مولانا طارق جمیل اور مخالفین کے منافقانہ رویے - عابد محمود عزام

چند روز سے سوشل میڈیا پر مولانا طارق جمیل صاحب کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ مولانا پر نہ صرف انتہائی جاہلانہ اور منافقانہ انداز میں طعن و تشنیع کی جارہی ہے، بلکہ نواز شریف سے ملاقات کی آڑ میں مخالفین اپنے دلوں میں برسوں سے موجود نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ ویڈیو کلپس میں بعض انتہا پسند لوگ مولانا طارق جمیل، تبلیغی جماعت، ان کے مسلک اور تمام مسالک کے علماءپر انتہائی نازیبا اور گھٹیا الفاظ سے تنقید کر رہے تھے۔ اس تنقید کی وجہ صرف یہ بتائی جارہی ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب نے نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ان کے گھر پر ملاقات کر کے ان کی بیمار اہلیہ کے لیے دعائے صحت اور میاں نواز شریف کی مشکلات کی آسانی کی دعا کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا طارق جمیل کو قوم کے ”مجرم“ میاں نوازشریف سے ملاقات کے لیے ان کے گھر نہیں جانا چاہیے تھا اور ان کی مشکلات کی آسانی کی دعا نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ایسے ناقدین کو تبلیغی جماعت میں کچھ وقت لگا کر تبلیغی مزاج سیکھنا چاہیے، کیونکہ ان کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ تبلیغ کا مزاج اور اصول کیا ہیں۔ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مسلمانوں کے بڑے بڑے مجرموں کو تبلیغ کی ہے، لیکن ان کا معاملہ شاید یہ نہیں، بلکہ بلاوجہ کا بغض ہے۔

مخالفین کی جانب سے مولانا طارق جمیل کے خلاف حالیہ پروپیگنڈے کو سادہ الفاظ میں منافقت کہا جاسکتا ہے۔ کم ظرف اور سطحی سوچ کے افراد کے پیٹ میں اس لیے مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ ان کے مخالف مسلک کا عالم دین سابق وزیر اعظم کیوں ملا ہے؟ ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ ملاقات کرنا کیا شرعی لحاظ سے کوئی گناہ ہے؟ اگر گناہ ہے تو تمام مسالک کے علماءجن جن سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں، قوم کو ہر ملاقات کا حساب دیا کریںاور تمام مسالک کے علماء وقتاً فوقتاً بااثر قوتوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر کے ملک میں مسلکی نفرتیں پھیلانے اور عوام کو بے وقوف بنانے کا جو فریضہ سرانجام دیتے ہیں، اس پر بھی کوئی فتویٰ ہونا چاہیے اور اگر گناہ نہیں تو مولانا طارق جمیل پر ہی تنقید کیوں؟ اور یہ بھی جواب دیں کہ ناقدین کی معروف مذہبی شخصیات ماضی میں نواز شریف اور اس کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرتی رہی ہیں، ان کی طرف سے ان پر تنقید کیوں نہیں کی گئی؟ بہت سی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا کھانا اس لیے ہضم نہیں ہورہا کہ مولاناطارق جمیل نے ان کی حریف جماعت کے لیڈر سے ملاقات کی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ کسی کے سیاسی حریف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب کا حریف ہے، کوئی کسی جماعت کا پابند نہیں۔ دوسری بات یہ کہ جب ناقدین کی اپنی جماعت کے لیڈر مفادات حاصل کرنے کے لیے نہ صرف نواز شریف ، بلکہ اپنے ووٹرز کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے کسی بھی سیاسی لیڈر کے ساتھ ہاتھ ملا لیتے ہیں، اس وقت ان کی غیرت کہاں جاکر سوجاتی ہے؟ اس وقت ان کو سیاسی مخالفین کے جرائم کیوں یاد نہیں رہتے؟

مولانا طارق جمیل ایک معروف مذہبی شخصیت ہیں اور وہ مختلف شعبہ جات کی معروف شخصیات سے ملتے رہتے ہیں، لیکن ہر بار جب بھی کسی شخصیت سے ملاقات کرتے ہیں تو مخالف فریق کو تکلیف ہونے لگتی ہے۔ اب میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے پر بریلوی مسلک کے بعض متعصب اور فتنہ پرور اور تحریک انصاف کے کئی کم فہم لوگ مولانا طارق جمیل پر تنقید کر رہے ہیں، اس سے پہلے جب مولانا طارق جمیل نے عمران خان سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی، اس وقت مولانا طارق جمیل کے مسلک کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے انتہا پسند کارکنوں نے مولانا طارق جمیل کے خلاف پروپیگنڈا کیا تھا اور جب مولانا طارق جمیل ، مولانا فضل الرحمن سے ملے تھے تو اس وقت بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے شور مچایا تھا۔ مولانا طارق جمیل جب شیعہ علماءسے ملاقات کرتے ہیں تو دیوبندی مسلک کی جماعت سپاہ صحابہ والے ان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں اور مولانا طارق جمیل جب سپاہ صحابہ کے قائدین مولانا احمد لدھیانوی اور مولانا اورنگ زیب فاروقی سے ملاقات کرتے ہیں تو شیعہ اور بریلوی مسلک کے لوگ ان پر دہشتگرد ہونے کا الزام لگاتے ہیں، لیکن مولانا طارق جمیل کسی کی تنقید کا جواب نہیں دیتے ہیں، بلکہ تمام کی تنقید کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سے تمام مسالک اور تمام جماعتوں کو متاثر کر کے قریب کر رہے ہیں۔مولانا طارق جمیل کے پاس نبی کے اخلاق اور محبت ہے، تو مولانا وہ بانٹتے ہیں اور جن کے پاس نفرتیں ہیں تو وہ نفرتیں بانٹتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ہونے کی حیثیت سے مولانا طارق جمیل میں بھی کئی خامیاں ہوں گی۔ خامیاں ہونا کوئی بری بات بھی نہیں ہے، کیونکہ خود خدا نے ہی تو انسان کو خطا کا پتلا بنایا ہے، لیکن اپنی منافقت کے ہاتھوں مجبور ہوکر کسی کی ایک فیصد برائی کی وجہ سے اس کے ننانوے فیصد اچھے کاموں کو نظر انداز کردینا برا ہے اور ناقدین یہی کام کر رہے ہیں۔ جو اپنے پاس اخلاق نہ ہونے کی وجہ سے خود تو دین کی خدمت کرنہیں سکتے اور جو اپنے اخلاق سے لوگوں کو دین کے قریب کرتا ہے، اس پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل اس وقت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت اور عظیم سرمایہ ہیں، کیونکہ مبلغ اسلام ہونے کے ساتھ نفرت کے اس دور میں محبت کے بہت بڑے داعی بھی ہیں۔ ان کا پیغام ہی محبت ہے۔ اس دور اور اس معاشرے میں قدم قدم پر نفرتوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، محبت بانٹنے والا کوئی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ کوئی سیاست کے نام پر نفرتیں تقسیم کر رہا ہے تو کوئی مذہب کے نام پر نفرتیں پھیلا رہا ہے۔ ہر جانب نفرت ہی نفرت ہے، ایسے میں پورے معاشرے کو محبت کی اشد ضرورت ہے اور محبت پھیلانے والے مولانا طارق جمیل، مولانا رضا ثاقب مصطفائی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے مبلغین کی ضرورت ہے۔ آج آپ کو بڑے بڑے علماءاپنے مخالفین پر فتوے داغتے ہوئے تو نظر آئیں گے، مخالفین کے خلاف نفرتیں پھیلاتے ہوئے تو نظر آئیں گے، لیکن کوئی محبت کا پیغام پھیلاتا ہوا کم ہی نظر آئے گا۔ آج بڑے بڑے علمائے مخالف مسالک سے اتحاد کی بات تو کرتے ہیں، لیکن اپنے حلقے کی تنقید کے خوف سے اتنی جرات کسی میں بھی نہیں کے مخالف مسلک کی مسجد میں جاکر مخالف مسلک کے علماءکے ساتھ نماز ہی پڑھ لے۔ تمام مخالفتوں کے باوجود اگر یہ جرات ہے تو مولانا طارق جمیل میں ہے، جو دیوبندی ہونے کے باوجود شیعہ، بریلوی اور اہل حدیث سمیت تمام مسالک کے علماء کے پاس جاکر قرآن کا پیغام بیان کرتا ہے کہ ”آؤ ہم سب مشترک باتوں پر جمع ہوجائیں۔“ لیکن تمام مسالک میں موجود بعض فتنہ پرور انتہا پسند چاہتے ہیں کہ تمام فرقے آپس میں دست وگریبان رہیں، تاکہ ان کی دکان چلتی رہے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.