ترکوں کے دیس میں (13) – احسان کوہاٹی

بلند یلدرم خدمت کے میدان کے ’’طیب اردگان ‘‘ اور طیب اردگان سیاست کے میدان کے ’’بلند یلدرم ‘‘ہیں۔ میدان سیاست میں طیب اردگان جتنے ہردلعزیز ہیں اتنے ہی خدمت اور فلاح کے شعبے میں بلندیلدرم معروف اور معتبر ہیں، مضبوط اورمستحکم ترکی کے سفر میں طیب اردگان اور بلندیلدرم ایک دوسرے کے ہمسفر ہیں اور طیب اردگان کے یہ ہمسفر کچھ ہی دیر میں پاکستانی کاردشوں کے درمیان تھے۔ سلام کے بعدمضبوط جسم کے بلند یلدرم نے اپنے چوڑے چکلے ہاتھ سے باری باری سب سے مصافحہ کیا اور ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئے۔ سیلانی ان کا انٹرویو کرنا چاہ رہا تھا لیکن ان کی مصروفیت آڑے آرہی تھی وہاں آنے کی ایک ’’لالچ‘‘ بلندیلدرم سے ملاقات اور انٹرویو بھی تھا، جو ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بلند یلدرم صاحب بہت مصروف رہتے ہیں، جس کی وجہ ’’انسانی حق حریت‘‘ کا دنیا کے 144ممالک میں پھیلا ہوا نیٹ ورک ہے۔ اس کا بجٹ اربوں روپے میں ہے اوریہ مسلم ممالک کی سب سے بڑی این جی او ہے۔

بلند یلدرم کچھ دیر پاکستانی وفد کے ساتھ بیٹھے رہنے کے بعد خبیب فاؤنڈیشن کے برادر ندیم احمد اورکچھ ساتھیوں کے ساتھ ایک میٹنگ میں چلے گئے۔ سیلانی سمجھ گیا کہ اب انٹرویو مشکل ہے لیکن نصف گھنٹے بعد بلند یلدرم سیلانی کے ساتھ بیٹھے ہوئے اس کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ یہ کسی بھی پاکستانی صحافی کو ان کا پہلا انٹرویو تھا۔ انہوں نے جینز قسم کے موٹے سیاہ کپڑے کی پتلون پر اسی طرح کے کپڑے کی شرٹ پہن رکھی تھی، جس کے سارے بٹن سامنے سے کھلے ہوئے تھے اورگول گلے کی ٹی شرٹ نظر آرہی تھی۔ وہ اپنی وضع قطع سے تکلفات سے دوررف ٹف قسم کے آدمی معلوم ہورہے تھے۔ مترجم کی مدد سے انٹرویو شروع ہوا جو قریباً نصف گھنٹے تک جاری رہا۔ اس انٹریو میں بلند یلدرم نے کہا کہ حق اور باطل کی کشمکش کبھی ختم نہیں ہوگی، ہمیں سیاست، تجارت اور عسکری میدان میں ایک دوسرے سے جڑ جانا چاہیے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جانیں۔ بلند یدرم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی مل جائیں تو پوری دنیا پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔ کچھ ممالک چاہتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان فاصلہ رہے، اس لیے وہ ہمیں قریب نہیں آنے دینا چاہتے۔ شام میں ہونے والے قتل عام اور جنگ میں دس لاکھ یتیم بچوں اور مہاجرین کے بوجھ سے متعلق یلدر م نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے کہا کہ ہمارے لیے سرحدیں اہم نہیں، یتیم بچہ جہاں بھی ہوگا ہم اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، ہم اسے بوجھ نہیں سعادت سمجھتے ہیں اور اس میں مذہب کی بھی تخصیص نہیں۔ آئی ایچ ایچ کا بجٹ اربوں روپے ہے اور یلدرم صاحب کا یہ کہنا تھا کہ وہ کسی حکومت سے فنڈ نہیں لیتے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یلدرم صاحب نے بتایا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر کتاب لکھی ہے جو کہ ترکی زبان میں اس مسئلے پر پہلی کتاب ہے۔ ہم کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ وکیل ہونے کے باوجود دھیمی آواز میں بات کرنے والے بلند یلدرم کم گوسے لگے لیکن سیلانی کی یہ غلط فہمی عاطف گردیزی نے یہ کہتے ہوئے دُور کردی کہ کمروں اور اجلاسوں میں چپ چپ رہنے والے سڑکوں پر شیرکی طرح دھاڑتے ہیں۔ بغاوت کے وقت ان کی تقاریرنے بدن میں دوڑتا لہو پارہ کر دیا تھا۔

سیلانی طیب اردگان کے قریبی ساتھی اور آئی ایچ ایچ کے صدر بلند یلدرم سے انٹرویو کرتے ہوئے

بلند یلدرم سے ملاقات کے بعد اب میناروں کا شہر تھا اور سیلانی تھا۔ استنبول کے بارے میں وہاں مقیم پاکستانی طالب علم امین حنیف کا کہنا ہے کہ یہ وہ شہر ہے جہاں آکر مسلمانوں کا احساس کم تری کم ہوجاتا ہے۔ یہاں قدم قدم پر خلافت عثمانیہ کی عظمت کے آثار ہیں، اس خلافت کے کہ جس نے تین براعظموں پر حکومت کی جو کبھی دنیا کی ایسی سپر پاور ہوا کرتی تھی کہ فرانس کی ملکہ مدد کے لیے خلیفہ کو خط لکھتی۔ استنبول میں عثمانی سلاطین کی بنائی ہوئی مساجد بکثرت ہیں۔ ان مساجد کا طرز تعمیر ایک جیسا ہے کہ بیچ میں ایک بڑا گنبد، اس کے ارد گرد چھوٹے گنبدوں کا چوکور سا حصار، پھر ایک طرف بلند وبالا مینار جو کسی چوکیدار کی طرح چوکنا کھڑا معلوم ہوتا ہے۔

دوستوں کو برادرعاطف گردیزی کی مدد سے اجرت پر ایک بہترین مرسڈیز گاڑی دن بھر کے لیے مل گئی۔ سیلانی، انظر شاہ، عمران بھائی اور دیگر دو ساتھی اس بڑی سی گاڑی میں آرام سے بیٹھ گئے۔ عاطف بھائی نے ترک ڈرائیور کو پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ مہمانوں کو سلطان ایوب کے مزار، آیاصوفیااور معروف آسمانی مسجداور سلطان کے محل کی طرف جانا ہے۔ سب گاڑی میں سوار ہوگئے اور آرام دہ گاڑی استنبول کی ہموار صاف ستھری سڑکوں پر گویا پھلسنے لگی۔ اس آرام دہ کار میں سفر کا جتنا مزہ آیا اتنا ہی بدمزہ اس کی اجرت کا سن کر ہوا۔ ایک د ن کے لیے مبلغ سو ڈالر یعنی دس ہزار روپے پاکستانی۔ استنبول کا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم اتنا شاندار ہے کہ کسی بھی طرح ٹیکسی کی ضرورت نہیں پڑتی جو کام ٹیکسی والے سو ڈالر لے کر کیا، اسی کام کے استنبول پبلک ٹرانسپورٹ ہم سے صرف بیس سے پچیس ڈالر لیتی۔

استنبول کا پرانا نام قسطنطنیہ تھا اور یہ اپنے دور میں بازنطینی عیسائیوں کا بڑا ہی ترقی یافتہ شہر اور عیسائیت کا مرکزہوا کرتا تھا۔ اسے ایک 21 سالہ نوجوان سپہ سالار سلطان محمد ثانی نے 1453ء میں بڑے عجیب انداز میں فتح کیا۔ اس شہر میں کے بیچ میں آبنائے باسفورس کسی پیالے کی سی شکل میں شہر کو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ سلطان اپنا لاؤ لشکر اور جہاز یہاں تک تو لے آیا لیکن اب مسئلہ آگے بڑھنے کا تھا جو کسی طور حل ہو کر نہیں دے رہا تھا۔ ایک تو سامنے قلعے کی مضبوط دیوار پر لگی منجنیقیں، پھر فصیل پر ماہرتیر اندازوں کا دستہ اور پھر آگ اگلنے والی توپیں بھی موجود تھیں۔ ساتھ ساتھ دشمن کے جنگی جہاز بھی پوری طرح خبر لینے کوتیار تھے۔ سلطان مقابلے کے لیے بے چین تھا۔ اس کا جوان خون بار بار جوش مارتا لیکن کوئی سبیل نظر نہ آتی۔ اس کی فوج کے جاسوس پیراکوں نے اسے خبر دے رکھی تھی کہ اگر وہ دشمن کے جنگی جہازوں کی دفاعی لائن توڑ بھی دے تو آبنائے باسفورس میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پڑی موٹی فولادی زنجیر کا کچھ نہیں کرسکتا، اسے کاٹا جا سکتا ہے، نہ توڑا جا سکتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے جہاز آگے بڑھنے سے رہے۔ کہتے ہیں سلطان 51 روز تک وہاں لنگر ڈالے رہا۔ پھر اس نے ایک عجب چال چلی اس نے خشکی پر جہاز چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ نوجوان سپہ سالار نے حکم دیا کہ لشکر میں جتنے بھی جانور ہیں انہیں ذبح کر دیا جائے اور لکڑی کے تختوں کا انتظام کیا جائے۔ سلطان نے فولادی زنجیر کو بائی پاس کرنے کے لیے رات کو خشکی پر تختے بچھائے اور اس پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کی چربی مل دی۔ اب جہاز اور بڑی بڑی کشتیاں ان تختوں پر ڈال کر کھینچی گئیں اور پانی میں پڑی زنجیر عبور کرواکر جہاز اور کشتیاں آبنائے باسفورس میں ڈال دی گئیں۔ دوسرے دن اہل قسطنطنیہ کی آنکھ کھلی تو منظر ہی کچھ اور تھا، وہ ہکا بکا رہ گئے تھے۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ 21 سالہ سلطان کی سالاری میں عثمانیوں کے ایک ہی حملے میں قلعے کی دیواروں میں شگاف پڑ گئے،قسطنطنیہ فتح ہو گیا اور سلطان محمد ثانی ’’سلطان محمد فاتح‘‘ہوکر تاریخ میں امر ہوگیا۔ سیلا نی اس باہمت جرنیل کے بارے میں سوچتا ہواآس پاس کے مناظر دیکھ رہا تھا۔ اسے شہر پناہ کی منہدم فصیل بھی دکھائی دی جو عثمانیوں کے ہلے کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔ اس فصیل سے نظر ہٹتی تو ترکی کے چاند تارے والے سرخ جھنڈے سے لپٹ جاتی۔ ترک زبردست قسم کے محبّ وطن ہیں اور وہ اس محبت کا اظہار جگہ جگہ قومی پرچم لہرا کر کرتے ہیں، سیلانی اس کا مظاہرہ ترکی کے سرحدی علاقوں میں دیکھ چکا تھااور اب استنبول کی سڑکوں چوراہوں عمارتوں پر اہتمام سے سرخ پرچم لہراتا دیکھ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترک قومی اسمبلی اور امریکی ایوان نمائندگان
استنبول کی سرخ پرچموں سے سجی شاہراہ، ترک وطن سے محبت کے لئے کسی مخصوص دن کا انتظار نہیں کرتے

فاتح کے علاقے سے سلطان ایوب کا مزار زیادہ دور نہیں۔ میزبان رسول اللہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کوترک محبت عقیدت سے ایوب سلطان کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ ڈرائیور نے ایک جگہ گاڑی روک دی اور کہا کہ وہ یہیں ملے گا۔ سب ساتھی گاڑی سے چھتریاں سنبھالے اترے۔ بارش رک چکی تھی لیکن موسم اچھا خاصا ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ سب دوست تیز تیز قدموں سے اس بزرگ صحابی کو سلام عرض کرنے کے لیے چل پڑے جو پیرانہ سالی میں شوق شہادت لیے یزید کے لشکر میں قسطنطنیہ کی طرف چلے تھے۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ نویدبہت اچھی طرح یاد تھی کہ مسلمانوں کا جو لشکر پہلی بار شہر قیصرپر حملہ آور ہوگا اس میں شریک سب مجاہدین بخشے جائیں گے۔ جب یزید نے قسطنطنیہ پر حملے کے لیے لشکر کی تیاری کا حکم دیا تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیرانہ سالی کے باجود لشکر میں شامل ہونے کے لیے پہنچ گئے کہ اس لشکر کے لیے تو میرے آقاﷺؑ نے جنت کی بشارت دی ہے۔ یہ وہ بزرگ تھے جنہیں رسول اللہ ﷺکی میزبانی کا شرف حاصل رہا، یہی شرف ان کی شفاعت کے لیے بہت کافی تھا لیکن اس کے باوجود وہ جنت کی ضمانت لینے کے لیے ایسے حریص تھے کہ جسم پر پڑنے والی جھریوں اور کمزوری کے باوجود گھر کا آرام چھوڑ کرجہاد کے لیے چل پڑے اورقسطنطنیہ تک پہنچ بھی گئے۔ لشکر قلعے کے سامنے صف آراء ہوگیا۔ دن پر دن گزرنے لگے لیکن کامیابی کی کوئی صورت نہ ہوئی یہاں تک کہ صحابی رسول اللہ ﷺ کا دنیا سے رخصت ہونے کا بلاوا آگیااورعمر کی نقدی ختم ہوگئی۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ نے وصیت فرمائی تھی کہ جتنا ممکن ہو مجھے قلعے کی فصیل کے قریب دفن کرنا۔ لشکر سالار نے دشمن کو پیغام بھیجا کہ ہمارے ایک بزرگ ساتھی کا انتقال ہوگیا ہے اور ہم انہیں قلعے کی فصیل کے پاس دفن کریں گے اگر تم نے کوئی شرارت کی یا بعد میں ان کے مرقد کی بے ادبی کی تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا، یاد رکھو! ہمارے پاس بھی تمہارے ہم مذہب رہتے ہیں اور بہت سکون سے رہ رہے ہیں۔ اس پیغام کے بعد دشمن کی کمانیں تیروں سے دور رہیں یہاں تک کہ میزبان رسول ﷺ کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں بہت عزت و احترام سے لحد میں اتا ردیا گیا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ تب سےآج بھی وہیں آسودۂ خاک ہیں۔

استنبول میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار

حضرت ابو یوب انصاری ؓ کے مزار تک پہنچنے کے لیے بہت سی دکانوں ریسٹورنٹوں کے بیچ سے گزر ایک ایک بڑا سے فوارہ عبورکر کے پہنچنا پڑا۔ مزار میں داخل ہونے کے لیے جوتے اتار کر آگے بڑھے تو وہاں موجود ایک خدمت گار نے روک دیا اور اشارے سے بتایا کہ داخلے کا راستہ دوسری طرف ہے۔ سیلانی خادم کے بتائے ہوئے راستے سے مزار میں قطار بنا کر داخل ہوا اور دھک دھک کرتے دل کے ساتھ حاضر ہوگیا۔ سچی بات ہے اپنے گناہ گار وجود کے ساتھ ان کے سامنے حاضر ہوتے ہوئے شرمندگی نے ٹھوڑی سینے سے لگا رکھی تھی۔ سیلانی تو چپ کر کے مؤدبانہ انداز میں کھڑے ہو کر انہیں فاتحہ کا ہدیہ دے کر دعائیں مانگتا ہواایک طرف ہو گیا۔

بزرگ مجاہد ؓ صحابی کا مزاربہت بڑا نہیں،چھوٹا سا ہے۔ اس کے دوہی داخلی اور خارجی دروازے ہیں ایک دروازے سے عقیدت مند حاضر ہوتے ہیں اور کھلے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کرنے کے بعد فاتحہ پڑھتے ہیں۔ صحابی رسول ﷺ کا مزار زائرین کے فرش سے قریباً تین فٹ بلندی پر ہے۔ اس کی دو کھڑکیاں اور ان کے بیچ میں دو پٹ کا ایک دروازہ ہے جو غالباً چاندی کا ہے۔ دروازے پر سب سے اوپر اللہ اورمحمدﷺ کا نام نامی طلائی رنگ سے کندہ ہے۔ یہاں دوخادم کھڑے رہتے ہیں زائرین کو اندر جانے کی اجازت نہیں۔ آنے والے باہر ہی سے سلام فاتحہ کے بعد پیچھے بنے بنچوں پر بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں یا دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ مزار کی دیواریں منقش ٹائلوں سے مزین ہیں جن میں آسمانی، کاسنی اور بھورے رنگ کے بیل بوٹے بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت مزار میں اسکارف سے سرڈھانپے اور عبایا پہنے ہوئے ترک خواتین او ر لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان میں سے کچھ خواتین ایک طرف ہو کر قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں اور کچھ دعا فاتحہ کے بعدلمحات کو سیل فون کے مصنوعی حافظے میں محفوظ کر رہی تھیں۔ سلطان ایوب ؓ کے پاس کچھ دیر حاضری کے بعد سیلانی باہر آ گیا وہاں ایک خاتون شیرینی بانٹ رہی تھیں۔ سیلانی کے حصے میں بھی ایک ٹافی آگئی۔ مزار کے سامنے ہی جامع ایوب ہے جہاں جانے کے لیے چھوٹا ساسنگ مرمرکا صحن عبور کرنا پڑتا ہے۔ اس صحن میں سبیل بھی موجود ہے۔ نماز ظہر کا وقت ہوچکا تھا۔ سیلانی اور ساتھی سیلانی اس عظیم الشان مسجد میں داخل ہوگئے۔ یہ مسجد قسطنطنیہ کی فتح کے پانچ برسوں 1458ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ 1798ء میں زلزلے سے اسے کافی نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت کے سلطان نے اس کی مرمت کا بیڑہ اٹھایا۔ یہ کام مکمل ہونے میں دو برس لگے۔ یہ مسجدعثمانی دور خلافت کی دیگر مساجد کی طرح ہے۔ بیچ میں بڑا گنبد اوراردگرد چھوٹے چھوٹے گنبد پھر اونچے اونچے مینار۔ مسجد کا فرش سرخ دبیز قالین سے چھپاہواتھا جبکہ منقش دیواریں اس عقیدت اور احترام کا پتہ دے رہی تھیں جو اس کی تعمیر میں پوشیدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی ایک بہت ہی خوبصورت عادت "ادب سے عروج کی داستان"

نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد عمران بھائی جو کچھ عرصے سے استنبول میں مقیم ہیں، وہ سیلانی اور دیگر ساتھیوں کو مزار کے عقب میں چلاتے چلے گئے۔ چڑھائی پر بچھی سڑک پر چہل قدمی نے سانسوں کو بے ترتیب کر دیاتھالیکن چہل قدمی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ سیلانی پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ روڈ کے دائیں بائیں دیکھتا چلاجا رہا تھا۔ بائیں ہاتھ پر سر سبز پہاڑ تھے اور دائیں جانب استنبول کا خوبصورت منظر، دور تک پھیلی عمارتیں اور ان کے بیچ بڑی مسجدوں کے گنبد اورساتھ کھڑے مودب مینار۔ پھر ان عمارتوں کے درمیان سیاہ حاشیہ کی سی سڑکیں۔۔۔۔استنبول کے حسن نے اس وقت تو مبہوت ہی کر دیا۔ جب چیئر لفٹ نے اک شہر خموشاں سے گزار کر انہیں ایک پہاڑی پر لاکھڑا کیا۔ یہ ایوب پائیری لوٹی (Eyup Pierre Loti) تھی۔ ترکی زبان میں انگریزی حرف پی کسی بھی لفظ کے آخر میں لگ کرانگریزی لفظ بی بن جاتا ہے، اس لیے انگریزی میںEyub ترکی زبان میں Eyup ہوجاتا ہے۔ اتاترک نے جدت پسندی کے چکر میں ترکی کے رسم الخط کو انگریزانہ کرکے ترکی زبان پڑھنے والوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اچھا بھلا عربی رسم الخط تھا جو صدیوں سے نافذ تھا، یکلخت اس پر پابندی لگا کر ترکوں کے لیے ان کے شاندار ماضی تک رسائی مشکل کر دی ۔

پائیری لوٹی کے مقام سے استنبول کا ایک خوبصورت منظر

یہ پائیری لوٹی پہاڑی بھی قبروں اورسبزے سے اٹی پڑی تھی۔ اس شہر خموشاں سے استنبول کا نظارہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ اس بلند مقام سے استنبول کا حسن جوبن پر دکھائی دے رہا تھا۔ باسفورس میں تیرتے رنگین بجرے اور اس سے پرے قدیم وجدید عمارتوں کو دامن میں لیے استنبول، جیسے کہہ رہا ہوکہ ہم سا ہو تو سامنے آئے! قبروں کے کتبوں اور چھوٹے چھوٹے اشجار سے بھری اس پہاڑی کی چوٹی پربہت سے ریستوران ہیں، جہاں سیاح پیٹ پوجا کیے بنا نہیں رہتے۔ چیئر لفٹ سے اترنے کے بعد بھی خوب چڑھائی ہے، جسے سر کرنے کے بعد کھایا پیا تو ہضم ہونا ہی ہوتا ہے۔ یہاں ساتھیوں نے ہلکا پھلکا کھانا منگوا لیا۔ سیلانی کے لیے گرما گرم بیف برگر اورساتھ میں سرکے والی چھوٹی چھوٹی مرچیں ۔۔۔ واللہ مزہ آگیا! سیلانی نے بمع یاران وطن کے خوب تصاویر بنوا ئیں بلکہ ہم ہی کیا، وہاں موجود ہر سیاح سیل فون سے خوب خوب استفادہ کر رہا تھا۔ یہ چھوٹی سی ڈبیا بھی خوب ہے کسی میں ایک دوگن ہوتے ہوں گے یہ تو بیسیوں خوبیاں لیے ہوئے ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان سیاحتی مقامات پر گشت کرنے والے ان کیمرا مینوں کو ہوا ہے جن کی روزی پر لات پڑی ہے۔ اب کوئی کہیں بھی سیکنڈوں میں نہ صرف تصویر بنالیتا ہے بلکہ اس کا رزلٹ بھی چیک کر لیتا ہے۔

پائیری لوٹی تک کے جانے والی چیئر لفٹ جو شہر خموشاں پر سے گزرتی ہے

پائیری لوٹی پر تیز ترین طعام یعنی fast food کے بعد واپسی کی راہ لی گئی، جس طرح آئے تھے اسی طرح واپس ہوئے۔ چیئر لفٹ میں بیٹھنے کے لیے برادر عمران نے اپنے جیب سے کوئی کارڈ نکا ل کر مشین پر رکھا، کارڈ مس ہوتے ہی لفٹ اور مسافر کے درمیان حائل خودکار رکاوٹ دورہوگئی۔ یہ ایک طرح سے لوہے کا لنگر تھاجو چیئر لفٹ کے دروازے کے سامنے دو پائپوں کے درمیان راستے روکے رہتا ہے۔ بعدمیں برادرعمران نے بتایا کہ اس چیئر لفٹ کا کرایہ ڈھائی لیرے یعنی پاکستانی روپوں میں پچھتر روپے ہے اور مزے کی بات یہ کہ یہ رقم اس کارڈ سے منہاہوجاتی ہے جو استنبول میں کسی بھی میٹرو بس،ٹرین یا باسفورس میں تیرتے میونسپل کے بجرے کے لیے کارآمد ہے یعنی آپ چھ لیرے کا کارڈ خریدیں، اس میں بینلس ڈلوائیں اور کہیں بھی کسی بھی بس، ٹرین زیر زمین ٹرین، میٹرو بس یامیونسپل کے بحری جہاز میں چڑھیں، اندر خودکار ٹکٹنگ نظام آپ کے کارڈ سے مطلوبہ کرائے کی رقم منہا کرکے آپ کو سفر کی اجزات دے دے گا۔ یہ واقعی کمال کی سہولت ہے

(جاری ہے)

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • السلام علیکم ! یہ سفر نامہ کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے ؟ اگر ہاں تو مجھے درکار ہے ۔۔
    بہت مفید اور معلوماتی تحریر ہے ۔