’’بلوچستان‘‘، گرہ کو کھولنا ہوگا - آصف محمود

سمجھ نہیں آ رہی بلوچستان میں درجن بھر بے گناہ مقتولین کے غم میں آنسو بہائے جائیں یا اہلِ اقتدار کی بے حسی اور بے نیازی پر؟

غریب مزدور خزاں کے پتوں کے طرح مار کر بکھیر دیے گئے۔ دستیاب تصویر میں کسی مقتول کا چہرہ نہیں دکھائی دے رہا کہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا جا سکے کہ کتنے ہی معصوم سپنے بھی اس کے ساتھ ہی قتل ہو گئے۔ شہید ڈی ایس پی کے گھرانے کی کی زندہ بچ جانے والی بیٹی کی آنکھیں البتہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ باپ رہا نہ ماں، بھائی بھی چل دیا۔لہو میں نہایا اس کا وہ ننھا ساوجود اور اس کی جھیل آنکھوں میں اترتی وہ وحشت دونوں ہی سراپا سوال ہیں۔کیا کسی کے پاس کوئی جواب ہے؟

دہشت کی یہ تازہ لہر کئی طوفانوں کی خبر دے رہی ہے۔ سوئٹزر لینڈ سے برطانیہ تک ایک مہم برپا کر دی گئی ہے۔ میں نے یہ سوچ کر اگلے روز کے اخبارات اٹھائے کہ جان سکوں اہل اقتدار ان نازک حالات میں ہماری کیا رہنمائی فرما رہے ہیں۔ چیلنجز کی نوعیت کیا ہے اور ہماری حکمت عملی کیا ہے؟آئیے آپ بھی اپنے اکابرین کے بیانات پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے جو بلوچستان کے مقتولین کی خبر اور تصاویر کے ساتھ اسی روز کے اخبارات کی زینت بنے۔

پنجاب ہمارا گڑھ ہے۔ بلاول زرداری

ہو سکتا ہے حکومت مدت سے پہلے ختم ہو جائے۔ عمران خان

سیاسی شعبدہ بازوں کے عزائم پہلے کامیاب ہوئے نہ اب ہوں گے۔ شہباز شریف

جمہوریت کا محاصرہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ وزیر دفاع خرم دستگیر

حدیبیہ کیس کی دوبارہ تفتیش خلاف قانون ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار

نواز شریف پاکستان کی ترقی کا دوسرا نام ہیں۔عابد شیر علی

انصاف ہوتا نظر نہ آئے تو سوالات اٹھتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب عوام اگلے الیکشن میں دیں گے۔ وزیر اطلاعات، مریم اورنگزیب

عمران سیاسی جنگ عدالت میں لے آئے۔ وزیر ریلوے سعد رفیق

میں نے یہ بیانات پڑھے تو حیران رہ گیا۔ ملک کن حالات سے دوچار ہے اور ان کی ترجیحات کیا ہیں؟ پھر ایک خیال آیا کہ شاید یہ بیانات اور ارشادات حادثے سے پہلے جاری کیے جا چکے ہوں۔ اس لیے اگلے دن کے اخبارات بھی دیکھ لینے چاہییں۔ اب آئیے اگلے دن کے اخبارات میں ان’’ اکابر ین‘‘ کی فکری درفنطنیاں ملاحظہ فرمائیں:

ثابت ہو گیا عمران خان اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہے۔ رانا ثناء اللہ

پاکستان میں بس ایک ہی سوال ہے، مجھے کیوں نکالا۔ عمران خان

رانا ثناء اللہ کو جیل میں ہونا چاہیے۔ گنڈا پور

عمران خوفزدہ ہیں۔ احسن اقبال

انصاف کے قتل کے نتائج سامنے آئیں گے۔ مریم نواز

حکومت میں جلد ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ظفر اللہ جمالی

پیپلز پارٹی برداشت کا دوسرا نام ہے۔ بلاول زرداری

یہ بھی پڑھیں:   کوئٹہ میں نجی اسٹوڈنٹس ہاسٹل ایک منافع بخش کاروبار - گہرام اسلم بلوچ

پاکستان کے لیے دعا کریں۔ نواز شریف

پاکستان میں انتہا پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ شہباز شریف

مصطفی کمال کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں۔ فاروق ستار

سٹیٹ بنک نے گرین بینکنگ متعارف کرا دی ہے۔ مشاہد اللہ خان

وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لے کر دکھائیں۔ بابر اعوان

آپ کو ان ارشادات گرامی میں کہیں معلوم ہوا کہ یہ اسی ملک کے اکابرین کے ارشادات ہیں؟ کسی نے کوئی تردّد نہیں کیا کہ اس واقعے پر بات کرتا، کوئی پالیسی دیتا یا آنے والے حالات و خدشات پر بات کرتا اور کوئی وژن پیش کر کے لوگوں کی رہنمائی کرتا۔ ان سب کی بلا سے ملک لہو میں نہا جائے یا عوام سسک سسک کر مر جائیں۔ انہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ اوسط سے بھی پست درجے کے لوگ ہم نے رہنما بنا لیے۔نہ احساس ہے، نہ وژن ہے اور نہ ہی صلاحیت۔بس ان سے تماشا لگوا لو، یہ اچھل اچھل کر رات سات سے گیارہ بجے تک اپنے اپنے آقاؤں کے قصیدے پڑھتے ہیں اور مخالفین کی ہجو کہتے ہیں۔ ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، یہ سوچنا ان کا کام نہیں۔

ملک کے تزویراتی چیلنجز بھی بڑھتے جا رہے ہیں اور داخلی بھی لیکن مجھے نہیں یاد کبھی پارلیمان نے ان سنجیدہ امور پر کوئی رہنما قسم کی بحث کی ہو جس سے ہم جیسے طالب علموں نے کچھ سیکھا ہو۔کبھی ہم نے نہیں سنا کہ پارلیمان نے بلوچستان میں ہونے والے حالات و واقعات کا کوئی سنجیدہ علمی جائزہ لینے اور قوم کی رہنمائی کرنے کی کوشش کی ہو۔جب ان سے سوال پوچھا جائے تو ایک ہی رٹا رٹایا جواب ہے ’’ ہمیں فیصلے کوئی نہیں کرنے دیتا، ہم تو بے اختیار ہیں‘‘۔حیرت ہے آپ ذاتی اثاثوں کو کئی گنا بڑھا لینے میں تو مکمل آزاد ہیں لیکن جب ملک کے لیے کوئی سنجیدہ کام کرنے کا سوال اٹھے آپ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔

بلوچستان کے معاملے کے دو پہلو ہیں، ایک خارجی اور دوسرا داخلی۔سامنے کی حقیقت ہے کہ بہت سی قوتیں ایک ہو چکی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ سے برطانیہ تک ایک مہم سی جو نکلی ہے، یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ بھارت یہاں کھلم کھلا کام دکھا رہا ہے۔لیکن یہ شورش انشاء اللہ ناکام ہو گی۔یہ 1971 کا پاکستان نہیں ہے۔ہماری افواج نے سانحہ مشرقی پاکستان کو اپنی کمزوری نہیں بنایا۔ وہ آج بھی بھارتی بالادستی کے خلاف ڈٹی ہوئی ہیں۔فوج پہلے سے زیادہ مسلح ہے۔میزائل سسٹم بہترین ہے۔ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں۔ مشرقی پاکستان کے سانحے کے وقت حالات اور تھے، آج اور ہیں۔ تب بھارت کی طویل سرحد مشرقی پاکستان کے ساتھ ملتی تھی۔بلوچستان میں ایسا نہیں ہے۔تب روس مکمل اس کے ساتھ تھا اب ایسا نہیں ہے۔ خطے کی دو عالمی طاقتیں پاکستان انگیج کر چکا ہے۔اب بھارت افغانستان کے راستے ایک خاص حد تک دہشت گردی کی کوششوں تک محدود ہے۔ دفاعی محاذ پر فوج ڈٹی ہوئی ہے اور پوری جرات کے ساتھ کھڑی ہے۔بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو اس کا انجام اسے اچھی طرح معلوم ہے، اور یہ محض ایک جذباتی بیان نہیں ہے بلکہ یہ پوری معنویت کے ساتھ بیان کی گئی ایک حقیقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تربت کے متاثر اساتذہ اور نمائندوں کی خاموشی - گہرام اسلم بلوچ

