ریڈ انڈینز اور ہندو نسل کشی کی حقیقت - فیاض احمد یوسفزئی

یہ جو آپ پہلی تصویر دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل کسی جنگلی کی نہیں بلکہ امریکہ کے اصل مالکوں کی ہے، جنہیں "ریڈ انڈینز" کہا جاتا ہے. کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے سے قبل ان کی آبادی 10 کروڑ تھی. پھر یوں ہوا کہ انسانیت سے لبریز گورے انگریز یہاں آن دھمکے، نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے 150 سالوں میں ان کی آبادی گھٹ کر 60 لاکھ نفوس تک محدود رہ گئی. یعنی ڈیڑھ سو سالوں میں ساڑھے 9 کروڑ مقامی آبادی کا بدترین قتل عام کیا گیا، یعنی ہر روز 1800 مقامی افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے، اور ان کی زمینوں پر گورے انگریزوں کو بسایا گیا، مگر انگریز دل کے بہت اچھے تھے، ان کی عورتوں کو ایک ہاتھ یا ایک پیر کاٹ کر اپنے ہاں مزدوری پر رکھ لیا کرتے تھے، اور جب وہ بوڑھی ہوجاتی تھیں، تو قتل کرکے اس کو فانی دنیا سے نجات دلا دیتے تھے.

پھر جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ انگریز تو کتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں، لہٰذا اٹھارویں صدی میں ان عظیم انگریزوں نے ایک قانون پاس کیا جس کی رو سے کم نسل یعنی پلید مقامی افراد کو اوکلوہاما ریاست میں دفع ہوجانے کا کہا. انگریز اتنا مہرباں تھا کہ اس ریاست تک جانے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے سے منکر ہوگیا لہٰذا مقامی ریڈ انڈینز ڈھائی ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے اوکلاہاما ریاست پہنچے. اور یہ سفر بہت ہی سہانا تھا جہاں ہر پڑاؤ میں انگریزوں نے قتل و غارت کی سبیلیں لگائی ہوئی تھیں، نتیجہ یہ نکلا کہ بیس ہزار افراد تو اس ہجرت کے دوران ہی مارے گئے. امریکی مردم شماری کے مطابق اس وقت امریکہ میں 51 لاکھ ریڈانڈینز باشندے رہائش پذیر ہیں!

یہ دوسری تصویر ایک برصغیر کے ہندو مذہب رکھنے والے شہری کی ہے. ان پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکمرانی کی، مختلف جنگیں ہوئیں اور ان جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد ہندو لکھاریوں کے بقول پچاس لاکھ کے قریب ہے، جبکہ دوران حکومت ان میں سے کسی ایک قبیلہ کی بھی نسل کشی نہیں کی گئی.

اورنگزیب عالمگیر پر ہندو لکھاری الزام لگاتے آئے ہیں کہ اس نے ہندوؤں کا بےدریغ قتل عام کیا، مگر آزاد مؤرخ اوڈرے ٹرشکی کے مطابق یہ ہندو تاریخ دانوں کی مبالغہ آرائی ہے، جن مندروں کو ڈھانے کی وہ بات کرتے ہیں، دراصل مسلمانوں کی آمد سے قبل بھی یہ مندر یا دیوی دیوتا کسی قبیلے یا خاندان کی طاقت ہوتے تھے، اور مسلمانوں سے قبل بھی ہندو ایک دوسرے کی طاقت توڑنے کے لیے اپنے مخالفین کے مندر توڑتے تھے، تاکہ ان کا خدا ٹوٹے اور دشمن کے حوصلے پست ہوں. وگرنہ مسلمانوں نے جس طرح بلا شرکت غیرے یہاں حکمرانی کی، یہاں تو ایک بھی مندر یا بت کا پجاری زندہ نہ بچتا.

بہرحال اگر اس وقت پورے برصغیر کی آبادی دیکھی جائے تو پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان، نیپال، بھوٹان کو ملا کر لگ بھگ 2 ارب بنتی ہے، جن میں سے ایک ارب کے لگ بھگ ہندو بستے ہیں. ہندوؤں کی سب سے بڑی سلطنت موریا ریاست جو پورے برصغیر پر مشتمل تھی، اس کی آبادی 6 سے 7 کروڑ بتائی جاتی ہے. جبکہ ایک مشہور ہندو مؤرخ کے مطابق مسلمانوں کے آنے سے قبل ہندوؤں کی آبادی پورے برصغیر میں 20 کروڑ کے لگ بھگ تھی. اور آج محض ہندوستان میں 90 کروڑ کے لگ بھگ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے بستے ہیں.

یعنی اسلام جو " تلوار" کے زور پر ہندوستان میں پھیلا، وہاں اسلام کی حکومت میں ہندو مذہب بیس کروڑ سے 90 کروڑ کو آبادی تک جا پھیلا. اور گورا انگریز جو انسانیت سے "مہان" بنا، مگر جہاں اس نے پیر رکھے، وہاں کی مقامی آبادی 10 کروڑ سے گھٹ کر محض پچاس لاکھ پر آن پہنچی. کتنی دلچسپ بات ہے نا کہ پھر ہمارے لوگ ہی ہمیں انگریز کی صلہ رحمی کی مثالیں دیتے ہیں، تو کیا خیال ہے مسلمان بھی اتنا ہی "کشادہ دل" بن جائے جتنا یہ انگریز خود رہا ہے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com