ہم سے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مت چھینو! - اسماعیل احمد

"ہم ذرا ہٹ کے ہیں"یہ وہ بنیادی نظریہ ہے جس کے پیشِ نظر ہماری عادت ہوگئی ہے کہ ہم زندوں کو بخشتے ہیں نہ مردوں کو۔ ہمارے پاس اختلاف رائے کا ترکش ہوتا ہے جس میں سے تیر نکال کر ہم حسبِ ضرورت اور حسبِ منشا جسے چاہیں، اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔

"اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب وغیرہ کی تحاریر نے صرف ایک لایعنی فکر کو جنم دیا ہے"،
"انہوں نے انسان کی کبھی بات نہیں کی"،
"انہوں نے ہمیشہ ملوکیت، اس سے جڑے تصورات، بادی النظر میں مقبول خانقاہی تصوف جس کی اساس مذہبی فکر و دانش سے بھی کم ہی تھی، اپنا منافقانہ ناتہ جوڑے رکھا"
"ان جیسوں کا ادب مردہ ہوتا ہے، یہ زندوں کو بھی دفن کر دیتا ہے"

مندرجہ بالا سطور پاکستان میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے ادیبوں سے اختلاف رائے رکھنے والوں کی تحریروں اور تقریروں کا خلاصہ ہیں، لیکن سوال یہ ہے اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب سے صرف ادبی نقد ونظر کے پہلووں سے اختلاف کیا جاتا ہے؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ اختلاف کی ایک وجہ ان احباب کا دین اسلام کی آفاقی سچائیوں پہ کامل ایمان اور اپنے ادبی فن پاروں میں اپنے شاندار کرداروں کے ذریعے اس کا اظہار بھی ہے۔ اپنے آس پاس موجود افراد کی ذہن سازی اور شخصیت کی تعمیر ہر ادیب کی کاوشوں کا بنیادی مطمع ِ نظر ہوتا ہے۔ اب اس بات کی آزادی تو ہر ادیب اور فن کارکو حاصل ہوتی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے کون سی نہج کو منتخب کرتا ہے۔ تصوف جسے قرآنی اصطلاح میں" تزکیۂ نفس " اور حدیث کی اصطلاح میں "احسان " سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ نہج تھی جو اشفاق احمد اور بانو قدسیہ نے اپنے قارئین کے لیے منتخب کی۔ سعادت حسن منٹو، جن کے افسانے میں تکنیک اور موضوعات کا تنوع ہے۔ ان کے افسانوں کا اجمالی جائزہ بھی اسی نکتے پر پہنچاتا ہے کہ ان کے ہاں قارئین کی فکری تربیت کا اہتمام بھوک اور جنس کےجبلّی محرکات کو بنیاد بنا کر کیا گیا۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے قارئین کی فکر ی تربیت کا اہتمام ایک غیر جانبدار مصنف کے طور پر کیا جو رومان کی حسین فضا اور وطن کی مٹی سے محبت میں گندھا ہے اور جو اپنے قارئین کو غم و غصے، تعصب و نفرت اور تنگ نظر ی و تشدد پسندی سے بچائے رکھنا چاہتا ہے۔ ہمارے بیشتر ناقدین کو منٹو اور قاسمی کے اسلوب سے بہت کم اختلاف ہیں، صرف اسلام اور تصوف کا رنگ جمے ہونے کی وجہ سے تان اشفاق احمد اور بانو قدسیہ پر ٹوٹتی رہتی ہے۔ ادیب اپنے کرداروں کو بابوں کی چوکھٹ پہ چھوڑ کر آتا ہے یا دنیا پرستوں کے بازار میں۔ مجھ ناچیز کی رائے میں یہ آزادی اور حق ادیب کے پاس محفوظ ہونا چاہیے۔ کیا ہم لیونارڈو ڈاونچی سے پوچھیں گے کہ اس کی " مونا لیزا" کے ہونٹوں پہ مسکان کیوں ہے؟ آنکھوں میں آنسو کیوں نہیں ہیں؟ کیا ہم ولیم شیکپیئر سے استفسار کریں گے کہ آپ کے اوتھیلو نے ڈیسڈیمونا کو قتل کیوں کر دیا تھا؟ اور پھر یہ بھی کہ اگر پاکستان کی ستّر سالہ تاریخ میں سے اشفاق احمد، بانو قدسیہ کو بھی نکال دیں گے تو پیچھے بچے گا کیا؟سانحہ مشرقی پاکستان، بدعنوان جرنیل، جج اور سیاستدان،فرقوں میں بٹے پنجابی، سندھی اور پٹھان؟

اشفاق احمد کے "من چلے کا سودا"میں راہ سلوک پہ چلنے والا ارشاد جب انتقال کر تا ہے اور اس کا بیٹا ابراہیم اپنے والد کے بارے میں تاثرات جاننے اس کے ایک دوست شجاع سے ملتا ہے تو شجاع، ارشاد پہ یوں تبصرہ کرتا ہے۔"انسان مقابلے کے لیے آتا ہے،زندگی میں دوسرے لوگوں کو پچھاڑ کر آگے بڑھنے کے لیے آتا ہے۔یہی ایک انسان کا سب سے بڑا مقام ہے کہ وہ ایک مقابلے باز کی زندگی بسر کرے۔ نہ کہ تمہارے باپ کی طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بیٹھ جائے۔"

جبکہ ارشاد کے سابقہ دور کا مرشد اور بعد میں ارشاد کا شاگرد بن جانے والا ڈاکیا محمد حسین کا ارشاد کی زندگی پہ تبصرہ اس قسم کا ہوتا ہے"صاحبِ ارشاد کا فرمان ہےکہ دنیاوی کامیابیاں حاصل کرنے کی نسبت روحانی ترقی کے لیے کوشش کرتے ہوئے مر جانااور سچائی، نیکی اور تقویٰ کے حصول کے لیےجان دے دینا بدرجہا بہتر ہے، کیونکہ یہی انسانیت کی معراج ہے۔ اس قوم کو سکون کے چند پل اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے تصوف میں مل رہے ہیں تو خدارا انہیں مت چھینو!

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */