غصہ کیسے کنٹرول کریں - نیر تاباں

جیسے ہی آپ کو لگے کہ غصہ آ رہا ہے تو تعوذ پڑھیں۔ دل ہی دل میں ورد کریں اور شیطان کو بھگائیں۔ اس کے علاوہ یہ کر سکتے ہیں کہ کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں جیسا کہ حدیث میں ذکر ہے، یا پھر یہ کہ کچھ دیر کے لیے "جائے وقوعہ" سے ہٹ جائیں۔ ٹھنڈے پانی سے وضو کر لیں یا ویسے ہی منہ پر چھینٹے مار لیں۔ چند گہرے سانس لیں، اپنے آپ کو ریلیکس کریں۔

اب فرض کریں کہ یہ سب احتیاطی تدابیر لینے سے پہلے ہی آپ پھٹ پڑے، اور منہ سے اول فول بول دیا تو اپنے آپ کو یوں سزا دیں کہ جس کو ڈانٹا ہے، اس سے منہ سے بول کے معافی مانگیں۔ اس کو کہیں کہ مجھ سے غلطی ہو گئی، بات اتنی نہیں تھی کہ میں ایسے ری ایکٹ کرتا، پلیز مجھے معاف کر دیں۔ پلیز پلیز، میں نے آپ کی دل آزاری کی ہے، مجھے معاف کر دیں۔

بہت مشکل کام ہے یوں معافی مانگنا، اپنی میڈ سے، اپنی بیوی سے، اپنے بچوں کے سامنے یوں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔ لیکن جب معافی مانگنے کے کڑے مرحلے سے گزریں گے، انا کو ٹھیس لگے گی تو اگلی بار یاد رہے گا کہ غصہ کیسے کنٹرول کرنا ہے۔

یہاں اس کو آسان یوں بنا لیں کہ اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ اگلے آدھے گھنٹے میں کسی کے ساتھ کوئی تلخ کلامی نہیں کرنی۔ وہ آدھا گھنٹہ خیر سے گزر جائے تو اگلے آدھے گھنٹے کا خود سے وعدہ کریں۔ یونہی پورا دن کرتے رہیں۔
.......................
احمد کے ساتھ ایک مکالمے کا کچھ حصہ: اللہ تعالی کو معاف کرنے والے لوگ پسند ہیں۔ یہ سارے شیطان کے آئیڈیاز ہوتے ہیں کہ ہم غصہ کریں، دوسروں کو ہرٹ کریں، اس لیے جب بھی غصہ آئے تعوذ پڑھ لینی چاہیے۔ تو اب جب آپ کو غصہ آئے، آپ اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں، پانی پی لیں۔ اور اگر ماما کو غصہ آئے تو آپ نے یاد کروانا ہے کہ ماما بھی تعوذ پڑھ لیں۔

تو ایک طرف تو میں شعوری کوشش کر رہی تھی کہ اس کو سخت لہجے میں، اونچے آواز میں نہ بولوں، ساتھ ہی یہ ہوا کہ جیسے ہی غصہ آنے لگے، احمد مجھے یاد کروا دیتا ہے کہ شیطان مجھے آئیڈیاز دے رہا ہے۔ 🙂 عموماً اس کے اتنا کہہ دینے سے کام بن جاتا ہے۔

دوسرا اصول یہ بنایا کہ عین جس وقت بچے سے کچھ گڑبڑ ہو جائے، اس کے پانچ منٹ بعد ڈانٹنا ہے۔ ان پانچ منٹ میں ماں کو خود ہی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ بچوں سے تو ایسے کام ہو ہی جاتے ہیں، کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، کسی کو چوٹ نہیں لگی، خیر ہے۔ یہ ٹپ کبھی کام کرتی ہے اور کبھی نہیں کیونکہ اس کے لیے بہت سیلف کنٹرول چاہیے۔

میں نے نوٹ کیا ہے کہ جب کہیں جانے کی، تیار ہونے کی جلدی ہوتی ہے اور بچے اپنی ہی رفتار میں مزے سے کام کرتے جائیں تو سٹریس بڑھتی ہے، غصہ آتا ہے۔ اب آپ بچے کو اس کے کپڑے دے کر جائیں، سب سمجھا کر جائیں کہ فٹا فٹ تیار ہو جائیں اور ماما بھی ریڈی ہونے جا رہی ہیں، ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود جب اماں تیار ہو کر نکلیں اور دیکھیں کہ بچہ تو سنک میں پانی بھر کر جھاگ بنا کر کھیل رہا ہے۔ یقین کریں یہ جو ابھی میں مسکرا رہی ہوں، اس وقت نہیں مسکرائی تھی۔ تو اس مسئلے کا حل یہ کہ مارجن رکھیں۔ یہ اماں ابا کو پتہ ہوتا ہے کہ دیر ہو رہی ہے، بچے بادشاہ ہوتے ہیں۔ وہ اسی رفتار سے کام کریں گے جو ان کے من بھائے گی۔ پہلے ہی دس منٹ کا مارجن رکھ لیں تاکہ بدمزگی نہ ہو۔

اس کے علاوہ ایک ٹپ پڑھی ہے، ابھی عمل نہیں کیا کہ صبح اپنی کلائی پر پانچ ربر بینڈ پہن لیں۔ جیسے ہی بچے پر غصہ کر دیا، چیخ چلا دیا، بینڈ اتر کر دوسری کلائی پر چلا جائے گا۔ اب اس بینڈ کو واپس لانے کے لیے بچے کے ساتھ پانچ اچھے، پیار والے کام کرنے ہیں۔ چاہیں گلے لگا لیں، یا بوسہ، یا ہائے فائیو، یا کوئی جوک سنا دیں، یا سٹوری پڑھ لیں، یا اس کے ساتھ گپ شپ کریں، اور اس طرح وہ بینڈ واپس آ جائے گا۔ کوشش مکمل یہی ہو کہ پانچوں بینڈ رات کو اسی کلائی میں ہوں، جس میں پہنے تھے۔ کچھ دن ایسا کریں تو شعوری کوشش سے یہ بےمقصد ڈانٹ ڈپٹ کم ہو جائے گی۔

ایک بات یہ بھی یاد رکھیں کہ خود کے لیے اتنے نیگیٹو نہ ہوں۔ آپ سارے گھر کا نظام چلا رہی ہیں، بچوں کی سوشلائزیشن، انہیں پڑھائی میں مدد، ان کا ہر کام وقت پر کرنا، گھر کے تمام افراد کا خیال رکھنا، ایسے میں کبھی سٹریس کی وجہ سے اونچ نیچ ہو جائے تو خود کو معاف کر دیا کریں، اور یہ نہ سوچنے بیٹھ جائیں کہ میں اچھی ماں نہیں۔ میں مانتی ہوں کہ سب کچھ کرنے کے باوجود ایک mom guilt دل سے جاتا نہیں، لیکن اسے خوب سے خوب تر ہونے کے لیے ایک ٹول کے طور پر استعمال کریں، نہ کہ ہر وقت خود کو کوسنے کے لیے۔ آپ بہت اچھی ہیں، اور وہ کچھ کر رہی ہیں جو آپ کے علاوہ کوئی کر سکتا ہی نہیں۔ اپنے کندھے پر تھپکی دیں، مسکرائیں، اور خوب تر کی طرف سفر جاری رکھیں۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.