اصل چیلنج اب دوسرا ہے، وہ ہے داخلی ڈھانچے کا استحکام۔ ہماری سیاست بلوچستان کو کس حد تک مخاطب بنا رہی ہے؟ کیا ہماری قومی قیادت بلوچستان بھی اسی طرح جاتی ہے جس طرح لندن جاتی ہے؟ہمارا سول ڈھانچہ کس حالت میں ہے؟بلوچستان پولیس کے وسائل اور استعداد کی کیا صورت حال ہے ؟کیا ہم نے کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے کہ بلوچستان کو قومی دھارے میں کیسے لانا ہے؟ وہاں کی محرومیوں کو کیسے دور کرنا ہے؟رقبہ زیادہ ہے اور آبادی کم، اور پھر وہ کم آبادی بھی ادھر ادھر پھیلی ہوئی ہے، اس کے مسائل حل کرنا آسان نہیں لیکن کوئی پروگرام اور کوئی منصوبہ تو ہونا چاہیے۔کیا ایسا کوئی پروگرام اور کوئی منصوبہ کہیں موجود ہے؟کبھی اس پر کہیں کوئی سنجیدہ بحث ہوئی؟ کیا کسی ایک سیاسی جماعت کے ہاں بھی کوئی ایسا تھنک ٹینک موجود ہے جو تزویراتی اور اس سے متصل داخلی امور کا باقاعدہ جائزہ لیتا رہے؟ وزیر داخلہ کتنی دفعہ بلوچستان تشریف لے گئے؟ اور آخری دفعہ کوئٹہ نے وزیر اعظم کا دیدار کب فرمایا؟ نواز شریف اور آصف زرداری نے بلوچستان کے کتنے دورے فرمائے اور لندن اور دوبئی کو کتنی دفعہ رونق بخشی؟

حکومت قومی معاملات سے لاتعلق سی ہو چکی ہے۔ وزرائے کرام کا کام اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ نواز شریف کی حمایت میں اداروں پر کیچڑ اچھالا جائے۔ جمہوریت خود تو آگے بڑھ کر کوئی قائدانہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے لیکن جہاں کہیں ریاستی ادارے بروئے کار آئیں وہاں شور مچ جاتا ہے کہ جمہوریت کو نزلہ زکام اور کالی کھانسی ہو گئی۔ بلوچستان کی طرح کراچی بھی پاکستان دشمن قوتوں کا اکھاڑہ بن چکا۔لیکن یہاں عجیب رویّہ ہے۔ کراچی کی سیاست میں ’’را‘‘ کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ تو کھل کر کام کر سکتی ہے، احباب بد مزہ نہیں ہوتے لیکن پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ جب مقابل آتی ہے تو احباب ہاتھ سر پر رکھ کر دہائی دینے لگتے ہیں کہ ہائے ہائے ہائے جمہوریت کی تو آبرو لُٹ گئی، جمہوریت تو بیوہ ہوگئی، اس کا تو سہاگ اجڑ گیا، پہاڑ جیسے زندگی سامنے پڑی ہے، اب جوانی میں بیوگی کا عذاب وہ کیسے سہہ پائے گی؟

یہ نفسیاتی گرہ جب تک نہیں کھلے گی معاملات بہتری کی جانب نہیں بڑھیں گے۔اس گرہ کو کھولنا ہوگا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • یہ جن بیانات کا آپ نے تذکرہ فرمایا ہے وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں براہ راست مداخلت کا نتیجہ ہیں- اگر آٹھ دس ماہ مزید حکومت کو آرام سے چلنے دیا جاتا تو کوئی قیامت نہیں آ جانی تھی- کبھی بلوچستان جانے کی اللہ توفیق دے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے گا وہاں منتخب حکومت کتنی بااختیار ہے اور اصل میں حکومت کس کے ہاتھ میں ہے- حیرت اور افسوس ہوتا ہے جب آپ جیسے باخبر صحافی بھی بلوچستان کا ملبہ منتخب نمائندوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں-