احسن اقبال سے تین سوال- آصف محمود

احسن اقبال صاحب نے، جو پہلے مبینہ طور پر صرف پروفیسر تھے، اب اعزازی ڈگری ہتھیاکر ڈاکٹر بھی بن چکے، فرمایا کہ دھرنا ختم نہ ہوا تو عدالت کے خکم کے تحت دھرنا دینے والوں کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوں گے۔

حکومت کے منہ کو اگر خون لگ ہی چکا ہے تو جو مرضی کرے، لیکن چند سوالات کا جواب مولوی خادم حسین رضوی ہی نہیں ہم سب بھی مانگ رہے ہیں۔ اور خادم رضوی صاحب دھرنا ختم کر کے واپس بھی چلے جاتے ہیں تب بھی یہ سوالات موجود رہیں گے۔
سوال یہ ہے کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کیوں خفیہ رکھی جارہی ہے؟ نہ آپ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ سامنے لا رہے ہیں نہ یہ، معاملہ کیا ہے؟ کیا آپ قانون سے بالاتر ہیں؟

قانون میں ترمیم کی ضرورت آخر کیوں پیش آئی تھی؟ بلاوجہ تو قوانین تبدیل نہیں ہوجاتے، یہ قصہ کیا تھا؟ یہ لبرل پاکستان کی جانب سفر تھا، بد دیانتی تھی یا بیرونی دباؤ تھا؟

اور آخری سوال یہ کہ جس مضمون میں احسن اقبال پروفیسر ہیں کیا اس کے نصاب میں لکھا ہے کہ عدالت کا صرف وہ حکم مانا جائے گا جو دھرنے والوں کے بارے میں ہو اور جو حکم عدالت پانامہ کیس میں دے اس پر عدالت کی تضحیک کی جائے گی؟

خادم حسین رضوی کا اسلوب گفتگو اگر مناسب نہیں تو ان سوالات کا جواب بے شک طلال چودھری، دانیال عزیز اور عابد شیر علی کی کوثر وتسنیم میں دھلی پاک اور صاف زبان میں دے دیا جائے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.