دعوت کے رد و قبول کے نتائج: موت اور برزخ - ابو یحیی

قرآن مجید کے مطابق اس دنیا میں انسان کو امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ امتحان اصلاً اس شخصیت کا ہوتا ہے جو حیوانی جسم کے اندر خدائی اذن سے پھونکی جاتی ہے۔ قرآن مجید اس انسانی شخصیت کو نفس کا نام دیتا ہے۔ انسانی جسم میں ہر روز لاکھوں کروڑوں خلیے مرتے اور نئے خلیات پیدا ہوتے رہتے ہیں، مگر نفس یا انسانی شخصیت وہی رہتی ہے۔ انسان بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے اور ایک روز موت اس کے دروازے پر دستک دے کر اس کی مہلت کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ اکثر انسانوں کا یہی معاملہ ہوتا ہے ۔ تاہم ضروری نہیں کہ انسان زندگی کے ان تمام مراحل سے گزرے۔ زندگی بطن مادر ہی میں اور دنیا میں آنے سے قبل یا بچپن، جوانی اور ادھیڑ عمر غرض زندگی کے کسی موڑ پر ختم ہوسکتی ہے۔ چنانچہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کا وقت کب مقررہے، مگر اتنی بات یقینی ہے کہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہرانسان کے لیے موت کا فیصلہ اللہ کے اذن کے مطابق طے کردیا گیا ہے۔ جب کسی کا وقت آجاتا ہے تو مضبوط ترین پناہ گاہ بھی کسی کو موت سے نہیں بچاسکتی۔ انسان ہی نہیں زمین کے ہر باسی کا یہی مقدر ہے کہ ایک روز وہ فنا کے گھاٹ اتر جائے۔ یہ صرف خدائے ذوالجلال کی ہستی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔

تاہم یہ موت جسم انسانی کے مردہ ہوجانے کا نام ہے۔ انسان کی اصل شخصیت یا روح مرتی نہیں بلکہ موت کا فرشتہ اس انسانی شخصیت کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔ یہ گویا کہ انسان کی ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اس ابدی زندگی کے پہلے مرحلے میں جو موت سے شروع ہوجاتا ہے انسان اپنے حیوانی جسم کے بغیر لیکن اس عقل وشعوراوران احساسات وجذبات کے ساتھ زندہ ہوگا جوانسان کو انسان بناتی ہیں۔

موت کے وقت اگرمرنے والا ایسا شخص ہوتا ہے جس نے ساری زندگی ان تقاضوں اور مطالبات کو نبھایا ہوتا ہے جو اللہ پروردگار نے مقرر کیے ہیں تو موت کے ساتھ ہی فرشتے ان کو خدائے رحمن کی طرف سے سلامتی کا پیغام پہنچاتے اور جنت میں داخلے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ یہ گویا زندگی کے خدائی امتحان میں کامیابی کی نقد بشارت ہوتی ہے۔ مرنے والا اگرخدا کا مجرم ہوتو یہ موت ہی اس کی سزا کا نقطہ آغاز بن جاتی ہے۔ چنانچہ فرشتے ان کو مارتے پیٹتے اور ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو جہنم کے عذاب کے خدائی فیصلے سے آگاہ کریں گے۔

چنانچہ ان دونوں گروہوں کے لیے دعوت حق کے ردو قبول کے نتائج موت کے فوراً بعد ہی ظاہر ہوجاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا بلکہ قیامت تک کے اس پورے عرصے میں جاری رہے گا جسے قرآن مجید برزخ یعنی ایک پردے سے تعبیر کرتا ہے۔چنانچہ قرآن مجید نے اللہ کی راہ میں جان دینے والے شہدا کے حوالے سے یہ واضح کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور انھیں رزق دیا جارہا ہے۔ جبکہ آل فرعون کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کی موت کے ساتھ ہی ان پر عذاب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

جب قیامت آئے گی توتمام لوگ اپنے جسم کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے۔ اس وقت لوگ یہی محسوس کریں گے کہ وہ اپنی موت کے ساتھ سوگئے تھے اور اچانک بیدار ہوگئے ہیں۔ چنانچہ اس وقت برزخ کی زندگی کا یہ طویل عرصہ ان کو خواب کی طرح محسوس ہوگا۔ لیکن ایک خواب کی طرح جس وقت یہ سزا و جزا پیش آرہی تھی، انسانی شعور اس کو حتمی اور یقینی سمجھے گا اور سزا کو سزا اور جزا کو جزا بالکل اسی صورت میں دیکھے گا جیسا کہ اچھا یا برا خواب دیکھنے والا شخص خواب کے دوران میں اسے حقیقت کی شکل میں دیکھتا اوراچھے برے اثرات پوری طرح محسوس کرتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ سزا وجزا کہاں اور کس طرح ہوتی ہے۔ تاہم چونکہ عام طور پر انسان اپنے مردوں کو قبرہی میں دفن کرتے ہیں، اس لیے احادیث میں اسی کو قبر کے عذاب و ثواب سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قرآنی بیانات
ہر جان کو موت کا مزہ لازماً چکھنا ہے۔ اور ہم تم لوگوں کو دکھ اور سکھ دونوں سے آزما رہے ہیں پرکھنے کے لیے اور ہماری ہی طرف تمہاری واپسی ہونی ہے۔ ( الانبیا35:21)

’’کہہ دو کہ تمہاری جان وہ فرشتہ ہی قبض کرتا ہے جو تم پر مامور ہے پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (السجدہ11:32)

’’اور کوئی جان مر نہیں سکتی مگر اللہ کے حکم سے ایک مقررہ نوشتہ کے مطابق۔‘‘
(آل عمران 145:3)

’’روئے زمین پر جو بھی ہیں سب فانی ہیں اور تیرے رب کی عظمت و عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الرحمن26-27:55)

’’اور موت تم کو پا لے گی تم جہاں کہیں بھی ہوگے، اگرچہ مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو۔ اور اگر ان کو کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچ جائے تو کہتے ہیں یہ تمہارے سبب سے ہے۔ کہہ دو ان میں سے ہر ایک اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔‘‘ (النساء78:4)

’’جن لوگوں کی جان فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوئے ہیں وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں پڑے رہے۔ وہ جواب دیں گے ہم تو اس ملک میں بالکل بے بس تھے۔ وہ کہیں گے کہ خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘ (النساء97:4)

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹی تہمت باندھے یا دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآنحالیکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور اس سے جو دعوے کرے کہ جیسا کلام خدا نے اتارا ہے میں بھی اتار دوں گا۔ اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو جب یہ ظالم موت کی جانکنیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھائے ہوئے مطالبہ کر رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں حوالہ کرو، آج تم ذلت کا عذاب دیے جاؤ گے بوجہ اس کے کہ تم اللہ پر ناحق تہمت جوڑتے تھے اور تم متکبرانہ اس کی آیات سے اعراض کرتے تھے۔‘‘ (الانعام93:6)

’’ان پر جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہوں گے تو اس وقت وہ سپر ڈال دیں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کررہے تھے۔ ہاں، بے شک اللہ اچھی طرح باخبر ہے اس سے جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘ (النحل28:16)

’’ اور اگر تم دیکھ پاتے جب فرشتے ان کفر کرنے والوں کی روحیں قبض کرتے ہیں مارتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر، اور یہ کہتے ہوئے کہ اب چکھو مزا جلنے کے عذاب کا۔ یہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت ہے اور اللہ بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں۔‘‘
(الانفال50-51:8)

’’ان کو جن کو فرشتے پاکیزہ حالت میں وفات دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں آپ لوگوں پر سلامتی ہو۔ جنت میں جا براجیے اپنے اعمال کے صلہ میں۔‘‘ (النحل32:16)

’’وہ کہیں گے، ہائے ہماری بدبختی! ہم کو ہماری قبر سے کس نے اٹھا کھڑا کیا!۔۔۔‘‘
(یٰسین52:36)

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.