ترکوں کے دیس میں (14) – احسان کوہاٹی

حضرت ایوب انصاری ؓ کے مزار پر حاضری اور پائیری لوٹی کے بلند مقام سے استنبول کے دلفریب نظارے کے بعدپاکستانی سیلانیوں کی اگلی منزل استنبول کی مشہور سلطان احمد مسجد تھی جو نیلی مسجد یا Blue Mosque کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 1609ء میں بنا کسی ٹینڈر کے شروع ہوئی اور کسی ٹھیکیدار کے بغیر 1616ء میں مکمل ہوئی۔ اس کی اپنی بنیادوں پرپوری شان وشوکت کے ساتھ کھڑے رہنے کی وجہ بھی یہی ہے اسے ترک حکمران سلطان احمد نے کسی پاکستانی ٹھیکدار سے نہیں بنوایا تھا۔ کہتے ہیں یہاں تقریباً دس ہزار نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ صرف سات برس کی قلیل مدت میں چھ میناروں، پانچ بڑے اور آٹھ چھوٹے گنبدوں والی اس مسجد کی تعمیرسچ میں ایک کارنامہ ہے جبکہ اس دور میں آجکل کی طرح جدید تعمیراتی مشینری بھی نہ تھی کہ راتوں رات کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر دی جائیں بلکہ پہاڑی پتھروں کو تراش کر اینٹیں بنائی جاتی تھیں۔ اس مسجد کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس میں امام صاحب کی نشست کا ایسا اہتمام کیا گیا ہے کہ مسجد میں موجود ہر نمازی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ کہتے ہیں ترکی میں چھ میناروں والی تین ہی مسجدیں ہیں جن میں سے ایک نیلی مسجد بھی ہے۔ یہ ترک ماہر تعمیرات سنان کے شاگرد محمد آغا کی نگرانی میں بنی، وہی اس کے نقشہ ساز تھے لیکن یہ سنان کون تھا ؟اس کے ذکر کے بغیرعثمانیوں کے تعمیراتی ذوق کی تسکین ہونا ممکن نہیں۔ یہ وہی سنان ہے جو آیاصوفیہ کے گنبد کو چیلنج سمجھ کر اس سے بڑا گنبد بنانے میں لگ گیا۔ وہ یکے بعد دیگرے مساجد بناتا چلا گیا لیکن آیاصوفیہ کے گرجا گھر سے بڑا گنبد نہ بنا سکا۔ ہر بار گنبد میں کوئی نہ کوئی کسر رہ جاتی۔ سنان دھن کا پکا تھا، وہ اپنے کام میں لگا رہاا ور بالآخر اس نے سلطان سلیم کے دور میں ادرنہ شہرمیں تعمیر کی جانے والی مسجد میں آیاصوفیہ کے گنبد سے چھ کیوبک فٹ بڑا گنبد بنا ہی ڈالا۔

سیلانی اپنے ہم وطن سیلانیوں کے ساتھ نیلی مسجدکے پاس پہنچ گیا۔ یہاں دیگر ملکوں سے آئے ہوئے سیلانیوں کا جم غفیر تھا۔ گوری چمڑی والوں سے لے کر چپٹی ناک والوں اورپانچ ’’ککے‘‘والے سرداروں سے لے کر شب دیجور کی سی رنگت والوں حبشیوں تک تقریباً ہر براعظم کے لوگ یہاں دکھائی دے رہے تھے۔ مسجد کے آس پاس بڑے بڑے باغیچے ہیں جہاں تراشیدہ گھاس کسی مخملیں قالین کی طرح بچھی ہوئی لگتی ہے۔ ان باغیچوں کے بیچ پختہ راہداری ہے جو آنے والوں کو سلطان احمد جامع تک لے جاتی ہے۔ ان راستوں اور باغیچوں میں بلا کا رش تھا لیکن سب اپنے اپنے میں گم تھے، کسی کو کسی کوئی غرض نہ تھی۔ کہیں گائیڈ کی راہنمائی میں سیاحوں کی ٹولیاں آگے بڑھ رہی تھیں اور کہیں حسین جوڑے حد سے آگے بڑھنے کی خواہش کو بمشکل روک رہے تھے۔ شکر ہے یہاں پیرس جیسی ’’آزادی ‘‘ نہ تھی۔

استنبول کی مشہور نیلی مسجد یہاں سیاحوں کا ایسے ہی رش رہتا ہے

سیلانی اپنے دوستوں کے ساتھ پہلے مسجد کے وضو خانہ پہنچا۔ وضو کیاکہ سب ساتھیوں نے نماز بھی ادا کرنی تھی۔ یہاں وضو خانے میں پیتل کی ٹونٹیاں اسی طرز کی تھیں جیسے شانلی عرفا کی مسجد ایوب اور کیلس میں حبیب نجار کے مزارکے وضو خانے میں دیکھیں۔ یہ یکسانیت بھلی معلوم ہوئی۔ وضو کے بعد سیلانی دیگراحباب کے ساتھ مسجد میں داخل ہواورجیسے ہی اس کے آنکھیں اوپر اٹھیں تو اٹھی کی اٹھی ہی رہ گئیں۔ چھت کیا تھی، چھوٹے بڑے گنبدوں کا حسین امتزاج،بادی النظر میں خوبسورت رنگوں اور خطاطی کے نمونوں سے مزین گول دائرے معلوم ہوئے۔ ان میں ایسی خوبصورت مینہ کاری، خطاطی کی گئی تھی کہ سیلانی نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ مسجد میں سرخ دبیز قالین ایک دیوار سے دوسری دیوار تک کا احاطہ کیے ہوئے تھا۔ مسجد کی منقش دیواروں پرلگی ٹائلیں بھی خوب تھیں۔ ان میں ندرت یہ تھی کہ یہ قریب سے دیکھنے میں تو سرمئی رنگ کی لگتی ہیں لیکن شام کے وقت جب دن بھر کا تھکا ماندہ سورج اپنی روشنیاں سمیٹ کر رخصت ہو تے ہوئے مسجد کو بوسہ دیتا ہے تو یہ سرمئی ٹائلیں حیرت انگیز طور پر نیلگوں سی ہوجاتی ہیں اوران سے منعکس ہونے والی روشنی سے پوری مسجد نیلی نیلی سی ہو جاتی ہے اسی لیے تو اسی نیلی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔

نیلی مسجد کا ایک خوبصورت منطر

مسجد میں مذہب کی تخصیص کے بناسب ہی کو داخل ہونے کی اجازت ہے لیکن صفوں سے آگے کسی فوٹو گرافر یاسیاح کو آگے آنے کی اجازت نہیں۔ یہاں لکڑی کے جنگلے بنا کر بورڈ آوایزاں کر دیے گئے ہیں آنے والے یہیں سے اپنے کیمروں پر لینس لگا کرفوٹو گرافی کا شوق پورا کر لیتے ہیں۔ برادر انظر شاہ کی معیت میں ’’سیلانیوں ‘‘ کی ٹولی آگے بڑھی اور ایک جگہ’’ پہلوان‘‘ امام صاحب کے پیچھے قصر نماز کی نیت باندھ لی نماز سے فارغ ہوئے تو خود پر کچھ نظروں کو مرکوز پایا۔ یہ تبلیغی جماعت کے عرب بھائی تھے جن کی تشکیل نیلی مسجد میں ہوئی تھی۔ یہ قمیض شلوار سے بخوبی واقف تھے اور جو تھوڑا بہت شک شبہ تھا وہ تعارف میں دور ہو گیا۔ انہیں جب پتہ چلا کہ حاجی عبدالوہاب اور رائے ونڈ والے پاکستانی بھائیوں سے ہمکلام ہیں تو خوشی سے بغلگیر ہوگئے۔ تبلیغی بھائیوں سے ملاقات کے بعدسیلانیوں کی ٹولی مسجد کا طواف کرتے ہوئے باہر نکل آئی۔ باہر آکر سیلانی نے پیچھے مڑ کر مسجد پر نگاہ ڈالی تو مسجد کے چھ میناروں سے اسے سلطان کی ناراضگی بھی یاد آگئی۔ کہتے ہیں سلطان صاحب مسجد کے چھ میناروں پر اس کے آرکیٹیکچر سے کچھ ناراض ہو گیا تھا۔ اس کی ناراضگی کا سبب مسجد الحرام کے چھ مینار تھے۔ سلطان نہیں چاہتا تھا کہ اس کے حکم سے بننے والی مسجد کے بھی چھ ہی مینار ہوں اور کہا جائے کہ مسجد الحرام کے بعد استنبول میں بھی چھ میناروں والی مسجد بن گئی۔ بعد میں باادب بانصیب سلطان نے مسجد الحرام میں ایک اور مینار کا اضافہ کرکے اس کے میناروں کی تعداد سات کرکے اس کی تعمیر کا امتیاز برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی میں حیرت کے پانچ سال - عالم خان
آیاصوفیہ جو کبھی گرجاگھر تھا، پھر مسجد بنا اور اب عجائب گھر ہے

