تصوف، اشفاق احمد اور”افیون زدہ“ ادب - محمد عامر خاکوانی

کہتے ہیں ایک بزرگ حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کے پاس تشریف لائے، گفتگو ہونے لگی، امام ؒنے پوچھا ، آپ کے نزدیک فتوت (دلاوری، شجاعت) کیا ہے۔ انہوں نے کہا، جب مل جائے تو شکر کرے، نہ ملے تو صبر کرے۔ امامؒ سن کر مسکرائے اور خاموش ہوگئے۔ ان صاحب نے استفسار کیا ، آپ نے کچھ فرمایا نہیں۔ امام جعفر صادق ؒ نے اس پر کہا، یہ تو ہمارے شہر کے کتے بھی کرتے ہیں، مل جاتے ہیں تو خوش ہو کر شکر ادا کرتے ہیں، نہ ملے تو صبر سے بھوکے پڑے رہتے ہیں۔ مہمان بزرگ نے پوچھا، حضت ! آپ کے نزدیک فتوت کیا ہے، امام ؒ نے فرمایا: مل جائے تو تقسیم کر دیاجائے، نہ ملے تو شکر ادا کرے۔ جناب امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ کی اس بات میں ایثار و قربانی کا جو سبق پوشیدہ ہے، اس کا تصور کرکے آدمی مبہوت رہ جاتا ہے۔

یہ دراصل تصوف کی روح ہے۔ تصوف کے پورے انسٹی ٹیوشن کا مقصد ہی اس انداز کی تربیت کرنا اورطالب علم (سالک) میں مؤمن کے وہ اوصاف پیدا کرنا ہیں جن کی ہدایت ہمارے آقا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ تصوف کے خلاف بہت کچھ لکھا جاتا ہے، بیشتر بے بنیاد اور مغالطوں کے باعث۔ کوئی تصوف پر متوازی دین ہونے کی تہمت چسپاں کر دیتا ہے، کسی کو تصوف افیون لگتا ہے، بعض اسے شریعت سے متصادم سمجھتے ہیں۔ بات نہایت سادہ ہے۔ تصوف ایک ٹریننگ انسٹی ٹیوشن یا اکیڈمی ہے۔ ایک پری نرسری سکول سمجھ لیجیے۔ جہاں بچوں کو سکول جانے سے پہلے کچھ تیاری کراد ی جاتی ہے، انگریزی اصطلاح کے مطابق (Capacity building) کرائی جاتی ہے۔ جو اس کی ضرورت محسوس کرے، سو بسم اللہ، فری آف کاسٹ ٹریننگ کا انتظام ہے، جسے اس کی ضرورت نہیں، وہ اس پری نرسری سکول میں نہ آئے۔ کوئی جبر نہیں، پابندی نہیں، آنا ضروری بھی نہیں۔ اصل مقصد شریعت پر عمل کرنا اور اپنی نفسی کمزوریوں، خامیوں کو دور کرنا ہے۔ جو اپنے طور پر تزکیہ نفس کر سکتا ہے، اچھی بات ہے، لیکن کمزور طالب علموں کے لیے ایک رعایت موجود ہے، تو اس پر تنقید کیوں؟

اس حوالے سے ہونے والے اعتراضات بھی عجیب وغریب ہیں۔ اکثر لوگ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ ضروری ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ہدایت فرماتے۔ اس کا بڑا مدلل جواب مولانا عبدالماجد دریابادی مرحوم نے دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ بھائی جس چیز کی جب ضرورت محسوس ہوگی، تب ہی اس کا اہتمام کیا جائے گا۔ آپ ﷺ کے زمانے میں کسی کو اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ جب ڈیڑھ دو سو سال کے بعد سماج میں اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوئیں، تب کچھ بزرگوں نے تربیت کے کسی نظام کی ضرورت محسوس کی، جس طرح ضرورت پڑنے پر احادیث کے مجموعے مرتب ہوئے، قرآن کی تفاسیر لکھی گئیں۔ اس پر توکوئی نہیں بولتا کہ اگر حضورﷺ ضروری سمجھتے تو خود تفسیرلکھوا سکتے تھے۔ یوں تصوف کا پورا انسٹی ٹیوشن وجود میں آیا۔ مختلف بزرگوں نے اپنے اپنے انداز میں تربیت، تزکیہ نفس کے اصول و ضوابط بنائے، تو ان کے ناموں سے الگ الگ سلسلے مشہور ہوگئے، جنیدی، قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، شاذلی، اویسی وغیرہ وغیرہ۔ بنیادی سپرٹ ایک ہی تھی کہ طالب علموں کا تزکیہ نفس کیا جائے۔ انہیں صبر، شکر، ایثار، قربانی کی عملی عادت ڈالی جائے، غیبت، چغلی، جھوٹ، لالچ، ہوس وغیرہ سے دور رہنے اور دیگر فواحش ومنکرات سے باز رہنے کی تربیت ملے۔ اس کے لئے نفلی روزے رکھوائے جاتے، مسافروں اور زائرین کی خدمت پر مامور کیا جاتا، کم کھانے، کم سونے اور کم بولنے کی تلقین ہوتی۔ مجموعی طور پر صوفیاء لوگوں کو دین اور دنیا ایک ساتھ چلانے کی تلقین کرتے رہے۔ اس کے لئے ایک فقرہ استعمال ہوتا رہا کہ ایک ہاتھ میں دین، دوسرے میں دنیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مت چھینو! - اسماعیل احمد

یہ بالکل غلط ہے کہ تصوف افیون کی طرح ہے یا یہ بےعملی کی طرف راغب کرتا ہے۔ حقیقی تصوف تو ایسے مرد مجاہد پیدا کرتا ہے، جو کمر باندھے ہوئے ہمیشہ عمل کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اہل تصوف دراصل سماج کا وہ سافٹ حصہ ہیں جو اگر نہ ہو تو معاشرہ زیادہ خود غرض، سنگ دل اور وحشی ہوجائے۔ ایک حقیقی صوفی محبت اور گداز کا پیکر ہے، وہ فتوے لگانے اور لوگوں کو دین کے دائرے سے باہر نکالنے کے بجائے محبت سے ان کے دل جیتتا اور انہیں دین کی حقیقی روح سے روشناس کراتا ہے۔ چشتیہ سلسلے کے نامی گرامی بزرگ حضرت غریب نواز معین الدین چشتی اجمیریؒ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو لوگوں کی کون سی بات ناپسند ہے؟ جواب دیا: انسانوں کو اچھوں اور بروں میں تقسیم کرنا۔ سوال ہوا، آپ کو اپنے لیے کیا پسند ہے، فرمایا: ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنا۔ سلطان الطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ کے پاس ایک بزرگ آئے، ان سے کسی نے سوال کیا کہ دلاوری کیا ہے، جواب میں نووارد بزرگ نے فرمایا: یہ کہ انسان اپنے ذمے کے تمام فرائض تو ادا کرے، مگر دوسروں پر اس کے جو حقوق ہوں، وہ ان سے دست بردار ہوجائے۔ جناب جنید بغدادی کھڑے ہوئے، شاگردوں سے فرمایا، شیخ کا اکرام کرو، انہوں نے وہ بات کی ہے کہ زمین اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

تصوف پر تنقید کرنے والے اکثر اردو کے ان ادیبوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں جن کی تحریروں میں تصوف کی چاشنی اور گداز موجود ہے۔ بعض محترم ارباب ثلاثہ کی اصطلاح استعمال کر ڈالتے ہیں، یعنی قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد۔ اس حلقے کے خیال میں انہوں نے مذہب کو افیون بنا کر پیش کیا اور افیون زدہ ادب تخلیق کیا۔ اشفاق احمد کو خاص و عوام میں بےحد پزیرائی ملی۔ یہ مقبولیت اور محبوبیت بےشمار حاسد پیدا کرنے کا باعث بنی۔ اشفاق احمد کی زندگی کے کئی پہلو ہیں۔ صرف تیس سال کی عمر میں ان کے افسانے ”گڈریا“ کو لافانی شہرت حاصل ہوئی۔ اجلے پھول اور ایک محبت، سو افسانے اشفاق احمد کے افسانوی مجموعے ہیں، جنہوں نے انہیں ایک زبردست شارٹ سٹوری رائٹر کے طور پر منوایا۔ ان افسانوں کو پڑھنے والا کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اشفاق احمد نے افیون زدہ ادب تخلیق کیا یا پھر انہوں نے کسی خاص نظریے کو دانستہ طور پر تھوپنے کی سعی کی۔ اشفاق صاحب کا پروگرام تلقین شاہ ریڈیو پاکستان کی تاریخ کا مقبول ترین پروگرام بنا۔ بڑے بڑوں کی خواہش تھی کہ ویسا ریڈیو پر لکھ سکیں۔ ناکامی پر حسد جنم لیتا رہا۔ پی ٹی وی پر بھی انہیں بے پناہ پزیرائی ملی۔ ''اچے برج لاہور دے'' ایک رجحان ساز ڈرامہ سیریل تھا۔ ''ایک محبت سو کہانیاں'' نے ناظرین کو مسحور کر دیا۔ ایک طویل فہرست ان کے مقبول ڈراموں کی ہے۔ پی ٹی وی پر جب ''زاویہ'' پروگرام شروع ہوا تو اس نے اشفاق صاحب کو نئی نسل میں بھی مقبول بنا دیا۔ اشفاق احمد کی گفتگو اور تحریروں نے جانے کتنے لوگوں کی زندگی بدل ڈالی۔ ان کا گھر ''داستان سرائے'' نوجوان کا مرکز بنا رہتا۔ ہمارے لیے تو اشفاق احمد ایک بابا ہی تھے، جو گھنٹوں وقت دیتے، ہر سوال سنتے، تشفی کراتے، خاطر تواضع الگ سے کرتے۔ وہ اپنی وضع کے درویش تھے اور ان کے گھر نے جدید خانقاہ کا کام دیا۔ اشفاق احمد اور بانوقدسیہ کی تخلیقات کا اردو ادب میں بڑا اہم کنٹری بیوشن ہے، کون ہے جو بانو آپا کے ناول راجہ گدھ کو نظرانداز کر سکتا ہے، ان کاناول حاصل گھاٹ اگرچہ زیادہ مشہور نہیں، مگر وہ کسی بڑے ناول سے کم نہیں۔ ترقی پسندوں کا ایک حلقہ اشفاق احمد، بانو قدسیہ سے مگر خدا واسطے کا بیر رکھتا ہے۔ کتابی سلسلہ آج کے مدیر اجمل کمال محنتی شخص ہیں، عالمی ادب کے گراں قدر تراجم انہوں نے متعارف کرائے، اشفاق احمد ، بانو قدسیہ اور بعض دیگر ادیبوں کے حوالے سے نہایت سخت اور غیر شائستہ الفاظ وہ استعمال کرتے ہیں، جن کا کوئی جواز نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مت چھینو! - اسماعیل احمد

پیپلزپارٹی کے جیالوں کو یہ دکھ کھائے جاتا ہے کہ جنرل ضیا ءالحق کے دور میں انہوں نے ٹی وی پر کام کیا اور شہرت کمائی۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اشفاق احمد نے بھٹو دور ہی میں اپنا نام بنا لیا تھا۔ دوسرا اشفاق احمد نے کبھی انقلابی یا مزاحمتی ادیب ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا، وہ یہی کہتے تھے کہ سماج میں تبدیلی لانی چاہیے، حکومتوں کی تبدیلی وغیرہ پر انہوں نے کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ ویسے یہ ترقی پسندوں کی منافقت سمجھیں کہ شوکت صدیقی مرحوم پیپلزپارٹی کے اخبار مساوات کے ایڈیٹر تھے، بھٹو صاحب کے غیر ملکی دوروں میں وہ ساتھ جاتے، مگر کبھی کسی ترقی پسند، انقلابی نے شوکت صدیقی پر صاحبان اقتدار سے تعلق کی پھبتی نہیں کسی، کیونکہ وہ نظریاتی حلیف تھے۔ احمد فراز ہر دور میں عہدے، مناصب کی تلاش میں رہے، دفتر، سرکاری گاڑی انہیں ہمیشہ چاہیے ہوتی تھی، فہمیدہ ریاض پیپلزپارٹی کے ادوار میں عہدے لیتی رہیں، وہ تو جنرل پرویز مشرف کی بھی حامی ہیں، بلکہ مختلف محفلوں میں وہ انٹلکچوئل سطح پر مشرف کا دفاع کرتی رہیں۔ اجمل کمال یا کسی ترقی پسند نقاد، ادیب کو کبھی فہمیدہ ریاض کے بارے میں کچھ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اشفاق احمد، بانو آپا نے اپنی کسی تحریر میں، کسی گفتگو میں کبھی جنرل ضیاءالحق کا دفاع نہیں کیا۔ اس کے باوجود ان پاک سیرت لوگوں کے خلاف انتہائی گھٹیا، سطحی، زہریلی مہم چلتی رہتی ہے، ہر کچھ عرصے بعد کوئی نیا شخص زہریلے تیروں کی کمان اٹھائے میدان میں آ جاتا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ وہ لوگ جن کی خاطر اشفاق احمد تاحیات لکھتے رہے، بولتے رہے، وہ شرمناک خاموشی کے ساتھ یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ تفو برتو اے چرخ گردوں تفو ۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں