خطروں کا "مجبور" کھلاڑی - سید جعفر شاہ

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے غلام فاروق کا شہر مستونگ ہے اور لوگ انہیں خطروں کے کھلاڑی کے طور پر جانتے ہیں۔ وہ ایسے کرتب دکھاتے ہیں جنہیں دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں، اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی، وہ مختلف ٹیلی وژن چینلوں اور گیم شوز میں آئے ہیں اور محیّر العقول کارنامے دکھائے ہیں جیسا کہ پلکوں سے پانچ، چھ کلو وزنی پتھر اٹھانے کے علاوہ خاردار تار جسم پر لپیٹنے اور اپنے دانتوں کے ذریعے بھاری وزن کو کھینچنے جیسے کرتب! حاضرین انہیں داد دی بغیر رہ نہیں سکتے۔ یہ کوئی جادو یا شعبدہ نہیں بلکہ اس فن کو حاصل کرنے کے لیے غلام فاروق نے بچپن سے سخت تربیت کی ہے اور اس کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ان کا بڑا بیٹا بھی اب میدان میں آ چکا ہے۔

بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے بس کمی ہے تو سہولیات کی اور حوصلہ افزائی کی۔ غلام فاروق جیسے کھلاڑی بھی بہتر سہولیات کی کمی اور عدم توجہی کی وجہ سے ماند پڑ گئے ہیں لیکن ان کا حوصلہ اور جذبہ آج بھی بلند ہیں۔ کہتے ہیں حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے تو اتنا یاد رکھتا ہوں کہ محنت کے بغیر مقام حاصل نہیں ہوتا۔ جگنو اندھیروں میں بھی اپنی منزل ڈھونڈ لیتا ہے کیونکہ وہ روشنی کا محتاج نہیں ہوتا۔

غلام فاروق تھائی لینڈ، آسٹریلیا اورپولینڈ سمیت مختلف ممالک میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے ہیں بلکہ بیسٹ اسٹرونگ مین کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان پر ڈاکیومنٹری فلم بھی بن چکی ہے لیکن ان پر لکھنے کا اصل مقصد یہی ہے کہ اس پسماندہ صوبے کے ہیرو کو پاکستان کا ہیرو تصور کیا جائے۔

وہ جہاں بھی جاتے ہیں ان کی پہچان مستونگ یا بلوچستان نہیں بلکہ پاکستان ہوتا ہے۔غلام فاروق کا کہنا ہے کہ چند ماہ بعد امریکا میں ایک بہت بڑا اسپورٹس ایونٹ ہے جس میں انہیں مدعو کیا گیا ہے لیکن مالی مسائل کی وجہ سے وہ اس میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ ان کا شکوہ افسوس ناک تھا اور حکام بالا کی توجہ کا متقاضی بھی۔ غلام فاروق جیسے افراد اپنے صوبے بالخصوص پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکتے ہیں اس لیے ان کی مدد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شاید شاید - ہارون الرشید

پاکستان میں جہاں کھیلوں پر کروڑوں روپے لگائے جاتے ہیں، وہاں ایسے منفرد کھلاڑیوں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ملک ایک عظيم کھلاڑی سے محروم ہو جائے گا۔ وہ امن کے سفیر ہیں بن کر بلوچستان سے پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک رول ماڈل بن سکتے ہیں۔