نیلی مسجد سے باہر نکلا جائے تو سامنے ہی پندر سو سال قدیم آیاصوفیہ اپنی داستان لیے دکھائی دیتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ یہ داستان سننے کے لیے چالیس لیرے یعنی پاکستانی بارہ سو روپے کا مہنگا ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ آیاصوفیہ بزنطینی دور میں عیسائیت کا بڑا مقدس اور مرکزی گرجا گھر تھا۔ ’’آیاصوفیہ ‘‘ کے لفظی معنی خدا کی حکمت کے ہیں۔ یہ پندرہ صدیاں پہلے تعمیر ہوا تھااور اپنی تعمیرکے بعد دو بار آتشزدگی کاشکار ہو چکا ہے۔ بزرگ تاریخ سپاٹ لہجے میں بتاتی ہے کہ شاہ جسٹینین اول نے بڑی عقیدت سے اسے بنوایا۔ 26 دسمبر537ء کووہ اس کے افتتاح کے لیے اندر داخل ہوا تو اس کی عظمت اور شان و شوکت دیکھ کراکڑ گیا اور کبر ونخوت سے کہہ اٹھا’’سلیمانؑ!میں تم سے جیت گیا ہوں‘‘اس کا مطلب تھا کہ حضرت سلیمانؑ کا بنایاہیکل سلیمانی بھی میرے اس شاہکار کے مقابلے میں کچھ نہیں اور پھرتاریخ اس بڑبولے کے لیے یہ بھی کہتی ہے صرف بیس برس میں ہی اس گرجا گھر کا بڑا اور مرکزی گنبد شاہ جسٹینین کا غرورلیے دھڑام سے زمین پر آرہا تھا۔ اسی بادشاہ نے پھر اسے دوبارہ تعمیر کرایا اور تعمیر مکمل ہونے پروہ احتیا طاً چپ رہایا اس نے پھر دوبارہ کوئی بونگی حرکت کی؟ تاریخ اس بارے میں چپ ہے۔ ویسے گنبدگرنے کے بعد شیخی مارنے کا کوئی جواز تو نہیں رہتا۔

آیاصوفیہ جانے کے لیے چالیس لیرے کا ٹکٹ لینا پڑا۔ یہ ٹکٹ خرید کر ہم پندرہ سو برس پرانے قسطنطنیہ میں داخل ہو گئے۔ یہاں روشنی ذرا کم تھی۔ بلند و بالا عمارت کا ایک حصہ مرمت کی وجہ سے بند تھا۔ سیلانی آنکھوں میں تجسس لیے آہستہ آہستہ چلتا ہواآیاصوفیہ کے اس حصے تک آگیا جس سے آگے جانے کی ممانعت تھی۔ یہاں سیکیورٹی گارڈ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں کبھی پادری صاحبان وعظ دیا کرتے تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان نے اس میں ایک محراب اور چار میناروں کا اضافہ کرکے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہاں گنبدکے اندر اور دیواروں پر کندہ تصاویر لیپ پھیرکر ڈھک دی تھیں۔ عثمانی خلافت تک یہ مسجد ہی رہا لیکن کمال اتاترک صاحب نے خلافت کے خاتمے کے بعد ’’کمال ‘‘ یہ کیا کہ آیاصوفیہ کو عجائب گھر بناکرنمازوں پر پابندی لگا دی جو آج تک قائم ہے اب یہاں سے اذان کی صدا اٹھتی ہے، نہ گرجا گھر کا گھنٹہ بجتاہے۔

1500 سال قدیم بازنطینی عیسائیوں کا گرجا گھر آیا صوفیہ جس کے معنی حکمت خداوندی کے ہیں

پندرہ سو برس پرانایہ گرجا گھر زمانہ قدیم میں جھانکنے والوں کے لیے یقینی طور پردلچسپی کا حامل ہے بلکہ یہی کیا استنبول کی گلیاں چوراہے بندے کو جانے کہاں سے کہاں لے جاکر کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہیں۔ آیاصوفیہ کے بعد اگلی منزل توپ کاپی تھا۔ یہ وہ محل ہے جو عثمانی حکمرانوں کی کئی صدیوں تک رہائش گاہ رہا۔ یہاں سے عثمانی حکمراں تین براعظموں پر پھیلی حکومت چلاتے تھے۔ کبھی یہاں دربار سجا کرتا تھا، خلعت فاخرائیں پہنے درباری حاضری دیا کرتے تھے، آج یہاں لوگ آنکھوں میں تجسس اور استعجاب لیے حاضر ہوتے ہیں اور 80لیرے یعنی پاکستانی چوبیس سو روپے کا ٹکٹ خرید کر حاضری کا حق لے لیتے ہیں۔ اسے ہی گردش ایام کہاجاتا ہے۔

استنبول آئیں تو آیا صوفیہ دیکھنا مت بھولیں

توپ کاپی دراصل فصیل شہر کے ایک دروازے کا نام ہے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں کوئی توپ پر بیٹھ کر کاپیاں بنایا کرتا تھا۔ دراصل ترکی زبان میں کاپی دروازے کوکہا جاتا ہے، یعنی توپ والا دروازہ۔ استنبول قلعے کے گرد کھنچی فصیل کے بہت سے دروازے تھے جیسے اپنے لاہور کے موچی گیٹ، بھاٹی گیٹ مشہور ہیں، یہاں توپیں نصب تھیں جس کی وجہ سے یہ توپ کاپی مشہور ہوگیا۔ عثمانی حکمرانوں نے 1453ء میں قسطنطنیہ کو فتح کر کے ’’اسلام بول‘‘کیا تو یہیں پر اپنے لیے محل اور اس کے ساتھ پرشکوہ مسجد سلیمانیہ تعمیر کی تھی۔ اس محل کے تو اب آثار بھی نہیں البتہ مسجد سلیمانیہ اسی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔ کہتے ہیں اس محل سے تنگئ داماں کی شکا یت پیدا ہوئی توسلطان نے پھر توپ کاپی محل کی تعمیر شروع کی۔ اس میں حرم کا اضافہ تین سوسال بعد کیا گیا۔ توپ کاپی محل میں وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت کے مطابق عمارات کی تعمیر ہوتی رہی یہاں تک کہ 1839ء میں سلطان عبدالمجیداول ’’دولما باچی‘‘میں منتقل ہوگیا۔ دولما باچی ہی وہ منحوس محل ہے جس کے بعد خلافت عثمانیوں کے ہاتھ میں نہ رہی۔

توپ کاپی کے ساتھ ساتھ بہت بڑا سا باغ بھی ہے اور اس کے بیچ میں بڑا سا پختہ راستہ جس پر پولیس کی گاڑی گشت کرتی رہتی ہے۔ ہم اسی راستے پر فاصلہ سمیٹتے ہوئے توپ کاپی دیکھنے کی خواہش لیے پہنچے تو بند دروازے خواہش کو حسرت میں بدلنے کے لیے موجود تھے۔ میوزیم کے بند ہونے کا وقت ہو چکا تھا۔ اب لے دے کر ہمارے پاس محل کے قریب کمال اتا ترک کے دھاتی مجسمے ہی رہ گئے تھے۔ سو سیلانی اور دوستوں نے اسی پر اکتفا کیا۔ اتاترک صاحب کے مجسموں کے ساتھ یادگار تصاویر بنا کر ر کھ لیں کہ سند رہے۔

توپ کاپی نہ دیکھنے کا سیلانی کو سچ میں بڑا افسوس ہے۔ یہاں ایران کے نادر شاہ کی طرف سے ٹھوس سونے کا وہ تخت بھی ہے جس میں ہیرے جواہرات جڑے ہوئے ہیں لیکن خاص بات نبی اکرم ﷺ سے موسوم وہ ریش کا موئے مبارک، ان کی لحد مبارک سے لی گئی سی خاک، ہرن کی کھال پر لکھا ہوا نامہ مبارک اور تلوار بھی ہے۔ یہاں حجر اسود کا پرانا خول اور خانہ کعبہ کے دروازے کا ایک ٹکڑا بھی رکھا ہوا ہے۔ توپ کاپی تفصیل سے دیکھنے کے لیے کم از کم تین دن درکار ہوتے ہیں۔ صرف دو سو ایکڑپر تو سلطان کا حرم ہے جس میں کسی نامحرم کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں خدمت پر مامور خدام کو بچپن ہی میں جواہر مردانگی سے محروم کرکے حرم کی خدمت کے لیے سنبھال لیا جاتا تھا اور ان کی تربیت کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   رومی کا دیس اور میں - عالم خان

توپ کاپی دیکھنے کی حسرت میں لیے سیلانی اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس فاتح میں رشیدیہ ہوٹل پہنچا، جہاں رات کو پاکستان سے پڑھنے کے لیے آئے ہوئے طالب علم امین مجیداور طیب اردگان کے مشیر فاروق قورقماز سے کھٹی میٹھی ملاقات ہوئی۔ فاروق قورقماز اسلام آباد کی اسلامی یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ہیں اور پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں۔ وہ خبیب فاؤنڈیشن کے چیئرمین ندیم احمد کے دوستوں میں سے ہیں۔ ندیم صاحب بھی اسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس لیے ان کی ندیم صاحب سے خوب دوستی ہے۔ رشیدیہ میں ہونے والی اس ملاقات میں گولن تحریک سے متعلق سوال پرعمر فاروق صاحب کچھ بدمزہ بھی ہوئے لیکن یہ بدمزگی ناراضگی تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔ فاروق قورقمازترکی اور پاکستان کی دوستی کے بڑے داعی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات ویسے نہیں جیسے ہونے چاہئیں اور اس میں دونوں طرف ہی کے لوگوں کی غلطیاں ہیں،لیکن سیلانی کے خیال میں ہماری سردمہری کا زیادہ دخل ہے، فاروق قورقمازنے سیلانی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا آپ لوگوں نے عالم اسلام میں اخوت کا رشتہ مضبوط کرنے کے غرض ہی سے اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد قائم کی تھی، جہاں مسلم ممالک سے نوجوان پڑھنے آتے تھے اوردوستی کے رشتے میں بندھ کرجاتے تھے۔ اب پاکستان نے یہ کام چھوڑدیا ہے اور ہم نے آپ کا یہ چھوڑا ہوا کام اپنے ذمے لے لیا ہے۔ اس وقت ترکی میں 80ہزار بیرونی ممالک کے طالب علم پڑھ رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ اسّی ہزار طالب علم نہیں ترکی کے اسّی ہزار سفیر ہیں جو اپنے ملکوں میں واپس جا کرساری عمر ترکی کے امیج کے لیے کام کرتے رہیں گے، جیسے اسلامی یونیورسٹی کا فاروق قورقماز پاکستان کا نام آتے ہی جذباتی ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ترک بدن میں لہو پاکستان ہے۔

سیلانی نے دونوں ممالک کو عوامی سطح پرقریب کرنے کے لیے فاروق صاحب کوکچھ تجاویز دیں۔ اس ملاقات میں امین مجید بھی شریک رہے۔ گندمی رنگت اورسنت رسول ﷺ سے سجے ہوئے چہرے والے امین مجید نظریاتی نوجوانوں میں سے ہیں حالاں کہ اس عمر میں نوجوانوں کی نظریں نظریات پر نہیں ہوتیں ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہیں۔ امین مجید بھائی کو فیس بک کی مخبری سے سیلانی کی ترکی آمد کی اطلاع ملی تھی جس کے بعدانہوں نے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ استنبول میں ہوتے ہیں۔ سیلانی نے وعدہ کیا کہ استنبول آنے پر محفل جمائیں گے۔ وہ اس وقت شانلی عرفا میں تھا۔ واپسی پر سیلانی نے اپنی آمد کا بتایا جس کے بعد امین مجید دل میں محبت اور خلوص کی امانت لیے آگئے۔ امین سے بعد میں خوب ملاقات رہی ان کے توسط سے ڈاکٹر ندیم سے بھی بیٹھک لگی جو 37 برسوں سے ترکوں کی صحت کی فکر میں رہتے رہتے اب ترکی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ملاقات میں سیلانی کو بتایا کہ جو ترکی آپ آج دیکھ رہے ہیں، یہ اس ترکی سے بہت مختلف تھا جو میں نے دیکھا۔ یہاں گرانی، مہنگائی، اقتصادی دیوالیہ پن تک پہنچی ہوئی تھی۔ نوّے کی دہائی میں تو حال یہ تھا کہ عوامی بیت الخلاء جانے کے لیے پندرہ ہزار لیرا دینا پڑتا تھا۔ تب ترکی قرضوں کے پہاڑ تلے دبا ہوا تھا۔ اس ترکی کو طیب اردگان نے اٹھا کر آج اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا ہے۔

ڈاکٹر ندیم سے یہ ملاقات آئی ایچ ایچ ہی کی ایک ذیلی تنظیم کے دفتر میں ہوئی یہاں امت مسلم پر ریسرچ ہوتی ہے۔ پاکستان، برما،صومالیہ، امریکہ، عرب ممالک، ان کے مسائل وسائل پر تحقیق کی جاتی ہے مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے، آنے والے دنوں کے بارے میں تجزیہ بھی رکھاجاتا ہے۔ پاکستان میں ایسے تجزیاتی ادارے افواج پاکستان کو چھوڑ کر گنتی کے تین بھی نہیں۔ اس ادارے کے دفتر میں ڈاکٹرندیم نے سیلانی کو بتایا کہ طیب اردگان اتنا مقبول کیوں ہے اور ترک اس پر جان کیوں چھڑکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ 2002ء میں ترکی کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 26.5 بلین تھے جو 2013ء میں 134بلین تک چلے گئے تھے اور اب بھی 100بلین ڈالر کے آس پاس ہیں۔ طیب اردگان نے 2013ء میں 400 ملین ڈالر کی آخری قسط آئی ایم ایف کو دے کر اس سے جان چھڑالی پھر 2002ء میں عدالتی اراضی پانچ لاکھ اسکوائر میٹر تھیں یعنی عدالتی نظام کے دفاتر عدالتیں وغیرہ پانچ لاکھ اسکوائر میٹر کے رقبے پر محیط تھیں جو 2011ء میں 25 لاکھ اسکوائر میٹر تک پہنچ گئیں۔ ندیم صاحب سے ملاقات جاری تھی کہ ان کے گھر سے فون آگیا کہ ان کے بچے کی طبیعت ناساز تھی۔ وہ معذرت کرکے چلے گئے اور سیلانی مقبوضہ کشمیرکے ان دو نوجوانوں کی جانب متوجہ ہوگیا جوترکی پڑھنے آئے ہوئے ہیں۔ سیلانی کو یہ جان کر بالکل بھی حیرت نہ ہوئی کہ وہ اردو بول بھی لیتے ہیں اور پڑھ بھی لیتے ہیں۔ گرم خون کے ان نوجوانوں کوپاکستان سے محبت بھرا شکوہ بھی تھا جو کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا۔ وہ بتانے لگے کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکا عشر عشیر بھی میڈیا میں نہیں آپاتا،پیلٹ گنز سے بچے بچیاں تک محفوظ نہیں، کشمیر عملی طور پر ملٹری کیمپ بن چکا ہے، کشمیریوں کی شخصی آزادی ختم ہوچکی ہے۔ ہم بھارت کے ایسے شہری ہیں جو بھارت کو تسلیم کرتے ہیں، نہ بھارت ریاست کے طور ہمیں شہری مانتی ہے۔ وہ نوجوان چاہتے تھے کہ پاکستان اس حوالے سے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے۔ سیلانی نے محسوس کیا کہ ان نوجوانوں کو پاکستان سے کچھ شکوہ بھی ہے۔ سیلانی نے محبت بھرے انداز میں کہا کشمیر کے ’’ک‘‘ کے بنا تو لفظ پاکستان بھی مکمل نہیں ہوتاپھر ہم کشمیرکو کیسے بھول سکتے ہیں؟ہمارے دل مقبوضہ کشمیر کے ’’پاکستانیوں‘‘ کے ساتھ دھڑکتے ہیں،کشمیری نوجوانوں سے اس معاملے پر کافی دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ سیلانی کو مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں سے مل کر دلی طور پر خوشی ہوئی اسے ان نوجوانوں کے سینوں میں بغاوت دہکتے دیکھ لی تھی(جاری ہے)

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.