بین المسالک ہم آہنگی اور مفاہمت - مفتی محمد اسحاق المدنی

فرقہ واریت ایک حقیقت ہے اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے آج علماء ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔ فرقہ واریت کی آگ نے نہ صرف ہمارے ملک بلکہ دیگر ممالک کو بھی برباد کردیا ہے۔ فرقہ واریت کے جہاں مذہبی پہلو ہیں وہیں دیگر ممالک کے پس پردہ مقاصد بھی ہیں۔ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال نے بھی اس آگ کو بھڑکانے میں اپنا پورا پورا حصہ ڈالا ہے۔ اس صورتحال میں اگر ہمارے علماء اپنے اپنے مسالک کے پابند رہتے ہوئے صرف دیگر مسالک کو برا بھلا کہنے، گالی گلوچ اور کفر کے فتوے لگانے سے احتراز کریں اور اپنے مسلک کے علاوہ دیگر مسالک کوبرداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں اور اپنے متبعین کی اخلاقی، علمی اورعملی تربیت کا اہتمام کریں تو اس آگ کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر ہم اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جل کر نہ صرف خود خاکستر ہوجا ئیں گے بلکہ شاید اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اس فرقہ واریت کی آگ سے نہ بچا پائیں گے۔

اسلام دینِ اعتدال ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسلام کا لغوی مفہوم ہی سلامتی، امن، سکون اور تسلیم و رضا ہے۔ امن و سکون مہذب انسانی معاشرے کی اعلیٰ خصوصیت ہے جہاں توازن و اعتدال نہیں، وہاں ظلم و تشدد ہے اورظلم درندگی کی علامت ہے انسانیت کی نہیں۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ دینِ اعتدال کی حیثیت سے اسلام زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف اور میانہ روی کا داعی ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی جہاں بھی اور جس بھی معاملے میں ہو گی اس کا انجام انتہائی خطرناک، مہلک اور عبرتناک ہو گا۔ اس لیے دینِ فطرت ہمیں انفرادی، قومی اور بین الاقوامی سطح کے جملہ معاملات میں توازن و اعتدال برقرار رکھنے کا سختی سے حکم دیتا ہے۔ وہ نظامِ سیاست و معیشت ہو یا جہان فکرو نظر، میدانِ جہاد ہو یا تبلیغ و اقامتِ دین، حقوق العباد کی ادائیگی ہو یا حقوق اللہ کی بجا آوری، سماجی اقدار کا معاملہ ہو یا مذہبی اعتقادات کا، الغرض جس جس گوشے کو جس جس زاویے سے بھی دیکھا جائے اس میں حسنِ توازن جھلکتا نظر آئے گا۔

اس وقت امتِ مسلمہ کی تباہی اور بے سروسامانی کی وجہ اگرچہ ہر شعبہ حیات میں عدمِ توازن اور بے اعتدالی ہے لیکن ہمارے ملک میں بدقسمتی سے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ہر جماعت، طبقہ اور قیادت اپنے علاوہ ہر ایک کو صفحہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے پر تلی ہوئی ہے سوچ و فکر کی اس شدت اور انتہاپسندی نے ہمیں ان راہوں پر گامزن کر دیا ہے جو آگ اور خون کی وادیوں میں جا اترتی ہیں۔

اگر ہم طبیعت، مزاج اور زاویۂ نگاہ میں اعتدال اور میانہ روی لائیں اور ایک دوسرے کی بات کو خندہ پیشانی اور تحمل سے سننے اور برداشت کرنے کی خُو پیدا کر لیں تو تضاد اور مخاصمت کی فضا کی جگہ باہمی موافقت و یگانگت اور محبت و مروت ہماری زندگیوں میں آجائے گی۔ نفرت کی وہ دیوار ہمارے درمیان سے ہٹ جائے گی جو ملّی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر مذہبی رواداری اور تحمل و بردباری ہمارا شیوہ بن جائے تو بہت سے مسلکی فروعی اختلافات ختم یا کافی حد تک کم ہو سکتے ہیں ان اقدامات سے امتِ مسلمہ کے اندر تباہ کن انتشار و افتراق کا یقینی خاتمہ ہو جائے گا اور امت مسلمہ کو فرقہ واریت کی لعنت میں مبتلا دیکھنے والی طاقتوں کے عزائم خاک میں مل جائیں گے۔

جسدِ ملت میں فرقہ پرستی اور تفرقہ پروری کا زہر اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ نہ صرف اس کے خطرناک اثرات کا احساس و ادراک ہر شخص کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کے تدارک اور ازالے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے گردو پیش میں تیزی سے جو حالات رونما ہو رہے ہیں ان کی نزاکت اور سنگینی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم نوشتہء دیوار کو پڑھیں اور اپنے درمیان سے نفرت، بغض، نفاق اور انتشار و افتراق کا قلع قمع کرکے باہمی محبت و مودت، اخوت و یگانگت، یکجہتی اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ اسی میں ہماری فلاح و بقا اور نجات مضمر ہے۔ فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

وہ مسلمان جو کبھی جسد واحد کی مانند تھے فرقہ واریت کی لہر نے انہیں گروہوں اور طبقات میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔

اسی امر کی طرف اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے یوں اشارہ کیا ہے:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

اسی فرقہ واریت کے باعث ہم عروج کی بجائے زوال کی طرف گامزن ہیں وہ مساجد و امام بارگاہیں جو امن و آشتی کا مرکز تھیں آج لوگ قتل و غارت گری کے خوف سے ان میں داخل ہونے سے کتراتے ہیں۔ وہ مسلمان جو بھائی بھائی تھے آج فرقوں اور گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔

عصر حاضر میں باعزت مقام اور اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لیے امت مسلمہ کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ آج ہمیں عقیدے اور مسلک کے نام پر پروان چڑھنے والے فتنوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہماری باہمی چپقلشوں کے باعث اسلام دشمن قوتیں اپنی بھرپور یلغار کے ذریعے چراغ مصطفوی کو بجھانے کے لیے سرگرداں ہیں۔ مسلمانوں کے متحد نہ ہونے کے باعث اسلام پر آئے روز حملے ہو رہے ہیں اسلام کو دنیا کے سامنے دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید میں تحریف کی ناپاک جسارتیں ہو رہی ہیں اگر ہم نے عصر حاضر کے ان چیلنجز کو نہ سمجھا اور ان کے مقابلے کے لیے منصوبہ بندی نہ کی تو ہمارا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیا جائے گا کیونکہ یہ قانون فطرت ہے کہ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اتحاد و اخوت کے فروغ اور فرقہ پرستی کے خاتمہ کا ممکنہ لائحہ عمل

  • اتحاد و اخوت کے فروغ اور فرقہ پرستی کے خاتمہ کے لیے درج ذیل اصول و ضوابط پر مشتمل ایک ہمہ گیر لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔
  • عقائد و اعمال کے مشترک پہلو تلاش کرکے باہمی اخوت و اتحاد کو فروغ دیا جائے اور تمام تر اختلافات کا خاتمہ کیا جائے۔
  • متنازع اور تنقیدی کی بجائے مثبت اور غیر تنقیدی اسلوبِ تبلیغ اختیار کیا جائے۔
  • حقیقی رواداری کا عملی مظاہرہ کیا جائے اور عدمِ اکراہ کے قرآنی فلسفے کو اپنی زندگیوں میں لاگو کیا جائے۔
  • دینی تعلیم کے لیے مشترکہ اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ آپس میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔
  • علماء کے لیے جدید عصری تعلیم کا اہتمام کیا جائے تاکہ مناظرانہ اور مجادلانہ طرزِ عمل کا خاتمہ ہو۔
  • تہذیبِ اخلاق کے لیے مؤثر روحانی تربیت کا انتظام کیا جائے۔
  • منافقانہ اور خفیہ فرقہ پرستی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
  • تمام مکاتبِ فکر کے نمائندہ علماء پر مشتمل قومی سطح کی سپریم کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے۔
  • ہنگامی نزاعات کے حل کے لیے سرکاری سطح پر مستقل مصالحتی کمیشن قائم کیا جائے۔
  • مذہبی سطح پر منفی اور تخریبی سرگرمیوں کے خلاف عبرتناک تعزیرات کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔

درج بالا عملی اقدامات سے فرقہ پرستی کی لعنت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

اگر ہم فرقہ واریت کی لعنت پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنی پیغام واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا کو اپنا حرزِ جاں بنانا ہو گا اور برداشت، اخوت اور رواداری کو اپناتے ہوئے جسد واحد کی طرح متحد ہونا ہو گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم باہمی اختلافات کو فراموش کر کے اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور اسلام کے خلاف ہونے والے منفی پراپیگنڈے کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیں، ہمیں اس واضح حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کی بقا اور اس کا عروج فرقہ پرستی اور گروہی اختلافات میں نہیں بلکہ باہمی اتحاد و یکجہتی میں پنہاں ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • بہت احترام کے ساتھ سب سے اہم چیز لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ اور وہ ہے عربی زبان کی ترویج اور قرآن کے سلسلہ وار عوامی دروس۔ قسم رب کی جسکی ہاتھ میں ہم سب کی جان ہے، قرآن کے دورے کرنے سے ہی عقائدو اعمال میں مسلکی اختلافات ختم نہ بھی ہوں۔ انکی شدت انتہائی کم ہوجائے گی۔ جب عوام میں شدت کم ہونا شروع ہوگی تو آگ لگانے والوں کا زور ٹوٹے گا۔ کونسلیں ، کمیشنز، کمیٹیاں، رویے، رابطے سب نسخے بھی تبھی کار آمد ہونگے ۔