تیسرا مریض - سلیم احسن

زیادہ وقت نہیں گزرا، یقیناً آپ کو یاد ہو گا کہ گو رنمنٹ ہسپتال رائے ونڈ کے باہربر لبِ سڑک وقوع پذیر’ڈیلیوری‘ کا سلسلہ ہائے شرمناک پنجاب کے طول و عرض میں پھیل گیا تھا۔صوبہ بھر کے مختلف شہروں سے ایسی ہی فٹ پاتھ ڈیلیوریز کی افسوسناک و اندوہناک خبریں تسلسل سے آرہی تھیں اور تو اور اپنے لاہور کے گنگا رام ہسپتال میں ایم ایس آفس کے عین سامنے بر آمدہ ڈیلیوری نے چراغ تلے اندھیرا مزید گہرا کر دیا تھا۔یقیناً ایسی گائنی سٹوریز محکمہ صحت اور حکومتِ پنجاب کی گڈ گورنینس کا منہ بولتا ثبوت بن گئی تھیں۔

اس وقت میں نے سوچا کہ پے در پے عوامی جگہات پر سر عام پیدا ہونے والے یہ منہ زور بچے چھوٹے میاں صاحب سے کیوں شکوہ کناں ہیں؟کیااس اچانک پھیلنے والی معا شرتی بے حیائی کا ذمہ دار بھی’کوالٹی ڈیلیوری‘ (معیاری سروسز)کا دعویٰ رکھنے والا ہمارا انتھک سیایم ہی ہے؟ شاید یہ کہنا زیادتی ہے، یا شاید ایسا نہ کہنا زیادتی ہو؟ ویسے بچوں کی بات چھوڑیے کہ بچے تو بادشاہ ہوتے ہیں،عوام کا مگر یہ سوال ہے کہ اگر کچھ نہیں ہے تو اتنے بڑے بڑے دعوے کیوں کیے جا رہے ہیں کہ ہم نے ایجوکیشن اور ہیلتھ سیکٹرمیں یہ کر دیا،وہ کر دیا۔سادہ سا معصومانہ سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کی وزارتِ صحت اور وزارتِ اعلیٰ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ پنجاب چھوڑیے، صرف پاکستان کے دل لاہور کے کسی ایک سرکاری ہسپتال میں کیا State of the Start سہولیات بھی میسر نہیں !

آؤٹ ڈور کے حالات کا اندازہ ایمر جنسی سروسز سے کیا جا سکتا ہے۔چودھریوں کی سیاست یا اندازِ سیاست سے ہزار اختلاف کیے جا سکتے ہیں مگریہ تسلیم کرنا ہو گا کہ چوہدری پرویز الٰہی کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کیے گئے کچھ کام آج بھی عوام کے لیے فائد ہ مند اور اُن کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔ان میں پنجاب کے تمام ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مُفت علاج و ادویات کی فراہمی اور فری ایمبولینس سروس ریسکیو 1122 قابلِ ذکر ہیں۔اُن کے بعد 'تختِ لہور' پہ براجمان میاں شہباز شریف بھی یہ نیک کام جاری رکھے ہوئے ہیں،صد ہزار شکر!

شہرِ لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کی ایمر جنسیزمیں آجکل حالات کس قدر دگر گوں ہیں،اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے جو کبھی کسی ایمر جنسی کا شکار ہو کر ادھر جانے کی اذیت سے دوچار ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   محاسبہ اور علاج - لطیف النساء

راقم کو پچھلے دنوں گنگا رام ہسپتال کی ایمر جنسی جانے کی ’سعادت‘سے دوچار ہونا پڑا۔تیز بخار تھا اور جسم بے جان۔ ایمر جنسی سروسز کی واحد سروس جس نے مجھے متاثر کیا وہ ویل چیئر سروس تھی۔بیٹے نے جونہی گاڑی سے نکالا تو مجھے نحیف و نزار دیکھ کر بھاگم بھاگ ایک ویل چیئر بردار خادم آن حاضر ہوا۔ بیمار ہی سہی، پر دل شاد ہوا کہ زندگی میں پہلی بار ہم نے بھی پروٹوکول اور 'ہٹو بچو' کلچر دیکھ ہی لیا۔ واہ،ایک عام شہری کے لیے حکومتی کارندہ راستے بناتا،اسے ساتھ لیے دندناتا، بجلی کی سی سرعت سے،جو ہمارے بے جان کلبوت پر بجلیاں گرا رہی تھی،کسی نا معلوم منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ اپنے گردونواح میں جا بجا پھیلے مجبور و معذور و بے کس’ حشرات الارض‘ کو چیرتی اِس شاہی سواری پہ بیٹھے ہم نے عجب سرشاری محسوس کی۔بالآ خر کمرہ نمبر6میں داخل ہوئے تو مجھے ویل چیئر پہ براجمان دیکھ کر سامنے والا عملہ،جو اُس وقت فارغ بیٹھا تھا،ہرگز حرکت میں نہیں آیا۔ڈاکٹر کے بے نیازانہ استفسارِ بے اعتنا’کیا ہے؟‘ کے جواب میں ’جی بخارہے‘ کے جواب میں فورا پرچی پر کُچھ لکھ دیا گیا اور ساتھ ہی میری ویل چیئر کے ڈرائیور بلکہ Rash Driverنے یُو ٹرن لیا اور یہ جا وہ جا،اب کے وہ ایک وارڈ نما بلڈنگ میں گھس گیا۔ میں نے نیم وا آنکھوں سے ماحول دیکھا۔پورے وارڈ میں صرف پانچ بیڈ تھے اور ہر بیڈ پر دو دو مریض لیٹے ہوئے تھے۔بیڈ نمبر 3پر لٹایا نہیں،بٹھایا جانے والا میں’تیسرا مریض‘ تھا۔میرے بیٹھتے ہی، مریض نمبر2نے احتجاجاً مجھے لات رسید کی اور میں گرتے گرتے بچا۔بیٹے نے ڈاکٹر کی ایمرجنسی مدد حاصل کی تو104 بخارسے پُھنکتے مریض کو ایک بڑے صوبے کے بڑے شہر کے بڑے ہسپتال کی ایمر جنسی میں بیڈ پر بیٹھنے کی جگہ میسر آ گئی۔سر گُھوم رہا تھا اور جسم مرقعِ درد تھا۔مگر کافی دیر تک’کسے نے میری گل نہ سنی‘

آخر15 منٹ کے انتظارِ جاں گسل کے بعدایک ماہ رُخ لیڈی ڈاکٹر پروفیشنل مسکراہٹ سجائے قریب آئی۔اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،سیدھا میرے ماتھے پہ اپنا مر مریں ہاتھ رکھ دیا۔کچھ نہ پُوچھیے، ایک لمحے کے ہزارویں حصے کے لیے گویازندگی لوٹ آئی۔ پروین شاکر کی پُر لطف کیفیات پر یقین آگیا، جب وہ کہہ اُٹھی تھیں ؎

قبل اس کے کہ دلِ مضطر یہ فیصلہ کرتا کہ قریب اور مخاطب کو صرف دیکھنا ہی ہے یا اُس سے بارے بیماری کے کچھ بات بھی کرنی ہے، میرے مائل بہ مسیحائی مسیحا کو بیڈ نمبر5 کے مریض نمبر1 کی ایک دلدوز چیخ نے اپنی جانب کھینچ لیا

ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

بہرحال متبادل کے طور پر ایک بد خُو،عمر رسیدہ درشت اخلاق نرس آئی اور Investigation کا بقیہ پراسس اسی اینٹی رُومانٹک ماحول میں ہوا۔اِس دوران نہ کوئی دوا،نہ ڈرپ اور نہ ہی تسلی کے دو بول،ہاں کچھ ٹیسٹ مگر ضرور لکھ دیے گئے۔تھوڑی دیر بعد بیٹے نے خبر دی کہ لیبارٹری والے کہہ رہے ہیں کہ اِدھر صرف CBC ٹیسٹ ہو سکتا ہے، باقی سارے بنیادیBase Line Test باہر کسی اچھی لیبارٹری سے کروائے جائیں۔ساتھ یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ جو ٹیسٹ ہم کر رہے ہیں یعنی سی بی،سی،تو یہ بھی کل کسی بازاری لیبارٹری سے کروا لیا جائے۔ یا للعجب ! مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا،یعنی ایک بڑے ہسپتال کی ایمرجنسی لاچار مریضوں کو لیٹنے لے لیے بیڈز دینے سے انکاری ہی نہیں،ان کے انتہائی ضروری بنیادی ٹیسٹ کر نے سے بھی معذور! جی جی یہی ہماری گُڈ گورنینس ہے،یقیناً کسی فلاحی معاشرے کی بھی یہی پہچان ہوتی ہے۔

قارئین!3گھنٹے ایمرجنسی وارڈ میں یوں گزارے کہ گھر میں بخار کی تکلیف اِس سے کہیں راحت افزاء لگی۔ ہاں یاد آیا، اِ س دوران ایک ٹیکہ ضرور لگا دیا گیا تھاتا کہ سند رہے اور پھر یہ کہہ کر ڈسچارج کر دیا گیا کہ کل تمام ٹیسٹ بازار سے کروا کر آؤٹ ڈور کے کمرہ نمبر فلاں میں ضرور تشریف لائیے۔ آپ کی ذلت،خواری اور سرکاری تیمارداری کے کئی ایک مزید اہتمامات وہاں آپ کے منتظر ہوں گے۔

آخری بات،حکومت کے پاس تو شاید ان فضول معاملات کے لیے بجٹ ہی نہ ہو۔ اس لیے میں اہلِ خیر سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ ا پنے صدقات و خیرات کے خزانوں میں سے صرف چند لاکھ خرچ کر کے اپنے ارد گرد موجود ہسپتالوں میں چند بیڈز ہی خرید کے رکھوا دیں تا کہ کم ازکم ایک بیڈ پہ ایک مریض تو لیٹے کہ یہ مریضوں کا بنیادی انسانی حق ہے۔