دور حاضر کے نوجوان کو کیسے بچایا جائے؟ - گل محمد

راحت فتح علی خان کا ایک نیا گانا چند روز قبل جاری ہوا ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت اس کی آواز کی دلدادہ ہے۔ جلد ہی یہ گانا وائرل ہو جائے گا، نوجوانوں کی سماعت میں "رس" گھولے گا اور ہر محفل کو "سرور" بخشے گا۔ مہینوں تک یہ گانا نوجوانوں میں مشہور رہے گا اور پھر موسیقی کی دنیا میں کوئي اور گانا آ جائے گا۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہی نہیں بلکہ فیشن کے بھی انداز ہیں، بالوں کا، داڑھی کا لباس کا۔ یہ نت نئے سٹائلز اور ٹرینڈز نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں لاشعوری طور پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ فلاں ڈریس کیوں بنوایا ہے؟ یا ایسے بال کیوں بنوائے ہیں تو ایک ہی جواب ملے گا، فیشن میں ہیں۔

ایک معاشرہ جسے اسلامی ہونا چاہیے، جس کی کچھ حدود و قیود ہونی چاہئیں، جس کا تعلق صدیوں سے اسلامی ثقافت سے ہے یعنی یہ مادر پدر آزاد نہیں ہے۔ جہاں حیاء اور ایمان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس پر دور حاضر میں کاری ضربیں لگ رہی ہیں اور اس کا براہ راست نشانہ ہمارے نوجوان بچے اور بچیاں ہیں۔ آج کے دورے کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ اپنے نوجوانوں کو کس طرح بیرونی ثقافتی یلغار سے محفوظ کیا جائے؟ ان میں اسلامی ثقافت کی روح کیسے زندہ کی جائے؟ ان کو مستقبل کا پکّا اور سچا مسلمان کیسے بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اسلام کی حفاظت کر سکیں۔

عام طور پر مسلمانوں نوجوانوں کو مساجد میں نماز پنجگانہ اور دیگر اجتماعات میں شرکت کی تلقین کی جاتی تھی کہ جہاں دین، اعمال اور اخلاقیات کی بات کی جاتی ہے۔ پھر خانقاہوں میں دروس اور محافل اذکار منعقد کی جاتی ہیں لیکن ۔۔۔۔۔ اب دور حاضر میں ٹیلی وژن، انٹرنیٹ اور موبائل فون کی آمد نے نوجوانوں کو گوشہ نشین کردیا اور رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے۔ مساجد، محافل اور اجتماعت میں آنے والے نوجوانوں کی تعداد اب آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جب نوجوانوں کی بڑی تعداد واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں مصروف ہیں تو انہیں دینی محافل میں شمولیت کا پابند کیسے بنایا جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   عملی زندگی میں قدم رکھنے والے طالب علموں کے نام - ڈاکٹر اسامہ شفیق

