خواب سے حقیقت تک - پروفیسر جمیل چوہدری

خواب بہت ضروری ہوتے ہیں۔ دنیا کی مختلف اقوام اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ یہ مئی 2013ء کی بات ہے پاکستان میں انتخابات ہو چکے تھے۔ جناب محمد نواز شریف کا بطور وزیراعظم صرف اعلان ہوا تھا۔ انہی دنوں میں چینی وزیر اعظم پاکستان تشریف لائے۔ محمد نواز شریف نے چینی وزیراعظم کے سامنے کاشغر اور گوادر کو ملانے کی تجویز رکھی۔ چینی وزیر اعظم کا برجستہ جواب تھا"It will be a dream"۔ حلف اٹھانے کے بعد جناب محمد نواز شریف نے سب سے پہلے چین کا دورہ کیا۔ بہت سے منصوبوں پر بات ہوئی جس میں چین-پاکستان اقتصادی راہ داری سرفہرست تھا۔ دونوں ملکوں کے سربراہ کاشغر اور گوادر بذریعہ سٹرک، ریل اور گیس پائپ لائن ملانے پر تیار ہوگئے اور اب یہ خواب 3سال اور چند ماہ بعد حقیقت کا روپ اختیار کرچکا ہے۔ شاید ہی کوئی قومی ترقیاتی خواب اتنی جلدی حقیقت بنا ہو۔

29اکتوبر2016ء کو کاشغر سے ایک بڑا تجارتی کاروان براستہ شاہراہ قراقرم پاکستان کی طرف روانہ ہوا اور 12نومبر کو گوادر بندرگاہ پہنچ گیا اور اگلے ہی دن پاکستان کی سول اور ملٹری سربراہوں نے اسے گوادر سے بذریعہ بحری جہاز مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی طرف روانہ کردیا۔ دنیا یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ابھی4سال پہلے صرف باتیں تھیں اور اب تجارتی جہاز 150کنٹینر لیکر گوادر سے روانہ بھی ہوگیا؟ کاشغر سے آنے والے ٹرکوں کے قافلے نے سیالکوٹ اور لاہور سے پاکستانی سامان بھی ساتھ لیا۔ "One Belt One Road" نے کام شروع کردیا ہے۔ کاشغر سے گوادر تک سفر3ہزار کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ اگر شنگھائی سے مشرق وسطیٰ آیا جائے تو سفر4گنا بنتا ہے۔ یوں چینی قافلے کا سفر کئی گنا کم ہوگیا۔ یہ سب کچھ معجزہ سالگتا ہے۔ ابھی صرف بلوچستان میں نئی سڑکیں بنی ہیں باقی صوبوں میں کام جاری ہے۔ جب سڑکوں اور ریلوں کے تمام سلسلے مکمل ہوجائیں گے تو تجارتی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں گی۔ جیسا کہ سابقہ وزیراعظم اپنے خطابات میں فرماتے رہتے تھے کہ سی پیک پورے ملک کے لیے ہے، کسی ایک صوبے یا علاقے کے لیے نہیں ہے۔ پورے منصوبے میں موٹرویز اور ایکسپریس ویز بھی ہیں اور پورے ملک میں بکھری ہوئے ریلوے نظام کو بھی درست کرنا ہے۔ ایک بہت ہی بڑا پروجیکٹ کراچی کو لاہور سے بذریعہ موٹروے کا بھی ہے۔ کراچی سے حیدر آباد، سکھر، ملتان اورپھر لاہور۔ اسےK-M-Lبھی کہاجاتا ہے۔ یوں پاکستان کے دو سب سے شہروں، صوبائی دارالحکومتوں، کو بلاواسطہ آپس میں خوبصورت اور پائیدار موٹروے سے ملا دیاجائے گا۔ یوں انسانی سفر اور تجارت دونوں ہی آسان ہوجائیں گے۔ اتنے بڑے منصوبوں میں وقت تو لگتا ہے۔ شروع کرنا محمد نواز شریف کی ہمت و حوصلہ کو ظاہر کرتا ہے اور تکمیل آنے والوں نے کرنی ہے۔

ریلوے اب کراچی سے لاہور2رویہ ہوچکی ہے۔ اسے پشاور تک2رویہ مکمل کرنا بھی سی پیک میں شامل ہے۔ کوٹری سے اٹک تک کی ریلوے کو اپگریڈ کرنا بھی اسی منصوبے میں شامل ہے۔ یہ لاڑ کانہ اور ڈیرہ غازی خان سے گزرتی ہے۔ ریل کا ایک بالکل نیاسلسلہ تعمیر کرنا بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ کوئٹہ کے قریب بوستان سے شروع ہوکر ڈیرہ اسماعیل خان تک جائے گا۔ یہ تمام کام2030ء تک مکمل ہونے طے کیے گئے ہیں۔ حویلیاں تک پاکستان ریلوے کا نیٹ ورک پہلے ہی موجود ہے۔ یہیں سے ریلوے کو خنجراب تک لایا جائے گا اوریوں کچھ سالوں بعد کاشغر بذریعہ ریل پاکستان سے منسلک ہوجائے گا۔ انہی سڑکوں کے ساتھ ساتھ گوادر سے کاشغر تک پائپ لائن بھی بچھے گی۔

اس ابھرتے ہوئے نئے منظر نامے سے نہ صرف دونوں ملکوں کی قیادت خوش بلکہ بہت سے دیگر ممالک بھی حیران کن انداز سے دیکھ رہے ہیں۔ افتتاحی تقریب میں چینی سفیر نے کہا"میں واقعی خوش ہوں پہلا تجارتی جہاز روانہ ہورہا ہے۔ میں پاکستانی حکومت کو مبارک باد پیش کرتا ہوں" سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سابق وزیراعظم جناب نواز شریف کو سی پیک کا سووینئر پیش کیا۔ وہ اس تقریب کے میزبان تھے۔ سپہ سالار نے پورا ایک ڈویژن سی پیک کے منصوبوں پر لگا کر اسے محفوظ بنا دیا ہے۔ تمام لوگوں نے تیزی سے کام کیا۔ آرمی کے40 جوانوں نے جانوں کا نذرانہ دیکرکام میں رکاوٹ نہیں آنے دی۔ گوادر کچھ ہی سالوں بعد ایک مصروف بندرگاہ اور پررونق شہربن جائے گا۔ چینی کمپنیوں کے لیے گوادر میں2282 ایکٹر پر مشتمل اکنامک زون مختص کردیاگیا ہے۔ بندرگاہ کو43سالہ لیز پر دیاگیا ہے۔ چینی کمپنیوں کو20سال تک قومی اور صوبائی ٹیکسوں سے استثنیٰ دیاگیا ہے۔ گوادر میں چینی پورٹ ہورڈنگ کمپنی4.5بلین ڈالر خرچ کرے گی۔ نئی برتھوں کی تعمیر کے بعد یہ ایک وسیع بندرگاہ بن جائے گی۔ دسمبر2017ء تک انٹرنیشنل ائیر پورٹ مکمل ہوجائے گا۔ یہیں 300میگا واٹ کا کوئلہ کا بجلی گھر اور 300بستروں پر مشتمل ہسپتال بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ پاکستان

کے معاشی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی آرہی ہے۔ جب چینیوں کی کوششوں سے بجلی گھر مکمل ہوجائیں گے تو نہ صرف بجلی کی پاکستانی ضرورت پوری ہوجائے گی بلکہ یہ فالتو بھی ہوجائے گی اور سی پیک کے کل سرمائے میں سے35 ارب ڈالر انرجی پیدا کرنے کے لیے ہی ہیں۔ انفراسڑکچر پر تو صرف11 ارب ڈالر ہی صرف ہونے ہیں۔

چین کی اتنی بڑی سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت میں تحرک تو پیدا ہورہا ہے لیکن اصل فائدہ تو تب ہوگا جب پاکستانی سرمایہ دار اپنا غیر ملکی سرمایہ ملک کے اندر لائیں۔ پاکستانیوں کا سرمایہ دنیا کے مختلف ملکوں کے لیے فائدہ مندثابت ہورہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جزیروں سے لیکر بڑے بڑے ملکوں تک میں پاکستانیوں کا بے شمار سرمایہ پھیلاہوا ہے۔ جناب محمد نواز شریف پہل کریں اور اپنے بچوں کو کہیں کہ وہ پاکستان میں آکر مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کریں۔ کیا آصف علی زرداری کو کہنے کا کوئی فائدہ ہوسکتا ہے؟ اور ایسے ہی اور ہزاروں لوگ جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ دبئی کی رونقوں میں پاکستانی سرمایہ کے کردار کو ایک دنیا تسلیم کرتی ہے۔ جب پاکستان کے بڑے کوئی اعلیٰ مثال قائم کریں گے۔ باقی سرمایہ دار بھی کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ امریکہ سمیت تمام دنیا اپنے اپنے ملکوں کی طرف لو ٹ رہی ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی کامیابی میں بھی یہی بات ہے۔ کئی سال پہلے سے امریکیوں نے Made in America کو ترجیح دینی شروع کردی تھی۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی میں یہی رحجان پایاجاتا ہے۔ عالمگیریت کی بجائے اب سرمایہ دار اپنے ممالک کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہیے۔ چینی سرمایہ کار اپنا سرمایہ پاکستان میں لاکر پاکستان کوآگے بڑھنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ اس میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو بھی حصہ ڈالنا چاہیے۔ سی پیک واقعی پاکستانی قسمت کو بدل سکتا ہے۔ روزگار کی تلاش میں پاکستانیوں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بس شرط ایک ہی ہے۔ جیسے کاشغر سے گوادر تک ایک بڑاتجارتی لنک پیدا کردیاگیا ہے۔ ایسے ہی پاکستانی بھی اپنا سرمایہ دوسرے ممالک سے ملک میں لاکر کئی شعبوں کی تعمیر کرسکتے ہیں۔ سی پیک کا خواب حقیقت میں تبدیل ہورہا ہے۔ پاکستانیوں کو مبارک ہو!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com