الیکشن قوانین میں تازہ ترین ترمیم اور ختمِ نبوت کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

حکومت نے نئے الیکشن قوانین بناتے وقت سنگین غلطی کی تھی جس پر کافی شدید رد عمل سامنے آیا اور بالآخر حکومت کو جلدی میں ایک ترمیمی بل لانا پڑا، جس کے بعد ختمِ نبوت سے متعلق پرانا حلف نامہ بھی بحال کیا گیا اور 2002ء کے قانون کی دفعات 7 بی اور 7 سی کی منسوخی بھی ختم کردی گئی۔ اس کے باوجود کئی لوگوں کو اطمینان نہیں ہوسکا۔

مخدومی جناب سید عدنان کاکاخیل صاحب نے جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی ایک کلپ شیئر کرکے پوچھا تھا کہ کیا واقعی الیکشن قوانین میں ترمیم کے بعد بھی مسئلہ حل نہیں ہوا؟ میں نے اس کے جواب میں 19 اکتوبر کو عرض کیا تھا:


1۔ پہلی بات یہ ہے کہ 2002ء کے قانون کی دفعات 7 بی اور 7 سی واپس بحال کردی گئی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دفعہ 7 سی کا اطلاق صرف 2002ء کے الیکشن پر ہورہا تھا۔ اسی لیے اس کی بحالی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے جب تک اسے مستقل اصول کی حیثیت سے نافذ نہ کیا جائے، یعنی جب تک یہ قرار نہ دیا جائے کہ اگر کسی ووٹر پر قادیانی یا لاہوری ہونے کا الزام ہے تو متعلقہ قانون اور ضابطے پر عمل کیا جائے۔ اس لحاظ سے اس قانون میں مزید ترمیم کی ضرورت اب بھی ہے۔

2۔ تاہم جب تک ایسی خاص ترمیم نہیں لائی جاتی، تب تک 2017ء کے نئے قانون کی دفعہ 30 کے تحت ووٹر لسٹ میں شامل کسی نام پر اعتراض کے طریقِ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ یہ اعتراضات عام طور پر دیگر نوعیت کے ہوتے ہیں، جیسے کسی مردہ شخص کا ووٹ، یا جعلسازی کا الزام، یا کسی اور حلقے کا باشندہ ہونے کا الزام، یا کسی شخص کا نام ایک سے زائد دفعہ درج ہونا وغیرہ۔ اسی طرح نام کی درستی یا تصحیح کے معاملات بھی ہوتے ہیں۔ ان عمومی اعتراضات میں یہ اعتراض بھی شامل ہوسکتا ہے کہ جس شخص کو یہاں مسلمان کے طور پر دکھایا جارہا ہے وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ وہ ختمِ نبوت کا انکاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شدت پسندی کا نیا ماحول - دانیال ہزاروی

3، اہم بات یہ ہے کہ اس نئے قانون کی دفعہ 26 (2) کے تحت ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کےلیے نادرا کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے اور یہ معلوم حقیقت ہے کہ مسلمان کا شناختی کارڈ بنانے کےلیے ختم نبوت کا حلف نامہ بھرنا ضروری ہوتا ہے۔

4۔ اس لیے اگر مزید ترمیم نہ بھی کی جائے تو موجودہ قانون کی عمومی دفعات اس مسئلے سے نمٹنے کےلیے کافی ہیں۔


حکومت کے ناقدین کا اصل استدلال یہ تھا کہ چونکہ دفعات 7 بی اور 7 سی کے سوا 2002ء کا پورا قانون منسوخ ہوچکا ہے، اس لیے عملاً دفعات 7 بی اور 7 سی اب غیرمؤثر ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کا ایک سبب یہ امر ہے۔

آج حکومت نے الیکشن قوانین میں مزید ترمیم کے لیے ایک اور قانون قومی اسمبلی سے منظور کروایا ہے جس کی رُو سے یہ قرار پایا ہے کہ 2002ء کے قانون کی دفعات 7 بی اور 7 سی کو اب نئے الیکشن قوانین میں دفعات 48 اے اور 48 بی کی صورت میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اب عملاً وہ صورت ہوگئی ہے جو اوپر نکتہ 1 کے تحت ذکر کی گئی ہے۔

یہ قانون اگر سینیٹ سے بھی منظور ہوجائے اور پھر صدرِ مملکت اس پر دستخط کردیں تو یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہوجائے گا۔ اس کے بعد قانون میں مزید ترمیم کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ (یہ سنگین غلطی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ البتہ بدستور برقرار رہے گا۔) واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئے الیکشن قوانین کے خلاف رٹ پٹیشن کی سماعت بھی جاری ہے لیکن اس نئے قانون کی منظوری کے بعد اس رٹ پٹیشن پر مزید کارروائی کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی اور امید ہے کہ اگلی سماعت میں (جو 29 نومبر کو ہے) عدالت یہ پٹیشن خارج کردے گی بشرطیکہ تب تک اس نئے مسودے پر صدر مملکت دستخط کرچکے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کا ٹیسٹر - فیاض راجہ

فارسی شعر یاد آگیا:

ہر چہ دانا کند، کند ناداں

لیک بعد از خرابیِ بسیار!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں