بچوں کا عالمی دن اور ڈھائی کروڑ بچوں کا مسئلہ - محمد نور الہدیٰ

بچے کسے اچھے نہیں لگتے؟ یہ تو معصوم ہوتے ہیں، ان میں ہمارا مستقبل چھپا ہے، ان کا خیال رکھنا اور اپنے وسائل کا رخ اُن کی جانب موڑنا والدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ مگر جب پھول جیسے یہ بچے بوجوہ معاشرے کی دھول بن جائیں تو انہیں دیکھ کر یقیناً دکھ اور افسوس ہی ہوتا ہے۔ بحیثیت معاشرہ ہم ان پھولوں کی آبیاری، حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں صرف اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے، اور بس۔

دنیا بھر میں 20 نومبر کو بچوں کے حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے تقاریب ہوں گی اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور شخصیات کی جانب سے بیانات جاری ہوں گے۔ یہ دن ہر سال بچوں کو حقوق کی فراہمی کے حوالے سے ہمارے رویوں اور ذمہ داریوں کی یاددہانی کروانے آتا ہے۔

پاکستان میں 5 سے 16سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد اس وقت کل آبادی کے 45 فیصد سے بھی زائد ہے۔ اس تعداد کا 70 فیصد دیہاتوں میں مقیم ہے۔ شہری بچوں کی نسبت دیہی بچے بنیادی سہولتوں سے زیادہ محروم اور تعلیم سے بھی دور ہیں۔ مذکورہ کُل تعداد کا بھی 44 فیصد حصہ کسی نہ کسی وجہ سے تعلیم سے دُور یا آؤٹ آف سکول ہے۔ یہ بچے محنت مزدوری کر کے والدین کا ہاتھ بٹانے پر مجبور ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کے کیا حقوق ہیں، اور کس قدر انہیں مل رہے ہیں؟ عدم مساوات کا شکار یہ بچے صرف اتنا جانتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح اپنے والدین کے ساتھ ملکر قومی اور گھریلو معیشت کی ’’مضبوطی‘‘ اور ملک کی اقتصادی ’’ترقی‘‘ میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

آج ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، جس گلی، محلے، بازار یا دکان میں دیکھیں، ہمیں محنت مزدوری کرتے چھوٹے بڑے بچے دکھائی دیں گے۔ ہوٹلوں، قالین بانی، کان کنی، چوڑی سازی، فیکٹریوں، کارخانوں، صنعتوں، ورکشاپوں، بھٹہ خشت، عمومی دکانوں، حتیٰ کہ گھروں اور مکینک کی دکانوں پر اپنے ننھے ننھے سے ہاتھ کالے کرتے، سڑکوں، چوراہوں پر بھیک مانگتے، بوٹ پالش کی آواز بلند کرتے، گاڑیوں کے شیشے صاف کرتے، ٹریفک اشاروں پر اخبارات بیچتے، گلی محلوں میں کاغذ چنتے، کپڑوں پر ذری کا کام کرکے زندگی کی گاڑی کھینچنے والے بچے ہمیں جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ ہاتھوں میں قلم اور کتاب کی جگہ اوزار پکڑے یہ معصوم پھول، جن کے ابھی فقط کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کے دن ہیں لیکن ہم کس غیر محسوس طریقے سے ان سے ان کا بچپنا چھین رہے ہیں، اس امر کا ہمیں اندازہ ہی نہیں 20 نومبر کا دن انہی بچوں سے اظہار یکجہتی اور ان کے سر پر دست شفقت رکھنے کا دن ہے۔

مذکورہ 44 فیصد بچوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتے ہوئے تعلیم تک انہیں رسائی دلوانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ آج بھی ڈھائی کروڑ سے زائد بچے مختلف مجبوریوں کی وجہ سے آؤٹ آف سکول ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز اس کی خواندگی میں ہی پوشیدہ ہے۔ ملکوں کی تہذیب و ترقی کا صحیح معیار اس کی مردم شماری کے اعداد یا معیشت کے حجم کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ انسانوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ یہی افراد ملک کے درخشاں مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز دنیا میں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ویسے ہی دنیا کے 173 ملکوں کی فہرست میں خواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا 157 واں نمبر ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنے ملک کی شرح خواندگی کا مقابلہ خطے کے دیگر ممالک سے کریں تو ہمیں اپنی پسماندگی پر شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ طبقاتی بنیادوں پر تقسیم ہے جس کی وجہ سے مسائل ختم نہیں ہورہے۔ کہیں امیر اور غریب میں فرق کیا جاتا ہے تو کہیں معاشرتی ناہمواریاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ کہیں جسمانی معذوریاں حقوق کے حصول کے سلسلے میں آڑے ہیں تو کہیں مذہب کو تفریق کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی پیش رفت اپنا واضح رنگ نہیں جما پارہی اور نہ ہی ہم وعدوں اور دعووں سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ ہمارے ملک میں مجموعی آبادی کا 12 فیصد افراد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں جبکہ مختلف اقلیتوں کا تناسب بھی نظر انداز طبقات کی فہرست میں شامل کیا جائے تو یہ تعداد کئی لاکھ بن جاتی ہے اور جب اس میں ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والے یتیم اور بے سہارا بچوں کو بھی شال کرلیا جائے تو خوفناک اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ ان تمام طبقات کو قومی دھارے میں شامل رکھنا اپنے تئیں خود بڑا ایک چیلنج ہے جبکہ 5 سے 16 سال تک کی عمر کے مجموعی طور پر 80 فیصد سے زائد بچے غریب اور متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان بچوں کی تعلیم تک رسائی کے لیے کوششیں، کسی نہ کسی حد پر ہو تو رہی ہیں، مگر 'سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز' کا حصول تاحال ممکن نہیں ہوا۔

خواندگی پاکستان کے ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا مسئلہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اکثر سرکاری و غیر سرکاری ادارے مشترکہ جدوجہد بھی کررہے ہیں اور اس ضمن میں افراد اور ادارے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کے لیے انتھک محنت کررہے ہیں۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ بھی انہی میں سے ایک ہے جو گذشتہ 22 سال سے امیر، غریب، مسلم، غیر مسلم کی تفریق سے بے نیاز ہوکر خواندہ پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف عام اور سپیشل بچوں بلکہ اقلیتوں کے لیے بھی الگ تعلیمی ادارے کھولے ہوئے ہے۔ ایسے ہی دیگر نجی ادارے بھی کامیابیوں کی مستند داستانیں رکھتے ہیں، سب کے نام لینے پر آئیں تو کالم طویل ہوجائے گا، البتہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ چونکہ یہ سب ادارے اپنے وسائل کے مطابق ہی پاؤں پھیلا پاتے ہیں، اس لیے خواندہ پاکستان کے لیے ان کی کوششیں بھی محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر اقدامات کے باوجود ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا تاحال بنیادی حق سے محروم رہنا ایک تلخ حقیقت اور بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری طرف جیسے جیسے آبادی بڑھ رہی ہے، بچوں کو حقوق کی فراہمی اور تعلیم تک ان کی رسائی مشکل تر ہوتی جائے گی۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2030ء سے 2040ء کے درمیان پاکستان زیادہ آبادی والے ملکوں میں اپنی پوزیشن کو مزید آگے لے جائے گا اور ظاہر ہے جب آبادی زیادہ ہوگی تو وسائل بھی اسی مناسبت سے درکار ہوں گے، جبکہ ہمارے پاس تو موجودہ آبادی کے لیے بھی دستیاب وسائل ناکافی ہیں۔

مسائل کے حل کے لیے سیاسی و غیر سیاسی اداروں کی جانب سے مشاورتیں اور وعدے تو گزشتہ نصف صدی سے ہر سطح پر کیے جارہے ہیں اور ہر نشست اور بحث مباحثہ کے بعد ایک عزم لے کر اٹھا جاتا ہے لیکن بچوں کے حقوق بارے حالات جوں کے توں رہتے ہیں۔ اس ضمن میں اب مشاورتوں اور نشستوں کی بجائے عملی اقدامات کے لیے نہ صرف کثیر الجہتی حکمت عملی اور موثر منصوبوں کی ضرورت ہے بلکہ ان ذمہ داروں کی ذمہ داریوں کے بھی ’’آڈٹ‘‘ کی ضرورت ہے جن سے وہ ایک عرصہ گزر جانے کے باوجود عہدہ برآء نہیں ہوسکے۔ نیز مشاورتوں کے بعد ہونے والے اقدامات کی بھی چھان بین ہونی چاہیے، تاکہ پاکستان میں ناخواندگی کے اصل اور غیرسنجیدہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔ لہٰذا تمام سٹیک ہولڈرز مشترکہ اور مربوط انداز میں کام کریں اور تعلیمی رسائی کے لیے استعداد کار بڑھانے کے لیے سنجیدگی اختیار کریں تو حالات کی بہتری ممکن ہے۔ پس 20 نومبر کا روز اس عہد کا اعادہ کرنے کا دن ہے کہ ہر بچے کو منصفانہ، معیاری اور جامع تعلیم اور پھلنے پھولنے کے یقینی مواقع مہیا کرنے ہیں۔ اگرچہ یہ حق یقینی بنانا بنیادی طور پر حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور ہر ملک نے ایسے کم از کم ایک عالمی معاہدے پر ضرور دستخط کررکھے ہیں جس میں تعلیم کا حق فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہو …… لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف وعدوں اور دعووں تک ہی محدود رہیں گے یا اس سے آگے بھی بڑھیں گے؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */