شکاری - عمار بیگ

سنا ہے کہ عقاب کی عمر جب چالیس کا ہندسہ چھونے لگتی ہے تو وہ شکار کرنے کی صلاحیت سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس کے پنجے کند ہوجاتے ہیں، چونچ کی کاٹ ماند پڑ جاتی ہے اور دوران پرواز بازو شل ہو جاتے ہیں۔ وہ تقریباً قبر میں "پر"لٹکائے بیٹھا ہوتا ہے، جب اس کے اندر دوبارہ سے جینے کی امنگ انگڑائی لیتی ہے۔ وہ کسی ویرانے میں جا بستا ہے، پنے پنجوں کے ناخن توڑ دیتا ہے، چونچ پتھر پر مار مار لہو لہان کر دیتا ہے اور نوچ نوچ کر سارے پر اکھاڑ دیتا ہے۔ اس ساری جفاکشی کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے مفلوج ہو جاتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے ناخن اُگنے لگتے ہیں۔ نکلنے والے پروں میں پہلی سی چمک آنے لگتی ہے اور چونچ کی دھار تیز ہونے لگتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ جوان ہو کر شکار پر جھپٹنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس 'ری جنریشن' کے عمل کے بعد عقاب مزید تیس چالیس سال شکار کے قابل ہو جاتا ہے۔

اس سارے پراسیس کو اپنے تعلیمی نظام خاص کر میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کے فریم میں شفٹ کیا جائے تو یہاں شاہین کی توہین تو نہیں کی جاسکتی البتہ ایسے سدا بہار گدھ ضرور موجود ہوتے ہیں جن کا نہ تو زور بازو کم پڑتا ہے، نہ عقابی نظر میں فرق آتا ہے اور شکار کی پہچان کرنا، اس پر نظر رکھنا اور موقع ملتے ہی جھپٹنا ان سے بہتر شاید باز کو بھی نہ آتا ہوگا۔

کہانی تب شروع ہوتی ہے جب پہلے سمسٹر یا پہلے سال کے طلباء کی انٹری ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ ہوم ورک کیا جاتا ہے اور یہ کام خال خال ہی اکیلے ہوتا ہے۔ واردات کے لیے باقاعدہ ٹیم ورک کیا جاتا ہے جس کے حاصل پر شکاری صاحب شکار کی بوٹیاں نوچتے ہیں جبکہ ٹیم ممبرز کو شاباشی دی جاتی ہے۔

غریب بیک گراونڈ، پڑھائی میں کمزور ہونا، دور دراز علاقے سے تعلق رکھنا، سیلف فائننس پر تعلیم حاصل کرنا اور شکار کا از خود شکاری سے میل جول بڑھانا، ان عوامل میں سے اگر کوئی خصوصیت کسی جنس میں پائی جائے تو اس کو ریوڑ سے الگ کر کے اُچک لینا نسبتا آسان ہوتا ہے۔

شکاری صاحب کوئی بھی ہو سکتے ہیں،وائس چانسلر پرنسپل،ڈین،ایچ او ڈی سے لے کر پروفیسر اور لیکچرر تک۔ اس میں نہ تو عمر کی قید ہوتی ہے، نہ ہی مرتبہ و تعلیم کی مجبوری۔ نگریزی تعلیم یافتہ ماڈرن لبرلز سے لے کر سبحان اللہ، ماشاء اللہ کی مالا جپنے والے مولوی حضرات تک!شکاروں کی کوئی ذات نہیں ہے، نہ عمر کا تقاضا،نہ عہدے کی عزت، شکاری حضرات کا دین دھرم ان کا شکار ہوتا ہے جسے وہ ائیر کنڈیشنڈ دفتروں میں بیٹھ کر گھومنے والی کرسیوں کی مدد سے کرتے ہیں۔

فیس معاف کروا دینا، سکالرشپ دلوانا، پہلے فیل کرنا اور پھر دفتر بلا کر پاس کرنا، نمبر بڑھا دینا،سال ضائع کر دینا اور پاس کرنے کے بدلے میں خدمت مانگنا اور اس طرح کے بہت سارے ہتھکنڈے شکاری لوگ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ صنف نازک چونکہ فطرتاً معصوم اور بھولی واقع ہوئی ہے ۔ کبھی وہ سر پر ٹوپی دیکھ کر یقین کر لیتی ہے تو کبھی گزری عمر، کہیں بیٹی بنا کے سر پر ہاتھ رکھا جاتا ہے اور کہیں ہمدردی کے ایدھی بنے معزز اساتذہ!

وجودِ زن بھول جاتی ہے کہ عقاب کو دوبارہ زندگی جینے کو تو تردّد کرنا پڑتا ہے، ان حضرات کی کرسیاں،اختیارات اور شکاری نظریں ہمیشہ جوان رہتے ہیں۔

بہت سارے واقعات میں ممولہ خود شاہینوں کے غول سے اٹھکیلیاں کرتا ہے اور بعد میں نوچ کھائے جانے کا شکوہ کیا جاتا ہے۔ اس کا تو کوئی حل نظر نہیں آتا البتہ شکاریوں کے ہتھیاروں جن میں، امتحانی نمبروں کی تقسیم، سکالر شپس، پریکٹیکل،سٹوڈنٹ کے کیریئر تباہ کرنے کے اختیارات، سال ضائع کرنے، فیل کرنے اور اس طرح کے بہت سارے اختیارات کی کسی طرح سے روک تھام ہو جائے تو شاید کسی آفس سے نکلی والی حوّا کی بیٹی کے جسم پر طاری ہونے والی کپکپی میں کمی واقع ہو جائے۔

ورنہ چپ کا سلسلہ تو چلتا آیا ہے،چل رہا ہے، اور چلتا رہے گا!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */