بلیک فرائیڈے اور ہم - محمد اسمٰعیل بدایونی

"ان لوگوں کو شرم نہیں آتی ؟ "بلیک فرائیڈے کو مسلمانوں کےخلاف ایک دن بنا دیا؟ یہ جمعہ ہے،روز عید ہے مسلمانوں کا!" غصے کے سبب میرے منہ سے جھاگ اڑ رہے تھے۔

"وائیