انفرادی و اجتماعی نفسیاتی مریض - قدسیہ ملک

مسز عادل کو نئے پوش علاقے میں شفٹ ہوئے ابھی چند ہی دن گزرے تھے۔ یہ علاقہ ان کے خوابوں کی سرزمین تھا۔ وہ بہت خوش تھیں۔ کئی سالوں سے شوہر کو راضی کرنے میں مصروف تھیں اور بالآخر ان کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ اب وہ جلد از جلد علاقے کے مہذب افراد سے مل کر اپنے شوہر کی بہت سی باتوں کی نفی اور خود کو درست ثابت کرنا چاہتی تھیں۔ عادل صاحب بیگم کی ضد کے آگے برسوں پرانا محلہ، عزیز، دوست، اقارب چھوڑنے پر راضی تو ہوگئے تھے لیکن خاموش خاموش رہنے لگے۔ بچے بھی اب کمروں میں دبکے اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے اور مسزعادل انہیں سوسائٹی میں ایڈجسٹ ہونے کے مختلف گر سکھاتیں لیکن بچے ماں کی سنتے ہی نہیں تھے۔ یہی بچے پہلے کتنے فرمانبردار تھے؟ وہ ایسی باتیں زیادہ نہیں سوچتی تھیں بلکہ خود بھی علاقے میں کسی تقریب کو نہ چھوڑتیں۔ کہاں تو وہ پرانے محلے میں گھر سے نہ نکلتی تھیں لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا۔ بقول ان کے وہ اب صحیح جگہ پہنچ چکی تھیں۔ شوہر کیا کیا ہے؟ وہ تو کسی حال میں خوش نہیں ہوتے۔


بیگم بقائی بچوں کی جبری مشقت کے خلاف کام کرنے والی ایک اہم کارکن تھی۔ بہترین تقریر کا فن جانتی تھیں اور بچوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر کوئی بھی سیمینار، ورکشاپ یا مباحثہ ان کی شرکت کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا۔ وہ اپنی این جی او کے ذریعے ایسے نادار اور مفلس بچوں کے لیے چندہ بھی جمع کرتیں اور کسی معصوم بچے کو ورکشاپ یا ہوٹل پر کام کرتا دیکھتیں تو فوراً پولیس بلوا کر اس کے مالک کو اندر کروا دیتیں۔ ان کے گھر پر ہر کام کی الگ ماسی تھی اور ان کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔ اس کی توجیہہ وہ پیش کرتی تھیں کہ غیر شادی شدہ چھوٹی لڑکیاں کام جلد سیکھ جاتی ہیں۔ گھر اور بچے نہ ہونے کی وجہ سے چوریاں بھی نہیں کرتیں اور پھر ان لڑکیوں کے والدین خود بیگم بقائی پر بھروسہ کرکے اپنے بچے ان کے پاس چھوڑ جاتے تھے۔


عادل صاحب کی عمر اس وقت 45 کے قریب تھی۔ اچھی ملازمت، بہترین گھر، محبت کرنے والے رشتہ دار سب کچھ تو تھا ان کے پاس۔ وہ بہت خوش اور مطمئن زندگی گزار رہے تھے لیکن انہیں ایک علت تھی۔ وہ کثرت سے سگریٹ نوشی کیا کرتے تھے۔ کہیں بھی جاتے، دفتر میں ہو یا گھر پر یہاں تک کہ دعوتوں پر بھی وہ سب کے سامنے اور بے حساب سگریٹ پیتے۔ بعض اوقات ان کے ہم عصر انہیں کہتے بھی لیکن عادل صاحب اس بے تحاشہ سگریٹ نوشی کی توجیہہ یہ پیش کرتے کہ سگریٹ میں نکوٹین کی غیر معمولی مقدار کی وجہ سے جسم میں کیلوریز ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھتیں۔ پھر سگریٹ پینا تو جوانوں کا شیوہ ہے۔ پھر سگریٹ پینے کے لیے میں وہ کسی پر بوجھ نہیں بنتے تو دوسرے آخر کیوں انہیں تبلیغ کریں؟ اور پھر آخری وار کہ جو سگریٹ وہ پیتے ہیں، وہ ہر کوئی افورڈ نہیں کر سکتا اس لیے لوگ اپنا احساس کمتری مٹانے کے لیے انہیں سگریٹ سے دور ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔


بیگم احسان عالمہ تھیں۔ بچپن ہی سے انہیں دینی تعلیم سے لگاؤ اور انسیت تھی۔ شادی کے بعد وہ مختلف کورسز کرکے اب اس درجے پر پہنچ چکی تھیں کہ لوگ انہیں گھروں پر بلا کر ان کا درس سننا اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے۔ انہیں فراغت بالکل پسند نہ تھی اور فارغ اوقات میں وہ اپنی کسی عزیز رشتہ دار سے بات کرلیا کرتی تھیں اور ان سے عزیز و اقارب کی خیر خبر لیا کرتی تھیں۔ کس کے ہاں شادی ہوئی، کس نے انہیں نہیں بلایا، کس کے ہاں اولاد ہوئي اور انہوں نے اطلاع نہیں دی، کس کے ہاں شادی کے بعد طلاق ہوگئی یا ہونے والی ہے، کون کس حال میں ہے، کس رشتہ دار نے اپنا گھر مکمل کرلیا،کون کتنا کما رہا ہے، کون کہا شفٹ ہوگیا، کس کے بچے بیرون ملک ہیں اور والدین کو کتنا خرچہ بھیج رہے ہیں؟ توجیہہ وہ یہ پیش کرتی تھیں کہ انسان کو اپنے رشتہ داروں اور دوسرے قریبی لوگوں کے بارے میں علم ہونا چاہیے، مومن باخبر ہوتا ہے۔ لوگ بھی تو ان کے بارے میں جانتے ہیں تو وہ ان کے معاملات کے بارے میں جان لیں تو کون سی قباحت ہے؟


وقوفی عدم مطابقت(Cognitive Dissonance) کا نظریہ لیون فسٹنگر (Leon Festinger)نے 1957ء میں پیش کیا۔ اس نظریc کا تعلق عام زندگی میں فرد کے اعمال سے ہے۔ نظریہ یہ ہے کہ جب ملنے والی نئی معلومات فرد کی یقین کردہ معلومات سے ہم آہنگ نہیں ہوتی تو فرد وقوفی عدم مطابقت کا شکار ہوجاتاہے۔ اس صورتحال میں اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس تکلیف کو کسی طرح سے دور کرے۔ ایسی صورتحال کا شکار شخص عموماً تین طرح کے افعال سر انجام دیتا ہے :

1۔ ترجیحی روبروئی(Selective Exposure): اس میں فرد ایسی کوئی خبر یا معلومات پڑھے گا ہی نہیں جو اس کے عمل کے مطابق نہ ہوگی۔

2۔ ترجیحی یادداشت(Selective Retention): اس عمل میں وہ شخص جو وقوفی عدم مطابقت کا شکار ہے صرف ان افعال و واقعات یاد رکھے گا جو اس کے لیے مثبت و خوشگوار ہوں گے۔

3۔ ترجیحی ادراک(Selective perception):مطلب کسی بھی بات،واقعے سے وہ مطلب نکالنا جوکہ فرد کے خیالات سے ہم آہنگ ہو۔

اس عمل میں مبتلا ہر فرد ایک قسم کی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہوجاتاہے۔ اس نظریے کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے اپنے معاشرے میں چلتے ہیں۔ مندرجہ بالا چند سچے واقعات سے اس عدم وقوفی نظریے کی تائید ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کا مشہور قندیل بلوچ قتل کیس بھی ہے جسے 'غیرت کے نام پر قتل' کہا جا رہا ہے اور قندیل کے بهائی نے بھی اس قتل کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔ یہ بات آنا تھی کہ ذرائع ابلاغ، بشمول الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ پر طوفان برپا ہوگیا۔ بالخصوص عزت و ناموس کے نظریے بلکہ دین کے خلاف بھی جو غلیظ زبان استعمال کی گئی کہ ہم اور آپ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ قندیل بلوچ تو اب اس دنیا میں نہیں رہی لیکن اس نے سوشل میڈیا پر عریانی و فحاشی کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا تھا، اس کے جانے کے بعد بھی کئی لڑکیاں اس کی طرح راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کی خاطر غلط لوگوں کے ہتھے چڑھیں گی اور اگر کوئی قتل ہوا تو سب کی کڑیاں یہیں سے ملیں گی۔ اب سب سے چپ سادھ لی ہے اور بے جا تاویلات دینے لگے ہیں۔

میاں نواز شریف اور ان کے بچوں پر لگنے والے الزامات نئی بات نہیں لیکن پانامہ لیکس کے بعد ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں بلکہ ان کا اعتراف خود ان کے بچوں کی جانب سے ہوچکا ۔ اس کے باوجود مسلم لیگ ن کی سیاست دان اور کارکنان ان الزامات کو اپنے قائد کے خلاف سیاسی چال سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

بے نظیر بھٹو کے قتل پر ملک کو جس طرح معاشی، صنعتی و سماجی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اس کی توجیہہ یہی تھی کہ جب ہماری قائد اس ملک میں محفوظ نہیں تو کسی کو بھی یہاں محفوظ رہنے کا حق نہیں۔ حالانکہ بے نظير کا قتل ایک گہری سازش تھی اور اب تو یہ بات بھی عیاں ہے کہ خود ان کے پاسبان اس قتل میں شامل تھے۔

نائن الیون کے بعد ملک کو امریکا کی نو آبادیاتی ریاست بنانے میں جتنا حصہ اس وقت کے آمر نے ڈالا، ہم سب اس سے بخوبی واقف ہیں۔ توجیہہ پیش کی گئی کہ وہ ہمیں پتھروں کے دور میں پہنچا دے گا۔ بلوچستان میں اکبر بگٹی کو قتل کی دھمکی دی گئی کہ انہیں وہاں سے ہٹ کیا جائے گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ کچھ ہی دین بعد انہیں قتل کردیا گیا اور توجیہہ پیش کی گئی کہ ریاست کے اندر ریاست بنا رہے تھے۔ آج بلوچستان کی موجودہ صورتحال انہی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ 12 مئي کو کراچی میں چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر پورے شہر کو آگ و خون میں نہلا دیا گیا۔ توجیہہ پیش کی گئی کہ یہ عوامی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ لال مسجد و جامعہ حفصہ میں فاسفورس بم پھینکے گئے اور توجیہہ پیش کی گئی کہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ چند ڈآلروں کے عوض بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے غیر ملکی سفیروں کو زنجیروں میں جکڑ کر غیروں گے حوالے کیا گیا اور توجیہہ پیش کی گئی کہ وہ دہشت گرد ہیں حالانکہ اس کے ثبوت آج تک پیش نہیں کیے جا سکے۔

غرض کہ ہر سطح پر اور ہر کام کے لیے ہمارے پاس اپنے کام کی وضاحت اور بہترین توجیہہ موجود ہوتی ہے۔ کسی دانا کا کیا خوب قول ہے کہ "ہم اپنے غلط کاموں کی وضاحت کے خود سب سے اچھے وکیل ہیں"۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت فرد ہم اپنی ذات کے خول سے باہر نکلیں، آفاقی ہونے کا ثبوت دیں۔ ہمارے نزدیک درست صرف وہی ہے جس کی تعلیم نبی مہربان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلّم نے دی اور تمام وہ افعال و معاملات غلط ہیں جن سے پناہ مانگی گئی۔ قرآن ہمارا مرکز ہے ۔ ہم اس گھوڑے کی طرح حدود میں قید ہیں جو گلے میں ڈلی ہوئی رسی سے آگے نہیں جاسکتا۔ مرکز کو یاد رکھنا، قرآنی تعلیمات پر مکمل ادراک و عمل کی کیفیت ہی ہمیں اس عدم مطابقت کے عمل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے ورنہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر ایسے نفسیاتی مریض ہی بن سکتے ہیں۔