بے مثال انقلاب - مولانا اسعدگیلانی

اگر کوئی انسان ۲۳ سال پہلے عرب سے باہر چلا گیا ہوتا اور ۲۳ سال بعد وہ یکایک مکہ اور مدینہ اور ان علاقوں میں لوٹتا جہاں حضور اکرم ﷺ نے انقلاب برپا فرمادیا تھا تو اسے اپنی آنکھوں پر اعتماد کرنا مشکل ہوجاتا، اس کے لئے یہ باور کرنا دشوا ر ہوجاتا کہ وہ اسی علاقہ اور انہیں لوگوں کے درمیان واپس آیا ہے جنہیں چھوڑ کر وہ گیا تھا ۔اس مختصر سے عرصہ میں جو زبردست تبدیلی فرد فرد کے اخلاق ، اعمال،گفتار، رفتار، کردار اور معاملات میں آگئی تھی، اسے صرف معجزاتی قلب ماہیت ہی کہا جاسکتا ہے ۔عورتیں ، مرد، بوڑھے، بچے ، گلیاں، بازار ، مجالس ، اور کاروبار، ہر چیز ہی یکسر تبدیل ہوگئی تھی۔ان کے لہجے ، ان کے معمولات ، انکی دلچسپیاں ، ان کے ذوق و شوق اور مصروفیات سمجھ کچھ بدل گئی تھیں ۔

مسجد کے نام سے ایک نیا ادارہ وجود میں آگیا تھا ،جو ہر محلہ اور بستی میں موجود تھا اور جس میں لوگ علم دین حاصل کرتے تھے۔خدا اور اس کے رسول کی تعلیمات کے چرچے، قرأت قرآن کی مجالس، علمی مشاغل کے مباحثے ، جنگ و جدال کے بجائے اور اد اور وظائف، تضیع اوقات کے بجائے ، پانچ وقت کی نمازیں اور ان کے ساتھ وضو کا اہتمام ، جمعہ کو ہفتے وار اجتماع اور ملکی وملی مسائل پر کھلے مباحث ،ناپ تول میں عدل، اوزان میں انصاف، انسانوں میں باہمی برابری و مساوات ، نہ نسل کافخراورنہ قبیلہ کا زعم، نہ زبان کی بر تری کا دعوی اور نہ رنگ کی سفیدی کا غرور، سارے انسان خدا کی مخلوق ، ساری خدائی خدا کا قبیلہ ، سارے انسان خدا کے بندے اور ان سب کا تنہا وہی ایک معبود جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔

غلط بیانی اور جھوٹ کے بجائے ہر طرف صداقت شعاری کا سکہ رواں، وعدے کی پابندی، لین دین کا کھرا پن اور خدا پرستی کی کیفیت، نہ فحش باتیں اور نہ فحش کاری کے اڈے، نہ بے پردگی اور نہ بے حیائی، نہ مجالس کے قصے اور نہ ہی اپنی بڑائی کی ڈینگیں،سب سے بڑا نام صرف اللہ کا اور اس کے رسول ؐ کے پیروی کا اہتمام ہی ،سب سے اعلی طرز عمل قرار پایا ۔

ہر طرف نظم و ضبط ، عدالتیں موجود اور جرائم نابود اور اگر کسی سے کوئی خطا ہوجائے تو متعلقہ فریق سے معافی حاصل کرنے میں سبقت یا عدالت کے سامنے خود اعتراف خطا، عدالتیں سب کے لئے مساوی، خلیفہ سے لیکر عام انسان تک سب برابر، کسی کے درمیان کوئی امتیاز موجود نہیں ۔دکاندار خوف خدا سے لرزاں و ترساں ، ناجائز نفع اندوزی کا تصور بھی غائب، ناقص مال دینے کا سوال ہی نہیں، اگر کسی شئی کا نقص گاہک سے پوشیدہ رہ گیا تو اس کے گھر تک پہنچ کرنا قص کی وضاحت او ر اس کی نسبت سے قیمت میں کمی یا مال کی واپسی، بزرگوں میں شفقت اور تعلیم و تربیت کا جذبہ ،چھوٹوں میں ادب و احترام او رنصیحت حاصل کرنے کا احساس، آجر ،مزدور سے زیادہ حساس کہ اس کا حق اس کے ذمہ رہنے نہ پائے اور اجیر ، آجر سے زیادہ حساس کہ اجرت کے مطابق کام سر انجام پائے۔سپاہی، جہاد فی سبیل اللہ کے جذبہ سے سر شار اور اس کے لئے دین کی سر بلندی کے لئے خدا کی راہ میں لڑنا، دنیا و مافیھا کی نعمتوں سے بہتر، ہمسایہ میں یہ احساس زندہ و بیدار کہ اس کا ہمسایہ بھوکانہ سونے پائے اور اس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے، غرض فرد فرد سے ظاہرباطن تک اس طرح بدل گیا کہ جیسے پہلے انسانوں کی آبادی سے منتقل کرکے کوئی دوسری انسانی آبادی ،وہاں لاکر بسادی گئی ہو۔

غرض وہ انقلاب جو تیئس سال میں برپا ہوا، جس کے لئے حضور اکرم ﷺ نے آٹھ سال کی مدت میں ستائیس (۲۷)غزوات کئے (یعنی ہر سال میں تین بار جہاد اور اس مدت میں پچپن (۵۵) جہادی لشکر صحابہ کی سر کردگی میں روانہ کئے ۔یہ انقلاب ایسے حالات میں رونما ہوا، جس میں آٹھ سال کے پورے عرصہ میں ہر پینتیس (۳۵) دن کے بعد کسی نہ کسی دشمن کی طرف سے کوئی نہ کوئی جنگی مہم درپیش ہوتی تھی، دن کو جنگی تیاریاں اور لشکروں کی روانگی اور راتوں کو چوکی پہرے او ر مشورے ہوتے تھے۔ان حالات میں ، اس زمین پر حضور اکرم ﷺ نے اللہ تعالی کی تائید و نصرت سے ایسا ہمہ گیر انقلاب برپا کیا۔ انسان سوچتا ہے کہ جس آٹھ سالہ مہماتی زندگی میں خون خرابہ اور تباہی و بربادی کا کیا حال ہوگیا ہوگا، لیکن مؤرخین نے جو تفصیلات دی ہیں وہ اس طرح ہیں مسلمان قیدی گیارہ اورایکسو ستائیں (۱۲۷) زخمی اور چار سو انسٹھ(۴۵۹) شہید کفارقیدی ۶۵۶۵ اور مقتول ۴۵۹ یہ تعداد بیاسی (۸۲) جنگوں کے افرادی اتلاف پر مشتمل ہے ۔اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اسلامی انقلاب میں کل انسان جو کام آئے وہ صرف ۹۱۸ ہیں اور ان تمام مقتولین کو ۸۲ جنگوں پر تقسیم کیا تو فی جنگ مقتولین کی تعداد کا اندازہ ہوجاتا ہے ، اتنے بڑے عظیم صالح انقلاب کے لئے اتنی قربانی اور نقصان کچھ معنی نہیں ہے، دنیا میں کبھی اور کہیں ایسا Blood Less Revolution (غیر خونی انقلاب) برپاہی نہیں ہوا ہے۔

فرانس نے جب جمہوریت کے لئے ایک جمہوری انقلاب برپا کیا تو اس کے لئے اسے اتنی قربانی دینی پڑی کہ فرداً فرداً انسانوں کو قتل کرنا وہاں ممکن نہ رہا تو گلوٹین ایجاد کرنی پڑی جو بیک وقت بیسیوں انسانوں کے سروں کو اڑادیتی تھیں۔اس انقلاب جمہوریت (نام نہاد جمہوریت)کے لئے جو بعد میں صرفلفظوں کی بازیگری ہی بن کر رہ گیا، اندازا چھیاسٹھ (۶۶)لاکھ انسانوں کو گلوٹین کی بھینٹ چڑھا یا گیا، اسی طرح اشترا کی انقلاب آیا جو صرف مزدوروں کے مسئلہ کا حل پیش کرنے کا ہی مدعی تھا تو ایک کروڑ سے زائد انسان ، قتل و غارت اور برفانی قیدخانوں میں موت کے حوالے کئے گئے ۔۱۹۱۴ سے ۱۹۱۸ ء تک کی ہولناک جنگ عظیم میں یورپین ممالک میں مقتولین کی جو تعداد باقاعدہ بتائی گئی وہ یہ ہے ۔روس سترہ (۱۷)لاکھ۔جرمنی چھ (۶) لاکھ۔فرانس تیرہ (۱۳)لاکھ ، ستر(۷۰) ہزار، اٹلی چار لاکھ (۴) ساٹھ (۶۰) ہزار۔آسٹریا(۸)آٹھ لاکھ، برطانیہ سات(۷) لاکھ، چھ ہزار۔ترکی دولاکھ پچاس ہزار۔ بلجیم ایک لاکھ دو ہزار۔بلغاریہ ایک لاکھ۔ رومانیہ ایک لاکھ۔سرویاایک لاکھ ۔امریکہ پچاس ہزار۔مجموعی تعداد تہتر(۷۳) لاکھ اڑتیس (۳۸) ہزار۔

پھر دوسری جنگ عظیم اسی مقصد کے لئے لڑگئی (اپنی اپنی سلطنتوں کی بقاء کے لئے ) جس مقصد کے لئے پہلی جنگ عظیم ہوئی تھی اور تقریباً انہیں فریقین نے لڑی۔اس دوسری جنگ میں اربوں کھربوں پونڈ اور ڈالر کے مالی نقصانات کے علاوہ جو انسانوں کا جانی نقصان ہوا وہ یہ تھا۔روس سات لاکھ پچاس ہزار۔امریکہ تین لاکھ۔برطانیہ پانچ لاکھ پچاس ہزار، فرانس دولاکھ، جرمن اٹھائیس(۲۸) لاکھ پچاس ہزار ۔اٹلی تین لاکھ ۔چین بائیس (۲۲) لاکھ ، جاپان دس (۱۰ لاکھ)کل مجموعی تعداد ایک سو چھ (۱۰۶) لاکھ پچاس ہزار۔مالی طور پر صرف امریکہ کا ۳۵۰ ارب ڈالر خرچ ہوا اور ایک کروڑ شہری گھر سے بے گھر ہو کر اجڑ گئے۔

(انسائیکلوپیڈیا ۔۲۳۔۷۷۵۔۷۹۳)

یہ تو صرف دنیا وی جنگوں کا نمونہ ہے، مذہبی جنگوں میں مہابھارت کی جنگ میں پورا ہندوستان تباہ ہوگیا اور بہت تھوڑے انسان زندہ بچ سکے، یورپ میں مذہبی عدالتیں قائم ہوئیں تو انکے ذریعہ ایک فرقہ کے لوگوں نے دوسرے فرقے کے لوگوں کو زندہ جلادیا یا قتل کردیا، ا سکی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ (اپالوجی آف محمد از جان ڈیون رپورٹ) اس عالمی قتل و غارت اور خون خرابے کے مقابلہ میں اس انقلاب کو دیکھئے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے بر پا فرمایا۔ اس انقلاب نے انسان کو زمین پر خدا کا خلیفہ بنایا اور عملی کردار میں اسے فرشتہ سیرت بنایا، اس ہستی کو رحمتہ للعالمین نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