جماعت اسلامی اور مجلس عمل - آصف محمود

مجلس عمل کی بحالی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا، سوال یہ ہے کہ مجلس عمل کے احیاء میں کیا جماعت اسلامی کے لیے خیر کی کوئی خبر موجود ہے؟

جماعت اسلامی کی طبعی مدّت تو کب کی تمام ہو چکی، زندہ رہنے کے لیے ایک تجربہ اور سہی۔ اس میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ بطور حلیف جماعت اسلامی کو خوش اور مطمئن رکھنا آسان کام نہیں۔ اس کی کل جمع پونجی چند ہزار ووٹ ہیں لیکن یہ جس اتحاد کا حصہ بنے اس کی بڑی’’ پھپھو‘‘ بن جاتی ہے۔ ہر نئے اتحاد کی ڈولی میں یہ بیٹھتی توبڑے شوق سے ہے لیکن ایک ساون گزرتے ہی یہ شکوہ کرنے لگ جاتی ہے کہ اس نے تو گھر بسانے کی پوری کوشش کی لیکن اسے سچا پیار نہیں ملا۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں اسے نواز شریف سے گلہ تھا کہ اس نے اسے سچا پیار نہیں دیا۔ ایم ایم اے بنی تو اسے مولانا فضل الرحمٰن سے سچا پیار نہ مل سکا اور لمحہ موجود میں اسے شکوہ ہے کہ عمران خان اسے سچا پیار نہ دے سکے۔ اب یہ ایک بار پھر وارفتگی کے عالم میں مولانا صاحب کے بوسے لے رہی ہے۔ حضرت مولانا بڑے جہاندیدہ سیاست دان ہیں، دیکھنا یہ ہے وہ جماعت اسلامی کی جھولی میں اس دفعہ سچاپیار ڈال کر اس کی جنم جنم کی محرومیاں ختم کر پاتے ہیں یا نہیں۔

مجلس عمل سے پھوٹتے امکانات پر بات کرنے سے پہلے صالحین کے شکوے کو دیکھ لیتے ہیں۔ صالحین شکوہ کناں ہیں کہ حالات کے مطابق سبھی سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی بدلتی ہیں لیکن جماعت اسلامی ایسا کرے تو اس پر تنقید کیوں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ باقی جماعتیں جب پینترے بدلتی ہیں تو سیاسی حکمت عملی کے تحت بدلتی ہیں۔ آپ جب پینترا بدلتے ہیں تو اسے سیاسی حکمت عملی کے بجائے ایک شرعی تقاضا قرار دیتے ہیں۔چنانچہ دس برس بعد آپ نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا شرعی تقاضے بدل گئے؟

آپ نے جماعت اسلامی بنائی تو سید مودودی نے کہا ’’ یہ قوم کے وقتی مسائل کو سامنے رکھ کر وقتی تدابیر سے ان کو حل کرنے کے لیے نہیں بنی ‘‘ لیکن بعد کی ساری تاریخ آپ وقتی تدابیر لیتے رہے۔ 50ء کی دہائی میں آپ نے کہا ووٹ مانگنا اور خود کو امیدوار کے طور پرپیش کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ امیدواری اور پارٹی ٹکٹ کے طریقے کو ناپاک طریقہ انتخاب قرار دیتے ہوئے مولانا نے کہا جو آدمی اپنے لیے ووٹ مانگتا نظر آئے جان لیجیے، وہ ایک خطرناک شخص ہے اور ووٹ مانگنا اس کے غیر صالح اور نا اہل ہونے کی پہلی اور کھلی ہوئی علامت ہے۔ لیکن بعد میں آپ نے خود یہ گندا اور ناپاک کام کرنا شروع کر دیا۔ بلکہ سید صاحب نے تو بھٹو کے خلاف انتخابی معرکے کو ’’ بعینہ‘‘ غزوہ تبوک قرار دیتے ہوئے فتویٰ دے دیا کہ یہ محض انتخابات نہیں، یہ خیر اور شر کی لڑائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی؛ ماضی، حال اور مستقبل - عمران ناصر

آپ نے بے نظیر بھٹو کی مخالفت کی تو کہا اسلام عورت کو حکمرانی کی اجازت نہیں دیتا اور آپ نے فاطمہ جناح کی حمایت کی تو کہا اسلام کی سر بلندی کی خاطر کر رہے ہیں۔ آپ نے قاتل واجپائی واپس جاؤ کا نعرہ لگایا تودعویٰ کیا کہ یہ اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے لیکن پھر آپ نے سیاچن پر قبضہ کرنے والے جنرل کو منصورہ میں مہمان بنایا تو اسے بھی اسلام کے اصولوں کے مطابق قرار دیا۔ آپ نے آئی جے آئی بنا کر نواز شریف کا ساتھ دیا تو وہ بھی اسلام کی سربلندی کے لیے اور آپ نے اسی نواز شریف کی مخالفت کی تو وہ بھی اسلام کی سربلندی کی خاطر، آپ نے ایوب کی آمریت کی مخالفت کی تو کہا کہ آمریت اسلامی تصورات کے خلاف ہے اور پھر آپ نے ضیاء الحق کا ساتھ دیا تو کہا آپ غلبہ اسلام کی خاطر اس کے ساتھ ہیں۔

سید صلاح الدین نے حزب کو ایک داخلی بحران سے بچانے کے لیے سیز فائر کیا تو قاضی صاحب مرحوم نے اسے جہاد اور اللہ کے حکم غداری قرار دے دیا اور 'کرش انڈیا' کے نعرے لگوائے لیکن تھوڑا ہی وقت گزرا تو خود اخباری کالم میں لکھ ڈالا : ’’ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دونوں ممالک کے لیے تباہ کن خطرات کی حامل ہے۔ اس جنگ میں جیتنے والا کوئی نہیں ہو گا، سب ہارنے والے ہوں گے۔ صرف پاگل اور جنونی ہی یہ جنگ چھیڑنے میں پہل کر سکتے ہیں‘‘۔ آپ ایم ایم اے کا حصہ بنے تو غلبہ اسلام کے لیے اور اس سے الگ ہوئے تو وہ بھی اسلام کے اصولوں کے تحت اور اب دوبارہ اس کا حصہ بننے جا رہے ہیں تو ایک بار پھر آپ کا دعویٰ ہے کہ اسلامی انقلاب بس آنے ہی والا ہے۔ آپ کی کاریگری کا جواب نہیں حضرت! معاملہ مگر یہ ہے کہ لوگ اب اتنے سادہ نہیں رہے کہ آپ کی آنیوں اور جانیوں، دونوں کو نفاذ اسلام کی جدوجہد سمجھ کر سر دھنتے رہیں۔

مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سے جماعت کے انتخابی اتحاد کاکوئی امکان نہیں، تحریک انصاف بھی ’’پھُپھو‘‘ کے اثرسے نکلنے کا فیصلہ کر چکی، تو اب جماعت اسلامی کیا کرتی؟ ’ سولا فلائٹ‘ کرتی؟ لاہور جیسے شہر میں چند سو ووٹ اور پشاور میں ضمانت ضبط کرانے کے کے بعد سولو فلائٹ بھی ممکن نہیں تھی۔ آخری اور واحد راستہ یہی تھا کہ مجلس عمل کسی طور بحال ہو جائے۔

سوال مگر یہ ہے کہ اس سے جماعت اسلامی کو کیا ملے گا؟ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست کے سامنے قاضی حسین احمد جیسی بھاری بھرکم شخصیت کا چراغ نہیں چل سکاتو سراج الحق تو مولانا کے سامنے طفل مکتب ہیں، وہ مولانا کا مقابلہ کیسے کر پائیں گے؟ مولانا کا پلڑا اوّل دن سے بھاری ہوگا کیونکہ ان کے سامنے امکانات کی ایک دنیا آباد ہے۔وہ جس سے چاہیں اتحاد کر سکتے ہیں۔ نون لیگ ہو یا پیپلز پارٹی وہ جدھر قدم بڑھائیں آگے سے مرحبا مرحبا کی صدا آئے گی۔ سراج الحق صاحب بند گلی میں ہے اور بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کی آزادی سے لے کر یہودو ہنود کی بربادی تک اور اسلام کی سربلندی سے لے کر طاغوت کو للکارنے تک جتنے بھی اقوال زریں پہلے سے مجلس عمل کے منشور کا حصہ ہیں یا جو نئے اقوال زریں متعارف کرائے جائیں گے ان کی حد تک تو مولانا اور سراج الحق میں اتفاق ہو گا لیکن جہاں داخلی سیاست کی صف بندی ہو گی وہاں فیصلہ مولانا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مجلس عمل کی بحالی، نتائج کیا نکل سکتے ہیں؟ - محمد عامر خاکوانی

جب یہ مجلس عمل ٹوٹنے کے قریب ہو گی تو مولانا پہلے سے بہتر شرائط پر کسی بھی قومی جماعت سے معاملہ کر لیں گے، جب کہ سراج الحق کی پوزیشن آج سے بھی کمزور ہو چکی ہو گی اور وہ وہی فرد جرم پڑھ پڑھ کر صالحین کو دلاسے دیتے پائے جائیں گے جو 2012ء میں سید منور حسن پڑھا کرتے تھے۔

آپ کو یاد نہ ہو تو تذکیر کے طور پر عرض کرتا چلوں کہ سید منور حسن نے3 نومبر 2012ءمیں پشاور کے افغان فٹ بال گراؤنڈ میں ایک علماء و مشائخ کانفرنس بلائی تھی اور ایک پوری فرد جرم مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف عائد کر دی۔ کہا وہ لٹیروں سے مل گئے، فرمایا وہ امریکی ایجنٹوں کے ساتھی بن گئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی سربراہی میں کشمیر کمیٹی نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا۔ گویا اس وقت مولانا فضل الرحمٰن کی مجلس عمل سے الگ ہونا بھی شرعی تقاضا تھا۔ آخر وہ امریکی ایجنٹوں سے مل گئے تھے اور انہوں نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا تھا۔ اب اس سوال کا اٹھنا تو ایک فطری امر ہے کہ کشمیر کمیٹی نے ابھی تک کوئی ایسا معرکہ تو نہیں مارا کہ آپ کی تسلی ہو گئی ہو؟ اس کی کارکردگی آج بھی ویسی ہی ہے جیسے اس وقت تھی۔ کل آپ اس لیے مجلس عمل کا حصہ نہ تھے کہ مولانا لٹیروں سے مل گئے تو جناب وہی مولانا آج جس جماعت کے ساتھ حکومت کا حصہ ہیں اس کے سربراہ کو تو سپریم کورٹ آپ ہی کی پیٹیشن پر نااہل قرار دے چکی ہے۔ پھر آج ان کے ساتھ مل کر مجلس عمل بنا کر اسلامی انقلاب کیسے آ جائے گا؟

آپ اسے سیاسی امکانات کا کھیل کہیں تو یہ آپ کا حق ہے لیکن آپ اسے اعلائے کلمتہ الحق کی جدوجہد قرار دینا چاہیں تو پھر سوال تو اٹھیں گے۔

داغ دہلوی پر برہم مت ہوئیے اس نے صالحین کے بارے میں نہیں، ویسے ہی کہہ دیا تھا:

وہ قسم کھاتے ہیں اب ہر بات پر

بد گمانی کا مزہ جاتا رہا

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں