ایک انگریز بابے سے ملاقات- عطا ء الحق قاسمی

لاہور سے دبئی تک میرے ہم سفر زیادہ تر پاکستانی تھے مگر دبئی سے آگے مجھے چٹی چمڑی والوں کے ساتھ لندن تک کے لئے سفر کرنا تھا۔ میں نے دیکھاکہ تقریباً 80برس کا ایک چھ فٹا انگریز بابا جس نے جینز کی شرٹ اورپتلون پہنی ہوئی تھی اور جو اپنی عمر اور لباس میں عدم مطابقت کے باوجود شکل وصورت سے ایک معقول شخص لگتا تھا ، میرے ساتھ والی قطار کی پہلی نشست پر بیٹھ گیا۔

اس کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا جو اس نے بہت احتیاط سے بیگیج کیبن میںرکھ دیا۔ شدید تھکاوٹ کی وجہ سے میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ میں نے سیفٹی بیلٹ باندھی اورسیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مجھے ان احتیاطی تدابیر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جن کی تفصیل سمندرمیں جہازگرنے کےحوالے سے بتائی جارہی تھی حالانکہ اس صورتحال میں جو کرنا ہوتا ہے وہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر ہی نے کرنا ہوتا ہے چنانچہ متوقع وفات سے قبل بے بس مسافروں کو خوفزدہ کرنے کا یہ انداز مجھے کبھی پسند نہیں آیا!

میں ابھی سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا کہ مجھے خطیبانہ انداز کی ایک تقریر سنائی دینا شروع ہوئی۔ مجھے اس پر موچی دروازے کے باہر مجمع لگانے والے اس ’’خطیب‘‘‘ کا شائبہ گزرا جو اپنی تقریر کا آغاز امت ِ مسلمہ کے زوال سے شروع کرتا اور اس کا اختتام جسم میں برقی لہر دوڑا دینے والی ’’ادویات‘‘ پر ہوتا تھا مگر جو تقریر مجھے سنائی دے رہی تھی وہ انگریزی میں تھی۔

میں نے آنکھیں کھولیں او رگردن موڑ کر پچھلی سیٹوں پر نظر دوڑائی مگر وہاں کوئی مقرر مجھے نظر نہ آیا۔ میں نے اپنے بائیںجانب دیکھا تو وہاں ایک گول مٹول سا انگریز بچہ سیٹ کے ساتھ لگی ٹی وی اسکرین پر ویڈیو گیم کھیلنے میں مشغول تھا۔ آواز مسلسل آ رہی تھی۔ میں نے اپنے دائیں جانب نظر دوڑائی تو جینز کی شرٹ اورپتلون میں ملبوس وہ چھ فٹا انگریز سیٹ کی ٹیک پر اپنا سر ٹکائے بالکل ساکت انداز میںبیٹھا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھوں کی پتلیاں توحرکت نہیں کررہیں لیکن اس کے لب حرکت کر رہے ہیں۔

یہ ولولہ انگریز تقریر دراصل ادھر ہی سے نشر ہورہی تھی۔ مجھے اس کے شیکسپیئر ین لہجے کی وجہ سے اس کی انگریزی پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی تھی مگر بچپن ہی سے مجمع بازوں کی حیات افروز تقریر سننے کےشوق نے اس عمرمیں بھی میری نیند اڑا دی اور میں اس انگریز مجمع باز کے لئے ہمہ تن گوش ہو گیا۔ مجھے اس امر پر حیرت ہو رہی تھی کہ اس انگریز سنیاسی بابا کوجہاز میں اپنی مقوی ادویات بیچنے کی اجازت کیسے ملی؟

میرا خیال تھا کہ وہ ابھی اپنی سیٹ سے اٹھے گا، بیگیج کیبن میں سےاپنا بیگ نکالے گا اور اعلان کرے گا ’’مہربان قدردان! اگرآپ یہ دوا کمپنی سے منگوائیں گے تو پچاس پائونڈ کی ملے گی مگر یہاں کمپنی کی مشہور ی کےلئے صرف پانچ پائونڈ میں آپ یہ دوا خرید سکتے ہیں۔ جن صاحب کو درکارہو وہ آواز دےکر طلب کریں۔ پانچ پائونڈ، پانچ پائونڈ، پانچ پائونڈ‘‘ مگرمیری یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہوگئی۔ وہ مجمع باز ضرورتھا مگر وہ دوا نہیں اپنی شاعری بیچ رہا تھا۔ وہ اپنی نظمیں مسلسل پورے جوش و خروش اور بلند آواز میں سنارہا تھا۔ مجھے اس کی جولائنیں سمجھ آئیں وہ کچھ یوں تھیں.....

میں آنکھیں بند کرکے کیتھرین کے بارے میں سوچتا ہوں وہ آنکھیں کھول کر مجھے دیکھتی ہے۔
اور سوچنا بند کردیتی ہے۔

وہ نہیں جانتی وہ کتنے بڑے شاعر کی محبت سے محروم ہوگئی ہے جب ایک سو سال بعد ولیم کی شاعری پر کتابیں لکھی جائیں گی اور اس میں اس بے وفا کا ذکر ہوگا،
تو اس کے پڑپوتے کہیں گے
کتنی بے وقوف تھی ہماری پرنانی!

تو گویا اس عظیم شاعر کا نام ولیم تھا جس کی قدر اس کے مرتبے کے مطابق نہیں ہو رہی تھی مگر اسے یقین تھا کہ آنے والا وقت اس کی عظمت کو تسلیم کرے گا۔ مجھے اس عظیم شاعر پر ترس آنے لگا لیکن اس کے دل میں میرے سمیت جہازکےتمام رات کے جاگے ہوئے مسافروں کے لئے کوئی رحم نہیں تھا کیونکہ وہ مسلسل بآواز بلند اپنی نظمیں پڑھنے میں مشغول تھا اور درمیان درمیان میں خود ہی اپنی شاعری پر داد تحسین کے ڈونگرے بھی برساتا جاتا تھا۔

’’تم بہت عظیم ہو مسٹر ولیم! تمہارے جیسا شاعر کسی ماں نے نہیں جنا۔ اس دنیا میںواحد شعر شناس تمہارا دوست پیٹر ہے جس نے تمہارے شاعرانہ مرتبے پر کتاب لکھ کر ان سب نقادوں کے منہ بند کردیئے ہیں جو مارے حسد کےتمہیں معمولی شاعر قرار دیتے ہیں۔‘‘ مگر وہ جو کسی نے کہا ہے کہ نیند سولی پر بھی آ جاتی ہے، سواس عظیم المرتبت شاعر کےشور شرابے کے باوجود میری آنکھ لگ گئی تاہم ولیم نے میرؔ صاحب کا یہ شعر کہاں سنا ہوگا؎

سرہانے میرؔ کے آہستہ بولے
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
کیونکہ میرے بالیں پر شور قیامت جاری تھا میں سودا نہیں تھا کہ خدام ادب کہتے ’’ابھی آنکھ لگی ہے‘‘ چنانچہ میری آنکھ ایک دفعہ پھر کھل گئی۔ میری طرح جہاز کے دوسرے مسافر بھی اس صورتحال سے اب پریشان نظر آنے لگے تھے۔ ولیم کے برابر والی نشست پر بیٹھی ایک ادھیڑ عمر خاتون اپنی نشست سے اٹھ کر میرے اور ویڈیو گیم کھیلنے والے گول مٹول سے انگریز بچے کے درمیان والی خالی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئی تھی تاکہ کانوں تک پہنچنے والے براہ راست شور سے وہ کسی حد تک محفوظ ہوسکے۔ اس نے مجھے ٹہوکا دیا اور پھرمیرے کان میں سرگوشی کی ’’یہ بیچارا پاگل ہے۔

لگتا ہے کہ کسی بڑے صدمے سے دوچار ہوا ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’آپ ٹھیک کہتی ہیں اسی لئے میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوںکہ انسان کو اپنے پرچے کی مارکنگ خود نہیں کرنی چاہئے۔‘‘ خاتون نے حیرت سے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے کہا ’’مطلب واضح ہے جو انسان خود مارکنگ کرے گا اس کا حشر مسٹر ولیم جیسا ہی ہوگا۔‘‘ نیلی آنکھوں اورسنہری بالوں والی ادھیڑ عمر خاتون کو غالباً میری بات سمجھ نہیںآئی تھی۔ میں نے وضاحت کی ’’اس معصوم سے شاعر نے اپنی شاعری کو سو میں سے سو نمبر ہی دے دیئے تھے مگر اس کے قارئین نے اسے 33نمبر بھی نہیں دیئے۔ اتنے زیادہ فرق کو یہ بھولا بھالا انسان برداشت نہ کرسکا اور ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ اب اسے یقین ہےکہ اگر اس کے عہد میں اس کی قدر نہیں ہوئی تو آنے والے زمانے میں اس کی قدر ضرور ہوگی حالانکہ زمانے کا پہلا فیصلہ ہی کم و بیش اس کا آخری فیصلہ ہوتاہے بشرطیکہ یہ فیصلہ عوام و خاص دونوں کی طرف سے بیک وقت سنایا گیا ہو!‘‘

دبئی سے لندن تک کی سوا سات گھنٹے کی فلائٹ میں ’’خود تشخیصی اسکیم‘‘ کے تحت معرض وجود میں آنے والا یہ عظیم المرتبت شاعر مسلسل اپنی عظمت کے ترانے گاتا رہا۔ میں نے سوچا کاش اس وقت برادرم مرتضیٰ برلاس میرے ساتھ ہوتے اور اسے بتاتے کہ ان کی موجودگی میں اسے اس قسم کا دعویٰ سوچ سمجھ کر کر نا چاہئے مگر افسوس ہزاروں دوسری خواہشوں کی طرح میری یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی۔

لندن ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد جب میں اپنا سامان کنویئر بیلٹ میں سے نکال کر ٹرالی میں رکھ رہا تھا وہی خاتون ایک بار پھر میرے پاس آئی اور ولیم کی طرف اشارہ کرکے کہا ’’اب تو یہ شخص بالکل نارمل لگ رہا ہے۔ کیا اس کا مقصد ہماری نیندیں اچاٹ کرنا تھا؟‘‘میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’ہاں..... اور یاد رکھو اس کام پر صرف ولیم مامور نہیں بلکہ دنیا بھر کے حکمران خبط ِ عظمت کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں اپنے عوام پر بہت غصہ آتا ہے کہ وہ انہیں عالمی مدبر تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ یہ لوگ دن بدن نشیب میں اترتے جاتے ہیں مگر خود کو فراز پر محسوس کرتے ہیں۔‘‘