پاکستان میں ادویات کیوں مہنگی ہیں؟ - ڈاکٹر عزیز الرحمٰن

ملک میں اس وقت سیاسی تناؤ کی کیفیت ہے اور سنجیدہ موضوعات کی پذیرائی مشکل سے ہی ہوتی ہے مگر ادویات تک عام آدمی کی رسائی کا موضوع ایسا ہے جس پر مسلسل بات کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کی نئی دوا سوالڈی (سوفوسبویر) ابتداء میں پاکستان میں صرف فیروزسنز کو بہت مہنگے داموں بیچنے کی اجازت ملی تھی۔ پاکستان دنیا کے ان پانچ بڑے ملکوں میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس کے مریض سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ بعد ازاں مقامی ادویات ساز اداروں کے دباؤ پر حکومت نے کئی کمپنیوں کو اس دوائی کی تیاری کی اجازت دی جس سے اب یہ ملک کے طول و عرض میں مناسب داموں پر دستیاب ہے۔

حال ہی میں حکومت پنجاب نے ہیپاٹائٹس کے تدارک کا ایک جامع پروگرام شروع کیا ہے جس میں رجسٹرڈ مریضوں کے گھر تک کورئیر کے ذریعے ادویات کی فراہمی شروع کی جارہی ہے۔ اس پروگرام کی تفصیلات تک رسائی البتہ خاصا مشکل ہورہا ہے۔ پنجاب میں تدارک ہیپاٹائٹس آرڈیننس کا اجرا بھی کردیا گیا ہے مگر اس میں بھی سستی ادویات تک رسائی کو مریض کے حق کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ دو روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں کینسر کی مہنگی ادویات کا ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ کس طرح بھارت کی نسبت پاکستان میں کینسر کی ادویات مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔

نئی ادویات کیوں مہنگی ہیں؟

ویسے تو نئی ادویات کے مہنگے ہونے کے کئی اسباب ہیں مگر ان میں سے مندرجہ ذیل زیادہ اہم ہیں:

1۔ نئی ادویات پر ادویات ساز کمپنیوں کی اجارہ داری بذریعہ قانون اختراع و حقوق دانش

2۔ ادویات کی رجسٹریشن کرنے والے ادارے سے ملی بھگت، دباؤ اور جھوٹ کے ذریعے زیادہ قیمت کی منظوری

3۔ ادویات کی تیاری کے طریقہ کار اور اس میں استعمال ہونے والے اجزاء کا حقیقی طور پر بہت مہنگا ہونا

ترقی پذیر ممالک میں نئی ادویات کے مہنگے ہونے کی عموماً اوپر بیان کردہ پہلی اور دوسری وجوہات ہوتی ہیں۔ یہاں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ "نئی دوا" کہتے کسے ہیں؟

ایک دوا کئی وجوہ سے نئی ہوسکتی ہے۔ یہ بالکل نئی بھی ہوسکتی ہے کہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا مالیکیول ہی نیا دریافت ہوا ہو اور اس سے پہلے فارماسیوٹیکل انڈسٹری اس کے بطور دوا استعمال سے بے خبر رہی ہو۔ نئی دوا کہ یہ قسم سب سے اصلی اور سچی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ نئی دوا پہلے سے موجود کسی مالیکیول یا پراسس کے ایک نئے استعمال کے بارے میں ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالیکیول بذات خود پہلے سے معلوم و موجود تھا مگر نئی تحقیق میں اس کے استعمال کی نئی جہت سامنے آئی ہے اور اس میں بنیاد پر ایک نئی دوا تیار کی گئی ہے۔

نئی ادویات کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ کمپنیاں گولی کی شکل میں دستیاب ادویات کو کچھ ترمیم و اضافے کے ساتھ کیپسول، محلول، انجیکشن، بچوں کے استعمال کے لیے آسان شکل وغیرہ میں سامنے لاتی ہیں اور انہیں "نئی دوا" کے طور پر متعارف کرواتی ہیں۔ اس میں یہ شکل بھی شامل ہے کہ ایک دوا کو دوسری دوا کے ساتھ ملا کر (کو فارمولیشن) مارکیٹ میں لایا جاتا ہے اور نئے نام کے ساتھ اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔

اوپر بیان کردہ نئی ادویات کی جملہ اقسام کو فارماسیوٹیکل کمپنیاں اور تحقیق کرنے والے ادارے پوری تندہی سے ملکیت حقوق دانش (Intellectual Property Rights) کے ایک قسم حق اختراع (Patent Right) کے تحت رجسٹر کرواتے ہیں اور اس کی بنیاد پر کم و بیش عرصہ بیس سال کے لیے اس پر اجارہ داری (monopoly) حاصل کرتے ہیں۔ اس مناپلی کے نتیجے میں مارکیٹ میں نئی ادویات کی فراہمی صرف اور صرف ایک کمپنی یا اس کے مجاز نمائندے کے ذریعے ہوتی ہے۔ نتیجہ واضح ہے کہ اس بنیاد پر من مانی قیمت وصول کی جاتی ہیں اور مریضوں کے پاس اس کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہوتا۔ حقوق دانش کے یہ منفی اثرات پوری دنیا میں ادویات تک رسائی کے حوالے سے محسوس کیے جارہے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں حق اختراع کی بنیاد پر لاحق ہونے والی اجارہ داری سے جو مسائل سامنے آتے ہیں، ان میں مزید خرابی ہمارے ہاں رائج کرپشن اور بد انتظامی سے پیدا ہوجاتی ہے۔ ادویات کی رجسٹریشن کرنے والے ادارے سے قیمتوں کی منظوری لیتے وقت جو کچھ ہوتا ہے اس کی کہانیاں عام ہیں اور اس کے نتیجے میں سستی ادویات کی تیاری ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ جو دوا صرف ایک کمپنی فراہم کرتی ہو اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہو تو اس کے بعد کمپنیاں ڈاکٹرز کو ٹارگٹ کرتی ہیں جو دلکش ہتھکنڈوں سے انہیں صرف اپنی پراڈکٹ و ادویات پر مبنی نسخے لکھنے پر اُکساتی ہیں۔ یہاں پر رہی سہی کسر بھی پوری ہوجاتی ہے کہ ممکنہ طور پر ایک دوا کو اگر ڈاکٹر کسی دوسری متبادل دوا سے تبدیل کر بھی سکتا ہو تو وہ ایسا نہیں کرتا۔ اس طرح مریض کو وہی مہنگی دوا خریدنا پڑتی ہے جو اسے نئی اور زیادہ موثر و بہتر کمپنی کی دوا کے طور پر دی گئی ہے۔

