کام بھی آدھا بانٹو اور کمائی بھی - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دلیل پر تحریر شائع ہوئی کہ شادی شدہ لڑکی جاب کیوں نہ کرے.

اس پر بہنوں نے دلچسپ تبصرے کیے، کئی سوال بھی سامنے آئے. ان میں ایک بات یہ کہی گئی کہ اگر آپ خواتین کی بلاضرورت جاب کے خلاف ہیں تو پھر ہماری بیٹیوں کو کون ایجوکیٹ کرے گا؟ ہماری حوا کو اگر اسپتال جانا پڑے گا تو کون چیک اپ کرے گا؟ ہاں یہ ضرور ہونا چاہیے کہ پردے میں رہ کر سب کام کرنے چاہییں!

پردے والی بات سے تو کامل اتفاق ہے. پروفیشنل ڈگری والا نکتہ بھی ذہن میں تھا. اصلا یہ تحریر نان پروفیشنل ایجوکیٹڈ خواتین کے لیے لکھی گئی جو تعلیم یافتہ ہونے کے مان میں کوئی آفس جاب کرتی ہیں. کہیں سیکرٹری بنتی ہیں اور کہیں کسی این جی او میں فنڈ اکٹھے کرتی ہیں. عموما ایسے آفسز میں ان خواتین کو کام سے زیادہ کاسمیٹک پرپزز کے لیے ہائر کیا جاتا ہے. آفس کا ماحول کچھ رنگین رہتا ہے، اور ورکرز کا دل لگا رہتا ہے. سخت الفاظ کے لیے معذرت لیکن ایسی خواتین پھر گھر بنانے والی نہیں رہتیں. باہر کی توجہ اور رونق میلہ گھر والے اور گھر داری سے زیادہ دلچسپ لگنے لگتا ہے. اپنا گھر تو خراب کرتی ہی ہیں، جانے کتنے اور گھر خراب کرنے کا باعث بنتی ہیں.

جہاں تک تعلیم و صحت کی فراہمی کا تعلق ہے، اور معلمہ یا ڈاکٹر کی مثال دی گئی ہے، سو انھی کی بات کر لیتے ہیں. بےشک ان پروفیشنلز کو اپنی ڈگری ضائع نہیں کرنی چاہیے. بہتر یہی ہو کہ شادی سے پہلے بات کر لی جائے کہ جاب اور گھرداری کی ذمہ داریوں میں توازن کیسے رکھا جا سکے گا؟ کیونکہ ڈاکٹرز اور خصوصا ایسی ڈاکٹرز جن کی جاب میں ایمرجنسی ہینڈل کرنا لکھا ہو، مثلا سرجیکل، پیڈز یا گائنی ریزیڈنٹس، ان کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا، انھیں چولہے پر چڑھا سالن چھوڑ کر آپریشن کرنے جانا پڑ سکتا ہے، سو یا تو انھیں گھر سے مکمل سپورٹ حاصل ہو یا کم از کم بہترین طریقے سے گھر داری سنبھالنے والی سگھڑ گھریلو بیویوں سے ان کا تقابل نہ کیا جائے.

آغاز میں سب کچھ آئیڈیل ہوتا ہے. جذبے فراواں اور برداشت زیادہ، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اور شوہر گھر آنے پر بچے بلکتے دیکھے یا کھانے کو کچھ نہ پائے، صاف کپڑے میسر نہ ہوں، جبکہ بیوی کسی کی جان بچا کر کامیابی کے نشے میں چور گھر پہنچے، اور اس کا استقبال غصے اور رنج سے بھرا شوہر کرے، تو ایسی پروفیشنل دو مختلف سمت میں جانے والی کشتیوں کی ایسی سوار ٹھہرتی ہے جس کا مقدر ڈوبنا ہے. اسی لیے آپ عموما دیکھیں گے کہ پروفیشنل خواتین کے گھر الجھنوں سے بھرے ہوتے ہیں، یا ٹوٹ جاتے ہیں، یا شوہر باہر دوسری دلچسپی تلاش کر لیتا ہے، یا سوکن آ جاتی ہے، جو عموما نان پروفیشنل لیکن سگھڑ عورت ہوتی ہے، ایسی عورت کے تقابل میں پروفیشنل خاتون مزید ذہنی الجھن کا شکار ہوتی ہے کہ میرے میں کیا کمی تھی؟ اس صورت میں وہ اپنے کلائنٹس کا بھی خاطر خواہ دھیان نہیں رکھ پاتی.

اب آپ بتائیے کہ ایک پروفیشنل عورت شادی نہ کرے یا گھرداری کو پروفیشن پر برتری دے، یا بٹا ہوا گھربار برداشت کرے. جو بیٹی کی مثال دیتے ہیں، وہ اپنی بیٹی پر اس بوجھ کو رکھ کر سوچیں، اور پھر بتائیں کہ اسے وہ کیا مشورہ دیں گے.

اس کے بعد بات آتی ہے معاشرے کے دوغلے رویے کی. پروفیشنل بیوی ایک وقت میں دو جگہ نہیں ہو سکتی. جاب کے وقت میں گھر خالی ہے اور رشتے دار باتیں بنا رہے ہیں.

ہاں! تمھاری ٹیچر بیوی خود تو بریک میں کنٹین سے کھا پی لیتی ہو گی. گھر پر روٹی پکانے کا تکلف کون کرے.
لو جی ذرا سی زبان ہلائی اور بےچاری کے گھر کی بنیاد ہلا دی.

ارے انجینئیر بہو! تم اتنے بڑے بڑے پل اور بلڈنگز بنا سکتی ہو، ایک ذرا سی روٹی تم سے نہیں بنتی. بھئی وہ بھی تھک ہار کر مردوں کی طرح کام کر کے باہر سے آئی ہے، اسے بھی ایک خیال رکھنے والی''بیوی'' چاہیے، جو اس سے پانی پوچھے، اسے صاف کپڑے لا کر دے.

تمھاری جج یا وکیل بیوی باہر تو بڑا ہنس ہنس کر دنیا سے گپیں مارتی ہے. خدا جانے کردار کیسا ہوگا.
بھائی اس کا پروفیشن ہے، اس نے اس سب میں ایک دن نہیں ایک سال نہیں تاعمر اسی سے گزرنا ہے.

ڈاکٹر کی زندگی اسپتال میں زیادہ اور گھر میں کم گزرتی ہے. سکول ٹیچر شاگردوں میں زیادہ انوالو ہوتی ہے بہ نسبت رشتے داروں کے.

ان سب پروفیشنلز نے اپنے اسی ماحول میں اپنی خوشی اور اپنے غم منانے ہیں، اپنی سالگرہ کا کیک ایک ڈاکٹر اپنے کولیگز یا مریضوں کے ساتھ کاٹتی ہے ،اور اپنی شادی کی خوشی میں چمکیلے کپڑے بھی اسی ماحول میں پہنتی ہے. اردگرد دکھی لوگ ہوتے ہیں لیکن وہ صبح میک اپ کرتی ہے تاکہ فریش لگے ،خود کو اچھی لگے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کے دکھ کو سمجھتی نہیں، بس اسے اس سب کو پروفیشنلی ہینڈل کرنے کی عادت ہو جاتی ہے. اب اسے آپ بدکردار کہیں یا پتھر دل، یا شوہر سے بےزار گھر سے لڑ کر آئی عورت.

تو بات سادہ ہے کہ ایک خاتون پر ڈبل بوجھ مت ڈالیں. ایک پرسکون گھر گرہستی میں برانڈز کی نئی رینج کو ڈسکس کرتی عورتیں اور تھیوری پر بحث کرتے مرد کبھی بھی پروفیشن،گھر شوہر، بچے اور معاشرے سے اکیلے لڑتی عورت کا بوجھ سمجھ نہیں سکتے۔ اس کارپوریٹ کلچر اور روز بروز بڑھتی مہنگائی نے میاں بیوی دونوں کو کمانے تو نکال دیا ہے لیکن ہمارا مائنڈ سیٹ اس کو قبول نہیں کر پا رہا۔

اب اس کا سوفٹ حل کیا ہے؟
دونوں کام کریں، گھر کا بھی اور باہر کا بھی.
معاشرے کو میاں بیوی کے درمیان مت آنے دیں.
تمام دن کی روداد ایک دوسرے کو بتائیں،
ہر الجھن کو ایک دوسرے سے ڈسکس کریں، بجائے باہر والوں سے دکھ سکھ بانٹنے کے.
ایک دوسرے پر اعتماد کریں.
ضروریات اور خواہشات میں تفریق کریں اور اپنی حد مقرر کریں.
مل کر کریں سب کچھ. گھر کی صفائی بھی، کھانا پکانا بھی، بچہ بھی، سب کچھ، سب سے اہم خواہشات کو ضروریات سے کم رکھیں اور ضروریات کو آمدنی سے کم رکھیں.
مغرب میں ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن یہاں نہیں کرتے لوگ؟

آسان حل یہی ہے کہ اگر تو کوئی مرد اس طرح بیوی کا ہاتھ بٹا سکتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر بعد میں شکوے شکایت نہیں کرے. مغرب کی نقل کرنی ہے تو پوری طرح کریں. صرف خاتون کو مغرب کی نقالی میں کولہو کا بیل بنا کر خود سلطان سلیمان مت بنیں کہ تخت پر بیٹھ کر کھاؤ پیو اور حرم آباد کرو. نہیں خود بھی مغرب کے شوہر جیسے بنو. کام بھی آدھا بانٹو اور کمائی بھی.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.