عشق کے قوانین ترمیموں سے مٹ نہیں سکتے - یاسر محمود آرائیں

ایک قدم آگے جانا پھر واپس دس قدم پلٹ جانا کچھ دیر کے لیے بھڑکنا، دھمکیاں دینا، پھر اگلے ہی لمحے اپنے کہے الفاظ کی تاویلیں گھڑنا یا پھر معذرت کرنا۔ ذرا سا طاقت یا عافیت میں ہو تو گریبان پکڑ لینا یا گلے پڑ جانا مگر جونہی کوئی اک ذرا سی ٹھوکر کیا لگی وہی ہاتھ جو اک لمحہ قبل گریبان میں تھا فوراً سے پیشتر گریبان سے نکال کر گھٹنوں بلکہ پاؤں پر رکھ دینا۔ اچانک ہی تھوک دینا پھر جب غلطی کا احساس ہوجائے تو اسی تھوک کو چاٹ لینا کبھی تو اتنے میٹھے ہوجانا کہ ہر جائز نا جائز بسر وچشم اور تسلیم خم تو کبھی اتنا کڑوا کہ خدا لگتی بھی ماننے کو راضی نہیں کہ پرائی زبان سے جو نکلی ہے۔ کیا کسی حکمران کو یہ اوصاف زیبا ہیں؟ ان حالات اور کمزوریوں کے ہوتے کسی حکمرانی کا حق حاصل ہے؟ بات کرتے اس پر قائم رہتے، جس حکمران کی ٹانگیں کپکپاتی ہوں اس کو حق حکمرانی ہے؟ کسی اقتدار، حکومت، ریاست یا سلطنت کے پاس رٹ نا ہو اپنی بات منوانے کا یارانہ اور حوصلہ نہ ہو تو پھر کس برتے کی حکومت ہوئی؟

بات سمجھنے کی اتنی سی ہے کہ کھڑا تو وہ رہے گا جو سیدھا ہو۔ توازن شرط ہے بوجھ اٹھانے کے واسطے۔ ستون سیدھا ہوگا تو بڑے سے بڑا بوجھ سہار لے گا لیکن اگر اس میں کوئی خم آگیا تو اس کا اپنے ہی بوجھ سے گرجانے کا خدشہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اسی بات پر قائم رہا جاسکتا ہے جو حق اور انصاف پر مبنی ہو۔ اُجلا کردار اور بے داغ دامن ہو تو انسان مجمع میں کھڑا رہتے بھی نہیں شرماتا۔ لیکن جسے اپنے دامنِ تار تار سے بخوبی آشنائی اور اپنے مکر و فریب پر نظر ہو تو وہ کیسے دوسرے سے بات کرنے اور نظر ملانے کا حوصلہ رکھے؟

جیسے کہ دانا باپ وہ ہوا کرتا ہے جو اولاد کو بیشک محبت میں سونے کا نوالا کھلاتا ہو، مگر اس پر نگاہ شیر کی رکھتا ہے۔ اسی طرح حاکم کے لیے بتلانے والوں نے اصول بتائے ہیں کہ رعایا کے لیے معافی پر تیار رہے، انصاف میں اپنے پرائے کی تمیز روا نہ رکھے، جب سزا ضروری ٹھہرے تو پھر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑے۔

لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ کام سارے ہی باطل ہوں تو رجوع نہ کیا جائے، پھر کیا کیا جائے۔ یار لوگوں نے کہا مقدس ہستی ہے نہ چھیڑو۔ تم سے سودا بڑا ہے۔ خنّاس مگر سر میں سمایا تھا۔ جب گلے میں آگئی، نہ اُگلے بن پائے نا نگلے، پھر پسپائی بلکہ رسوائی برداشت کی۔ پھر بات آئی چار حلقوں کی انا کا مسئلہ بنا لیا گیا۔ مچھلی پتھر چوم کر ہی واپس آیا کرتی ہے ایک بار پھر لعن طعن اور مار کٹائی کے بعد معاملہ حل کیا گیا۔ پانامہ سامنے آیا۔ بہی خواہوں نے بہت سمجھایا کہ اب کی بار ہوش کیجیے گا وگرنہ ایسا پھندا ثابت ہوگا کہ آئی کو کوئی نا ٹال سکے گا۔ لیکن وہ عقل ہی کیا جو کسی کی مان کے چلے؟ ابھی یہ آفت گلے سے نہ اتری تھی گھٹنوں گھٹنوں بلکہ گردن تک گند میں دھنسے تھے کہ ختم نبوت کو، جو عرق ریزی سے ثابت اور تسلیم شدہ مسئلہ تھا، تمام مکاتب فکر جس پر متفق اور جس گروہ کو مہینوں تحقیق کے بعد مسلمانوں سے الگ کیا گیا۔ اس نازک موقع پر جب پہلے مرنے جیسے حالت ہے۔ کس دانا نے یہ راہ دکھائی؟ "کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی" کبھی کہتے ہیں کہ کوئی تبدیلی یا سازش نہیں ہوئی۔ مان لیا کچھ وقت کے لیے نہیں ہوئی۔ پھر بدلنے یا حلف کو اقرار بنانے میں آخر حکمت یا پیٹ کا درد کیا تھا؟ وجہ بھی تو بتلاؤ۔ گومگو نے تو حالات اس نہج تک پہنچائے۔ پہلے دن ٹال مٹول نہ کرتے تو معاملہ یہاں تک آتا۔ ہمیشہ کی طرح جب خلق خدا نے گلے سے آکر پکڑ لیا کار مملکت چلانا دشوار ہوگیا تو پھر واپس پرانی حیثیت بحال بھی ہوگئی۔ مگر اس کے لیے بھی عدالت کا ڈنڈا بھی استعمال ہوا۔

اگر معقولیت ہوتی تو اسی وقت جب یہ قضیہ چھڑا تھا خواہ کسی نے بھی چھیڑا تھا فوراً ذمہ دار کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ آخر سدا حکومت میں تو نہیں رہنا، مر کے جانا تو وہیں ہے اور شفاعت بھی اسی ہستی سے مانگنی پڑے گی جس کی ناموس کے تحفظ سے دغا بازی کی کوشش کی گئی ہے اور آپ پردہ ڈال کر ممد ومعاون بن رہے ہیں۔ یہ اتنا بڑا جرم تھا کہ واقعی ظفراللہ جمالی کا کہا برحق ہے کہ پوری پارلیمنٹ کو موت آجانی چاہیے تھی لیکن باقی جماعتیں اور ان کے ارکان تو چلو دنیا دار ہیں اور ان کے بچے، اثاثے، اور اقامے باہر ہیں تو ان کی درد سری تو کچھ کچھ سمجھ آتی ہے۔ مگر شرمناک تو ان کے لیے ہے جو دین کے نام لیوا ہیں اور اسی مطالبے پر ووٹ مانگتے ہیں۔ راتوں رات یہ کام تو نہ ہوا۔ مہینوں ایکٹ بنتا رہا اور سب شریک کار رہے۔ یہ تو ذمہ داری سب تسلیم کریں یا اعتراف کریں کے ہم میں اتنی ذہنی استطاعت یا فہم ہی نہیں کے کچھ سمجھ سکیں۔ آئندہ ووٹ پھر نہ مانگیں۔ آپ کو ووٹ کس لیے دیا جاتا ہے؟ اسلام کی خاطر، اللہ اور اس کے رسول کی خاطر، اس کے دین کے نفاذ کی خاطر مگر جب اس کے ساتھ کھلواڑ ہوتا ہے تو آپ صمٌ بکمٌ بیٹھے ہوتے ہیں۔ بعد میں گالیاں کھا کر فرمادیتے ہیں ہمارے ساتھ تو دھوکا ہوگیا ہمیں تو خبر ہی نہ ہوئی۔ یہ ہو کیا رہا ہے؟ کوئی پوچھے کہ تمہیں کس ناتے اپنے خون پسینے پر اسمبلیوں میں عیش کرائی جاتی ہے کہ دنیا داروں کے بیچ اللہ رسول کی تعلیمات کی حفاظت کرو گے۔ اگر تم سے نالیاں، سڑکیں اور اسپتال ہی بنوانے ہوں تو مدر ٹریسا، عبدالستار ایدھی اور گنگا رام تم سے کہیں بہتر چوائس تھے۔ تم نے دین کی رکھوالی پر ووٹ مانگا اسی کے تم ذمہ دار ہو اور معافی مانگو کہ تم نااہل ہو۔ اگر نااہل نہ ہوتے کسی قابل ہوتے تو جب یہ واردات ہورہی تھی، ناموس رسالت کے تحفظ پر ڈاکا ڈالنے کی سعی ہورہی تھی تو شیخ رشید کو اسمبلی میں تمہارے ہوتے ہوئے "احرار" والوں کو دہائیاں نہ دینی پڑتی۔ لال حویلی کے بقراطِ عصر کو اپنے ایک اتحادی کے ہوتے ہوئے جو اکلوتا "صادق بھی ہے اور امین بھی" یہ نہ کہنا پڑتا کہاں ہو احرار والو، نبی کی حرمت کے رکھوالو!

وہ رکھوالے تو نکل ہی آئے اور ناموس کے خلاف اٹھنے والی سازش کو بھی انہوں نے ناکام بنادیا۔ ہرچند کے آج تک ان پر یہ الزام لگتے آئے ہیں اور ابھی بھی ایک بادہ خوار نے تازہ طعنہ دیا ہے کہ یہ لوگ تو کبھی پاکستان بننے کے مخالف تھے۔ عرض ہے، ہاں بالکل تھے مگر اس کی وجوہات تھیں اور ان کی چشم بصیرت جو دیکھ رہی تھی وہ آج پون صدی گزرنے کے بعد سچ بن کر سامنے آرہا ہے۔ خدانخواستہ وہ اسلامی ریاست کے حصول کے ہرگز مخالف نہ تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ جو خواب دکھایا جارہا ہے صبح اس کی تعبیر موجودہ راستے پر ہرگز ممکن نہیں۔ تعبیر اگر واقعی پاچکے ہوتے تو بار بار اس طرح ایمان کے ساتھ کھلواڑ کیوں ہوتا؟ ایک اسلامی ریاست میں برسوں تک وفاقی شرعی عدالت کے لیے قاضی کا نہ ملنا کیا بتاتا ہے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کیا ہوئیں؟ کیونکہ ان حضرات کو علم تھا کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں جو مملکت حاصل ہوگی اس پر چند جاگیردار خاندان قبضہ کرلیں گے۔ جن کا یہ کردار ہوگا کہ ایک سرکاری پراسیکیوٹر کسی پیروی میں اگر عدالت کو کہہ دے آپ بیشک وزیر اعظم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرلیں تو سرکاری اعمال اس غریب تنخواہ دار کا ناطقہ بند کردیں۔ مگر زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کی خاطر حاصل کی گئی مملکت میں اللہ کے رسول کے اس پیغام کو جانتے بوجھتے ہوئے کہ "تم میں سے کسی شخص کا ایمان اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کی جان مال سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں۔" پھر کیا اللہ اور اس کے رسول کا حکم نافذ کردیا؟ حکم تو یہ ہے کہ اپنی آبرو سے زیادہ آقا کی ناموس کی فکر ہونی چاہیے۔ عمل یہ کہ اپنے خلاف بے ضرر سی بات پر آگ بگولا ہوکر کسی سرکاری ملازم کو منٹوں میں گھر کا راستہ دکھادیا مگر آقا صل اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے خلاف جس نے سازش کی آقا کے غلام دیوار پر ٹکریں مار مار کر تھک گئے نہ تو ذمہ دار کا نام بتایا جارہا ہے اور نہ سزا دی جارہی ہے۔

اب جو مذہبی نام لیوا اتحاد بنارہے ہیں نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کا مقصد مالک بزرگ وبرتر کے حکم، واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو، پر عمل نہیں بلکہ اپنی مٹتی شناخت اور دفن ہوتی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ مگر یاد رہے کچھ بھی کرلیں، خواہ کوئی بھی قبا و دستار اوڑھ لیں، دنیا عمل دیکھتی ہے۔ اسی لیےتو این اے 120میں انگلیوں کی گنتی سے زیادہ ووٹ نہیں ملے۔ اب اتحاد بنا لینے سے بھی لکھ لیں آبرو پر لگنے والے داغ مٹنے کا کوئی چانس نہیں۔ جب تک طرز عمل میں تغیّر اور کردار میں استقامت نہ آئے گی۔ ووٹرز کو پتا ہے کہ اسمبلیوں میں آکر بھی انہوں نے سرمایہ داروں کی جھولی میں ہی گرنا ہے تو کیوں نا اپنا آپ اپنے ہاتھ سے جاگیرداروں کےحوالے کریں، کم از کم دنیا کا تو فائدہ ہوگا۔ اپنے زوال پر غور کریں اگر دیدۂ عبرت نگاہ ہے۔ ایسی مذہبی جماعتیں جو خالص فرقہ پرست، شدت پسند سمجھی جاتی ہیں جن کی لیڈر شپ کو کھلے عام نقل وحمل کی اجازت نہیں وہ چھ آٹھ ہزار ووٹ حاصل کرلیتی ہیں۔ جن کی عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہو اگر وہ اپنی ضمانت بھی نہ بچاسکیں تو پھر اب ان کو گھر بیٹھ جانا چاہیے۔

آخر میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کے مختصر وقفوں کے بعد مسلمانوں کے ایمان کو ماپنے کے لیے اس طرح کے "لٹمس ٹیسٹ"کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ یہ تو اب تک کے تجربات سے ثابت ہو ہی چکا ہوگا کے ان شاء اللہ قیامت تک عشق کی یہ آگ بجھائے نہ بجھ سکے گی۔ کسی دباؤ اور اشارے پر کسی طرح ناپاک جسارت کر بھی لی گئی تو پھر یاد رکھیے گا "عشق کسی دلیل یا وکیل کا محتاج نہیں ہوا کرتا"۔ بینظیر بھٹو سے لاکھ اختلاف ہوسکتا ہے مگر ان کی سیاسی بصیرت آج کے لیڈر ان سے کہیں زیادہ تھی۔ ان کے دور میں بھی ایک بار توہین مذہب کے قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے بیرونی دباؤ بہت بڑھ گیا۔ ایک موقع پر وہ بھی کسی نہ کسی حد تک کمپرومائز پر راضی ہوگئیں۔ مگر پھر کسی خیر اندیش نے سمجھایا کے محترمہ! اگر ایک بار یہ حفاظتی بند ٹوٹ گیا تو پھر جو عشق کا ریلا آئے گا وہ سنبھالے نہ سنبھلے گا۔ پھر لوگ اپنے طور سڑکوں پر فیصلے کریں گے۔ ان کو بات سمجھ آگئی اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

اللہ کرے کہ موجودہ حکمرانوں کو بھی عقل آجائے اور یہ راہ راست پر چل پڑیں۔ یہ ایسا حساس ایشو ہے کہ اس پر جانیں قربان کرنا لوگ اعزاز سمجھتے ہیں۔ سلمان تاثیر والا واقعہ کل کی بات ہے۔ کیوں سبق حاصل نہیں کرتے؟ اب جب کہ ترمیم اپنی اصل شکل پر واپس کردی گئی ہے تو پھر جس کسی نے بھی اتنا بڑا بلنڈر بلکہ جرمِ عظیم کیا ہے۔ اسے قرار واقعی سزا سنانے میں کیا امر مانع ہے؟ ایسے شخص کو تو خود حکومت کو اپنی صف سے نکال دینا چاہیے۔ جو چہار اطراف سے مصیبت میں گھری حکومت کے لیے مزید مشکلات بلکہ عوامی نفرت اور غیظ وغضب کو بڑھاوا دے رہا ہے۔