صرف دین کے سنجیدہ طلبہ و طالبات کے لیے - عظیم الرحمن عثمانی

اصول فقہ کی رو سے دین میں درج احکامات، چاہے وہ عملی نوعیت کے ہوں یا ایمان کے حوالے سے، ہم انہیں دو بڑی اقسام میں بانٹ کر دیکھتے ہیں، جو درج ذیل ہیں:
1. قطعی (یعنی وہ احکام جن کے سچ ہونے میں اختلاف و شک کی گنجائش نہیں)
2. ظنی (یعنی وہ احکام جن کے سچ ہونے نہ ہونے میں اختلاف و شک ممکن ہے)

پہلی قسم یعنی 'قطعی' کی بھی دو نمایاں شاخیں ہیں.
1. قطعی الثبوت (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے ارسال یا منتقلی میں اختلاف و شک کی گنجائش نہیں)
2. قطعی الدلالہ (یعنی ان کے معنی و مفہوم اتنے عیاں ہیں کہ اختلاف و شک ممکن نہیں)

یہ ممکن ہے کہ کوئی حکم یا بات قطعی الثبوت تو ہو مگر قطعی الدلالہ نہ ہو، یا پھر قطعی الدلالہ تو ہو قطعی الثبوت نہ ہو، یا پھر بیک وقت قطعی الدلالہ بھی ہو اور قطعی الثبوت بھی. یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جس حوالے سے بھی وہ حکم یا بات 'قطعی' تسلیم ہوگی، اس حوالے سے اس میں اختلاف و شک نہیں کیا جاسکتا. گویا اگر کوئی شخص قطعی امور میں سے کسی امر کو رد کرتا ہے یا مختلف بات پیش کرتا ہے تو اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا. اختلاف صرف 'ظنی' امور میں ہی ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے.

دوسری قسم یعنی 'ظنی' کی بھی دو نمایاں شاخیں ہیں.
1. ظنی الثبوت (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ارسال یا منتقلی یقینی نہیں لہٰذا اختلاف و شک کی گنجائش ممکن ہے)
2. ظنی الدلالہ (یعنی ان کے معنی و مفہوم واضح نہیں لہٰذا مختلف مفہوم اخذ کرنے کی گنجائش ہے)

ہمارے سامنے جب کسی محقق کی اختلافی رائے آتی ہے تو ہم قران و سنت سے یہ جانتے ہیں کہ وہ اختلاف 'قطعی امور' سے متعلق ہے یا 'ظنی امور' سے؟ اگر پیش کردہ رائے یا اختلاف 'ظنی امور' میں سے ہے تو ہم اس کا استقبال کرتے ہیں اور علمی طور پر اس کے رد یا قبول کا فیصلہ کرتے ہیں. البتہ اگر یہ اختلاف 'قطعی امور' سے متعلق ہے تو ہم اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں اور اس کا بھرپور علمی رد کرتے ہیں.

کوئی بات اسی وقت 'قطعی' تسلیم کی جائے گی جب وہ دو میں سے کسی ایک ذریعے سے ہم تک پہنچی ہو.
1. قران حکیم
2. متواتر سنت یا احادیث

پہلے ذریعے یعنی قران حکیم کی بات کریں تو تمام تر امت کے نزدیک قران حکیم کی ہر ہر آیت 'قطعی الثبوت' ہے یعنی یقینی طور ہم تک رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ارسال ہوا ہے. البتہ علماء کی غالب ترین اکثریت کے نزدیک قران حکیم کی تمام آیات 'قطعی الدلالہ' نہیں ہیں. بلکہ کچھ 'ظنی الدلالہ' بھی ہیں. آسان الفاظ میں یہ بات تو یقینی ہے کہ تمام تر آیات جو ہم تک پہنچی ہیں وہ من جانب اللہ ہیں مگر یہ بات حتمی نہیں ہے کہ ہر ہر کا صرف ایک ہی یقینی معنی ہو. یہی وجہ ہے کہ کئی آیات کے معنی و مفہوم میں مفسرین ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں. مثال کے طور پر جنت و جہنم کا قیام اسی زمین پر ہوگا یا پھر وہ آسمانوں میں واقع ہوگی؟ اس میں مفسرین کچھ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے اختلاف کرتے ہیں. گو یہ آیات بنیادی ایمانیات یا عبادت کی اصل سے متعلق نہیں ہیں. چناچہ اس میں معنوں کا اختلاف جائز بھی ہے اور اس سے دین کی بنیاد پر کوئی ضرب بھی نہیں پڑتی. یہاں یہ بھی نوٹ کرلیجیئے کہ علماء کا ایک چھوٹا گروہ مکمل قران حکیم کو 'قطعی الثبوت' کے ساتھ ساتھ 'قطعی الدلالہ' بھی تسلیم کرتا ہے. ان کے نزدیک قران مجید کی ہر آیت کا ایک ہی حتمی معنی ہے اور اس میں مفسرین کی مختلف رائے ان کی اپنی سمجھ کی غلطی ہے.
.
دوسرے ذریعے یعنی 'متواتر سنت یا احادیث' وہ احادیث ہیں جو اتنی زیادہ تعداد میں اور اتنے زیادہ راویوں سے ہم تک پہنچی ہیں کہ ان کے سچ ہونے میں اب کسی ابہام و شک کی گنجائش نہیں. گویا کسی بات کو پہنچانے والے اتنے سارے ہوں کہ اس بات کا جھوٹ ہونا عقلی و تحقیقی دونوں حوالوں سے ناممکن بن جائے. متواتر میں ہم اخبار احاد (عام انفرادی روایت و احادیث) کی طرح راوی کی صحت کے محتاج نہیں ہوتے. لہٰذا اس کا سچ ہونا کم و بیش ایسا ہی یقینی ہے جیسا آیات قرانی کا. تواتر کی تین نمائندہ اقسام ہیں.
1. تواتر قولی (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد جو تواتر سے ہم تک پہنچے)
2. تواتر عملی (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل جو تواتر سے ہم تک پہنچے)
3. تواتر تقریری (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموش اجازت جو تواتر سے ہم تک پہنچے)

یہ بھی پڑھیں:   دین سراسر اخلاق ہے - لطیف النساء

تواتر قولی کو بھی ہم دو بڑی اقسام میں بانٹتے ہیں
1. تواتر بلفظی (یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد لفظ بالفظ ہم تک تواتر سے پہنچا ہو)
2. تواتر بلمعنی (یعنی کسی ایک حقیقت سے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مختلف الفاظ میں ہم تک تواتر سے پہنچا ہو)

گویا اب تحریر کے اس مقام پر ہمیں یہ حقیقت سمجھ آگئی کہ ہر وہ بات یا حکم جو قران حکیم یا متواتر احادیث سے ہم تک منتقل ہوا ہے، وہ قطعی نوعیت کا حامل ہے. جس میں اختلاف و انکار دینی لحاظ سے ممکن و جائز نہیں. اب رہ گیا احادیث مبارکہ کا وہ 'ظنی' حصہ جس میں صحت روایت یا درایت سمیت مختلف قرینوں سے اختلاف و انکار ممکن ہے. اسی کو 'اخبار احاد' کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. اخبار احاد کے بھی اس حصے کا انکار نہیں کیا جاسکتا جو 'عمل یعنی شریعت' سے متعلق ہے. البتہ وہ اخبار احاد جن میں ایمانیات کی ضمنی تفاصیل کا بیان ہوا ہے یا کسی ماضی و مستقبل کی خبر دی گئی ہے، اس میں رائے کا اختلاف یا قبول و رد ممکن ہے. یہاں ہم اخبار احاد کے اس ذخیرے کو بھی دو اقسام میں بانٹ رہے ہیں.

1. ایمانیات و اخبار سے متعلق احادیث (جن میں مظبوط تر قرینے سے انکار یا اختلاف ممکن ہے)
2. عمل یعنی شریعت سے متعلق احادیث (جنہیں ظنی ہونے کے باوجود بھی مطلق رد نہیں کیا جاسکتا)

یہاں یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ ان ظنی اخبار احاد کو تسلیم کرنا کیوں لازمی ہے؟ جو عمل یعنی شریعت کا بیان کرتی ہیں؟ ظنی تو اپنی تعریف ہی میں قطعی نہیں ہوتا اور اس کے غلط ہونے کا ہمیشہ امکان ہوا کرتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عمل یا شریعت کے امور میں اخبار احاد کو ظنی ہونے کے باوجود قبول کرنا قران حکیم اور متواتر احادیث دونوں سے ثابت ہے. قران کریم میں جہاں قصاص کا حکم اور چوری کی سزا کا بیان ہوا ہے، وہاں جرم ثابت کرنے کیلئے دو گواہوں کی گواہی کو کافی کہا گیا. دو گواہ کسی بھی صورت میں 'تواتر' نہیں کہلا سکتے. اس کا امکان ہوسکتا ہے کہ وہ دو گواہ آپس میں گٹھ جوڑ کرکے جھوٹ بول رہے ہوں جسے قاضی نہ سمجھ پائے. اس غلطی کے امکان کے باوجود رب العزت نے صرف دو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے. اگر گواہ جھوٹ بولتے ہیں تو ان کی سزا روز جزاء کو نافذ کی جائے گی. جب ہاتھ کاٹنے اور انسانی جان لینے کے اہم ترین معاملے میں دو گواہوں پر اکتفاء کیا جاسکتا ہے، تو ظاہر ہے لازمی طور پر کمتر شرعی معاملات میں بھی احاد گواہوں کو تسلیم کیا جاسکتا ہے. اسی طرح متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ شرعی یا قانونی معاملات کا فیصلہ کرتے ہوئے خلفاء یا قاضیوں نے اخبار احاد کو سنا اور اس کی بنیاد پر فیصلہ سنایا.

یہ بھی پڑھیں:   دین سراسر اخلاق ہے - لطیف النساء

یہ اخبار احاد کا آخری حصہ ہے جو ایمانیات یا اخبار یا اذکار و عادات سے متعلق ہے اور جس کا دلیل کی بنیاد پر انکار و رد ممکن ہے. محقق دیکھتا ہے کہ بیان کردہ حدیث کہیں عقل عام یا واضح زمینی حقائق کے صریح خلاف تو نہیں؟ وہ جائزہ لیتا ہے کہ پیش کردہ حدیث صحت کے اعتبار سے کس مقام پر ہے؟ صحیح، حسن، ضعیف، موضوع، مرسل وغیرہ بہت سی تفریق ہیں جو محدثین بعد از تحقیق کرتے ہیں. اسی طرح وہ حدیث کو جانچتا ہے کہ وہ کسی قطعی حکم سے تو نہیں ٹکرا رہی؟ تطبیق کی صورت نہ ہو تو قبول نہیں کرتا. یہی وجہ ہے کہ احادیث احاد میں موجود بہت سے موضوعات جیسے امام مہدی، دجال، واقعہ معراج، رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہونا وغیرہ پر صحیح حدیث ہونے کے باوجود آپ کو محققین مختلف آراء پر کھڑے نظر آتے ہیں. ایسے موضوعات اخبار احاد کے اسی حصے سے متعلق ہوا کرتے ہیں.

(نوٹ: یہ دین کے ایک ابتدائی طالب علم یعنی راقم کی ناقص سمجھ ہے، جس میں غلطی کا امکان ہوسکتا ہے. اقسام کی شاخوں کی زیادہ تفصیل سے اختصار کی خاطر دانستہ گریز کیا گیا ہے. اہل حدیث حضرات یا دیگر محققین جیسے مکتبۂ فراہی وغیرہ درج تفصیل سے کچھ اختلاف لازمی رکھتے ہیں. تحریر کے اصل مخاطبین عوام الناس نہیں بلکہ دین کے وہ سنجیدہ طالب علم ہیں جو عرق ریزی کا شوق رکھتے ہوں.)

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.