سفید پوش دہشت گرد - عزیز حسین مندھرو

یہ میڈیا کا کمال ہے کہ ایک چھپا رستم راتوں رات شہرت پا سکتا ہے،ایک بدنام زمانہ بھی مشہورو معروف ہو سکتا ہے،سرکس کا مسخرہ مصنوعی ٹانگیں لگا کر دس پندرہ فٹ لمبا نظر آنے لگتا ہے، وہ مختلف حرکات کر کے عوام کی توجہ اپنے طرف گامزن کراتا ہے لیکن یہاں تماشائی اور لمبے قد والا مسخرہ دونوں جانتے ہیں کہ قد مصنوعی طور پر بڑھایا گیا ہے۔

آج کل سیاسی نگری میں بے شمار فرمانبردار بونے مشہور اور کامیاب ہونے کے لیے مختلف حرکات اور حربے آزما رہے ہیں ۔ بظاہر بہت سے بونے اس کھیل میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں،جس طرح شہر قائدمیں گزشتہ چند دہائیوں سے سیاست گری کو طاقت،اختیار، شہرت،امارات اور عزت حاصل کرنے کا وسیلہ بنانے کا کاروبار سب سے کامیاب رہا ہے، تو اس طرف لیاری گینگ وار کے منتخب کردہ نمائندے عزیر بلوچ کے حلفِ یافتہ سفید پوش دہشت گرد بے نقاب ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیاپر عوامی خدمت کے راگ الاپنے والے جرائم پیشہ نمائندے بھول بیٹھے ہیں کہ ان کی اصلیت دنیا کے سا منے واضح ہو چکی ہے۔ عوامی اسکیموں کے بجٹ کو اپنی تجوریوں کی زینت بنانے والے اور جرائم پیشہ افراد کو ترقیاتی کاموں کے نام پر ٹھیکوں سے نوازنے والوں کے دن ختم ہونے کو ہیں لیکن اس تمام عرصے میں عوام ان مسخروں کی چالوں، کرتوتوں، اورمفادات سے بخوبی واقف ہو گئے ہیں کہ گینگسٹرز اور سیاسی بونوں نے مصنوعی ٹانگوں کے دم پر لیاری کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

قد بڑھانے کا اشتہار پڑھ کر ہمارے ایک دوست، جن کا قد صرف چند فٹ لمبا ہے، خوشی سے جھومنے لگتے ہیں۔ موصوف خوش حال ہیں، نیک نام بھی ہیں، زیادہ تر مسکراتے رہتے ہیں اور اپنے قد کے بارے میں کسی کمپلیکس کا شکار بھی نہیں۔ لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ انسان دوسروں سے منفرد شاندار اور بلند قامت نظر آنے کے لیے کتنی خواہش رکھتا ہے اور یہ چار فٹ کا شخص، جن لوگوں میں کھڑا ہو ان سب کو اس احساس میں مبتلا رکھتا ہے کہ وہ سب غیر ضروری طور پر لمبے قد کے ہیں۔ سرکس کے مسخروں کی طرح بانس کی مصنوعی ٹانگیں باندھ کر بلندی تک پہنچ جانے والے بھول جاتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے اور سب لوگوں کو کچھ وقت کے لیے تو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اب وقت بھی کافی ہو گیا ہے اور مدت بھی پوری ہونے کوہے، آخر کب تک دیمک لگی بے ساکھیوں اور گینگ وار کے سہارے الیکشن جیتتے رہیں گے؟ جہاں مٹھی بھر افراد جمہوریت کی آڑ میں ذاتی مفادات کی خاطر عوام کو یرغمال بنا کر قوم پرستی کا نعرہ بلند کرنے پر مجبور کردیں اور اقتدار پر قابض رہنے کی ہوس میں ڈوبے لوگ عوام کو انصاف مہیا کرنے کے بجائے گینگ وار کا نشانہ بنے افراد کی نعشیں ان کا مقدّر بنا دیں وہاں دیر یا بدیر انقلاب ضرور آتا ہے۔ لیکن جہاں انصاف کے دہرے معیار کا رواج پالیسی کی شکل اختیار کرلے اس قوم کا وجود ہی خطرے کے الارم کی طرح بجتا رہتا ہے۔ انتشار کی فضا پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ظاہری اور چھپے ہوئے سیاسی بونوں کوجتنی جلدی ہو سکے نشاندہی کے بعد ان کومنطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر کی گئی تو لیاری ایک بار پھر اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔

جب لیاری میں لاقانونیت، بھتہ خوری،ٹارگٹ کلنگ،بوری بندلاشیں، ہڑتالیں، عنڈہ گردی اور گینگ وار کے منتخب کردہ سفید کالر دہشت گردوں کا جمہوری دور اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اپنی آخری آرام گاہ کی طرف گامزن ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنی جگہ لینا شروع کر دی ہے تو دوسری جانب گینگ وار کے سیاسی مسخرے بھی الوداعی قصیدوں کا ورد شروع کر دیا ہے۔ مصنوعی ٹانگوں والے بونے جاتے جاتے دوبارہ عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنے کرتب دکھانا شروع کر دیے ہیں، لیکن اس بار لیاری نے ان مسخروں کو بخوبی پہچان لیا ہے۔ ایک مدت کے بعد سیاسی بونوں کی الوداعی تقریب کے ساتھ یرغمالی سے آزاد ہونے والا لیاری ایک بار پھر اپنی روشنیوں سے روشناس ہونے جا رہا ہے۔

دل بجھ چکا ہے اب نہ مسیحا بنا کرو

یا ہنس پڑو یا ہاتھ اٹھا کر دعا کرو

گو کہ لیاری کے حقیقی جیالوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے پرچم کو تھام لیا ہے لیکن اعلیٰ قیادت کو لیاری کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان جرائم پیشہ افراد کے نمائندوں سے لیاری کو نجات دلائے بغیر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ پارٹی کی صفوں میں موجود گینگ وار کے سہولت کار لیاری کے موجودہ نمائندوں کو ایک بار پھر الیکشن ٹکٹ دلانے کے دوڑ میں ہیں اور حقیقی جیالوں نے بھی اس بار گینگ وار کے امیدواروں کی مخالفت کرتے ہوئے لیاری کی عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
عوام ان سفید پوش جرائم پیشہ نمائندوں کو کبھی معاف نہیں کر سکتی ماؤں کی گودیں اجاڑنے والے ان سفاک درندوں کو پارٹی ٹکٹ کے بجائے عبرت کا نشانہ بنانہ چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص گینگ وار سے حلف نہ لے اور ان کی رہنمائی نہ کر سکے۔

اس صورتحال میں عوام اور تاریخی کتابیں بلاول بھٹو کے فیصلے کی منتظر ہیں۔ پارٹی قیادت اب نظر اندازی والی پالیسی کے تحت عوام کے دلوں میں گھر نہیں بنا سکتی۔ پارٹی دفاتر اور جلوسوں میں مصنوعی رونقیں تو بحال ہو سکتی ہیں لیکن انتخابات میں نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا گڑھ کہلائے جانے والا ٹاؤن آج لاوارث ہے اور جرائم پیشہ نمائندوں کے رحم و کرم پر ہے۔ پارٹی کی صفوں میں چھپے ہوئے شیاطین اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام پہنچائے بنا حالات کو سازگار نہیں بنایا جا سکتا۔ انسانی یاداشت کمزور ضرور ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ اپنے بچوں کے قاتلوں کو نہ پہچان سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */