جنگل کا پھول - ام محمد سلمان

ایک دن کلاس میں کوئی لڑکی ناموں کے معنوں والی کتاب لے آئی، بڑا ہنگامہ تھا۔ فارغ پیریڈ میں سب لڑکیاں بڑے شوق سے اپنے اپنے ناموں کا مطلب دیکھنے لگیں۔ کوئی حمیدہ، کوئی صالحہ، جمیلہ، نورجہاں، شمیم، ماہ جبین، سعیدہ۔۔۔ سب کے ناموں کے اچھے اچھے مطلب اور جب میری باری آئی تو۔۔۔۔ ہائے اللہ! یہ کیا ہوگیا؟ نیلوفر کا مطلب، ایک پھول ہے جو جنگل میں کھلتا ہے۔ سب لڑکیاں مجھے دیکھ کر ہنسنے لگیں بلکہ مذاق اڑانے لگیں "جنگلی پھول! جنگلی پھول!"

میں بہت دلبرداشتہ ہوئی تھی اس دن۔ بار بار آنکھیں چھلکنے کو بےتاب ہو جاتی تھیں۔ گھر آئی تو بڑی بےچینی سے اباجی کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ جب شام کو وہ آئے تو میں منہ پھلائے بیٹھی تھی

"اباجی! میرا نام کس نے رکھا تھا؟" بڑا احتجاجی انداز تھا میرا۔

اباجی ہنسنے لگے، "آج تو میری بٹیا کا رنگ ہی بدلا ہوا ہے، کیا ہوگیا بھئی؟"

"اباجی! بس مجھے بتادیں میرا نام نیلوفر کیوں رکھا؟"

"اری بٹیا! کچھ بتاؤ تو سہی، ہوا کیا ؟"

"آج کلاس میں سب نے میرا مذاق اڑایا۔ مجھے جنگلی پھول کہہ کر چھیڑا سب نے۔ کیا میں جنگلی پھول ہوں؟" ابا ہنسنے لگے

"ارے میری پاگل بٹیا! جنگلی پھول نہیں بلکہ جنگل میں کھلنے والا پھول۔ باغ میں تو بہت پھول کھلتے ہیں بیٹا۔ مزا تو تب ہے جب کوئی پھول جنگل میں کِھلے۔ میری بٹیا وہ پھول ہے جو جنگل میں خوشبو بکھیر دے گی۔" یوں ابا نے مجھے بہلا لیا۔ "چل چھوڑ تو ساری باتیں۔ یہ دیکھ میں اپنی بیٹی کے لیے چلغوزے لے کر آیا ہوں۔"

"اللہ! ابا جی، کتنے اچھے ہیں آپ؟"

اور میں جنگلی پھول کا سارا غم بھول کے چلغوزوے کھانے لگی۔

کتنی محبت کرتے تھے میرے ابا مجھ سے؟ بچپن میں جب شام کے وقت میں شوق شوق میں روٹی پکانا سیکھتی تو گھر میں کوئی بھی میرے ہاتھ کی روٹی کھانا پسند نہ کرتا۔ بہن بھائی تو خوب مذاق اڑاتے۔ روٹی کو پکڑ کے ہوا میں لہراتے اور نجانے کون کون سے ملکوں کے نقشوں سے ملاتے۔ ایسے میں ایک دن ابا جی گھر میں آگئے، سب کو ڈانٹا کہ "میری بیٹی کا مذاق اڑا رہے ہو تم لوگ؟ تم سب کا گھر دھوپ میں بنادوں گا میں۔ "

"ہاں ابا جی! سب کا گھر دھوپ میں، بس میرا گھر چھاؤں میں بنے گا۔"

اور ابا میری بات پر خوب ہنستے، "چل ٹھیک ہے بیٹا، لا اب روٹی لے کر آ۔ میں بھی تو دیکھوں کیسی روٹی پکائی میری بٹیا نے۔"

اور میرے شفیق ابا، جو ذرا سی روٹی جل جانے پر میری اماں کو ڈانٹتے تھے، کتنے شوق سے میرے ہاتھ کی ٹیڑھی میڑھی اورکہیں سے جلی، کہیں سے کچی روٹی کھا جاتے۔ "واہ بیٹا واہ! کتنے مزے کی روٹی ہے، تو روز شام کو میرے لیے دو روٹیاں پکایا کر، میں کھاؤں گا اپنی بیٹی کے ہاتھ کی روٹی۔"

اور میں ایسی خوش جیسے ہفتِ اقلیم کی دولت مل گئی ہو۔ پھر میں اس شوق میں کہ یہ روٹی میرے ابا نے کھانی ہیں۔ خوب اچھی کر کے پکانے کی کوشش کرتی۔ یوں ابا کی شفقت نے مجھے بہت اچھی روٹی پکانا سکھا دیا۔ کچھ امی بھی ساتھ رہنمائی کرتی رہتی تھیں۔

یونہی کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ وقت گزرتا رہا۔ میں خود ابا کے جوتے پالش کرتی، ان کے کپڑے استری کر کے دیتی، ان کے لیے تیز پتی والی چائے بناتی اور بدلے میں ابا کا ڈھیروں پیار پاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   مستقبل کی دنیا اور بچوں کی تربیت - عبدالوہاب شیرازی

بچپن کا زمانہ تھا، کتنی جلدی گزر گیا؟ ابا کی ٹھنڈی چھاؤں کب شوہر کی کڑی دھوپ میں بدل گئی، پتہ بھی نہیں چلا۔ پتہ جب چلا جب پھول کی آزمائش کا وقت آیا۔ اب سمجھ میں آیا ابا کیا کہنا چاہتے تھے؟ کیا سمجھانا چاہتے تھے مجھے؟ پھولوں سے بھرے باغ میں ایک نئے پھول کا اضافہ توکوئی بڑی بات نہیں۔ کوئی پھول جنگل میں اپنی تازگی اور خوشبو کو برقرار رکھے تو بات ہے!

بے دینی کا بے آب وگیاہ جنگل!

کفر اور جہالت کی خاردار جھاڑیاں!

زمین پر چارسو بکھرے بدگمانی کے کانٹے!

بےاعتباری کے ٹنڈ منڈ درخت، جن میں کوئی سایہ نہیں، کوئی ٹھنڈک نہیں!

ایسے اجاڑ، ویران جنگل میں، اپنی بقا کی جنگ لڑتا ایک نازک سا پھول!

نہ سر پر کسی کی محبت کا آنچل

نہ کاندھوں پر کسی کی رفاقت کا احساس

اور بار بار آسمان کی طرف اٹھتی فریادی نگاہیں

کئی بار تو ایسا لگتا کہ یہ سب ایک ڈراؤنا خواب ہے، ابھی آنکھ کھلے گی اور سب کچھ پہلے جیسا ہوجائے گا

مگر کب تک حقائق سے نظریں چرائی جاسکتی ہیں؟ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا آخر کار کرنا ہی پڑتا ہے۔ ماں باپ کے گھر سے سنہرے خواب ساتھ لیکر آنے والی لڑکیاں، باپ کی شفقت، ماں کا پیار، بہن بھائیوں کی پرخلوص محبت، سہیلیوں کا شوخ وچنچل ساتھ، سب کچھ چھوڑ کر آنیوالی، نکاح کے دو بولوں پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے والی، باقی سب کچھ تو ثانوی چیزیں ہیں، مگر شوہر ہی آزمائش بن جائے، تو کس کے سہارے جیا جائے؟

کبھی تنہائیوں میں رب کو پکارا کبھی سجدوں میں روئی، کبھی اللہ کے سامنے شکوہ بھی کرنا چاہتی تو دل کانپ جاتا۔ نہیں نہیں! میرا رب تو ستّر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے۔ اللہ نے تو قرآن میں فرمایا ہے لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا وہ کسی کو اس کی بساط سے بڑھ کر نہیں آزماتا۔ یہ تو میرے ہی حوصلے کی کمی ہے جو میں اتنی دل گرفتہ ہوں۔ ورنہ یہ مجھ پر میرے رب کی مہربانی ہے کہ مجھے اس آزمائش کے لیے چنا۔

پھر بچپن میں کہی گئی ابا کی بات یاد آتی "بیٹا! کوئی پھول جنگل میں اپنی خوشبو اور تازگی برقرار رکھے تو بات ہے نا!" سچ ہی تو کہا تھا ابا نے۔ پھولوں سے بھرے باغ میں ایک اور پھول کا اضافہ، یعنی اچھوں کے ساتھ اچھوں کا مل جانا کونسی بڑی بات ہے؟ اچھوں کے ساتھ اچھائی کرنا تو کوئی بڑی بات نہیں۔ بات تو تب ہے جب آپ لوگوں کی برائی کا جواب بھی بھلائی سے دیں۔

اور انسان کوشش کرے تو کیا نہیں ہوسکتا؟ قوت ارادی مضبوط ہونی چاہیے۔ تقدیر پر ایمان پختہ ہونا چاہیے بس، جو نفع نقصان میرے رب نے میرے لیے لکھ دیا ہے، وہ مجھے ہی ملے گا، کسی اور کو نہیں مل سکتا۔ اور جو کچھ میرے لیے لکھا ہی نہیں گیا وہ مجھے کسی صورت نہیں مل سکتا۔ پھر رونا کس بات کا؟

لوگوں نے میرے ساتھ کیا کِیا؟ اس کا جواب انہیں خود دینا ہے۔ مجھے تو اپنے رب کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے کہ میں نے دوسروں کے ساتھ کیا کِیا؟ اور جب انسان ہمت کر لیتا ہے ، اپنے لیے ایک راہ متعین کر لیتا ہے، ایک مقصد ِ حیات بنا لیتا ہے، تو پھر اس مقصد کے حصول کی خاطر راستے کی ہر مشکل آسان ہوتی جاتی ہے۔ یہ گھر میرا ہے، یہ سب میرے اپنے ہیں، کیا ہوا اگر ابھی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کے بادل چھائے ہیں؟ محبت سے تو لوگ خوفناک درندوں کو بھی سدھا لیتے ہیں، انسان تو پھر اشرف المخلوقات ہے۔ ذرا سی خلوص کی چاشنی اور محبت کی گرمی سے موم کی طرح پگھلنے لگتا ہے۔

محبت اور خدمت دو بہت طاقتور ہتھیار ہیں کسی کا دل جیتنے کے لیے، اور میں نے یہی راستہ چن لیا۔ میں اکثر سوچا کرتی، اسکول کالج کے زمانے میں ہم اپنی تعلیم کے دوران کتنے سخت مراحل سے گزرتے ہیں ہر طرح کی مشکلات کو سہتے ہیں، رات دن ایک کردیتے ہیں، صرف پوزیشن کے حصول کے لیے، ایسی پوزیشن جو شاید ہماری آخرت کے لیے کچھ بھی کام آنے والی نہیں۔ پھر جب ہماری عملی زندگی شروع ہوتی ہے تو ہم چھوٹی چھوٹی مشکلات سے گھبرا جاتے ہیں۔

آخر ہم اپنوں کا دل جیتنے کے لیے اتنی کوشش کیوں نہیں کرتے جتنی کوشش ہم ڈگریوں کے حصول میں کرتے ہیں؟ اپنی ساری ذہانت، توانائیاں، صلاحیتیں وہیں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کے معمولی معمولی عہدوں کے لیے اپنی جان کھپا دیتے ہیں اور اپنی ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کی ویسی کوشش نہیں کرتے جیسا کہ حق ہے۔ عورت چاہے کتنی تعلیم یافتہ ہوجائے، کتنی ہی حسین و جمیل ہو جائے، اس کی قدر تب ہی ہوتی ہے جب وہ اپنی ازدواجی زندگی کو اچھی طرح لیکر چلے، شوہر کی عزت، اس سے محبت اور رشتوں کی قدر کرنا سیکھے۔

نانی اماں کہا کرتی تھیں، خدمت سے دل جیتے جاتے ہیں۔ چاند پیارا نہیں ہوتا، کام پیارا ہوتا ہے لڑکیو! کچھ گھر گھرہستی بھی سیکھ لو۔ اچھی صورت صرف چار دن کی چاندنی ہے۔ پھر تمہارا سلیقہ ہی تمہارے کام آئے گا اور کچھ برداشت کی عادت بھی ڈالو۔۔۔۔۔ اپنی نازک مزاجیاں یہیں میکے میں چھوڑ کے جانا!

اور پھر میں نے چھوڑ دیا سسرال کا میکے سے موازنہ کرنا۔ ہمت کرنی ہے، حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ طے کرلیا کہ خدمت، محبت، ایثار، وفا، قربانی یہی وہ اصول ہیں جن سے اس ویران جنگل میں خوشبو اور تازگی بکھیری جا سکتی ہے۔ پھر ایک دن آئے گا یہ پھول جنگل کا پھول نہیں بلکہ جنت کا پھول ہوگا۔

دنیا میں جنت نہیں ملتی، مگر ہم تھوڑا سا برداشت اور صبر و تحمل سے کام لیں تو زندگی آہستہ آہستہ خوبصورت ہونے لگتی ہے۔ حدیث میں تو آتا ہے کہ دنیا کی نیک عورت جنت میں حوروں سے بھی افضل ہوگی، اپنے ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال کی بدولت، حسن میں، جمال میں، کمال میں، مرتبے میں، عزت و افتخار میں، ہر چیز میں حوروں سے افضل۔

تو پھر ہماری نظر اس مقام تک کیوں نہیں جاتی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رکھا ہے؟