درد آگہی (2) - فرح رضوان

عفت کو کچھ کچھ بات کا اندازہ تو خود ہی ہوگیا اور باقی کے لیے فرحت اسے تفصیل بتانے کا فیصلہ کر چکی تھیں، اسی لیے انہوں نے اپنی ترتیب دی ہوئی پچھلے چالیس برسوں کی کیس سٹڈیز نکالیں، جن میں کچھ گراف بنے ہوئے تھے، کچھ پر ڈینجر زون کا سائن تھا، کچھ پر یوٹرن، سرخ زرد اور سبز رنگ سے لکھا تھا. فرحت کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کریں، لیکن تھوڑے تذبذب کے ساتھ گویا ہوئیں.
"میں جو پچھلے کئی سال سے اس ملک میں انٹرپریٹر کی جاب کر رہی ہوں نا، تو مختلف زبانوں کے جاننے کے ساتھ ہی، ان علاقوں کے لوگوں کو جاننا سمجھنا جہاں پہلے صرف میرا شوق ہی رہا تھا، بعد میں ضرورت بنتا چلا گیا، کیونکہ زیادہ تر، مجھے یا تو پولیس کی تحویل میں موجود، یا پھر ہسپتال میں خود کشی سے بچ جانے والے، یا پھر گھر والوں میں سے کسی کو، یا خود اپنے آپ کو زدوکوب کر لینے والے بچوں کے والدین کی ترجمانی کے لیے بھیجا جاتا تھا. تم سمجھ ہی چکی ہو کہ اس روز جب ہم بنا تصویر دیکھے، رشتے کے سلسلے میں ملنےگئے تو اس فیملی سے ملاقات پر صورتحال عجیب سی ہوگئی تھی، کیونکہ ان سے نفسیاتی ہسپتال میں ملی تھی، بچی انتہائی ذہین تھی والدین نادان، وہی کہانی برسوں پرانی.''

تمہیں پتہ ہے عفت، جس طرح ایک پینٹر، شاعر، شیف، اداکار کو مانا اور سراہا جائے تو اس حوصلہ افزائی سے وہ مزید نکھرتا ہے، اسی طرح ذہین بچے کی صلاحیتیں نکھرنے کے لیے اسے حوصلہ افزائی چاہیے ہوتی ہے، جو اکثر ہمارے علاقوں کے والدین اس لیے نہیں کرتے کہ بچہ سر پر نہ چڑھ جائے. بچہ چاہتا ہے اس کی عقلمندی نہ صرف تسلیم کی جائے، اس سے مرعوب بھی ہوا جائے، لیکن اکثر ہوتا یوں ہے کہ ذہانت تسلیم نہیں کی جاتی، البتہ اہانت جب اور جیسے چاہیں کر گزرتے ہیں.

عفت نے جھجھکتے ہوئے پوچھا، آپا میری بات اور ہے کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ لڑکی اور فیملی ڈسٹربڈ ہیں تو میں زین کی شادی وہاں نہیں کرتی، لیکن تم اتنا بڑا ثواب کا موقع کیسے چھوڑ دو گی؟
فرحت نے ہنستے ہوئے کہا؛ "میں نہ تو کتاب ہوں نہ ہی زین کوئی فلم، کہ شادی ہونا ہی ہیپی اینڈنگ ٹھہرے، شادی کے ساتھ، برداشت، صبر، حوصلہ، حکمت، اعتماد سب کچھ جڑا ہوا ہے، یہی اس کی ریڑھ کی ہڈ ی ہے، ایک مہرہ بھی سرکا تو بس. ہاں! خیال کا ایک جھونکا میرے ذہن سے بھی گزرا تھا کہ اس بچی کو سہارا دیا جائے، لیکن ایک تو میں براہ راست اس سے وابستہ نہیں ہو رہی تھی، دوسرا میں ہر نیکی پر جھپٹ کر آج ایک کل دوسری کی قائل نہیں، کم نیکی اور اس پر استقامت اللہ کو بھی پسند ہے، اور کبھی کبھی نیکی کی آڑ میں شیطان، زندگی کی ڈور کو الجھانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، سو یہ خیال ترک کر دیا."
عفت جو کچھ دیر پہلے جذباتی ہو رہی تھی، اب نارمل ہو چکی تھی، بلکہ اب تو اس کی پوری توجہ فرحت کی بنائی ہوئی کیس سٹڈیز کی طرف تھی.

