قوم پرستی کا زہر اور انسانی اسمگلرز کا فریب - شاہد مشتاق

بلوچستان کے علاقے تربت کے قریب دہشت گردوں نے پندرہ "پنجابی"نہیں پندرہ "پاکستانی"مارے اور یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سے پنجاب اور سندھ سے خیبر پختونخواہ تک ہر شہر، ہر گاؤں،ہر مرد ہر عورت اس سانحے پر افسردہ ہے۔ ان پندرہ انسانی جانوں کے ضیاع پر ہمیں بحیثیت پاکستانی اتنا ہی دکھ ہے جتنا کراچی میں قتل عام، کوئٹہ میں بے گناہوں کی موت اور پشاور یا قبائلی علاقوں میں کسی پاکستانی کے قتل پر ہوتا ہے۔

لیکن اس افسوس ناک واقعے پر بھی کچھ لوگ ہمیشہ سے وہی منفی رخ دے رہے ہیں جو ان کی عادت ہے۔ ایک طرف جہاں پورا ملک صدمے کی کیفیت میں ہے، وہیں کچھ لوگ صوبائیت اور لسانیت کی بنیاد پر دلوں میں مزید نفرتوں کے بیج بوتے نظر آتے ہیں۔ شاید پہلی بار سندھی،بلوچی،اور پشتون قوم پرستوں کی طرح پنجابی قوم پرست لیڈر پیدا کرنے کی باتیں کھلے عام پڑھنے اور سننے کو مل رہی ہیں۔ کچھ لوگ رونا رو رہے ہیں کہ پنجاب نے ایک بھی قوم پرست لیڈر آج تک پیدا نہیں کیا۔ ان باتوں کے پیچھے کیا مقصد کار فرما ہے؟ یا کیوں انہیں اتنے منظم طریقے سے پھیلایا جارہا ہے؟کیا اس سے کسی قوم پرست کی راہ ہموار کی جارہی ہے؟ یہ تو میں نہیں جانتا، لیکن اس زہریلے نظریے سے متاثر کچے ذہن کاش ایک بار دوسرے صوبوں کی قوم پرست پارٹیوں کا بغور مشاہدہ کریں تو انہیں پتہ چلے کہ قوم پرست قیادتوں نے قوم پرستی کے نام پر اپنی "قوم" کا کتنا استحصال کیاہے؟ یہ وہ زہریلا نظریہ ہے جو اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، یہ نظریہ پاکستان کی نفی ہے۔ در حقیقت، ہمارے ہاں کی تمام قوم پرست جماعتوں کے سر پر کبھی نہ کبھی ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی ایجنسیوں کا ہاتھ ضرور رہا ہے۔

آپ قوم پرست قیادت کی بائیو گرافی نکال لیجیے،یہ خواہ کسی بھی صوبے سے ہوں،ان کی بالاغی قیادت بیرون ملک عالی شان محلات میں عیش کرتی نظر آئے گی۔ بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایسے لوگوں کے تعاون سے چند بیمارذہنیت کے حامل نوجوانوں کو استعمال کرتیں اور ملکی امن وامان کو نقصان پہنچانے پر ہمیشہ کمربستہ رہتی ہیں۔

بہرحال، ماضی کی شاندار روایت زندہ رکھتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب نے اس بار بھی حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے مرنے والوں کو فی کس دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیسے گرچہ لواحقین کو وقتی طور پر کچھ مالی آسودگی دیں گےلیکن بہرحال یہ مرنے والوں کے کسی کام آنے والے نہیں۔ حکومت پنجاب یوں لاشوں پر پیسے بانٹنے سے بہتر ہے ان وجوہات کاسدباب کرے جن کی وجہ سے ہمارے نوجوان غیر قانونی طریقے سے بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کی خواہش میں کبھی بلوچستان کے ویرانوں میں، کبھی ایران کی سرحد پر تو کبھی ترکی میں کردوں کے ہاتھوں تو کبھی کھلے سمندر میں لانچ ڈوبنے سے مارے جاتے ہیں۔

اعدادوشمار دیکھیں تو غیرقانونی طریقےسےبیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی اکثریت سیالکوٹ،ناروال،گوجرانوالہ اور گجرات سے تعلق رکھتی ہے۔ ان اضلاع میں ایسے ایجنٹس بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں جو نوجوانوں کو دس، بارہ لاکھ میں اٹلی، جرمنی اور فرانس پہنچانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہی لوگ 25 سے 35 ہزار میں صرف ایران بھی بھیجتے ہیں۔ ایک خبر کےمطابق یہ پندرہ نوجوان بھی ایران جانا چاہتے تھے۔ عام آدمی بڑی آسانی سے ان تک پہنچتا ہے اور سودا کرتا ہے، لیکن ایف آئی اے اور دیگر ذمہ دار حکومتی اداروں کی پکڑ میں یہ لوگ پتہ نہیں کیوں نہیں آتے؟

یہ لوگ چونکہ مقامی طور بڑے رسوخ والے ہوتے ہیں شاید اس لیے ایف آئی اےاہلکار بھی ان کی حرکات پر خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں۔حکومت کو سیالکوٹ گوجرانوالہ اور گجرات میں بالخصوص اور بالعموم پورے ملک میں منظم طریقے سے ان انسانی اسمگلرز کے خلاف سخت آپریشن شروع کرنا چاہیے،تاکہ مزید ہمارے جوانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونےسے بچ سکیں۔