آپ کا ذاتی تجربہ ہوگا کہ جب نوعمر بچے بچیوں کو سوشل میڈیا کا استعمال محدود کرنے کا کہا جائے تو ان کے ماتھے پر بل آ جاتے ہیں اور اگر غصہ کیا جائے تو شدید ردعمل دکھاتے ہیں اور موبائل توڑنے، گھر سے بھاگنے یہاں تک کہ جان سے ہاتھ دھونے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں۔ اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ ان کی "محافل" میں جاکر، یعنی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر جاکر، اللہ اور رسول اللہﷺ کی بات کی جائے، اخلاق سکھائے جائیں، دیانت داری کا درس دیا جائے، امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور اسلامی ثقافت کو درپیش مسائل کا ذکر کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ مسلمان نوجوان کن خوبیوں کا حامل ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر یہ میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ نوجوان دینی،اخلاقی اور سنجیدہ موضوعات والے پیجز اور گروپس میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں اور اگر وہ بعض اوقات کسی ایسی پوسٹ پر کمنٹ کرتے بھی ہیں تو صرف اپنے دفاع کی خاطر۔ وہ یہ ثابت کرنے میں قطعی جھجھک محسوس نہیں کرتے کہ لباس اور جدید رسموں پر تنقید دقیانوسی باتیں ہیں، اب وہ "پرانا زمانہ" نہیں رہا۔ہماری عادات، ہمارے اطوار وقت کا تقاضا ہیں ان پر تنقید کا کسی کو حق حاصل نہیں۔اگر مزید بحث گہری ہو جائے تو وہ بدتمیزی پر بھی اتر آتے ہیں۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ لباس اور طور اطوار بدلنے سے اسلام پر کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ذرا اس طرف توجہ دیں کہ اچھے کھاتے پیتے اور مڈل کلاس کے نوجوانوں میں کچھ مزید غیر اخلاقی عادات بھی پروان چڑھ رہی ہیں۔ مثلاً نشے کی لت عام ہو رہی ہے۔ عجیب و غریب قسم کے نشے دریافت ہو رہے ہیں۔ شیشہ پینا،آکسیجن شاٹس،شراب،ہیروئین اور اللہ معاف کرے بدکاری جیسی برائیاں بھی جڑ پکڑ رہی ہیں۔تعلیم حاصل کرنے سے اکتاہٹ، جھوٹ، دھوکہ بازی، بددیانتی، چوری، ڈکیتی، والدین کی نافرمانی، بداخلاقی اور وقت کاضیاع جیسی عادات شعوری طور پر نوجوانوں میں پرورش پا رہی ہیں۔ کیا یہ عادات خود بخود پیدا ہوتی ہیں؟نہیں ایسا نہیں بلکہ ان برائیوں کو پروموٹ کرنے کے عناصر فلمیں،ڈرامے،گانے اور سوشل میڈیا ہیں۔ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ فلموں اور گانوں کے اندر کسی سبق آموز کہانی کی اوٹ میں چھپ کر مسلمانوں کی تہذیب کو نقصان دینے کے لیے چھوٹا سا وار کر دیتے ہیں، چاہے وہ عقیدے پر وار ہو، عمل پر ہو یا لباس پر اور مسلمان بغیر سوچے سمجھے شکار ہو جاتا ہے۔ اس ایجنڈے کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔کراچی میں نویں جماعت کے طالب علم کا اپنی محبوبہ کو قتل کر کے خودکشی کرنا اور امت مسلمہ کے شعور کو جھنجھوڑنے کے لیے خط چھوڑ جانا ایک زندہ مثال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عملی زندگی میں قدم رکھنے والے طالب علموں کے نام - ڈاکٹر اسامہ شفیق

یہ مسائل کسی حقیقی اور عملی حل کے متمنی ہیں، اگر ان تمام مسائل کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو اسلامی ثقافت کی حقیقی صورت مسخ ہونے کا شدید خطرہ درپیش ہو گا۔ دانشوران قوم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بروقت کوئی حل تلاش کریں۔ علمائے دین کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے کہ نوجوانوں کی دلچسپی کا سامان پیدا کر کے انہیں امت کا سپاہی بنائیں۔ موسیقی سے لاکھ اختلافات کے باوجود میں یقین سے کہتا ہوں اگر گلوکار حضرات اس قوم کے نوجوانوں کی درست سمت تربیت کرنا چاہیں تو راحت علی اور عاطف اسلم کی ایک آواز، ایک گانے پر یہ نوجوان لاشعوری طور پر والدین کی نافرمانی چھوڑ سکتے ہیں۔جھوٹ بولنا چھوڑ سکتے ہیں، شراب نوشی چھوڑ سکتے ہیں اور دیگر نشہ آور اشیا چیزیں ترک کر سکتے ہیں۔ آج اگر ہمارے رول ماڈل حضرات ایک سیشن عمامے اور کرتے کے ساتھ کر لیں تو ایک ہفتے میں لاکھوں نوجوان اس کو زیب تن کیے ہوئے نظر آئیں گے۔اسی طرح لڑکیوں کے لباس میں حیاداری پیدا کرنے کے لیے اگر ایک ماڈل کھلے کپڑوں اور نقاب کے ساتھ اسٹیج پر آجائے اور میڈیا بھرپور کوریج دے تو بعید نہیں کروڑوں بہنیں باپردہ بن جائیں گی۔

اس مشن پر کچھ لوگ کام کر بھی رہے ہیں،مگر ضرورت اس بات کی ہے اس پر اجتماعی طور پر کام ہو۔ہمیں سوچنا ہو گا،اپنے بچوں کی خاطر، اپنی قوم کی خاطر، اپنی ملت کی خاطر۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہمارے محبوب آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہم سے صرف ایک ذمہ داری "کلھم راع و کلھم مسؤل عن رعیتہ" پوری نہ کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن ہم سے منہ موڑ لیں۔