور ہوں۔ البتہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ سے اس ادارے کی بنیادی فکر کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ کہنے لگے کہ دراصل تو میں آپ سے سوال کرنے کے لیے آیا تھا، لیکن اگر آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو بیشک آپ ہمارے ادارے کے بارے میں جو سوال کرنا چاہیں کرلیں۔

کیا آزادی فکر کا نظریہ بالکل مطلق (Absolute) ہے؟

میں نے ان سے کہا کہ آپ نے فرمایا کہ یہ ادارہ جس کی طرف سے آپ کو بھیجا گیا ہے یہ آزادی فکر کا علمبردار ہے، بیشک یہ آزادی فکر بڑی اچھی بات ہے، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ آزادی فکر آپ کی نظر میں بالکل مطلق (Absolute) ہے؟ یا اس پر کوئی پابندی بھی ہونی چاہیے؟ کہنے لگے کہ میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔ میں نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ آزادی فکر کا یہ تصور کیا اتنا مطلق (Absolute) ہے کہ جو بھی انسان کے دل میں آئے وہ دوسروں کے سامنے برملا کہے اور اس کی تبلیغ کرے اور لوگوں کو اس کی دعوت دے؟ مثلاً میری سوچ یہ کہتی ہے کہ سرمایہ داروں نے بہت دولت جمع کرلی ہے، اس لیے غریبوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ان سرمایہ داروں پر ڈاکے ڈالیں اور ان کا مال چھین لیں اور میں اپنی اسی سوچ کی تبلیغ بھی شروع کردوں کہ غریب جاکر ڈاکہ ڈالیں اور کوئی ان کو پکڑنے والا نہ ہو۔ اس لیے کہ سرمایہ داروں نے غریبوں کا خون چوس کر یہ دولت جمع کی ہے۔ اب آب بتائیں کہ کیا آپ اس آزادی فکر کے حامی ہوں گے یا نہیں؟ وہ کہنے لگے: اس کے تو ہم حامی نہیں ہوں گے۔ میں نے کہا کہ میں یہی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب آزادی فکر کا یہ تصور بالکل (Absolute) نہیں ہے تو کیا آپ اس کو مانتے ہیں کہ کچھ قیدیں ہونی چاہئیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کچھ قیدیں تو ہونی چاہیے، مثلاً میرا یہ خیال ہے کہ آزادی فکر کو اس شرط کا پابند ہونا چاہیے کہ اس کا نتیجہ دوسروں پر تشدد (Violence) کی صورت میں ظاہر نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ یہ قید تو آپ نے اپنی سوچ کے مطابق عائد کردی، لیکن اگر کسی شخص کی دیانت دارانہ رائے یہ ہو کہ بعض اعلیٰ مقاصد تشدد کے بغیر حاصل نہیں ہوتے، اور ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کے نقصانات برداشت کرنے چاہئیں تو کیا اس کی یہ آزادی فکر قابل احترام ہے یا نہیں؟ دوسرے جس طرح آپ نے اپنی سوچ سے آزادی فکر پر ایک پابندی عائد کردی، اسی طرح اگر کوئی دوسرا شخص اسی قسم کی کوئی اور پابندی اپنی سوچ سے عائد کرنا چاہے تو اس کو بھی اس کا اختیار ملنا چاہیے، ورنہ کوئی وجہ ہونی چاہیے کہ آپ کی سوچ پر عمل کیا جائے اور دوسرے کی سوچ پر عمل نہ کیا جائے۔ لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ وہ قیدیں کیا ہونی چاہیے؟ اور یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ قید ہونی چاہیے؟ اور آپ کے پاس وہ معیار کیا ہے جس کی بنیاد پر آپ یہ فیصلہ کریں کہ آزادی فکر پر فلاں قسم کی پابندی لگائی جاسکتی ہے اور فلاں قسم کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی؟ آپ مجھے کوئی نپا تلا معیار (Yardstick) بتائیں، جس کے ذریعہ آپ یہ فیصلہ کرسکیں کہ فلاں قسم کی پابندی جائز ہے اور فلاں قسم کی پابندی ناجائز ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ صاحب! ہم نے اس پہلو پر کبھی باقاعدہ غور نہیں کیا۔ میں نے کہا: آپ اتنے بڑے عالمی ادارے سے وابستہ ہیں اور اسی کام کے سروے کے لیے آپ جارہے ہیں اور اسی کام کا بیڑہ اٹھا ہے، لیکن یہ بنیادی سوال کہ آزادی فکر کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ اس کا اسکوپ (Scope) کیا ہونا چاہیے؟ اگر یہ آپ کے ذہن میں نہیں ہے پھر آپ کا یہ پروگرام مجھے بار آور ہوتا نظر نہیں آتا۔ براہِ کرم میرے اس سوال کا جواب آپ مجھے اپنے لٹریچر سے فراہم کردیں، یا دوسرے حضرات سے مشورہ کرکے فراہم کردیں۔

