پاکستان کا مستقبل، احتجاج و دھرنا سیاست؟ - وقاص احمد

افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ملک میں حکمرانی کی اخلاقی قدریں، سیاسی ہٹ دھرمی،’’ روک سکو تو روک لو!‘‘،’’ جو اکھاڑسکتے ہو اکھاڑ لو!‘‘ والی سوچ، کام اگر جائز و قانونی بھی ہے اور بس کرنے کا موڈ و ارادہ نہیں ہے ’’تو پھر کروا کر دکھا دو‘‘ والی ذہنیت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پاکستان میں مستقبل کے کئی بڑے فیصلے مجھے سڑکو ں پر ہوتے ہوئے نظرآ رہے ہیں۔ مجھے پتا ہے یہ بات سن کر جمہوریت کے چیمپئنز اور انسانی حقوق کے ایکسپرٹس سخت پیچ و تاب کھائیں گے، جن کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا صرف وہ حدودِ اربعہ اور دائرہ کار پسند آتا ہے جو ان کے اور ان کی مدد و اعانت کر نے والوں کو سوٹ کرتا ہے ۔ لیکن گزارش کی جائے گی کہ کیوں؟

پہلے فیض آباد دھرنے کی بات کر لیتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر مجبوراً نیتو ں پر شک نہ بھی کیا جائے تو یہ کس قسم کی بے پروائی اور غفلت ہے کہ ارباب اختیار پہلے الیکشن ریفارمز کے اندر پارٹی صدارت کے لیے ایک سزا یافتہ شخص کی راہ ہموار کرنے کا گھناؤنا کام کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حلف نامے میں ختم نبوت کے متعلق جملوں میں بھی چھیڑ چھاڑ کریں ، قادیانیوں اور مسلمانوں کی ووٹر لسٹ کو گڈمڈ کر یں اور پھر اصرار بھی کریں کہ ان کو عاشق رسول ﷺ سمجھا جائے۔ ایک اسلامی ملک میں جہاں ختم نبوت ﷺ کے لیے اور توہین رسالت کے خلاف بڑی بڑی خونی تحریکیں چل چکی ہوں ، جہاں ایک گورنر جان سے جا چکا ہو اور مارنے والے کے فقیدالمثال جنازے کے تذکرے ہوتے ہوں ، اُس ملک میں حکمران مَر مَر کے انکوائری کمیٹی بنا رہے ہیں ۔ رپورٹ وزیر اعظم کے بجائے نواز شریف کو بھجوا رہے ہیں ۔ حکومت سے اِس انتہا ئی غفلت کے مرتکب شخص سے استعفیٰ نہ لیا جار ہا ہو اور دیے جا رہے ہیں لیکچر کہ عوام کو تکلیف دینا کتنا بڑا گناہ ہے۔ لوگوں کو جو تکلیف حکومت نے اپنی بے پروائی سے دی ہے اس کا اُن کو اندازہ ہے؟ میرا خیال ہے کوئی باقاعدہ آفیشل معافی بھی نہیں مانگی گئی ہے۔ جناب ِ عالی ! نظام و قانون چاہے آئینی و تعزیراتی ہو یا اخلاقی، اگر حرکت میں نہیں آئے گا تو عوام کا اضطراب و غصے کا لیول اسی طرح بڑھے گا جو ہمیں فیض آباد پر نظر آرہا ہے ۔ اگر آئین، قانون، عدلیہ و پارلیمنٹ ا ور ادارے اپنا اپنا کام نہیں کریں گے۔ چیک اینڈ بیلنس کا اصولوں پر عمل نہیں کریں گے تو عوام کا بذریعہ ہم خیال جماعتوں، تنظیموں، سڑکو ں پر آنا معمول بن جائے گا۔ ماضی میں وکلاء باہر آئے کہ وعدوں کے باوجود گیلانی، زرداری کیوں عدلیہ بحال نہیں کر رہے؟ علماء اور مذہبی جماعتیں نکلیں کہ توہین رسالت کے قانون میں غیر شرعی تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں ۔ عمران خان نے اپنے لوگوں کو لے کر یلغار پہلے اس بات پر کی کہ الیکشن کمیشن چار حلقے کیوں نہیں کھول رہی اور پھر اس بات پر اسلام آباد کو لاک کرنے کی کوشش کی کہ سپریم کورٹ پانامہ جیسا بڑا اور واضح کیس کیوں نہیں ٹیک اپ کر رہی؟ اور ابھی لوگ نکلے ہیں کہ ختمِ نبوتﷺ کے اتنے اہم اور حساس معاملے میں اتنے سارے زیرک لوگوں کے ناک کے نیچے سے ایک انتہائی حساس ترمیم کیسے نکل گئی ؟ فیض آباد والے لوگ یہ تو نہیں کہہ رہے کہ مجرم کو ان کے حوالے کردیا جائے۔ استعفٰی مانگ رہے ہیں جو حکومت کو ہفتوں پہلے خود ہی کر لینا چاہیے تھا ۔ ہمارےمیڈیا کا فوکس استعفیٰ پر دباؤ بڑھانے کے بجائے صرف اور صرف شہری حقوق پر ہے (اس پر آگے مزید بات ہوگی) اور اس بات پر ہے کہ دیکھیں کب حکومت طاقت کا استعمال کرتی ہے۔

نواز شریف کے استعفیٰ نہ دینے، اسحاق ڈار کی ہٹ دھرمی نے ( جس کو جانچنے کے لیے تو خیر قدیم و جدید تاریخ کھنگالنی پڑے گی) ، نیشنل بینک کے صدر احمد سعید، ایس ای سی پی کے چیئرمین ظفر حجازی کی ڈھٹائی، سندھ میں نیب کے ساتھ ببانگ دہل کھلواڑ کرنے، ایک سے بڑھ کر ایک کرپٹ شخصیت کو چن چن کر اہم عوامی اداروں پر لگانے اور اب وزیر قانون کا کوتاہی و غلطی نہ ماننے کی ضد نے عمومی طور پر عوام کے کے ایک بہت بڑے طبقے کو جو منطقی و علمی طور پر حساس و جذباتی ہے بتدریج مشتعل اور اس سے بھی آگے جانے پر آمادہ کردیا ہے ۔ ۔

جب طرز حکمرانی ایسا ہو ، کرپشن مادر پدر آزاد ہو، ادارے مفلوج ہوں تو اب پاکستانی عوام تیار ہوجائے خاص طور پر، لبرل سیکولرازم کے حوارین جہاں کہیں بھی ہیں کہ ابھی تو اس ملک میں ان شاء اللہ سود ی بینکاری کو ختم ہونا ہے ۔ جی ہاں! وہ طویل کوشش اور محنت جس کے بعد پہلے وفاقی شرعی عدالت اور پھر سپریم کورٹ نے تایخی فیصلے میں سودی بینکنگ کو حرام قرار دیا اور جسے نواز شریف اور بعد میں پرویز مشرف نے چند دنوں میں تباہ و برباد کرد یا، دین پسند عوام کے اندر کانٹے کی طرح چبھا ہوا ہے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے گھن چکر کے وسیلے سے ملنے والی مہنگائی، بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری، صحت اور پانی کی نا گفتہ حالات بھی اپنا رنگ دکھا رہے ہیں ۔ موجودہ اور آنے والی حکومتوں نے اگر ملک کو آئین کی روح جس میں اسلام کے بنیادی اور ضروری احکامات ضم ہیں، کے مطابق نہیں چلایا ، کرپشن کے خلاف کوئی مربوط و مضبوط قانون نہ بنایا، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پیسہ بے دریغ خرچ نہ کیا، عوام کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ قرار دیے جانے والے سود اور سودی بینکنگ سے نجات نہ دلائی گئی تو حکومت اور اس کے ادارے عوام کا پیسہ لٹانے کے مراکز بن کر رہ جائیں گے اور شدید اندیشہ ہے کہ خون خرابہ اور فیصلے سڑکوں اور دھرنوں میں کبھی کبھی کے بجائے اکثر ہوا کریں گے۔

آج اور مستقبل کے دھرنے والوں سے یہ گزارش لازمی ہوگی کہ چو نکہ موجودہ اور آنے والی حکومتوں کے ہوش کے ناخن لینے کی امید بہت مدھم ہے اس لیے دھرنا سب سے پہلےایسی جگہ دیا جائے جہاں عام عوام کے بجائے، تکلیف ارباب اختیار کو ہو۔ بڑے سرکاری دفاتر، پارلیمنٹ جیسے اداروں کا محاصرہ کیا جائے ۔ ظاہر ہے اس کے لیے ریڈ زون میں گھسنا ہوگا تو ضرو ری نہیں کہ اسلام آباد ہی آیا جائے بلکہ صوبوں کی اسمبلیاں، وزیر اعلیٰ اور گورنر ہاؤسز پر دھرنا دیا جائے۔ ایمبولینس کو راستہ فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتطامات کیے جائیں۔ اخلاق کا شاندار مظاہرہ کیا جائے، لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کے مطالبات ان کے اپنے لیے یعنی ان کے دین و ایمان، آنے والی نسلوں کے لیے کتنے ضروری ہیں۔

ویسے جو قارئین یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں کوئی لوگوں کو دھرنے اوراحتجاجی سیاست کا درس دے رہا ہوں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ وہ تو ویسے ہی اوپر بتائی گئی وجوہات کی وجہ سےبرسوں سے ہورہے ہیں ۔ میں تو بس بتا رہا ہوں کہ عام عوام کم سے کم متاثر ہوں ۔ اشرافیہ و بدمعاشیہ جب تکلیف میں آئے گی تو نتائج جلدی آئیں گے۔ جن مفکرین، قلمکاروں اور دانشوروں کو یہ باتیں عجیب لگ رہی ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنا سارا زور اس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھے اکثر سیاست دانوں اور اقتدار کے ایوانوں میں برا جمان طاقتور لوگوں، جاگیرداروں، آف شور کمپنیاں بنانے والے سرمایہ داروں کو سمجھانے میں لگائیں کہ ہوش کے ناخن لیں، نظام کو درست کریں، امیر و غریب کے لیے ایک قانون اور ایک برتاؤ رکھیں اور پاکستان کو ایک صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنائیں جو قائد اعظم و علامہ اقبال سمیت نہ جانے کتنے بے لوث لوگوں کا خواب تھا جن میں بہت سوں کو دفن ہونے کے لیے پاکستان کی مٹی بھی نہ مل سکی۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com