دنیا بھر میں رائج صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈاکٹر آپ کے لیے دوا تجویز کرتے ہوئے اس کا سائنسی نام یا جنرک نام لکھتا ہے۔ جب نسخہ لے کر آپ فارمیسی جاتے ہیں تو فارماسسٹ آپ کو اس جنرک دوا کے مختلف برانڈز کی بابت سوال کرتا ہے کہ آپ ان میں سے کون سا برانڈ لینا چاہتے ہیں۔ مریض اپنے اعتماد اور بجٹ کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔ پاکستان و دیگر ترقی پذیر ممالک میں مریضوں کے اس حق کو کمپنیوں اور ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے چھین لیا گیا ہے۔ آپ کو وہی دوا لینی ہے جو ڈاکٹر نے لکھ دی ہے چاہے اس کا سستا اور مناسب متبادل ساتھ والے شیلف پر موجود ہو۔ بھٹو دور میں اس حوالے سے قانون سازی بھی ہوئی تھی جسے عملی مشکلات و سازشوں کے زریعے ناکام بنا دیا گیا تھا۔

مجھے گزشتہ سال موسم سرما میں ہلکی الرجی کے باعث راولپنڈی سید پور روڈ کے ایک مشہور معالج کے پاس جانا پڑا۔ موصوف نے دیگر ادویات کے ساتھ ساتھ مجھے Aerokest نامی دوا تجویز کی۔ دوسرے وزٹ پر ڈاکٹر صاحب نے مجھے بطور خاص یہ کہہ کر دوائی تبدیل کی کہ میں آپ کے لیے پہلی والی دوا کو ختم کر کے ایک نئی اور بہتر دوا لکھ رہا ہوں۔ مجھے بہت تسلی ہوئی۔ نسخہ لے کر فارمیسی گیا تو انہوں نے Aerokest کے بجائے مجھے ایک خاصی مہنگی دوا Singulair تھما دی۔ مریض کا دل کرتا ہے کہ اس کا خیال رکھنے والے ڈاکٹر کو مسیحا کے درجے فائز کر کے اوج ثریا تک پہنچا دے مگر بدقسمتی سے مجھ پر یہ انکشاف فوراً ہی ہوگیا کہ ڈاکٹر صاحب نے میری دوا نہیں بدلی بلکہ کمپنی بدل دی ہے کہ یہ دونوں ہی اصل میں Montelukast Sodium ہیں اور فرق صرف برانڈ کا ہے!

ہمارے ہاں عام طور پر یہ وارداتیں کوالٹی کے نام پر کی جاتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ کوالٹی کو جانچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی سائنٹیفک اسٹڈی یا بنیاد موجود ہی نہیں کہ ایک ہی دوا کی متعدد برانڈرز میں سے کون سا زیادہ اثر پذیری کا حامل ہے اور کون سا کم؟ اس میں شک نہیں کہ مقامی طور پر تیار شدہ کچھ ادویات صرف چاک سے بھری ہوئی ہوتی ہیں مگر اس کا اوپر دی گئی مثال سے کوئی تعلق نہیں۔ عام طور پر چاک بھری یہ دوائیاں حکومتی اسپتالوں کو فراہم کر دی جاتی تھیں یا پھر دوردراز کے علاقوں میں کھلی فروخت ہونے والی ادویات اس قسم کی ہوتی ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ پاکستان میں کینسر' ہیپاٹائٹس اور اس قبیل کے دیگر موذی امراض کی نئی ادویات بہت مہنگی ہیں اور عام شخص کی پہنچ سے تیزی سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں حقوق دانش و حقوق اختراع کا نمایاں کردار ہے۔ نئی ادویات کی رجسٹریشن کے وقت کلینکل ٹرائل اور اس سے وابستہ جو دیگر معلومات ضروری طور پر چاہیے ہوتی ہیں ان پر بھی مناپلی اور اجارہ داری کے حصول کی کوششیں اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ مقامی کمپنیوں کو رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کا واحد اور پائیدار حل یہ کہ قومی سطح پر پائی جانے والی تمام بیماریوں کی ادویات کو مسابقت (مقامی طور پر تیار کردہ ادویات یا پھر امپورٹ کے ذریعے) کی بناء پر سستا کیا جائے اور حکومتی ادارے خود کو کوالٹی کی جانچ پر لگائیں۔