چودھویں کے درشن - دعا عظیمی

وہ دل کی دنیا میں قیامت کی چندگھڑیاں تھیں، شاید چند لمحے جنھیں مٹھی میں دبائے بےرونق زندگی قدرے آسانی سے بیت گئی۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ شاداں کو بتانے آئی۔
کیا ہوا؟ اس کی پیلی رنگت دیکھ کر سکھی اسے کونے میں لےگئی، جہاں عشق پیچاں کے ہرے پتے دیواروں سے سرگوشیوں میں مصروف تھے۔
وہ سوہنی کی مہندی والا ملا تھا ڈیرے سے واپسی پہ۔
اس نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑا، وہ کیسے؟ تیرے پاؤں پہ پٹی کاہے بندھی؟
شاداں کو عادت تھی سوالوں پہ سوالوں کی۔
سارے سوالوں کا جواب دیتی ہوں۔
اب اطیمنان کی لہر لوٹ آئی تھی۔ وہ اسے بڑے پسار میں لے آئی، جہاں بھڑولے تھے اور دوسری طرف بڑے بڑے صندوقچے جیسے کہ بڑے پسار میں ہوا کرتے تھے، اب اس کا دل کرتا تھا یہ راز نہ کھولے، مگر شاداں کو اگلوانے کا سلیقہ تھا۔

اس کا نام شاہ مراد ہے، اس کا گھوڑا بہت خوبصورت ہے، اور اس کے بولی ڈاگ سے سب کتوں کی جان جاتی ہے، بڑاگبھرو ہے، شاداں کو تو بڑی معلومات تھیں۔
کیا کہتا ہماری لاڈو کو؟
میرے پاؤں کا کانٹا نکالا اور کہتا کہ ہر چودھویں کے چودھویں پانی کی باری ہوتی میری، تمھاری کھڑکی سےگزروں گا، تم درشن دے دینا۔
واہ عاشق ہوگیا تمھارا، اس نے رشک بھری نظر سے بھاگ بھری کو دیکھا. بیچاری اندھی دیکھ سکتی نہیں، اور سمجھایا اس کی باتوں میں نہ آنا۔
پگلی مجھے معلوم ہے، میرے بھائی مجھے جان سے مار دیں گے۔

اتنے میں تاجو آگئی اور بات کا رخ بدل گیا، وہ اپنے پاؤں کا زخم سہلانے لگی۔ اگر اس کو لکھنا آتا تو وہ حرفوں سے ریشم بنتی، اگر اس کی بادامی آنکھوں کا نور سلامت ہوتا تو رومال پہ اس کا نام کاڑھتی، مگر اب تو وہ چھنکتی چوڑیوں سے پتہ چلاتی تھی کہ کون سی سکھی اس کاحال پوچھنے آئی ہے۔ پیدایش کے بعد تین سال تک اس کی نظر قائم تھی۔ ایک دن خوب بارش ہوئی، وہ اسی چھت کے تلے سو رہی تھی جھولنے میں کہ کچی چھت بارش کا بار نہ سہہ سکی، اور بھاگ بھری کے لیے زندگی بھر کا اندھا پن بھر لائی، سب نے شکر کیا کہ لاڈو جان سے بچی، سات بھائیوں کی اکلوتی بہن، جیسے چاند کو گرہن لگ گیا۔ بہتیری علاج کی کوششیں ہوئیں مگر قسمت کا لکھا کون ٹالتا۔

بھاگ بھری کے لیے محبتوں کی کمی نہیں تھی، نور نہیں تھا آنکھوں میں، مگر دل کی روشنی سے سب ٹٹول لیتی تھی۔ پچھلے کتنے سالوں سے وہ ایک ہی عمل مسلسل کرتی آ رہی تھی، پورے تیس دن پھولوں کےگجرے بنتی اور ایک ایک رات گنتی، جب چودھویں کاچاند جوبن پہ ہوتا، وہ پچھلے صحن میں باغوں کی طرف کھلنے والی کھلے پٹ کی لوہے کی سلاخوں سے اپنی صندلی کلائی باہر نکالتی، اور پورے زور سے دیوار کے ساتھ بنی ٹھاٹھیں مارتی کھال میں سارےگجرے اس سمے اچھال دیتی، جب اسے بولی کتے کے بھونکنے کی آواز آتی۔ تھوڑی سی دیر کے بعد پورے ماحول میں ایک عجیب خوشبو پھیلتی اور گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز مدھم ہو جاتی، دل کی دھڑکنیں تیز ہوتیں، رکتیں اور پھر چل پڑتیں۔ اس کی ساری سکھیوں کو معلوم تھا کہ بھاگ ایسا کیوں کرتی ہے؟ اس کی بھابیوں کو تو یہی بتایا گیا تھا کہ میلے پہ ایک سائیں جی آئے تھے، انھوں نے نور چاننے کے واسطے یا نور پھولوں پہ پڑھ کر پورے چاند کی رات کو جب کھال کا پانی اچھلنے لگے، ہر مہینے اس میں پھول اچھال دے، اس عمل کی برکت سے آنکھوں میں نور اتر آئے گا، عمل میں ناغہ نہ ہونے پائے۔ پھر یہ بات سارےگاؤں میں اچار کی خوشبو کی طرح پھیل گئی۔

سوہنی کو سب خبر تھی، تب وہ سولہ کی تھی، جب سوہنی کی شادی پر سارا ویہڑہ رنگ برنگی جھنڈیوں اور پھلجھڑیوں سے سجا تھا، اس نے بھی کھٹے اور پیلے گوٹے کناری والے کپڑے پہنے تھے، ایسے بھاگتی پھرتی تھی جیسے کیکلی ڈالتی ہو، اچانک شور اٹھا کہ دولہا کے گھر والے ڈھول باجے کے ساتھ اتر آئے ہیں۔ سب ہی پھول پتیاں اٹھائے بیرونی دروازے کی جانب بھاگے، وہ بھی آواز کی لے پر ادھر ہی پہنچی، کچھ افراتفری سی تھی، سوجھ بوجھ کے ساتھ ہی ہار اس نے کسی کو تھمایا تھا، مگر مردانہ آواز کا لمس کانوں میں اترا، ڈھول کی تیز تھاپ تھی، سرگوشی پھیلی، ''آپ کتنے سوہنے او'' اسے لگا جیسے وہ یہ جملہ سننے کے لیے ہی اپنی بےنور آنکھوں کے ساتھ اس پتھریلی زمین پر اتاری گئی تھی۔ فرش سے عرش اور عرش سے فرش کی نامعلوم مسافتیں طے ہوتی گئیں۔ ہونی اپنا رس بکھیر چکی تھی۔ اگر آنکھوں میں روشنی نہ رہے تو بھی خواب ہرے ہی رہتے ہیں، حسن کے پانیوں سے دھلے ہوئے، محبت کے لمس سے مہکے ہوئے۔ اس نے بارہا خود کو شاہ مراد کی ان دیکھی آنکھوں میں خود کو ایسے تیرتے ہوئے پایا جیسے کھال کے اچھلتے پانی میں مرتعش چندرما کا عکس، اس نے سفید گھوڑے کی نرم بالوں والی تنو مند پشت پر بارہا ہاتھ پھیرا جس پہ بیٹھ کر انھوں نے مسرتوں کے سفید بادلوں کو چھونے کی کوشش کی، وہ اس کے سنگ محبت کے باغوں میں بہنے والے ملکوتی چشموں سے اٹھنے والی نرم پھوار میں بھیگی، اس کے من کی اندھی اور بےنور دنیا ایسے ہی ان گنت خوابوں کے لمس سےآباد رہتی، دل کا ایک گوشہ سدا مہکتا رہتا، چودھویں کے درشن دیتے دیتے سترہ سال برس گئے۔ ان سترہ سالوں میں کیا کیا نہیں بدلا، آنکھوں میں نور اترا نہ پونم کی رات پانی میں یا نور پڑھ کر پھول پھینکنے کا عمل بند ہوا، کبھی کبھی کسی مقدس عمل کا تسلسل ویرانوں میں بہار کھلا دیتا ہے۔

ماں باپ کی وفات کے بعد سات بھائیوں اور بھابھیوں کی اکلوتی نند اور بھی کملا گئی تھی۔ پھر وہ ہوا جو یقین سے باہر تھا۔ جوان اولاد اور دو بیویوں کے ساتھ شاہ مراد کا رشتہ دہلیز کے اندر اس سلیقے سے آیا کہ بھابھیوں کے اصرار پر بھائیوں کو ہاں کرتے ہی بنی۔ کالے بالوں میں پھول سجتے دیکھنا عام سی بات تھی مگر سفید بالوں میں شگن ہوتے سارےگاؤں نےدیکھے۔ عمل حرکت میں تھا، پاکیزہ اور خاموش محبت کا روگ خوشیوں کی ڈولی میں بیٹھ کر عجلہ عروسی تک جا پہنچا۔ چودھویں کے درشن سترہ سالوں بعد خوابوں سے نکل کر حقیقت کی چوکھٹ پرگلپوش تھے۔ اندھیر نگری میں خوشی کی قیامت تھی، قبروں پہ سوکھنے والے ارمانوں کے کھلتے پھولوں نے زندگی کا نیا ذائقہ پورے حواسوں کے ساتھ چکھا۔ شاہ مراد اور بھاگ کے عشق سے پردہ اٹھ چکا تھا۔ شاہ مراد کی آنکھوں میں لاج تھی، اسے لگتاتھا اس نے مرد ہونے کاجیسے کے تیسے حق ادا کیا، لاڈو بھی خوش تھی پر دو راتیں کانٹوں پر اور ایک رات سیج پرگزرتی تھی۔ لاکھ سمجھاتی کہ جو ہوا اچھا ہوا، پر جلن کم کہاں ہوتی بڑھتی ہی جاتی۔ مراد کی محبت کو پل میں کھرا مانتی پل میں کھوٹا۔ ایسے ہی روز و شب کے شمار میں زندگی کی تسبیح سے ایک ایک دانہ کبھی چاہے کبھی ان چاہے گرتا جا رہا تھا۔ ‎بدلتی رت کے سحر نے ساری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، شاہ مراد شہر سے واپس آیا تو پکارنے لگا پارو ہے؟ پارو کدھر ہے تو۔ وہ صحن میں بندھی تاروں سے کپڑے اتارنے میں مگن تھی، ایک خبر ہے تیرے لیے، وہ اسےڈھونڈتے اس کے پیچھے آن کھڑا تھا. ایسی کون سی خبر؟ وہ اسے شانوں سے پکڑ کر بولا، ڈاکٹر صاحب نے تاریخ بتائی ہے آپریشن کی، تیری آنکھیں روشن ہو جائیں گی۔ سچ! وہ بےیقینی سے بولی۔ پچھلی بار تو ڈاکٹر صاحب نے ایسا کچھ نہیں بولا، بے یقینی سے کالے خلاؤں کو گھورتے ہوئے بولی۔ پارو یہ دوسرا اور بڑا ڈاکٹر ہے، آج کچہری سے سیدھا اسی کی طرف گیا تھا۔ مرغ نے بانگ دی، دیکھا مرغ نے بانگ دی، جب مرغ بانگ دیتا ہے ناں تو وہ رحمت کے فرشتے کو دیکھتا ہے۔ مراد علی تیری ہر بات نرالی ہے، ہاتھ منہ دھو، ماسی نوری کھانا لے کر آ رہی ہے۔ اس نے ماسی کے کھسے کی چیں چیں سے اندازہ لگایا۔ تو بھی ساتھ آ ناں، چہلوں کا سلسلہ رکتا کب تھا۔

سرما کے چڑھتے سورج کی آنکھ نے ہسپتال کی کھڑکی سے وہ لمحہ دیکھا جب بھاگ بھری کی آنکھوں سے پٹی اتری، رات ہی رات دیکھنے والی نے روشنی کو محسوس کیا، خوشی حد سے بڑھ جائے تو غم کی کوئی صورت ڈھونڈ لیا کرتی ہے، آسمان کی نیلاہٹیں اور زمین کا پتھریلا پن سب دیکھنے لگی تھی۔ خوابوں کی مدھم دنیا میں رہنا اس کو راس تھا، اپنے کام کتنی آسانی سے کرنے لگی تھی، مگر شاہ مراد کا تخیل جس کے ساتھ وہ رہتی آئی تھی، دھڑام سے ٹوٹ چکا تھا، وہ کون تھا جس کے ساتھ وہ رہتی آئی تھی اور یہ کون تھا جو اس کا محسن بنا پھرتا ہے۔ یکدم خیال کی بجلی کوندی، وہ اپنے محبوب کا خیالی بت کیسے ٹوٹنے دیتی؟ شاہ مراد کا سامنا ہی تو مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے پچھلے صحن کے پار لگے اک کے پودے سے پتہ توڑا اور چپکے سے سفید زہر اپنی آنکھوں میں ڈال لیا۔ شدید درد کی لہر اٹھی، بینائی اندھیروں میں ڈوب گئی، پر وہ بڑے دل کے ساتھ اپنے محبوب شوہر کے لیے مدھانی ڈال کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ تخیل حقیقت سے ٹکرا جائے تو جیت تخیل کی ہونی چاہیے۔ وہ سمجھتی تھی شاہ مراد انجان ہے مگر وہ پہلے تاثر سے ہی بھانپ گیا تھا کہ کلھاڑی خود اس نے اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں پہ ماری ہے۔ جس لمحے اس نے اک کا دودھ اپنی آنکھ میں ڈالا تھا، وہ دیکھ رہا تھا، اس کا دل چاہا تھا کہ وہ اسے منع کرے، لیکن اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ اس کی محبت قائم رہے اور بھاگ نے بھی تو اندھا رہنا اسی لیے منظور کیا تھا۔ بند آنکھوں سے ہونے والی محبت بند آنکھوں کے ساتھ ہی سلامت رہ سکتی تھی۔

چاند کی چودھویں کا طلسم اندھیری رات کے ہرگوشے پر چھا رہا تھا، عطا تھی، دعا تھی یا ذکر نور کی کرامت، جیسے ہی درد ٹھیک ہوا، روشنی لوٹ آئی تھی۔ بھاگ بھری کو سیکھنا تھا کہ کیسے ایک پاؤں خیال کے نرم پانی پہ ٹکانا ہے اور کیسے دوسراحقیقت کی خشکی پر۔ اگر اس نے بت سے محبت کی تھی تو وہ بت ٹوٹ چکا تھا، اگر اس نے اپنے پن سے محبت کی تھی تو وہ اس کے ساتھ تھی۔ شاہ مراد چاہت سے بولا، اس بار ہم مل کے چودھویں کے درشن کریں گے۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.