یہ بھی پڑھیں:   تین بیٹے جو والد کو ساتھ نہ رکھ سکے - بشری نواز

فرحت نے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کہا؛
ہمارے ہاں والدین، محنت سے کماتے ہیں، اور بچے پر خرچ کرتے ہیں، اس کے لیے اپنے آرام اور دیگر خواہشات قربان کرتے ہیں، لیکن خود میں موجود بےلگام انا، ضد، غصہ اور سب سے بڑھ کر نادانی کو کنٹرول ہی نہیں کر پاتے. یہ جو یوٹرن پرگرین نشان ہیں، یہ ایسے ہی کامیاب فیملیز پر لگائے ہیں، جنہوں نے خود پر محنت کی، مثبت رویوں کو اپنایا اور منفی باتوں کو ترک کرنے میں کامیاب رہیں.
باقی جو زرد رنگ کے ساتھ یوٹرن ہیں، ان والدین کے لیے ہیں، جن کے بچے سخت نفسیاتی کشمکش سے دوچار ہیں، یہاں تک کہ کچھ اپنی زندگی تلف کر دینے پر آمادہ، اور والدین میں سے دونوں یا کوئی ایک یہ بات جانتے ہیں. سرخ رنگ ان کے لیے، جن کے علم میں ہی نہیں کہ بچہ کیوں خاموش ہے، کیوں بدتمیز ہو رہا ہے؟ کیوں بات نہیں سنتا، بقول ان کے آوارہ اور لادین ہو چکا ہے.

عفت نے گہرے دکھ سے پوچھا ،یہ زرد اور سرخ نشان سبز کیسے ہوگا آپا؟
"ہمم! ہو جائے گا، یہ لو چاکلیٹ کھاؤ، یہ اسی سے سبز ہو جائے گا" فرحت نے مسکراتے ہوئے، پریشان ہوتی بہن کے سر پر پیار سے چپت لگاتے ہوئے اسے چاکلیٹ تھمائی اور بولی "چاکلیٹ کھاتے ہوئے ہمیں یاد ہی نہیں رہتا نا کہ یہ اصل میں تو بہت بہت کڑوی چیز ہے، جب تک ڈھیر ساری شکر اس میں نہ ڈلے، تب تک نہ تو کوئی برانڈ اسے سیل کر سکے گا، نہ اشتہاری مہم کے بل بوتے بکے گی، نہ ہی خوبصورت پیکنگ کسی کو اپنی طرف مائل کر سکے گی. سب کا سب دارومدار ذائقے پر منحصر ہے، اسی کو لوگ خریدتے ہیں، اسی کو بیچنے والے بہتر سے بہتر طریقے سے مینٹین کرتے ہیں. بس اتنی سی بات والدین کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سکھانے کا رشتہ ہے ہی تلخ مگر اسے اپنے صبر و حکمت کی چاشنی سے مینٹین کیے رکھنا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

دیکھو! جو خضر علیہ السلام نے دیوار بنائی تھی یتیم بچوں کے خزانے کی حفاظت کے لیے، اس کی وجہ انھوں نے یہی بتائی تھی کہ والد صالح انسان تھے، اس لیے وہ موجود نہیں تھے، پھر بھی غیب سے حفاظت کر دی گئی. ہمارے ہاں بچہ بگڑنے لگے تو والدین اس پر بگڑنا شروع ہو جاتے ہیں، جبکہ یہ وقت اپنے بگڑے حلیے اور رویے کو سنوارنے کا ہوتا ہے. ایمان کی دیوار تو نامناسب لباس، غلط سوچ اور غیر معیاری تفریح کے ذرائع اختیار کر کر کے ہم ہی گرا تے ہیں نا؟ اور ہمارا خزانہ کیا ہے؟ ہماری اولادیں، اب اس سے پہلے کہ کچی دیوار گرنے کی وجہ سے شیطان ہمارے صحن میں رستہ بنا لے، اور کسی نادیدہ سرنگ سے خزانہ ہی لے اڑے، دیوار پختہ کرنی ہوگی، جس کا صرف اور صرف ایک ہی نسخہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے ابواھما صالحا.
(جاری ہے)

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.