زوال کا ذمہ دار کون؟ - رعایت اللہ فاروقی

میرے لیے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید اس لحاظ سے ایک مشکل کام ہوتا ہے کہ میں اس بات کا شدت سے قائل ہی نہیں بلکہ خواہشمند بھی ہوں کہ ہمارے دفاعی ادارے مضبوط تر ہوں۔ مجھے ان کی مضبوطی صرف ایک ہی مقصد کے لیے درکار ہے اور وہ ہے ملک کا دفاع۔ لیکن میری بدقسمتی دیکھیے کہ جتنا یہ مضبوط ہوتے ہیں اتنا ہی میرے لیے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ مثلا آئی ایس آئی کا دباؤ بھارت کو محسوس کرنا چاہیے لیکن عجیب بات نہیں کہ یہ دباؤ مجھے محسوس کرنا پڑتا ہے؟ ملک کا ہر لحاظ سے وفادار شہری ہونے کے باجود میں را نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے دباؤ میں خود کو پاتا ہوں تو یہ المیہ نہیں؟ کیا بھارت کا ہندو شہری بھی را سے اسی طرح کا دباؤ محسوس کرتا ہے جس کا سامنا ہمیں آئی ایس آئی سے ہے؟ میں سمجھ ہی نہیں پاتا کہ میں کیا مؤقف اختیار کروں۔ اگر مضبوط آئی ایس آئی کے مؤقف سے دستبردار ہوتا ہوں تو میرے وطن کا دفاع کمزور ہوتا ہے جس کی دشمن کو حسرت ہے اور اگر اس ادارے کی مضبوطی کی آرزو کروں تو یوں لگتا ہے جیسے اپنی مشکلات میں اضافے کی دعاء مانگ رہا ہوں۔

اب تازہ مسئلہ ہی دیکھ لیجیے کہ پناما کیس میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بالکل عیاں ہوچکا اور صاف نظر آرہا ہے کہ ہمارے جمہوری نظام کو لپیٹا نہ بھی جا رہا ہو تو اسے بری طرح تباہ تو ضرور کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ میں اپنی جمہوری آزادی کے لیے لڑوں لیکن دوسری طرف جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ جس آئی ایس آئی نے 80ء اور 90ء کی دہائی میں عالمگیر سطح پر اپنی دھاک بٹھائی تھی وہ اپنے پچھلے تین ڈی جیز کی نالائقیوں کے نتیجے میں آج سوشل میڈیا پر ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے تو یقین مانیے دل لرز جاتا ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ میں زیادہ تفصیل میں جا نہیں سکتا۔ بطور نمونہ چند اشارے سمجھ لیجیے۔ جنرل کیانی کے دور تک ہم افغانستان میں امریکہ جیسی سپر طاقت کو تگنی کا ناچ نچا رہے تھے۔ 2006ء تک تو انہیں خبر ہی نہ ہوسکی تھی کہ ہم ان کے قدموں تلے زمین کو کھوکھلا کر چکے ہیں۔ جب انہیں ہوش آیا تو تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ انہوں نے ہمارے دوغلے پن کا بہت واویلا کیا، بے شمار رپورٹیں اور ڈاکومنٹریز تیار کرکے عالمی رائے عامہ کو ہماری لیاقت اور اپنی نالائقی کے ثبوت کے طور پر پیش کیے لیکن اس پوری مہم کے باوجود وہ افغانستان پر ہماری گرفت کمزور نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

جنرل کیانی کے دور میں تو ہم ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے کہہ رہے تھے کہ "آپ فیصلہ کریں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف؟ " اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ہم سے صبح طالبان سے مذاکرات کروانے کی تو شام کو سیف ایگزٹ کی بھیک مانگتے لیکن آج ہماری حالت یہ ہوگئی کہ ہم پر وہ اشرف غنی بھاری پڑنے لگا ہے جسے خود ہم نے دھاندلی کروا کر افغانستان کا صدر بنوایا ہے۔ کسی کو یاد بھی ہے کہ سلالہ حملے کے بعد جنرل کیانی نے افغان ٹرانزٹ کو بطور ٹرمپ کارڈ استعمال کیا تھا؟ آج نوبت یہ آگئی کہ اشرف غنی افغان ٹرانزٹ کو ہمارے خلاف ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور ہم بےبسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر بھی کوئی شرمناک بات ہو سکتی ہے کہ جنرل باجوہ کے دورہ افغانستان کے لیے افغان سفیر کی منت سماجت کرنی پڑی اور دورہ تذلیل پر ختم ہوا۔ افغان سفیر پاکستان کے ٹی وی پر بیٹھ کر کہتا ہے کہ ہم نے جنرل باجوہ سے کہا ہے کہ باتیں بہت ہوگئیں، اب آپ کچھ کر کے دکھائیں۔

ایک نظر ایران پر بھی ڈال لیجیے۔ ابھی پچھلے سال ہم ایران کو آنکھیں دکھا رہے تھے۔ ان کے صدر کو ہم نے دورہ پاکستان کے دوران کلبھوشن والے معاملے میں شرمسار کیا تھا اور صرف ایک سال بعد جنرل باجوہ اسی ایران میں تین دن کے لیے جا بیٹھے جس کا حاصل حصول کچھ بھی نہیں۔ بھارت کے حوالے سے جب نواز شریف کہہ رہا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں ہونی چاہییں تو ان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کروایا گیا کہ یہ بھارت کا ایجنٹ اور مودی کا یار ہے اور اسی نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے تیسرے ماہ ہی خود جنرل باجوہ بھارت کو پیغام بھجوا رہے ہیں کہ واہگہ کے راستے افغانستان تک رسائی کے لیے ہم سے رابطہ کرو، جبکہ بھارت آگے سے ہمیں ٹھینگا دکھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

دکھ یہ ہے کہ جنرل باجوہ کا دورہ افغانستان ہی نہیں، دورہ ایران بھی بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی سہولت کاری کے لیے تھا۔ کیا یہ ہے آپ کی فکر و دانش کہ نواز شریف کی جگہ اشرف غنی اور حسن روحانی کے ذریعے بھارت کو رام کرنے کی تگ و دو ہے؟ جن محاذوں پر آئی ایس آئی کو جیتنا چاہیے تھا وہاں تو ان کی حالت یہ ہے اور جن محاذوں پر انہیں نہیں جیتنا چاہیے تھا وہاں یہ نواز شریف کو فتح کرکے مطمئن بیٹھے ہیں۔ میری مشکل دیکھیے کہ مجھے مذکورہ پروفیشنل ناکامیوں پر ہی صدمے کا سامنا نہیں بلکہ ان کی غیرآئینی فتوحات سے بھی دکھ کا اسیر ہوں اور اب تیسرا صدمہ یہ کہ جس آئی ایس آئی کا بند کمرے میں نام لینے سے لوگ ہچکچاتے تھے، وہ سوشل میڈیا پر اس حد تک مذاق بن کر رہ گئی کہ عامر لیاقت جیسا مداری بھی اس کی تضحیک میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ کیا کسی پروڈکشن ہاؤس کا ڈی جی پریس کانفرنس کرکے ہمیں بتائے گا کہ اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کس خوبصورتی سے آپ نے کیانی صاحب کے خون آشام چھ سالوں کا دفاع کیا ۔ 2006 تک کی تعریف کی لیکن مشرف کا نام نہیں لیا۔ کیا نی نے امریکہ کو جو تگنی کا ناچ نچایا تو اسکے پائل ایبٹ آباد میں جا کر ٹوٹے۔ نواز شریف کا رو نا رویا لیکن 80 کی دہائی میں آپکو پیپلز پارٹی کا رونا یاد نہیں رہا جسمیں بھی کئی مشہور ڈی جیز ہیں۔پشاور و کراچی کے دھماکے کیسے خاموش ہوگئے آپکو پتا ہی نہیں کہ کس کا کارنامہ ہے۔ہاں یہ پتا ہے آپکو کہ نقصان عظیم ہوگیا جو نواز شریف نا اہل ہوگیا۔ ایک صفحے کے مضمون میں اتنی وارداتیں ! واقعی کمال ہے۔

    • وقاص بھائی بہت خوب کہا آپ نے. . . . فاروقی صاحب کی تحریروں میں سواۓ صالح ظفر اور کچھ نہیں رکھا . .. . درد نوازشریف کو ہونا چاہیے لیکن افسوس مروڑ فاروقی صاحب کے پیٹ میں اٹھتے ہیں . . .

  • فاروقی ساب حد درجہ متعصب اور پرو ن لیگ شخص ہیں، اطاعت نواز شریف میں دفاعی اداروں کو رگیدنے اور شریف خاندان کے حق میں بودی دلیلیں گھڑنے میں یہ صاحب کسی حد تک بھی گر سکتے ہیں . ان سے کچھ بھی بعید نہین. فاروقی ساب کا لبادہ کب کا فیس بک پہ اتر چکا، اب انکو سیریس لے گا.