جنازہ، تعزیت اور ہماری بےحسی - بشارت حمید

کچھ عرصہ قبل ایک جنازہ میں‌ شرکت کا اتفاق ہوا۔ میت سامنے پڑی ہوئی تھی، ابھی صفیں درست نہیں ہوئی تھیں، لوگ جابجا ٹولیوں میں‌ کھڑے ہوئے ایسے گپ شپ کر رہے تھے جیسے کسی فنکشن میں شریک ہونے کے لیے آئے ہوں۔ کوئی اپنے موبائل کے ساتھ کھیل رہا تھا تو کوئی کسی جان پہچان والے کے ساتھ مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔ ایک صاحب کو وہیں کھڑے کسی اور فوتیدگی کی کال آ گئی، وہ اس جلدی میں تھے کہ یہ نمازہ جنازہ اٹینڈ کر کے وہ فوری نکل جائیں، تاکہ دوسری میت کو بھی اسی روز بھگتایا جا سکے۔

نوے کی دہائی کے آس پاس تک کہیں کوئی فوت ہوجاتا تھا تو کئی کئی دن اس محلے میں سوگ کی سی کیفیت رہتی تھی، لوگ کئی دنوں تک لواحقین کے ساتھ افسوس کرنے آتے رہتے تھے۔ مرحوم کی اچھائیاں بیان کی جاتیں اور اپنی موت کو یاد کیا جاتا کہ ہم پر بھی یہ وقت آنے والا ہے۔ لیکن مادہ پرستی، دولت کی ہوس، شہرت کی طلب اور اس طرح کے دیگر عوامل نے ہمیں‌ بے حس بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب تو کم ہی ایسے گھرانے ہوں گے جہاں میت پر سوگ کا ماحول ہو گا یا لوگ وہاں بیٹھ کر اپنی عاقبت کے بارے بھی سوچتے ہوں گے ورنہ تو صورتحال بہت عجیب طرزعمل اختیار کر چکی ہے۔

فیشن انڈسٹری نے اس میدان میں بھی اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں، اب خواتین کے لیے مرگ کا سوٹ الگ ہے جنازے کا الگ، ددوسرے تیسرے دن کا الگ یہاں‌ تک کہ پارلرز میں اس موقع کی مناسبت سے میک اپ کی سہولت بھی موجود ہے۔ اتنی بےحسی ہم پر چھا چکی ہے کہ ہم اپنی موت کو بالکل ہی فراموش کیے بیٹھے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مرنے والا تو فلاں بیماری میں مبتلا تھا، اس لیے مر گیا میں تو تندرست ہوں، مجھے ابھی بہت دیر ہے۔ فلاں کا ایکسیڈینٹ ہوا تو مر گیا، میں تو بہت اچھا اور ماہر ڈرائیور ہوں، مجھے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ سوچ ذہن میں پیدا ہی نہیں ہوتی کہ روزانہ جو لوگ حادثات کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی گھر سے یہ نیت اور ارادہ کر کے نہیں نکلتا کہ آج میں نے یہ حادثہ کر کے ہی آنا ہے۔ حادثہ تو ہوتا ہی وہ ہے جو اچانک ہو جائے۔

نماز جنازہ میں شریک ہونے کا مقصد ہمارے دین کی تعلیمات کے مطابق مرنے والے کے لیے دل سے مغفرت اور اس کی بخشش کی دعا کرنا ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم میں سے اکثر کو جنازہ کا طریقہ اور دعا ہی نہیں آتی۔ پھر جو لوگ شریک ہوتے ہیں، ان میں سے اکثر کا مقصد لواحقین کو مل کر اپنی منہ دکھائی کرنا ہوتا ہے کہ ہم جنازے میں آئے ہیں، اس میت کے لیے دعا تو ویسے ہی ثانوی درجے پر ہوتی ہے۔ جنازے کے بعد جو لوگ افسوس کرنے آتے ہیں وہ بھی بس چند لمحے منہ میں خاموش دعا کرکے پھر فوری بعد وہی دنیا داری کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں جو عام روٹین میں کی جاتی ہیں۔ وہاں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنا یا اپنی عاقبت کے بارے غوروفکر کرنا اب ہمارے معمولات میں شامل ہی نہیں۔ میت کے گھر میں جو بعد کی رسومات ہوتی ہیں، لوگوں کے نزدیک وہ جنازے میں شرکت سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں، حالانکہ ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ رسومات برصغیر کے باہر دوسرے مسلم معاشروں میں‌کوئی وجود ہی رکھتی ہیں۔ ہمارے نزدیک جنازے میں شریک ہونا چاہے رہ جائے، لیکن بعد کی رسم میں شرکت رہ گئی تو پھر بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

اصل مقصد عبرت حاصل کرنا ہے جو کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ کسی کے اس دنیا سے جانے پر دوسروں کے لئے عبرت کا سامان یہ ہے کہ اس کے پاس وقت ختم ہو چکا لیکن تمھارے پاس ابھی مہلت عمل باقی ہے، اب بھی ہوش کر لو کہ وقت کا دھارا ایک ایک لمحے ایک ایک سانس کے ساتھ زندگی کی مدت کم کرتا جا رہا ہے، اور کسی کو بھی علم نہیں کہ کب اور کس جگہ اس کی مہلت اپنے اختتام تک جا پہنچے۔ اللہ تعالٰی ہمیں اس بے حسی کی زندگی کو چھوڑ کر آگہی اور شعور والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بشارت بھائی. میں تصحیح کرنا چاہوں گی کہ نماز جنازہ فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے جسے ہمارے ہاں دنیا داری اور دکھاوے کے لیے نہایت ضروری سمجھ لیا گیا ہے. تعزیت کرکے ضروری نہیں کہ وہاں بیٹھا جائے یا موت کو وہیں بیٹھ کر یاد کیا جائے. کیونکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ لوگ مرگ والے گھر میں دنیا جہان کی باتیں، خوش گپیاں، غیبت، چغلی میں مشغول ہو جاتے ہیں. جو کہ زیادہ بڑے گناہ ہیں. ہماری عبادات بھی اب ظاہری دکھاوے کی حد تک رہ گئی ہیں . باقی تحریر سے متفق ہوں

    • میں نے نماز جنازہ کو فرض تو نہیں لکھا بس اس بے حسی کا ذکر کیا ہے جو جنازہ میں شریک ہونے والے لوگوں پر طاری ہو چکی ہے۔ نماز جنازہ مرنے والے مسلمان کا زندہ مسلمانوں پر ایک حق ہے جسے حدیث میں بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس مرنے والے کی مغفرت کی دعا کریں لیکن اب یہ بھی رسم بن چکی ہے۔ مقصد صرف اس موقع کی سنگینی کا احساس دلانا ہے۔ اتفاق کرنے کا شکریہ