ہم کس درجے کے مسلمان ہیں؟ - عبدالباسط ذوالفقار

ٹریفک جام تھا، چھوٹی بڑی گاڑیاں کچھوے کی سی چال چل رہی تھیں۔ ہم بھی ایک گاڑی میں سوار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے۔ سامنے سڑک پر ایک ٹرک پچھلی گاڑیوں کو یرغمال بنائے خراماں خراماں جا رہا تھا۔ ہر کسی کے سر پر جلدی کا بھوت سوار تھا اور راستہ بنتے ہی ہر گاڑی والا یہ کوشش کرتا کہ اس بھیڑ سے پہلے میں نکلوں۔ اکثر گاڑیوں والے ٹریفک قوانین کو سر بمہر تھیلی میں ڈالے سیٹ کے نیچے رکھے بیٹھے تھے۔اچانک ایک گاڑی آئی اور ہم سے آگے قطار میں گھس گئی۔ اس گاڑی کے ڈرائیور نے شیشے سے سر باہر نکال کر پچھلی گاڑی والے کو دیکھ کر ایک مسکراہٹ پھینکی، جو دعوت تھی اس بات کی کہ ’’ہے ہمت، تو پہنچ کے دکھا‘‘پچھلی گاڑی( جس میں ہم بھی سوار تھے) والے نے نپی تلی ہوئی گالی نکالی، اس کے چند رشتہ داروں کو یاد کیا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔کبھی وہ آگے نکلتا تو کبھی یہ...... اسی کھینچا تانی میں دونوں گاڑیوں میں ٹکر ہو گئی۔

بس پھر کیا تھا دونوں ڈرائیور ایک دوسرے کو چلّا چلّا کر گالیاں دے رہے تھے۔ اور ایک دوسرے کے خاندان کی مستورات کے چال چلن کے متعلق گہرے رازوں کے انکشافات کر رہے تھے۔دونوں پر خون سوار تھا۔ ایک بھی غلطی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ مسافروں اور راہ گیروں نے بچ بچاؤ کراتے ہوئے دونوں ڈرائیوروں کو اپنی اپنی گاڑی کی طرف دھکیلا تو اس لڑائی کی تانت بھی گالی پر ہی ٹوٹی، ایک نے دوسرے کو ننگی گالی دی تو دوسرے نے بھی بدلا چکتا کر دیا۔میں حیران اس بات پر تھا جو لوگ چھڑانے کے لیے اس لڑائی میں کودے تھے اور بچ بچاؤ کراتے ہوئے ڈرائیور کو اس کی گاڑی کی طرف لائے تھے انہوں نے بھی اسے گاڑی میں زور سے بٹھاتے ہوئے مقابل کو ٹیٹھ پنجابی میں گالی دی کہ وہ تو ہے ہی ایسا،تم چلو، اور ڈرائیور نے بھی بسم اللہ پڑھی اور گالیاں دیتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔

یہ روز مرہ کی کہانی ہے۔ ہماری اخلاقی سطح اب اس حد تک گر گئی ہے کہ بات بات پر ہمارے منہ سے گالیاں ہی جھڑتی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں کا تکیہ کلام ہی گالی بن گیا ہے۔بات بعد میں کریں گے، گالی پہلے دیں گے۔یوں ہی ایک بار سبزی منڈی جانا ہوا۔ سبزی والے سے قیمتیں معلوم کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ غلطی سے ایک دکاندار سے مہنگائی کا سبب پوچھ لیا۔ اس نے وجوہ بتاتے ہوئے پہلے تو غریب کسانوں کی گالیوں سے تعریف کی۔ پھر بیوپاریوں اور دیگر دکانداروں کو گالیاں دیتے ہوئے بتایا کہ یہ وجہ ہے مہنگائی کی۔ جب کہ ہمارے کان سرخ اور ان سے دھواں نکل رہا تھا۔بعد میں پتا چلا کہ وہ بے چارہ شریف انسان پہلے گالی دیتا، پھر بات کرتا ہے یعنی گالی ا س کا تکیہ کلام بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کا سب سے بڑا کردار - ابو فہد ندوی

ہم سب و شتم، گالم گلوچ میں اپنی دینی و اخلاقی قدر کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ ہم مسلمان ہیں۔ہمیں ہمارے دین نے اعلیٰ اخلاق، تہذیب، شائستگی اور عفو و درگزر جیسی اعلیٰ اقدار کی تعلیم دی ہےاور سب و شتم کی سخت مذمت کی ہے۔اسلامی اخلاق و کردار کاحامل شخص گالی گلوچ کا ہر گز مرتکب نہیں ہو سکتا۔ وہ ہر آن ہر گھڑی یہ مستحضر رکھتا ہے کہ میرے اللہ مجھے دیکھ رہے، میری باتوں کو سن رہے اور میرے اللہ میرے ساتھ ہیں۔وہ پھر ہر بات خوب تول کر بولتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کل بروز قیامت ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہو گا۔ لیکن ہم اب اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ ہم جس نبی کے امتی ہیں اس کی تعلیمات کیا ہیں؟ جس دین وملت کے ہم پیروکار ہیں اس کی تعلیمات کیا ہیں؟یہ احساس ہمارے پاس تک نہیں پھٹکتا کہ واپس ہم نے دنیائے فانی سے دنیائے باقی کی طرف جانا ہے۔

ہم اتنی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں کہ حضور پاکﷺ کے فرامین بھلائے بیٹھے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے:’’مومن نہ طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے نہ بے ہودہ گوئی کرنے والا، نہ ہی فحش بکنے والا اور نہ زبان درازی کرنے والا۔‘‘ کیوں کہ گالی گلوچ اور بدزبانی، بری گفتگو، انسان کو بدکردار اور بداخلاق بنا دیتی ہے۔ آدمی کو اس سے غرض یا تو دوسروں کو ایذا پہنچانا ہوتی ہے یا پھروہ عادت سے مجبور ہو کر گالی دیتا ہے یا پھر وہ کسی کی گالی کے جواب میں گالی دیتا ہے۔حضرت جابر بن سلیم ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: مجھے کوئی وصیت کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ کسی کو گالی ہر گز نہ دینا‘‘۔ جابر بن سلیم ؓ کہتے ہیں :’’ چناں چہ اس کے بعد میں نے نہ کسی آزاد آدمی کو گالی دی اور نہ ہی غلام کو، نہ ہی اونٹ بکری کو۔‘‘(سنن ابی داؤد)انسان تو انسان کسی جانور کو بھی گالی نہ دینا چاہیے۔ جب کہ ہم اور ہمارے بچے گالیوں کی ایسی روانی رکھتے ہیں کہ کسی کی عزت ہم سے محفوظ ہے نہ اپنی،بلکہ جانوروں اور بیماریوں تک کو ہم گالی سے یاد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امام الانبیاء ﷺ بحیثیت شوہر - عبدالباسط ذوالفقار

اسلام جہاں عبادات پر زور دیتا ہے وہیں اخلاقیات پر بھی زور دیتا ہے۔ اور اچھے یا برے اخلاق کے اظہار کا زیادہ تر تعلق زبان سے ہے۔گوشت کا لوتھڑا جب تک جبڑوں میں دبا رہتا ہے انسان کے عیب و نقص ڈھکے رہتے ہیں۔جب زبان کھلتی ہے تو وہ انسان کی ترجمان ہوتی ہے۔شیخ سعدی ؒ فرماتے تھے:’’جب تک بندہ کلام نہیں کرتا، اس کا اچھا یا برا معلوم نہیں ہوتا۔‘‘ اسی لیے جب جب زبان کھولیں تو جچی تلی ہوئی، سوچ سمجھ کر بات کریں۔کیوں کہ زبان سے کہی ہوئی بات واپس نہیں ہو سکتی۔لیکن اگرزبان شتر بے مہار ہوجائے، اخلاقیات کا خیال نہ رکھے تو زبان کی وجہ سے آنے والی آفتیں،انسان کے لیے دین و دنیاکی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔

کوشش کریں کہ آپ کی کہی ہوئی بات سے کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچے۔ آپ کی زبان سے گالی،فحش گوئی،لعن طعن،بدزبانی، غیبت،جھوٹ اور چغل خوری جیسی کوئی بات نہ نکلے۔ بالفرض کوئی غلطی سر زد ہوجائے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ کوتاہی نہ کرنے کا تہیہ کر لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔‘‘ باکردار انسان کے اوصاف کو پرکھنے کا اس سے بڑا کوئی پیمانہ نہیں۔میں اور آپ، خود کو اس آئینہ میں جانچ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس درجے کے مسلمان ہیں؟