تنہائی کو کامیابی میں تبدیل کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ - اختر عباس

انگریزی اخبارمیں اتنی عمدہ اردو بولنے اور لکھنے والے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 'دی نیشن' میں تب سپورٹس اس کی بیٹ[ ذمہ داری کا شعبہ] تھی۔ خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والا، بروقت سٹوری اور خبر دینے والا۔ ملاقات ہوئی تو علم ہوا کہ جھنگ سے ہے اور ایک استاد محترم کا بیٹا ہے۔ وقار مصطفےٰ نام تھا اس کا۔ تب اخبار دنیا میں کسی شعر کی تصحیح کروانی ہوتی، کسی لفظ پر مضمون لٹک جاتا تو سوائے ڈاکٹر انور سدید اور 'سرِ راہے' کے مدیر پروفیسر سلیم کے علاوہ کو ئی ڈھنگ کا بندہ دُور دُور تک دکھائی نہ دیتا تھا۔ وقار مصطفےٰ نوجوانوں میں ایک حیرت انگیز دریافت تھی۔ اس کا عمدہ لہجہ نہ پنجابی مٹھاس لیے تھا اور نہ سرائیکی کی نرمی اور جھنگوی کی سختی لیے ہوئے۔ اس نے اپنے اندر یہ تبدیلی اپنی مرضی اور اپنے فیصلے سے پیدا کی اور اس پر اتنا کام کیا کہ ریڈیو کی بھی مشہور اور معروف آواز بن گیا۔ 'نیشن' سے وہ ترقی پا کر 'دی نیوز' میں گیا اور نیوز ایڈیٹر ہو گیا اور وہاں سے 'انڈیپنڈنٹ' کا ایڈیٹر۔ تبدیلی اور سیکھ کا یہ سفر جاری تھا، بیچ میں 'سفما' کا پڑاؤ آگیا اور وہاں وہ ای ایڈیٹر ہو گیا اور برسوں گزار دیے۔ امتیاز صاحب کے خیالات، اعمال اور ترجیحات اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں اور وہ اتنے برسوں بعد وہاں سے باہر آیا تو بطخ کی طرح پر جھاڑے اور سفما کی دنیا سے اپنی پوری شخصیت کے ساتھ باہر قدم رکھ دیے، اردو ڈائجسٹ کے دنوں میں ایک روز سفید بالوں کے ساتھ دفتر آیا تو دو کتابوں کا تحفہ دے گیا، ایک اعراب اور اردو قواعد کی کتاب تھی، اور دوسری حارث خلیق کی نظموں کی کتاب عشق کی تقویم میں، یہ بھی ایک مختلف انداز کا شعری مجموعہ تھا ایک شعر آج بھی یاد ہے

ابھی سے تازہ شگوفوں کی راہ دیکھتا ہوں

ابھی تو دیر بہت آمدِ بہار میں ہے

وقارکا ماننا تھا کہ خود زندہ رہنا ہے اور زیادہ عزت اور وقعت درکار ہے تو خود کو بدل کر دوسروں سے کسی نہ کسی شعبے میں تو بہتر کرنا لازم ہے، اسی لیے اس نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں اپنی لیاقت اتنی بڑھائی کہ خود حوالہ بن گیا۔ تبدیلی تبدیلی کی باتیں کرنے سے تو کبھی بھی آتی نہیں دیکھی، اس تبدیلی کا برانڈ بھی تو کسی کو بننا پڑے گا اور اپنی سوچ کا برانڈ خود ہی بننا سب سے شاندار ہو سکتا ہے۔

زندگی میں جس جس کو تبدیلی کا آرزو مند پایا، ان سب میں ایک ہی مشترک خوبی دیکھی کہ وہ تبدیلی دوسروں سے چاہتے تھے اور بڑی ہی شدت سے چاہتے تھے اس کے لیے ان کے پاس بڑے زور دار دلائل تھے کہ لوگ یعنی دوسرے لوگ بدل جائیں، تبدیلی قبول کر لیں،تبدیلی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، تبدیلی کے سفیر بن جائیں۔ زور، دلائل پر نہیں دل میں چھپی آرزو پر ہے کہ جو اس خواہش کو آسانی سے نہ مانے، اسے گردن زدنی تو قرار دے ہی دنیا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کب آئے گی؟ - محمد عامر خاکوانی

سچ پوچھیں تو تبدیلی قدرت خداوندی کا اظہار ہے، اسی لیے اسے قدرت کا قانون بھی کہا جاتا ہے، تلک الایام ندا ولہابین الناس [ہم انسانوں پر دنوں کو بدلتے رہتے ہیں] لیکن اس قانون کی خوبصورتی یہ ہے کہ تبدیلی چاہنے والا اس کے اصول قائدے اور ضا بطے ہی نہیں، معیار اور اہداف میں بھی بڑا دوٹوک انداز اپناتا ہے، اور اندر باہر سے بدل کر رکھ دیتا ہے، لوگ، گروہ،ادارے اور قومیں بدل جاتی ہیں۔ہم نے بدلتے دیکھی ہیں، یہ تبدیلی کبھی غصے، کبھی نفرت، کبھی ضرورت اور کبھی محبت سے جنم لیتی ہے۔ اس کے عارضی یا مستقل ہونے کی عمر اور عرصہ اس کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو کوئی تبدیل ہونے کا فیصلہ لینے میں زیادہ تاخیر کر دے، تاریخ آگے بڑھ کر اس کی جگہ ہی بدل دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ تبدیلی کی تربیت نہیں دی جا سکتی، یہ پڑھائی اور سکھائی نہیں جا سکتی، یہ اندر سے ہی پھوٹتی ہے، جانوروں اور پرندوں کو تو تربیت دی جا سکتی ہے انسانوں کو البتہ صرف تعلیم اور اس کا فہم دیا جا سکتا ہے۔ انگریزی میں شائد self awareness کہنا زیادہ موزوں ہو۔

تبدیلی کی خواہش ساتھ میں ایک مشکل، امتحان اور پریشانی ہی نہیں ڈھیر سی تحریک اور قوت بھی ساتھ لاتی ہے جو بدل کر رکھ دیتی ہے، زوال کو روک لیتی ہے عروج کا راستہ دکھا دیتی ہے، مجھے کیریئر کونسلنگ کے ایک عوامی اور بڑے پروگرام کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ جانا تھا، جہاں شہر بھر سے طلبہ جمع ہونے والے تھے۔ یاد رہے کالجز میں اب الیکشن نہیں ہوتے۔ جمعیت کئی دہائیوں سے جنرل ضیاء الحق کی لگائی پابندی کے بعد سے طلبہ کی منتخب تنظیم بننے کا موقع ہی نہیں پا رہی تھی۔ اس کے پاس جہاں ذہین طلبہ کی آمد ورفت میں کمی ہوئی، وہاں نئی نسل تک رسائی میں بھی بڑے بڑے سپیڈ بریکر حائل تھے، سرکاری اداروں میں طلبہ یونین نہیں تھیں اور اعلیٰ تعلیم کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جانے اور تنظیم بنانے کی ہی اجازت نہ تھی۔ اس مشکل کو جھیلتے اور پریشانی سے ہاتھ ملتے کئی برس مٹھی سے ریت کی طرح نکل گئے۔

مایوسی زوال کا ہراول دستہ ہوتی ہے، اگر اس کا مقابلہ کسی بہتر سوچ سے نہ کیا جائے۔ کئی برس کی سوچ و بچار کے بعد جمعیت نے ناکامی اور تنہائی کو کامیابی میں تبدیل کرنے اور خود تبدیل ہونے کا جرات مندانہ فیصلہ کر لیا جو جماعت اسلامی نہیں کر سکی۔ تعلیمی اداروں میں اپنے نام کے بجائے نئے اور ماڈرن ناموں کے ساتھ کام کا آغاز کر دیا، یہ یقیناً آسان فیصلہ نہیں تھا، اس پر ملک بھر میں بحث و تمحیص ہوئی ہوگی، دلائل اور تحقیق کے تبادلے ہوئے دوستوں ہی نہیں، دور رہنے والوں کو بھی شامل مشاورت کیا گیا، پروگراموں کے نام بدل دیے گئے، آج کی ڈکشنری اختیا رکر لی گئی، یہاں تک کہ قیادت کی زبان اور لباس بھی اس سوچی سمجھی تبدیلی کا حصہ بنے، بڑے بڑے عوامی اور مخلوط پروگراموں کو اس عمدگی سے کیا گیا کہ شریک ہونے والے بھی حیران رہ گئے۔ لاہور کی طرح کی سیریز باقی شہروں میں بھی ہوئی، اس میں ہزاروں لڑکے لڑکیاں ایکسپو سنٹر لاہور میں آتے ہیں اور جمعیت کا نام اور باتیں سن کر حیرت لیے واپس جاتے ہیں۔ ایسے پروگراموں میں سال بھر میں دو لاکھ سے زیادہ لڑکے شریک ہو چکے۔ اس سال طلبہ مسائل کے حوالے سے جلسے جلوس کے بجائے ماڈرن سٹائل کی ریلیاں، سیمینار اور کنونشن ہوئے اور اب جس بات نے مجھے حیران کیا، مفتی سیاح الدین کاکاخیل کے صاحبزادے سید صہیب الدین کاکاخیل کی نظامت اعلیٰ کے زمانے میں یہ ہوا کہ ٹوبہ جیسے دور افتادہ اور لاہور سے تین سو کلو میٹر دور آباد شہر میں بھی منعقد ہونے والے پروگرام کا نام اجتماع عام یاجلسہ عام نہیں، کیریئر کونسلنگ سیمینار ہے اور مجموعی سرگرمی کا نام ہے ’’سرولک ایجو کیشن ایکسپو‘‘ مجھے تو نام کا مطلب بھی پوچھنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:   انقلاب، ریفارمز، احتجاجی تحریک اور عوامی نفسیات - وقاص احمد

خوشی اور جوش سے بھری ایکسپو، ایسے دس پروگراموں میں تو میں بھی شریک ہو چکا ہوں، اور مجھے کم سے کم پندرہ ہزار طلبہ اور طالبات سے تعلیمی اور سماجی کونسلنگ کے تصورات کی روشنی میں ان سب سے تفصیلی بات کرنے کا موقع ملا، جو ہمیں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی نہیں ملا تھا۔ سنا ہے کراچی اور اسلام آباد بھی بھی خوب رنگ جمایا ہے، لاہور کے ایکسپو سنٹر میں ہو نے والے دو بڑے پروگراموں کا تو میں بھی گواہ ہوں۔ جمعیت پر بہت اعتراضات تھے، ان کے ازالے لے لیے سنا ہے کئی قیمتی لوگوں کی قربانی بھی دے دی گئی۔ مجموعی طور پر اعتراض تربیت کی کمی کا تھا، دعوت کی رفتار میں بہتری کے لیے تھا۔ اعتراضات لگانے والے دشمن نہیں ہوتے، ان کی دل اور نگاہ دونوں سے سننی چاہیے، اپنی غلطیوں کو ماننا ان کی اصلاح کرنا اور سفر کی سمت کو کامیابی کی شاہراہ پر ہی مرکوز اور مرتکز رکھنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ سچ ہے لوگ تبدیل نہیں ہوتے، خود کو بدلنا ہوتا ہے اور نہ بدلنے کی قیمت بڑی ہی بھاری ہوتی ہے جو دینی پڑتی ہے، تبدیلی کی تاریخ بھی یہی کہتی ہے، یہ اوپر سے نہیں نیچے سے آتی اور پانی کی طرح پھیل جاتی ہے۔

سیاسی اور سماجی شعبوں میں خدمات کا کام کرنے والے بڑے ہوں یا نوجوان، انہیں سمجھنا ہوگا کہ آج کی تیز رفتار تبدیلی کا ساتھ دینے اور اپنے لیے جگہ بنانے کے لیے کسی پی ایچ ڈی سکالر کی حاجت نہیں ہوتی۔ ہاں! سوچ اور اور سوچ کو اپنانے اور پھیلانے والی مضبوط ٹیم کے بنا یہ ممکن نہیں ہوتا۔ یہی ٹیم اداروں، جماعتوں اور خدمات کے میدان میں تبدیلی کے عمل کو مستقل اور پائیدار بنانے کے کام کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ مکمل آمد بہار میں بہرحال وقت لگتا ہے مگر تازہ شگوفوں کی راہ دیکھنے والوں کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں