کراچی کہانی - جہانزیب راضی

قیام پاکستان کے وقت جو علاقے ہمارے حصے میں آئے، بدقسمتی سے وہ سارے ہی نا خواندہ اور زراعت سے وابستہ عوام کے تھے۔ پنجاب کا جو حصہ پاکستان میں آیا وہ سارا کھیتی باڑی کرنے والا دیہی طبقہ تھا۔ صوبہ سرحد کے لوگ محنتی اور جفا کش تو بہت تھے لیکن تعلیم سے نابلد تھے کسی حد تک دینی تعلیم کے حامل تھے۔ بلوچستان تو پسماندہ ترین حالت میں تھا۔ سندھ کی تمام زمینیں اور ملیں ہندوؤں کی ملکیت تھیں اور سندھی بے چارے پسی ہوئی قوم۔ بنگال کے لوگ محب وطن تھے لیکن بدقسمتی سے وہ بھی مزدور پیشہ اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ لے دے کر کراچی وہ شہر تھا جہاں آ کر سب سے زیادہ مہاجرین آباد ہوئے چونکہ یہ انگریزوں کے سامنے سے ہی ایک " ڈیو یلپڈ " شہر تھا۔

تب کلفٹن کو گورے آباد کر چکے تھے۔ فرئیر ہال، ڈینسو ہال، این ای ڈی یونیورسٹی اور کراچی جیم خانہ جیسی جگہیں وجود میں آچکی تھیں۔ کئی سفارت خانوں کے سفیروں نے اپنا مستقبل بھی کراچی سے وابستہ کرنے کا سوچ لیا تھا۔ پورے جنوبی ایشیاء میں کراچی وہ پہلا شہر تھا جہاں ٹرام چلتی تھی۔ بیسویں صدی کے شروع میں ہی برطانوی سامراج نے ٹرین کی پٹڑیاں بھی شہر بھی بچھا دی تھیں۔ کراچی کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے انہوں نے یہاں باقاعدہ ہوائی اڈہ اور بندر گاہ تک قائم کردی تھی۔ شہر کا موسم شاندار تھا، گرمیوں کی شامیں ٹھنڈی اور سردیوں کی دوپہر گرم ہونے کی وجہ سے لوگ کراچی کے موسم سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ شہر تمام زبانوں اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو اپنائیت دیتا تھا۔ یہاں ہندو، پارسی، یہودی، عیسائی، آغا خانی اور مسلمان مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرتے تھے۔ بازاروں میں دبئی کی طرح جا بجا انگریز گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔ ایمپریس مارکیٹ کو دیکھنا اور وہاں سے کچھ خرید نا لوگوں کے لیے "یادگار " لمحات ہوتے تھے۔ اس لیے مہاجرین جن کا زیادہ تر تعلق یو پی، دہلی، سی پی اور بہار سے تھا، بڑی تعداد میں کراچی شفٹ ہوگئے۔ پانچوں صوبوں میں یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے آتے ہی پورے ملک کی بیورو کریسی کو سنبھالا، لکھنے پڑھنے اور خط و کتابت کی تمام ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی، بنگال سے لے کر پنجاب، سندھ اور کراچی تک میں 80 فیصد بیورو کریسی اردو بولنے والی تھی جن کا بنیادی تعلق کراچی سے تھا۔ چونکہ تربیت انگریز کی تھی اور پورے ملک میں قابلیت بھی انہی کے پاس تھی اس لیے دوسروں پر حق جتانا اور باقی صوبوں کے لوگوں کے ساتھ تحقیر سے پیش آنا بھی معمول تھا جو بعد میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بھی سبب بنا۔

یہ بھی پڑھیں:   نصف ایمان بچانا ہوگا - عنایت کابلگرامی

بہرحال، شہر کراچی صاف ستھرا تھا، روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں کی صفائی ہوتی تھی، بڑی تعداد میں خاکروب موجود تھے جو ہر گلی محلے میں جھا ڑو لگاتے اور کچرا اٹھاتے تھے۔ ہر دو سے تین مہینے میں "سگ مار " مہم چلتی اور شہر سے تمام آوارہ کتے صاف ہوجاتے۔ بارش ہوتے ہی تمام مشینری سڑکوں پر آجاتی اور کچھ ہی دیر میں شہر میں کہیں بھی پانی ٹھہرا نظر نہ آتا۔ ہر گلی کے نکڑ پر ایک ہینڈ پمپ ہوتا۔ تمام محلہ اسی کو پینے اور دیگر کاموں کے لیے استعمال میں لاتا تھا۔ تمام قومیتیں اس شہر کو " اپنا " شہر سمجھتی تھیں۔ کراچی دارلخلافہ تھا اور مہاجرین کا شہر تھا اس لیے حکمران طبقے اور عوام میں بھی اس کی قدر و منزلت اور عزت تھی۔ آپ کراچی کی معاشی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ جنوبی کوریا نے اپنے دالحکومت "سیول" کو "پانچ سالہ منصوبہ بندی" کے نام سے باقاعدہ معاشی حب بنایا اور کراچی کو کاپی کیا۔ 19 نومبر 2017ء کے سیول ٹائمز کا آرٹیکل بھی اس کے ثبوت کے طور پر موجود ہے۔

1958ء سے شہر کراچی کے ساتھ زیادتی کا باقاعدہ اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ 1959ء میں دارالحکومت اسلام آباد شفٹ کر دیا گیا۔ فوجی حکومت تھی اور ایوب خان دارالحکومت اور آرمی ساتھ ساتھ چلانا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے دارلحکومت اسلام آباد منتقل کردیا۔ اس کا سب سے زیادہ دھچکا بنگال کے پاکستانیوں کو لگا۔ کراچی پر اب وہ "پہلی سی عنایات " نہیں رہی تھیں لیکن پھر بھی شہر چونکہ پڑھے لکھے لوگوں کا تھا اس لیے چلتا رہا۔

1970ء میں بھٹو صاحب نے تمام ادارے قومیا لیے اور کراچی کی بزنس کمیونٹی کو سڑک پر لے آئے۔ یہاں سے کراچی تیزی سے زوال کا شکار ہونا شروع ہوگیا۔ محض تین سال بعد " قائد عوام " نے کوٹہ سسٹم کا اعلان کردیا اور میرٹ کا قتل عام کرتے ہوئے 10 سال کے لیے بیورو کریسی اور تعلیمی اداروں میں 60 فیصد سندھی اور 40 فیصد مہاجروں کا حصہ مختص ہوا اور پھر ہر طرف ان پڑھ اور جاہل لوگ بڑے بڑے عہدوں پر نظر آنے لگے۔ 1983ء میں یہ قانون ختم ہوجا نا تھا لیکن اس کو مزید آگے بڑھا دیا گیا۔ کراچی جو پورے ملک کو 70 فیصد وہیکل ٹیکس دیتا تھا، اس میں سے شہر کو کوئی حصہ نہیں ملتا تھا۔ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر کراچی کی منتخب بلدیہ کو عبد الستار افغانی ، جو مئیر کراچی تھے، پوری ٹیم سمیت جیل میں ڈال دیا گیا اور بلدیہ تحلیل کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی چرس پینے والا دنیا کا دوسرا بڑا شہر

ان مسلسل محرومیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1984 میں مہاجر قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم معرض وجود میں آگئی اور آتے ہی چھا گئی۔ پورا شہر ایک آواز ہوگیا اور "قائد " کو اپنا ہمدرد و غمخوار اور مسیحا سمجھنے لگا۔ جان، مال، عزت آبرو سب کچھ قائد کے نام پر داؤ پر لگ گیا لیکن شہر کو حقوق ملنے تھے نہ ملے کیونکہ یہ تو مہاجروں کی آرزوؤں پر مزار کی تعمیر تھی۔ مہاجروں نے کیونکہ اسلام کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کیا تھا، اس لیے کراچی ہمیشہ حق کی آواز بن کر کھڑا رہا۔ ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی حمایت کی، 1970ء میں ختم نبوت تحریک کا علمبردار بنا۔ 1977ء میں نظام مصطفیٰ تحریک کا حصہ بنا۔ ہر دفعہ ہونے والے انتخابات میں جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) اور جماعت اسلامی کو بڑی تعدا د میں ووٹ ملے۔ قومی اور صوبائی میں شاہ احمد نورانی کو سیٹیں ملتیں تو بلدیات میں جماعت اسلامی بڑی تعداد میں اپنے لوگ منتخب کرواتی۔ اس سب کے ساتھ ساتھ شہر سے ظلم و زیادتی کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بالآخر 15 اپریل 1985ء کو بشریٰ زیدی کیس، 14 دسمبر 1986ء کو قصبہ علی گڑھ اور 30 ستمبر 1988ء پکا قلعہ حیدر آباد کے واقعات "مردِ مجاہد " ضیاء الحق کے وزیر اعلیٰ محترم غوث علی شاہ کی سر پرستی میں ہوئے۔ کراچی، حیدر آباد اور میر پور خاص میں لوگوں کو " منزل کے بجائے رہنما " اہم لگنے لگا جبکہ جو "قائد کا غدار موت کا حقدار" قرار پایا۔ 1978ء 11 جون کو بننے والی بے ضرر سی اے پی ایم ایس سو 18 مارچ 1984ء کو مہاجر قومی مومنٹ میں تبدیل ہوگئی لیکن کراچی میں جگہ بنانے میں نا کام رہی۔یہ کراچی کا پہلا دور تھا۔ اس کے بعد کا کراچی "متحدہ " اور " بھائی " کا کراچی تھا۔