مہاجروں کو حقیقی لیڈر مل گیا - خرم اقبال اعوان

کچھ لوگ آپ کی زندگی کا حصہ نہیں ہوتے، بلکہ آپ کے تعلق میں بھی نہیں ہوتے، مگر ان کا ہونا آپ کے لیے اہم ہوتا ہے، اور ان کا نہ ہونا آپ کے لیے ایک خلا یا کمی کی طرح ہوتا ہے۔ کچھ روز پہلے ایک ایسی ہی شخصیت حلقہ احباب میں سے اسی خاموشی سے چلی گئی جس خاموشی سے وہ موجود تھی۔ آپ کو ایسے لوگوں کے ہوتے ہوئے احساس نہیں ہوتا، روز مرہ کی بات ہو جاتی ہے مگر جب وہ چلے جاتے ہیں تو آپ کو کمی محسوس ہوتی ہے۔ خیر جہاں بھی کوئی جائے پر سکون رہے۔ خوش رہے۔

کچھ اسی طرح جب ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ وہ سیاست چھوڑ رہے ہیں، یہ خبر متوقع تھی مگر تصدیق انھوں نے اپنی زبان سے کر دی، اور پھر وہی ہوا جس کا خیال کیا جا رہا تھا کہ سب اکٹھے ہوگئے۔ فاروق ستار صاحب کو منانے اور ان سے معافی مانگنے سب حاضر ہوئے اور پھر توقع کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنا سیاست چھوڑنے کا اعلان بھی واپس لے لیا اور اپنی جانب سے اتحاد بھی برقرار رکھا۔ اس سب کے بعد بحث یہ چل پڑی کہ اس سب میں فائدہ کس کا ہوا؟ سیاسی قد کس کا بڑھا؟ تو جناب اس سب میں سیاسی قد ڈاکٹر فاروق ستار کا بڑھا۔ انھوں نے کمال مہارت سے اپنا مقدمہ لڑا۔ اپنی مہاجر پہچان کو بھی بچایا بلکہ اپنی مہاجر کمیونٹی جو کہ کہیں سو گئی تھی، اسے بھی جگا لیا، چاہے کچھ حد تک ہی ہو۔ اور دوسرا ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ ثابت کیا کہ وہ ایک حقیقی سیاسی ورکر ہیں اور اس میدان میں نئے نہیں۔

اکثر لوگ مجھ سے اختلاف کریں گے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے قائد تحریک جیسا ڈرامہ کیا ہے اور یوٹرن پہ یوٹرن لیے ہیں۔ ان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ جناب آپ اگر ڈاکٹر فاروق ستار کی جگہ پہ ہوتے تو کیا کرتے؟ قائد تحریک کی ان پاکستان مخالف تقاریر کے بعد کیا فاروق ستار اپنی دنیا (سیاسی) کو لٹ جانے دیتے، اپنے پاکستان اور وہ بھی کراچی جیسے شہر میں موجود لوگوں کو بےآسرا چھوڑ دیتے۔ کیا کرتے؟ انھوں نے اس وقت قائد تحریک سے الگ ہونے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اپنے اور اپنی پارٹی کے الگ تشخص کو منوانے میں لگ گئے اور وقت کے اعتبار سے وہ سب ٹھیک تھا۔ اس وقت بھی ہمارے اہل دانش نے یہ کہا کہ فاروق ستار میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ قائد تحریک کے سامنے کھڑے ہو سکیں۔

ایک تو میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہم دھیمے مزاج کے لوگوں کو کسی قابل کیوں خیال نہیں کرتے۔ ہمارے ذہن میں ہر شعلہ بیان، ہر گالم گلوچ کرنے والاہی ٹھیک کیوں ہوتا ہے۔ حق پر کیوں ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے دین نے بھی ہماری یہ تربیت نہیں کی۔ ہمارے دین نے بھی حق پہ ہونے کی یہ نشانیاں نہیں بتائیں۔ پھر ہم اپنے ذہنوں میں یہ کہاں سے تصور بنا بیٹھے ہیں؟ ڈاکٹر فاروق ستار کو لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یہ اب تک ایم کیو ایم میں واحد شخص ہیں جنھوں نے قائد تحریک کی کسی بھی سخت سے سخت بات کا بھی کبھی رد عمل نہیں دیا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار بہت گہرے انسان ہیں۔ اس لیے آرام اور تحمل سے بولتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کوٹا سسٹم اور پاکستان - حبیب الرحمن

جب مصطفی کمال صاحب اور ڈاکٹر فاروق ستار صاحب نے کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کی تو اس کانفرنس میں دونوں حضرات کے آنے کا منظر کسی کے ذہن سے محو نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق ستار سفید رنگ کی لینڈ کروزر میں اس طرح تشریف لائے کہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر کامران ٹسوری صاحب براجمان تھے اور پچھلی سیٹ پر ڈاکٹر فاروق ستار تشریف فرما تھے اور ان کے دائیں بائیں دو اشخاص تشریف فرما تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار صاحب ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ زبردستی لائے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار جب کرسی پر تشریف لائے تو انھوں نے ایک جملہ بولا کہ ’’لڑکی والے آئیں، پھر نکاح ہوگا‘‘ یہ جملہ معنی خیز تھا کہ پاک سرزمین پارٹی کو انھوں نے لڑکی والے بولا اور نکاح کا بھی بولا۔ مطلب پاک سرزمین پارٹی ایم کیو ایم کے ساتھ ملنے کے لیے آ رہی تھی اور نکاح کے بعد لڑکے کی شناخت لڑکی کے ساتھ لگ جایا کرتی ہے۔ روایت تو یہ ہے ہمارے دیس میں۔ مگر جب پریس کانفرنس میں فاروق ستار صاحب نے بات شروع کی تو انھوں نے اسی روایتی احتیاط اور دھیمے پن کا مظاہرہ کیا جو وہ کرتے ہیں۔ پھر جب مصطفی کمال کے پاس مائیک آیا تو مصطفی کمال صاحب نے اپنے مزاج کے مطابق پریس کانفرنس کو T 20 بنا ڈالا۔ اور لگے اپنے طور پر چوکے چھکے مارنے۔

یہاں اپنے پڑھنے والوں کو روکنا چاہوں گا۔ جب مصطفی کمال پاک سرزمین پارٹی کے دفتر سے کراچی پریس کلب کی جانب چلے تھے تو اپنی کالے رنگ کی نئی لینڈ کروزر میں رضا ہارون صاحب کے ہمراہ چلے۔ رضا ہارون صاحب فرنٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے تھے، اور مصطفی کمال پچھلی سیٹ پر تشریف فرما تھے، اور مسلسل فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ دس منٹ کی مسافت بیس منٹ میں طے ہوئی اور اس دوران مصطفی کمال مسلسل فون پر رہے، اور ایک کاغذ کی پرچی پر ہدایات لکھتے رہے۔ اس بات کا تذکرہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ جب مصطفی کمال پریس کلب میں تقریر کر رہے تھے تو ان کے ہاتھ میں وہی پرچی تھی اور وہ اس میں سے نکات دیکھ رہے تھے۔ پھر مصطفی کمال صاحب نے اپنی روایتی جذباتی باتیں کرنا شروع کیں اور جو نہیں کہنا تھا، جس پر بات طے نہیں ہوئی تھی، وہ بھی کہہ گئے۔ اور فاروق ستار صاحب پہ سبقت لے جانے کے چکر میں ڈاکٹر صاحب کا فون اور لینڈ کروزر بھی گن گئے، اور اپنے طور پر ایم کیو ایم کا وجود بھی ختم کر گئے۔ ان کا انتخابی نشان بھی ختم کر گئے۔ اس پر واویلا مچا، اگلے روز ایم کیو ایم نے پریس کانفرنس کی، جس میں کامران ٹسوری ساتھ تھے، مائیک پر کنور نوید نے آ کر بات کی۔ اس دوران سب ڈاکٹر صاحب کو تلاش کرتے رہے، مگر وہ مل نہ سکے۔ جبکہ میری اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر صاحب اس سارے دن میں کچھ اہم میٹنگز میں رہے، شاید مقتدر حلقوں کے ساتھ، اور انہوں نے یہی بات پوچھی کہ جو بات طے نہیں ہوئی تھی، وہ مصطفی کمال صاحب نے آخر کیوں کی؟ پھر ان سب میٹنگز کے بعد فاروق ستار صاحب نے پریس کانفرنس کر ڈالی، ان کے جواب میں مصطفی کمال نے بھی پریس کانفرنس کی، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مصطفی کمال سے ڈاکٹر فاروق ستار کے سوالات کے جوابات دیے نہیں گئے۔ ان سے کوئی بات بن نہیں رہی تھی، اس لیے انھوں نے وہ باتیں کیں جو پس کیمرہ بھی کرنے کی نہیں ہیں۔ ان کا براہ راست فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو شامل کرنا، اور جنرل بلال اکبر صاحب، جو سابق ڈی جی رینجر سندھ تھے، کا نام لینا انتہائی عاقبت نااندیش عمل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   دو دو ٹکے کے لوگ! ارشاد بھٹی

میں آج یہ کہنے میں کوئی مشکل محسوس نہیں کر رہا کہ مصطفی کمال صاحب کی پریس کانفرنس نے ان کا اپنا سیاسی مستقبل مخدوش کر دیا ہے، پارٹی کا مستقبل نہ صرف داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ مصطفی کمال لمبی ریس کے گھوڑے نہیں ہیں۔ ان میں سیاسی فہم ہے نہ تدبر۔ مصطفی کمال صاحب نے شاہزیب خانزادہ کا ذکر کیا مگر وہ گزشتہ شب شاہزیب کا پروگرام دیکھنا بھول گئے، جس میں شاہزیب نے کہا کہ انھوں نے فاروق ستار صاحب کو کال کی تھی نہ کہ فاروق ستار صاحب نے شاہزیب کو کال کی گواہ بنانے کے لیے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں آدھا جھوٹ کون بول رہا ہے۔ مگر ڈاکٹر فاروق ستار کو جو لوگ کہتے تھے کہ یہ خاموش طبیعت اور شعلہ بیانی سے عاری بندہ ہے، وہ ایک عرصے بعد ایم کیو ایم کو دوبارہ ’’مکا چوک‘‘ پر اکٹھا کرنے میں نہ صرف کامیاب ہوگیا ہے بلکہ اس نے ایک بات ہر طبقے پر واضح کر دی ہے کہ ایم کیو ایم اور’مہاجر کا نعرہ‘ کراچی کی نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ سندھ کی ایسی اکائی ہے جس کو جھٹلا کر کوئی نہیں چل سکتا۔ اب 2018 کے الیکشن میں مہاجر نکلے گا بھی اور ووٹ بھی ڈالے گا۔ آج کے دن تک کراچی کی بہت سی سچائیوں میں سے ایک سچائی فاروق ستار کا بحیثیت سیاسی لیڈر ابھرنا ہے۔ اب مہاجروں کو لندن کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

میں ایک مشورہ پاکستان پیپلزپارٹی کو دینا چاہتا ہوں کہ ہوا کے رخ کو دیکھیں اور حقیقت سے آنکھیں نہ چرائیں اور زرداری صاحب خود چل کر فاروق ستار کے گھر جائیں، ان کی والدہ کو سلام پیش کریں او رایم کیو ایم کے ساتھ سیاسی اتحاد کریں۔ یہ اتحاد فطری اتحاد ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ کا اجتماعی اتحاد ایم کیو ایم کو لے اڑے اور پیپلزپارٹی ہاتھ باندھے دیکھتی رہے، اور ہاتھ ملتی بھی رہے۔ دوسرا مشورہ میں اپنے مقتدر حلقوں کو دینا چاہتا ہوں کہ خدارا آپ قومی سلامتی کے لیے سب کچھ کرتے ہیں، مگر ان سب کو پہچان لیں، جو ایک کا نہ ہوا وہ آپ کا کیسے ہو گا۔ یہ پرانے لوگ آپ کے کام کے ہیں، چاہے وہ نواز ہوں، زرداری یا بلاول ہو یا مولانا فضل الرحمان۔ آپ بقول مصطفی کمال جیسے نئے لوگوں کو نہ بنائیں یا اہمیت نہ دیں، کیونکہ تجربے کا کوئی مول نہیں۔ سب پرانے سیاست دان عوام میں ایک جگہ رکھتے ہیں، ان کی اس حیثیت کو نہ جھٹلائیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ ان کو ملکی حالات بتائیں، ان کی مشکلات سمجھیں اور آپس میں مل کر حالات اور مشکلات کا حل نکالیں۔ نیا نو دن اور پرانا سو دن ہوا کرتا ہے۔ ہاں پاکستان کے دشمن کے خلاف سب آپ کے ساتھ ہیں، کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔

Comments

خرم اقبال اعوان

خرم اقبال اعوان

خُرم اقبال اعوان 12 سال سے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں ماسٹر کرنے کی بعد جیو نیوز سے وابستہ ہوئے، یہ سفر مختلف چینلز سے ہوتے ہوئے 2008ء میں دنیا نیوز تک پہنچا۔ اب "نقطہ نظر مجیب الرحمان شامی کے ساتھ'' سیننٔر پروڈیوسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لکھنے اور اپنی رائے دوسروں تک تحریر کے ذریعہ پہنچانے کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہے، اپنی تحریر "اے حقیقتِ منتظر" کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.