عیسائی طارق جمیل - تاباں ظفر

تم بائبل ضرور پڑھو، بہت شوق ہے ناں تمھہیں تاریخ کا، بائبل میں تاریخ کا تسلسل ملے گا، یہ کوئی ایک کتاب نہیں بلکہ کئی آسمانی کتابوں کامجموعہ ہے. موسیٰ، داؤد، سلیمان بلکہ ابراہیم، اسحاق اوریعقوب کی بھی سچی کہانیاں اس میں مل جائیں گی. وونگ ہر دوسرے تیسرے روز مذہب پرگفتگو شروع کر دیتے، گفتگو کیا وہ تو سیدھا سیدھا تبلیغ پر اتر آئے تھے. میں تو ڈر رہا تھا کہیں چلے یا سہ روزے کامطالبہ نہ کر دیں. ایک شام دھیمی آواز میں بولے میں کل چرچ جاؤں گا، چلوگے، میں نیم دراز تو تھا ہی، سوتا بن گیا، ایسا نہیں کہ مجھے چرچ جانے میں کوئی امر مانع تھا، بس ویسے ہی دل نہیں چاہ رہا تھا۔

وونگ ہانگ کانگ سے ہیں، عمر باون سال، متاہل، پکےعیسائی، عیسٰی مسیح کی شفاعت پر ایمان، دنیا گھومے ہوئے، ایران میں ایک سال سے ٹکے ہوئے تھے، کہتے تھے صفائی اور امن و امان نے قدم روک لیے. ایرانی نوجوان بھی بہت مہذب اور مؤدب ہیں، ہانگ کانگ اور یورپ میں تو بڑے بوڑھوں کی کوئی عزت ہی نہیں، ذرا بال سفید ہو جائیں تو کوئی منہ نہیں لگاتا، ویسے انہیں برازیل بھی پسند تھا، کہنے لگے وہاں لوگ لوٹ تو لیتے ہیں لیکن ان میں تعصب نہیں، اللہ معاف کرے یورپ اور امریکا والے تو بہت تعصبی ہیں. میں کہتا لیکن وہ توآپ کے ہم مذہب ہیں، اس پر وہ پروٹیسٹنٹ، رومن کیتھولک اور دوسرے عیسائی گروہوں کا فرق سمجھانے لگاتے، عیسائیت پر عمل نہ کرنے والے گوروں پر لعن طعن کرتے، ان سے مایوسی کا اظہار کرتے، وہ تو نارمنز کو بھی عیسائی نہ گرادنتے، خود رومن کیتھولک ہیں اور اسی کو دین حق سمجھتے ہیں۔

ایک دن جب وہ بائبل کو آسمانی کتابوں کا انسائیکلوپیڈیا ثابت کر رہے تھے تو میں نے کہا کہ بھئی قرآن بھی توابراہیمی مذہبوں کی تائید کرتا ہے، انھی سارے نبیوں کی کہانیاں بیان کرتا ہے جن کا ذکر بائبل میں ہے تو آپ قرآن کو بھی بائبل میں شامل کیوں نہیں کر لیتے، یہ بھی تو اسی کتاب آسمانی کی گویا اگلی جلد ہے، اس کے بغیر تو آپ کی بائبل، یعنی مذہبی و تاریخی تسلسل کی کتاب نامکمل ہی رہے گی۔ کچھ سوچنے لگے، پھر اپنے پام ٹاپ پر قرآن کی ایک آیت دکھائی جس کا غالبا ترجمہ یہ تھا کہ اے اہل ایمان تم جس چیز میں شبے میں پڑ جاؤ تو ان سے پوچھو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، وونگ کہنے لگے کہ دیکھو قرآن تو خود کہہ رہا ہے کہ پچھلے اہل کتاب سے پوچھو، ویسے بھی قرآن اور اسلام نے تو زیادہ تر چیزیں یہودیت سے ہی لی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن کریم میں 'مسیحی' کوئی ایک گروہ نہیں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایک روز میں نے کہا آپ کہتے ہیں عیسائیت توحیدی مذہب ہے، ہمارے چرچ میں یسوع مسیح کے مجسمے نہیں ہوتے، تو کیا پھر آپ عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے، وونگ بولے نہیں، عیسٰی خدا ہیں، میں نے پوچھا کہ کیا وہ واحد خدا ہیں، کہنے لگے نہیں باپ بھی خدا ہے، میں نے کہا اس طرح تو دو خدا ہوگئے، نہیں خدا ایک ہی ہے باپ اور بیٹا ایک ہی ذات ہے، وونگ کے چہرے پر کچھ الجھن تھی، ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ایک کرسی پر میں بیٹھا ہوں اور دوسری کرسی پر میرا بیٹا، یعنی اس طرح تو ہم دو شخصیتیں ہوگئیں، وونگ نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی، میں نےمزید اعتراض کیا تو بولے اب اس کا جواب تو خدا ہی دے سکتا ہے، وونگ کو وحدت الوجود کی گتھیاں سلجھاتا چھوڑ کر میں فلم دیکھنے بیٹھ گیا۔

وونگ باون سال کے ہو کر بھی بہت فٹ ہیں، صبح میری آنکھ ان کی کھٹ پٹ سےکھلتی، وہ میرے کمرے میں رکھی میز پر پلیٹ چمچے رکھ رہے ہوتے، آدھ گھنٹے کی واک کے بعد تندور سے گرما گرم نان لے کر کمرے میں آتے، اپنا، میرا اور ہمارے تیسرے ہم اتاق جیانگ کا ناشتہ بنانے میں جت جاتے، چائے کو جوش دیتے، انڈے ابالتے، میز پر جیم، مکھن اور دہی رکھتے، پلیٹ میں چمچ، چھری اور کانٹا سجاتے، اس کھٹ پٹ سے میری آنکھ کھل جاتی، اکتیس سال کا جیانگ پڑا سوتا رہتا جس پر وونگ بہت جزبز ہوتے، اکثر مجھ سے سرگوشی کرتے، یہ لڑکا اپنے ماں باپ کا اکیلا بیٹا ہےاس لیے بہت لاپروا، لاابالی اور تھوڑا سا خود غرض ہے، فیملی بڑی اور بچےزیادہ ہونے چاہییں، اس طرح وہ لوگوں کےساتھ مل جل کر رہنا سیکھتے ہیں، وونگ کو مسلمانوں کی یہی بات پسند تھی کہ ان کے بچے زیادہ ہوتے ہیں اور ابھی تک خاندان بڑی حد تک جڑے ہوئے ہیں.

وونگ کو پیراکی کا بھی بہت شوق تھا، ہر دوسرے روز شام کو سوئمنگ پول جاتے، میں نے کہا مجھے بھی پیراکی سکھا دیں تو اگلے ہی روز میرے لیے سوئمنگ کاسٹیوم لے آئے، اب ہم تھے اور جناب وونگ کی استادی، سوئمنگ پول جا کر کھلا کہ وہ تو بہت مقبول آدمی ہیں، سوئمنگ پول آنے والا ہر دوسرا نوجوان ان سے علیک سلیک کرتا اور سوئمنگ ٹپس لیتا، وونگ مجموعی طور پر خوش اخلاق، دوسروں کی مدد کرنے والے ہمدرد انسان ہیں، اس لحاظ سے بھی وہ واقعی پکے عیسائی اور اپنی مذہبی تعلیمات پر ایمانداری سے عمل کرنے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عیساںٔیت - مفتی سیف اللہ

وونگ نے ایک روز بتایا کہ ان کا خاندان بدھسٹ تھا، اٹھارہ سال کے تھے تو کچھ عیسائی مبلغوں نے عیسٰی مسیح کا پیغام پہنچایا، وونگ پہلے ہی سے بدھ مت سے دور ہو چکے تھے، وہ سوچتے تھے کہ جو لوگ مر جاتے ہیں، کیا بالکل فنا ہو جاتے ہیں؟ جو مظلوم مرا یا جس کا حق دبا لیا گیا، اسے کبھی حق نہں ملےگا؟ اس کے دکھ کا کوئی مداوا نہیں ہوگا، بدھ مت میں ان سوالوں کا جواب نہیں تھا، عیسائیت نےموت کے بعد کی زندگی کا فلسفہ دے کر ان کی یہ الجھن سلجھا دی، اور پھر عیسی کی شخصیت اور ان کی انسان ذات کے لیے قربانی اور محبت کے پیغام نے انہیں گرویدہ کر لیا. ایک روز میں نے کہا وونگ میں ایک پیش گوئی کر رہا ہوں، اگلے کچھ سال میں آپ مسلمان ہو جائیں گے، اور اس کے کچھ سال بعد دوبارہ بدھ۔ وونگ نے بہت تیزی سے اپنی گردن دائیں سے بائیں ہلائی، منہ سےکچھ نہ بولے۔ ایک دن کہنے لگے میری والدہ اپنے عقیدے میں بہت سخت تھیں، ان کے ہر کمرے بلکہ باورچی خانے میں بھی مورتیاں تھیں، میں نے ٹوکا، لیکن بدھ مت میں تو بت پرستی نہیں ہے، کہنے لگے ہاں یہی تو۔ بت پرستی نہ ہوتے ہوئے بھی لوگ بت پرست ہوگئے ہیں، میری ماں کی بھی کوئی پیسے کی مورتی تھی تو کوئی سکون کی۔ لیکن ہمارے گھرمیں سکون نہیں تھا، میرے ابا اور اماں ہر وقت لڑتے رہتے، گھر میں ہمیشہ چخ چخ رہتی۔ میں بھی لگا رہا، آخر بڑھاپے میں والدہ نے ’’دین حق‘‘ قبول کر لیا، والد اور بھائی پہلے ہی عیسائی ہو چکے تھے، پھر تو سب لڑائی جھگڑا ختم ہوگیا، والدہ اور والد شیروشکر ہو کر رہنےلگے،گھر سمجھو جنت کا نمونہ بن گیا. میں وونگ کی شکل دیکھ رہا تھا کہ یہ ہانگ کانگ کا عیسائی انجینئر ہے، مولاناطارق جمیل یا ڈاکٹر ذاکر نائک.