ماہر ہ اور مریم - اسماعیل احمد

ماہرہ اور مریم کا شمار ہمارے دور کی سب سے مشہور خواتین میں کیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک کا تعلق کاروبار سیاست سے ہے تو دوسری خاتون کا تعلق شوبزنس سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باقی امور کے علاوہ سکینڈلز بھی ان دونوں خواتین کے نام سے منسوب ہوتے رہتے ہیں۔ مریم نواز کے ساتھ منسوب مشہور ترین اسکینڈل پانامہ اسکینڈل ہے جس کی بابت پاکستان کی سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ بادی النظرمیں مریم نوازپانامہ میں لندن فلیٹس کی ملکیت رکھنے والی ایک آف شور کمپنی کی بینی فیشل اونر ہیں۔ مریم نوازنے ایک ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔لندن فلیٹس جائز کمائی سے بنے یہ وہ دعویٰ ہے، جسے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ تادم تحریر اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ ثبوت مریم نوازاور ان کے خاندان کی جانب سے فراہم نہیں کیا جاسکا۔ مقدمہ نیب میں چل رہا ہے جہاں سے مریم نواز کا بچنا نہایت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ مریم نواز بی بی سی کو دیے گئے ایک متنازع انٹرویو میں یہ بھی کہہ چکی ہے کہ خاندان کے اندر یہ فیصلہ ہو چکا ہے اپنے والد کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت وہ سنبھالیں گی۔

اب آتے ہیں ماہرہ خان کی طرف۔ ماہرہ خان کے کریڈٹ پر کچھ بہترین ڈرامے اور دو تین فلمیں ہیں جہاں ماہرہ خان نے اداکاری کے جلوے بکھیرے۔ پھر نہ جانے کہاں سے رنبیر کپور کے ساتھ ان کی تصاویر کا اسکینڈل منظر عام پر آیا۔ گزشتہ دنوں ماہرہ خان نے اپنےایک انٹرویو میں متنازع تصاویر پر کچھ اس انداز میں شرمندگی کا اظہار کیا۔ ان تصاویر کی وجہ سے لوگ بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوئے تھے بالکل اسی طرح جیسے میری نانی اور میرے ماموں اس طرح کی تصاویر دیکھ کر ہوتے اور یہی وجہ تھی کہ مجھ پر تنقید کی گئی۔ میں آج اگر کسی بوڑھی یا ادھیڑ عمر کی خاتون سے ملتی ہوں اور وہ کہتی ہیں کہ انہیں وہ تصاویر پسند نہیں آئی تھیں تو میں فوراً معافی مانگ لیتی ہوں۔ اداکارہ نے کہا لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا میں اپنے مداحوں کے لیے رول ماڈل ہوں تو میں کہتی ہوں ہاں میں رول ماڈل ہوں لیکن مکمل رول ماڈل نہیں ہوں۔ میں انسان ہوں اور مجھ سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔

غلطی کرنا انسانی فطرت ہے۔ ہم میں سے ہر ایک غلطیاں کرتا ہے۔ مگر ہمیں ہمیشہ سکھایا جاتا ہے کہ شیطان اور انسان میں بنیادی فرق غلطی کو تسلیم کرنے اور معافی مانگنے کا تھا۔ قصہ آدم کو رنگین کرنے کے لیے شیطان اپنا لہو فراہم کرنے کی بجائے اگر رب کے حضور شرمندہ ہوجاتا اور معافی مانگ لیتا تو کوئی شک نہیں کہ زمان و مکاں کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ مگر کیا کیا جائے کہ روشن ترین ہدایات کے باوجود ہم لوگ غلطیوں پر اصرار کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ہماری انا ہمیں اپنے اعمال پر نظرثانی کرنے کی بجائے دوسروں پر نقطہ چینی کرنے پر اکساتی ہے۔ ہم جب اپنی کوتاہیوں پر زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں تو منصفوں کے لیے بھی نت نئے ٹوئٹ دریافت کرتے اور پھر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں۔

قرآن میں اللہ نے فرمایا “ اور انسان شر کو بھی ایسے مانگتا ہے جیسے وہ خیر کو مانگتا ہو اور بے شک انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔ ڈرامہ اور فلم کا میڈیم رنگ و نور کی مہکار اور جھنکار کے علاوہ اپنے معاشرے کی اصلاح اور بہترین اخلاقی روایات کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں ماضی میں پاکستان ٹیلی وژن نے اپنے شاندار ڈراموں کےذریعے پاکستانیوں کی تربیت کا اہتمام کیا۔ بھارت میں فلم کے میڈیم سے آج بھی معاشرے میں رائج جہالتوں کی سرکوبی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرہ خان اگر بطور رول ماڈل واقعی پاکستانی معاشرے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اچھے سکرپٹ کے حامل مزید پراجیکٹس میں کام کرنا چاہیے اور اسکینڈلز کے گند سے خود کو بچائے رکھنا چاہیے۔ لائق تحسین ہے کہ انہوں نے ایک ایسے معاشرے میں اپنی غلطی کو تسلیم کیا جہاں اپنی غلطیوں پر نادم ہونے کی روایت کم ہے۔ یہاں تو آدھا ملک گنوانے پر بھی کسی فرد یا ادارے نے کسی شرمندگی کا مظاہرہ نہ کیا۔ یہاں غلطیوں پر اڑنے اور اپنی غلطیوں کی وکالت کرنے کا چلن زیادہ ہے۔

کچھ عرصہ سے غیر اخلاقی اعمال پر وکالت کے لیے لبرل، سیکولر اور روشن خیال بھی پاکستان میں با آسانی میسر آنےلگے ہیں جو آپ کی طرف سے سر زد ہونے والے فعل بد پر مورد الزام معاشرے کو ٹھہرا دیں گے۔ مریم نواز کو بھی اپنے ٹویٹر اکاونٹ کی تھوڑی بہت خیر خبر لینی چاہیے۔ مستقبل کی بے نظیر بننے کی خواب اور خواہش سر آنکھوں پر۔ لیکن خدارا اپنے رویے پر نظرثانی کریں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اپنی چچی تہمینہ درانی کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے اپنے اثاثے پاکستان لے آئیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا یہ عمل شاید سیاست کے میدان میں آپ کے خوابوں کو شرمندہ تعبیرکر دے بقول شاعر

آواز دے کے دیکھ لوں شاید وہ رک ہی جائے

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں