روح کا سفر - ڈاکٹر مہوش فاطمہ

موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی

انسان روح اور جسم کا امتزاج، جب بھی اپنی تخلیق کے بارے میں غوروفکر کرتا ہے توظاہراً دِکھنے والا یہ جسم اِک لباس کی طرح ہے، جو ایک مدتِ معیّن گزارنے کے بعدبوسیدہ ہو کر واپس خاک کی زینت بن جائے گا۔ اس لیے روح کے بارے میں تجسس مزید بڑھ جاتا ہے۔ ہر ذی شعور انسان روح کے بارے میں جاننا چاہتا ہےکہ آخر یہ ہے کیا اور اس کا مقصد حیات کیا ہے؟

اطباء کی اصطلاح میں روح کےمعنی وہ لطیف بھاپ جو دل میں پیدا ہو کرباعث حس و حرکت پیدا کرتی ہے۔ روح ایک لطیف وجود ہے، جس طرح جسم ایٹموں سے بنا ہےاسی طرح ہماری روح بھی ایک وجود ہے جو نور یعنی روشنی سے بنی ہے۔ یہ کوئی مادّی شے نہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔

"یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ کہہ دیجیےیہ روح تیرے رب کا امر ہے۔ "

ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ

"اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے توفرما دیتا ہے۔ ہو جا تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔ "

امر کے معنی ہے انمٹ، غیر فانی یا ابد الاباد رہنے والی۔ یعنی روح اللہ کے حکم سےان مٹ یا ابد الآباد رہنے والی شے ہے (واللہ اعلم)۔ روح اللہ کا امر ہے، منجانب اللہ۔ روح کا مسکن قلب ہے۔ روح کی اپنی بصیرت، سماعت، زبان ہوتی ہے۔ روح کی عقل دل میں ہوتی ہے۔ خدا نےروح کو تخلیق کیا اور آدم کا پتلا مٹی اور پانی ملا کر گارے (تراب) سے پیدا کیا، جس میں سڑاند (fermentation ) ہو گئی۔ پھر وہ سوکھ کر کھنکھنانے لگی۔ پھر اللہ نے روح کو اس میں پھونک دیا۔ پھر اللہ نے اپنا ہاتھ آدم کی پیٹھ پر پھیرا اور اس دنیا کے تمام انسانوں کی ارواح کو آدم کے صلب سے پیدا کیا۔ ان تمام ارواح کو ایک جگہ جسے عالم ارواح کہا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہیں کولڈ سٹوریج میں سلا دیا گیا ہے۔ سورہ التین میں ارشاد ہوتا ہے

"اور ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا اور پھر اسے سب سے نچلے درجے میں پہنچا دیا۔ "

اللہ کے پیدا کردہ نظام کے مطابق نسل انسانی جب آگے بڑھتی ہے توارواح اور جسم انسان بن کر دنیا میں بتدریج بھیجی جاتی ہیں۔ حضوراکرم ؐ سے جب کسی صحابی نے سوال کیا کہ آپ نبی کب مبعوث ہوئے؟ تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا آدمؑ کی تخلیق سے پہلے میں نبی بن چکا تھایعنی آدمؑ کے پتلے میں روح پھونکی بھی نہ گئی تھی کہ میں نبی بن چکا تھا۔

انسان انسان جب بنتا ہے جب اس میں روح وارد ہوتی ہےاس سے پہلے یہ صرف ایک حیوان ہے۔ جب مادر رحمی میں انسان کی تخلیق ہوتی ہے تو 120 دن یعنی چار مہینےمیں انسان ایک حیوان کی صورت پرورش پاتا ہے۔ پھر خدا اپنے اذن سے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس انسان کی تقدیر خدا کے حکم پر لکھتا ہے۔ جو مائیکروچپ کی صورت اس انسان کی گردن میں چسپاں کر دی جاتی ہے۔ یہ مائیکروچپ دراصل ایک ledger card ہے۔ جس میں اس شخص کا اعمال نامہ درج ہے کہ وہ اس دنیا میں کیا کھائے گا، کیا پیےگا ، کیسے جیے گا وغیرہ وغیرہ۔ کس معینہ مدت تک کے لیے جیے گا۔ پھر وقت معینہ گزارنے کے بعد خدا حضرت اعزرائیل ؑ کو بھیجتے ہیں جو اس جسم خاکی سے روح قبض کر لیتے ہیں اور اسے حساب کتاب کے بعد عالم برزخ یعنی وہ عالم، جہاں ارواح قیامت تک رہیں گی، بھیج دیا جائے گا۔ قبر کی رات منکر نکیر دو فر شتے خدا کی طرف سے بھیجے جائیں گےجو اس انسان کے اعمال کی پوچھ گچھ کریں گے۔ پھر عالم برزخ میں بھیج دیں گے۔ جہاں اس کے اعمال ایک فلم کی صورت اسے نظر آئیں گے۔ ا چھے اعمال کا بدلا باغ اور خوشی کی صورت دکھائی دے گا اور برے اعمال کا بدلا آگ اور عذاب کی صورت دکھائی دے گا۔

پھر قیامت کا دن اور وہ ساعت آئے گی۔ جب حضرت اسرافیلؑ اللہ کے حکم سےصور پھونکیں گے۔ پہلی آواز پر دنیا میں شدید قسم کا زلزلہ آئے گا جس کے بعد سب جاندار مر جائیں گے۔ دوسری آواز پر آسمان پھٹ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے پھر یہ تمام بساط لپیٹ لی جائے گی۔ پھر تیسری آواز پر تمام جن و انساں اور ملائکہ حاضر ہو جائیں گے

اس ذرہ کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم

یہ ذرہ نہیں شاید سمٹا ہوا صحرا ہے

قیامت کے روز خدا ایک بارش برسائے گااور اس کے حکم سے مٹی میں جہاں جہاں انسان دفن ہوں گے یا جہاں انسان کے ذرے تحلیل ہوئے ہوں گے، وہاں سے جمع کیے جائیں گے اور وہی انسان پھر سے تخلیق ہو جائے گا۔ یہاں اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ جس طرح انسان کی ہیئت اس دنیا میں تبدیل ہوتی رہی تھی، مثلاً بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا۔ حتی کہ ہماری جلد بھی وہ نہیں رہتی جو تھی اسی طرح میدانِ حشر میں انسان کی ہیئت بھی مختلف ہوگی (واللہ اعلم)۔ اس روز ملائکہ فوج در فوج آسمانوں سے اتارے جائیں گے۔ جنات، انسان اور فر شتے سب حاضر ہوں گے اور پھر اللہ تعالٰی جلوہ افروز فرمائیں گے۔ پھر پر تمام مخلوقات اور اللہ کے سامنے ایک اک کر کے انسانوں اور جنات کے اعمال نامے رجسٹروں کی صورت کھولیں گے اور اس پردے پر دکھائے جائیں گے اور پھر اللہ فیصلہ فرمائے گا کہ کون جنت یا دوزخ کا حقدار ہے۔

اپنے مرکز پہ مائلِ پرواز ہے قرب

عربی میں ایک محاورہ ہے کے ہر چیز اپنے مرکز پر واپس لوٹتی ہے۔ یعنی جسم خاک سے بنا ہے توواپس مرنے پر خاک میں مل جائے گا اور روح خدا کا امر ہے تو واپس اس کے پاس لوٹ جائے گی۔

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com