حماقت کی سرحد - جابر ریان

کہا جاتا ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہم تو کہتے ہیں کہ حماقت کی بھی کوئی سرحد نہیں ہوتی بلکہ اس کی حد بھی کوئی نہیں ہوتی۔

پاکستانی ڈراموں کی حماقت تو خیر اپنی جگہ، ہندی ڈرامے حماقت میں کئی نوری سال آگے ہیں۔ ہم تو گویا ان کے سامنے طفلِ مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنہیں بھنڈ مارنے کا سلیقہ ہے نا طریقہ۔ مثلاً ہندی ڈرامے ایک بار شروع ہوجائیں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ گویا کہ ان کا ماننا ہے "شروع ہم نے کردیا، ختم بھگوان کرے گا"۔

سالہا سال ڈرامہ چلتا ہی رہتا ہے۔ پہلے لڑکے لڑکی کی محبت پروان نہیں چڑھتی۔ پھر ان کے خاندان والوں کے مزاج نہیں ملتے۔ پھر ان کے خلاف ہونے والی سازشیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔ دس بارہ سال ڈرامہ اسی گھمن گھمیری میں چلتا رہتا ہے۔ درمیان میں ضرورت پڑے تو ہیروئن کی سرجری یا کسی اور حادثے کا ناٹک رچاکر ہیروئن بدل دی جاتی ہے۔ ایک ڈرامہ آیا کرتا تھا۔ جس میں "گوپی" نامی بے وقوف سی ہیروئن ہوا کرتی تھی۔ کئی سال چلا۔ اختتام تک تین گوپیاں بدلی گئیں اور ہیرو "ارہم" نامی ایک ہی رہا۔ بقول ہمارے "کھان صاحب" اسے بھی بدل لو، بے چارے کو ارلی (پھپھوندی) لگ رہی ہے۔

آج کل بلکہ آج تک اکشرا نامی ہیروئن کا ڈرامہ چل رہا ہے۔ اب وہ خود تو مرگئی مگر اس کے بچوں کی کہانی چل رہی ہے۔ دس سال سے زائد ہوچکے اس ڈرامے کو۔ ہماری سابقہ اور حالیہ لڑکیاں اب بھی اسے دیکھ رہی ہیں۔ نجانے کتنا عرصہ مزید دیکھنا پڑے۔

اس کے علاوہ ہندی ڈراموں کی ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ سارے کردار کھڑے کھڑے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ صوفے کرسیاں ہونے کے باوجود ہم نے انہیں کھڑے کھڑے باتیں کرتے دیکھا۔ سو قسطیں ہوں تو ایک قسط ایسی ہوگی جس میں یہ بیٹھے ہوئے نظر آئیں گے۔ وہ بھی فقط کھانے کی میز پر۔

نیز ان کی خواتین کے کپڑے کئی کئی قسطوں تک وہی چلتے رہتے ہیں۔ دس بارہ اقساط ایک ہی جوڑے میں نمٹالی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ ہمیں تو یہ سمجھ آتی ہے کہ ان کا ایک سین ہی کئی قسطوں میں مکمل ہوتا ہے۔ مثلاً گھر کی جوان الہڑ مٹیار قسم کی نادان سی لڑکی کی جاب کا مسئلہ چھڑا ہوا ہے تو ایک ماہ تک اسی گفتگو پر قسطیں چلتی رہیں گی۔ کوئی حمایت کرے گا اور کوئی مخالفت۔

پھر ان میں دکھائی جانے والی خواتین ہمہ وقت سولہ سنگھار سے آراستہ اور زیورات سے لدی نظر آتی ہیں۔ رات دو بجے کا بھی سین ہو اور سب گھر والےہنگامی حالت میں کمروں سے نکل نکل کر لاؤنج میں جمع ہورہے ہوں۔ تب بھی سب نے سارے زیورات خود پر سجائے ہوتے ہیں۔ یہاں کھان صاحب کہتے ہیں "ساید ان کے ہاں تجوریاں بنانے کا رواج نہیں۔ اسی طرح سوجاتے ہیں۔ بنا اُتارے۔"

پھر ہیرو کی ماں بوڑھی نہیں ہوتی جبکہ باپ دنوں میں بوڑھا ہوتا رہتا ہے۔ ماں بیٹے ساتھ جارہے ہوں تو بہن بھائی لگتے ہیں۔ بلکہ بعض مائیں تو بیٹے کی چھوٹی بہن دکھتی ہیں۔ بجائے ناموں یا مختصر سے لقب کے مکمل رشتے کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔ ساسو ماں، چھوٹی بہو، بڑی بہو، دیورانی جی، جٹھانی جی، چھوٹی نند، بڑی نند، سب کو رشتوں سے پکارا جاتا ہے۔ چونکہ ان ڈراموں میں مردوں کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کے القاب ہمیں بھی یاد نہیں۔

اگر دس افراد کے درمیان سنجیدہ گفتگو ہورہی ہو تو کیمرہ بار بار ہر بندے کا چہرہ دکھاتا ہے۔ ایک بندہ بات کرتا ہے اور باقی نو افراد کے تاثرات باری باری دکھائے جاتے ہیں۔ بلکہ جب کیمرہ چہرے پر پڑتا ہے۔ اس کے بعد تاثرات تبدیل ہوتے ہیں تاکہ دکھلایا جاسکے کہ اس بات کا کس پر کتنا اور کس طرح اثر ہوا ہے؟ تیس منٹ کا ڈرامہ ہوتا ہے، جس میں پندرہ منٹ شکلیں دکھائی جاتی ہیں۔ پانچ منٹ بات چیت ہوتی ہے۔ دس منٹ اشتہارات چلتے ہیں اور ایک قسط مکمل ہوجاتی ہے۔ ایک ڈرامہ ختم ہوتے ہی بنا کسی وقفے کے دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ڈرامہ بدل گیا ہے۔ روزانہ دیکھنے والے پکڑپاتے ہیں فقط۔

خلاصہ کلام یہ کہ ہم لوگ زندگی گزارتے ہیں اور وہ ڈرامے۔ روز نئی قسط نشر ہوجاتی ہے گویا کہ روز نئی نئی حماقتیں جنم لیتی ہیں۔ ہفتہ اتوار ان دائمی ڈراموں کی چھٹی ہوتی ہے۔ ان کی جگہ ناگن جیسے کچھ بہتر ڈرامے دکھائے جاتے ہیں۔ ہم تو وہی دیکھتے ہیں۔ یوں بھی شونیا بہت معصوم سی ناگن ہے۔ باقی ڈرامے اہلیہ سے زبانی سن لیتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • جابرریان صاحب السلام علیکم ورحمت اللہ۔۔۔۔۔گزارش ہیکہ فیس بک پر آپکے پوسٹ آپکے کمنٹ وغیرہ بہت مزاحیہ اور عمدہ اور سبق آموز ہوتے ہئں۔۔۔۔
    جنکو دیکھ کر اور پڑھ کر ہ میں بہت محفوظ ہوتا ہوں۔۔۔۔
    اب کل پرسوں سے آپ نظر کے سامنے نہیں آرہے تھے۔۔۔آج معلوم ہوا آپ نے بلاک کیا ہوا ہے۔۔۔
    آپ سے گزارش ہے مہربانی فرما کر مجھے اپنے آپ سے سیکھنے کا موقع دینے واسطے ان بلاک کریں۔۔۔۔نیز کوئ خاص ناراضگی ہے تو میں معزرت خواہ ہوں ۔۔۔
    برائے مہربانی درگزر فرمائیں۔۔۔۔شکریہ