انسان کے پاس وحی کے علاوہ کوئی معیار نہیں

کہنے لگے کہ آپ کے یہ خیالات اپنے ادارے تک پہنچاؤں گا اور اس موضوع پر جو ہمارا لٹریچر ہے وہ بھی فراہم کروں گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے میرا پھیکا سا شکریہ ادا کیا اور جلد رخصت ہوگئے۔ میں آج تک ان کے وعدے کے مطابق لٹریچر یا اپنے سوال کے جواب کا منتظر ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ قیامت تک نہ سوال کا جواب فراہم کرسکتے ہیں، نہ کوئی ایسا معیار پیش کرسکتے ہیں جو عالمگیر مقبولیت کا حامل (Universally Applicable) ہو۔ اس لیے کہ آپ ایک معیار متعین کریں گے دوسرا شخص دوسرا معیار متعین کرے گا۔ آپ کا بھی اپنے ذہن کا سوچا ہوا ہوگا۔ اس کا معیار بھی اس کے ذہن کا سوچا ہوا ہوگا۔ اور دنیا میں کوئی شخص ایسا معیار تجویز کردے جو ساری دنیا کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہو، یہ بات میں کسی تردید کے خوف کے بغیر کہہ سکتا ہوں کہ واقعتاً انسان کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی معیار نہیں ہے جو ان مبہم تصورات پر جائز حدیں قائم کرنے کا کوئی لازمی اور ابدی معیار فراہم کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے سوا انسان کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔

صرف مذہب معیار بن سکتا ہے

آپ فلسفہ کو اٹھا کر دیکھیے۔ اس میں یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا ہے کہ قانون کا اخلاق سے کیا تعلق ہے؟ قانون میں ایک مکتبِ فکر ہے جس کا یہ کہنا ہے کہ قانون کا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اچھے برے کا تصور غلط ہے۔ نہ کوئی چیز اچھی ہے نہ کوئی چیز بُری ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ Should اور Should not وغیرہ کے الفاظ در حقیقت انسان کی خواہشِ نفس کے پیدا کردہ ہیں، ورنہ اس قسم کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس واسطے جو معاشرہ جس وقت جو چیز اختیار کرلے وہ اس کے لیے درست ہے۔ اور ہمارے پاس اچھائی اور برائی کے لیے کوئی معیار نہیں ہے جو یہ بتا سکے کہ فلاں چیز اچھی ہے اور فلاں چیز بُری ہے اور اصولِ قانون پر مشہور ٹیکسٹ بک Jurisprudence ہے، اس میں اس بحث کے آخر میں ایک جملہ لکھا ہے کہ:

"انسانیت کے پاس ان چیزوں کے تعین کے لیے ایک چیز معیار بن سکتی تھی، وہ ہے مذہب۔ لیکن چونکہ مذہب کا تعلق انسان کے بلیف (Belief) اور عقیدے سے ہے اور سیکولر نظامِ حیات میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے، اس واسطے ہم اس کو ایک بنیاد کے طور پر نہیں اپنا سکتے"

ہمارے پاس اس کو روکنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ایک اور مثال یاد آگئی ہے۔ جیسا کہ ابھی میں نے عرض کیا تھا کہ جس وقت برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی (Homosexuality) کا بل تالیوں کی گونج میں پاس ہوا۔ اس بل کے پاس ہونے سے پہلے کافی مخالفت بھی ہوئی اور اس بل پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس مسئلہ پر غور کرے کہ آیا یہ بل پاس ہونا چاہیے یا نہیں؟ اس کمیٹی کی رپورٹ شائع ہوئی ہے اور فریڈ مین (Friedman) کی مشہور کتاب "دی لیگل تھیوری" (The Legal Theory) میں اس رپورٹ کا خلاصہ دیا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اس کمیٹی نے ساری رپورٹ لکھنے کے بعد لکھا ہے:

"اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ چیز اچھی نہیں لگتی، لیکن چونکہ ہم ایک مرتبہ یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ انسان کی پرائیویٹ زندگی میں قانون کو دخل انداز نہیں ہونا چاہیے اس لیے اس اصول کی روشنی میں جب تک ہم گناہ (Sin) اور جرم (Crime) میں تفریق برقرار رکھیں گے کہ گناہ اور چیز ہے اور جرم علیحدہ چیز ہے، اس وقت تک ہمارے پاس اس عمل کو روکنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ہاں! اگر سِن اور کرائم کو ایک تصور کرلیا جائے تو پھر بیشک اس بل کے خلاف رائے دی جاسکتی ہے۔ اس واسطے ہمارے پاس اس بل کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس لیے یہ بل پاس ہوجانا چاہیے"

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ "Law" کو اسلامائز کیا جائے تو اس کے معنی یہی ہیں کہ سیکولر نظام نے حصولِ علم کی جو دو بنیادیں، آنکھ، کان، ناک، زبان وغیرہ اور عقل اختیار کی ہوئی ہیں، اس سے آگے ایک اور قدم بڑھا کر وحیِ الٰہی کو بھی حصولِ علم اور رہنمائی کا ذریعہ قرار دے کر اس کو اپنا شعار بنائیں۔

اس حکم کی منطق (Reason) میری سمجھ میں نہیں آتی اور جب یہ بات ذہن میں آجائے کہ وحی الٰہی شروع ہی وہاں سے ہوتی ہے جہاں عقل کی پرواز ختم ہوجاتی ہے، تو پھر وحی الٰہی کے ذریعہ قرآن و سنت میں جب کوئی حکم آجائے، اس کے بعد اس بنا پر اس حکم کر رد کرنا کہ صاحب اس حکم کا ریزن میری سمجھ میں نہیں آتا، احمقانہ فعل ہوگا۔ اس واسطے کہ وحی کا حکم آیا ہی اس جگہ پر ہے جہاں ریزن کام نہیں دے رہی تھی۔ اگر اس حکم کے پیچھے جو حکمتیں ہیں اگر ان ساری حکمتوں کا ادراک تمہاری عقل کرسکتی تھی تو پھر اللہ کو وحی کے ذریعہ اس کے حکم دینے کی چنداں حاجت نہیں تھی۔

قرآن و حدیث میں سائنس اور ٹیکنالوجی

یہیں سے ایک اور سوال کا جواب بھی ہوگیا۔ جو اکثر ہمارے پڑھے لکھے طبقے کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ صاحب! آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ ساری دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کررہی ہے لیکن ہمارا قرآن اور ہماری حدیث سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں کوئی فارمولا ہمیں نہیں بتاتے، کہ کس طرح ایٹم بم بنائیں، کس طرح ہائیڈروجن بم بنائیں۔ اس کا کوئی فارمولا نہ تو قرآن کریم میں ملتا ہے اور نہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتا ہے۔ اس کی وجہ سے بعض لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں کہ صاحب! دنیا چاند اور مریخ پر پہنچ رہی ہے اور ہمارا قرآن ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتاتا کہ چاند پر کیسے پہنچیں؟

سائنس اور ٹیکنالوجی تجربہ کا میدان ہے

اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا قرآن ہمیں یہ باتیں اس لیے نہیں بتاتا کہ وہ دائرہ عقل کا ہے۔ وہ تجربہ کا دائرہ ہے۔ وہ ذاتی محنت اور کوشش کا دائرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو انسان کے ذاتی تجربے عقل اور کوشش پر چھوڑا ہے کہ جو شخص جتنی کوشش کرے گا اور عقل کو استعمال کرے گا، تجربہ کو استعمال کرے گا، اس میں آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ قرآن آیا ہی اس جگہ پر ہے جہاں عقل کا دائرہ ختم ہورہا تھا۔ عقل اس کا پوری طرح ادراک نہیں کرسکتی، ان چیزوں کا ہمیں قرآن کریم نے سبق پڑھایا ہے۔ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ لہٰذا اسلامائزیشن آف لاز کا سارا فلسفہ یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی کو اس کے تابع بنائیں۔

اسلام کے احکام میں لچک (Elasticity) موجود ہے

آخر میں ایک بات یہ عرض کردوں کہ جب اُوپر کی بات سمجھ میں آگئی تو پھر دل میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ہم چودہ سو سال پرانی زندگی کو کیسے لوٹائیں؟ چودہ سو سال پرانے اصولوں کو آج کی بیسویں اور اکیسویں صدی پر کیسے اپلائی کریں؟ اس لیے کہ ہماری ضروریات نوع بنوع ہیں، بدلتی رہتی ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ اسلامی علوم سے انسیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام نے اپنے احکام کے تین حصے کیے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جس میں قرآن و سنت کی نص قطعی موجود ہے۔ جس میں قیامت تک آنے والے حالات کی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں اجتہاد اور استنباط کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اس میں اس درجہ کی نصوصِ قطعیہ نہیں ہیں جو زمانہ کے حال پر اپلائی کریں۔ اس میں اسلامی احکام کی لچک (Elasticity) خود موجود ہے۔ اور احکام کا تیسرا حصہ وہ ہے جس کے بارے میں قرآن و سنت خاموش ہیں۔ جن کے بارے میں کوئی ہدایت اور کوئی رہنمائی نہیں کی گئی۔ جن کے بارے میں قرآن و سنت نے کوئی حکم نہیں دیا۔ حکم کیوں نہیں دیا؟ اس کو ہماری عقل پر چھوڑ دیا ہے۔ اور اس کا اتنا وسیع دائرہ ہے کہ ہر دور میں انسان اپنی عقل اور تجربہ کو استعمال کرکے اس خالی میدان (Unoccupied Area) میں ترقی کرسکتا ہے اور ہر دور کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔

ان احکام میں قیامت تک تبدیلی نہیں آئے گی دوسرا حصہ، جس میں اجتہاد اور استنباط کی گنجائش رکھی گئی ہے، اس کے اندر بھی حالات کے لحاظ سے علتوں کے بدلنے کی وجہ سے احکام کے اندر تغیر و تبدل ہوسکتا ہے۔ البتہ پہلا حصہ بیشک کبھی نہیں بدل سکتا۔ قیامت آجائے گی لیکن وہ نہیں بدلے گا۔ اس لیے کہ وہ درحقیقت انسان کی فطرت کے ادراک پر مبنی ہے۔ انسان کے حالات بدل سکتے ہیں، لیکن فطرت نہیں بدل سکتی۔ اور چونکہ وہ فطرت کے ادراک پر مبنی ہیں اس لیے ان میں بھی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ بہرحال! جہاں تک شریعت نے ہمیں گنجائش دی ہے گنجائش کے دائرہ میں رہ کر ہم اپنی ضروریات کو پورے طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں۔

اجتہاد کہاں سے شروع ہوتا ہے

اجتہاد کا دائرہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں نص قطعی موجود نہ ہو۔ جہاں نص موجود وہ وہاں عقل کو استعمال کرکے نصوص کے خلاف کوئی بات کہنا درحقیقت اپنے دائرۂ کار (Jurisdiction) سے باہر آجانے والی بات ہے اور اسی کے نتیجے میں دین کی تحریف کا راستہ کھلتا ہے۔ جس کی ایک مثال آپ حضرات کے سامنے عرض کرتا ہوں۔

خنزیر حلال ہونا چاہیے

قرآن کریم میں خنزیر کو حرام قرار دیا گیا ہے اور یہ حرمت کا حکم وحی کا حکم ہے۔ اس جگہ پر عقل کو استعمال کرنا کہ صاحب! یہ کیوں حرام ہے؟ یہ عقل کو غلط جگہ پر استعمال کرنا ہے۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ بات دراصل یہ ہے کہ قرآن کریم نے خنزیر اس لیے حرام کیا تھا کہ اس زمانے میں خنزیر بڑے گندے تھے اور غیر پسندیدہ ماحول میں پرورش پاتے تھے اور غلاظتیں کھاتے تھے۔ اب تو خنزیر کے لیے بڑے ہائی جینک فارم (Hygienic Farm) تیار کیے گئے ہیں اور بڑے صحت مندانہ طریقے سے پرورش ہوتی ہے، لہٰذا وہ حکم اب ختم ہونا چاہیے۔ یہ اس جگہ پر عقل کو استعمال کرنا ہے جہاں وہ کام دینے سے انکار کررہی ہے۔

سود اور تجارت میں کیا فرق ہے؟

اسی طرح ربا اور سود کو جب قرآن کریم نے حرام قرار دے دیا، بس وہ حرام ہوگیا۔ عقل میں چاہے آئے یا نہ آئے۔ دیکھیے قرآن کریم میں مشرکینِ عرب کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا گیا:

ترجمہ: بے شک بیع (خرید و فروخت، تجارت) بھی ربا (سود) جیسی چیز ہے۔ (البقرۃ:275)

تجارت اور بیع و شراء سے بھی انسان نفع کماتا ہے اور ربا سے بھی نفع کماتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے اس کے جواب میں یہ فرق بیان نہیں کیا کہ بیع اور ربا میں یہ فرق ہے؟ بلکہ یہ جواب دیا کہ:

ترجمہ: اور اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے (البقرۃ:275)

بس! اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔ اب آگے اس حکم میں تمہارے لیے چون و چرا کی گنجائش نہیں۔ اس لیے کہ جب اللہ نے بیع کو حلال کردیا ہے تو حلال ہے اور جب اللہ نے ربا کو حرام کردیا تو اس لیے وہ حرام ہے۔ اب اس کے اندر چون و چرا کرا درحقیقت عقل کو غلط جگہ پر استعمال کرنا ہے۔

ایک انوکھا اور دلچسپ واقعہ

ایک واقعہ مشہور ہے کہ ہمارا ایک ہندوستانی گویّا ایک مرتبہ حج کرنے چلا گیا۔ حج کے بعد وہ جب مدینہ شریف جارہا تھا۔ راستیں میں منزلیں ہوتی تھیں۔ ان پر رات گزارنی پڑتی تھی۔ ایک منزل پر جب رات گزارنے کے لیے ٹھہرا تو وہاں ایک عرب گویّا آگیا۔ وہ بدو قسم کا عرب گویا تھا۔ اس نے بہت بھدے انداز سے سارنگی بجا کر گانا شروع کیا۔ آواز بڑی بھدی تھی اور اس کو سارنگی اور طبلہ بھی صحیح بجانا نہیں آتا تھا۔ جب ہندوستانی گویے نے اس کی آواز سنی تو اس نے کہا کہ آج یہ بات میری سمجھ میں آگئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے بجانے کو کیوں حرام قرار دیا ہے، اس لیے کہ آپ نے تو ان بدؤوں کا گانا سنا تھا۔ اگر آپ میرا گانا سن لیتے تو حرام قرار نہ دیتے۔ تو اس قسم کی فکر اور تھنکنگ (Thinking) ڈیویلپ (Develop) ہورہی ہے۔ جس کو اجتہاد کا نام دیا جارہا ہے۔ یہ نصوصِ قطعیہ کے اندر اپنی خواہشاتِ نفس کو استعمال کرنا ہے۔

آج کے مفکر کا اجتہاد

ہمارے ہاں ایک معروف مفکر ہیں۔ "مفکر" اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ اپنی فیلڈ میں مفکر (Thinker) سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کی یہ جو آیت ہے:

ترجمہ: چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ کاٹ دو" (المائدۃ: 38)

ان مفکر صاحب نے اس آیت کی یہ تفسیر کی کہ چور سے مراد سرمایہ دار ہیں جنہوں نے بڑی بڑی صنعتیں قائم کررکھی ہیں۔ اور "ہاتھ" سے مراد ان کی انڈسٹریاں اور "کاٹنے" سے مراد ان کا قومیانا (Nationalization) ہے۔ لہٰذا اس آیت کے معنی ہیں کہ سرمایہ داروں کی ساری انڈسٹریوں کو قومیا لیا جائے اور اس طریقے سے چوری کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

اس قسم کے اجتہادات کے بارے میں اقبال مرحوم نے کہا تھا

ز اجتہادے عالمانِ کم نظر

اقتداء با رفتگاں محفوظ تر

ترجمہ: ایسے کم نظر لوگوں کے اجتہاد سے پرانے لوگوں کی باتوں کی اقتداء کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید

مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

بہرحال میں آج کی نشست سے یہ فائدہ اٹھانا چاہتا تھا اور شاید میں نے اپنے استحقاق اور اپنے وعدے سے بھی زیادہ وقت آپ حضرات کا لیا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جب تک "اسلامائزیشن آف لاز" کا فلسفہ ذہن میں نہ ہو، اس وقت تک محض "اسلامائزیشن آف لاز" کے لفظ کی دروبست درست کرلینے سے بات نہیں بنتی۔

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

اس لیے اسلامائزیشن کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو کہ ڈنکے کی چوٹ پر، سینہ تان کر، کسی معذرت خواہی کے بغیر، کسی سے مرعوب ہوئے بغیر یہ بات کہہ سکیں کہ ہمارے نزدیک انسانیت کی فلاح کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ صرف "اسلامائزیشن" (Islamisation) میں ہے۔ اس کے علاوہ اور کسی چیز میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم آپ کو اس کی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمادے۔ آمین!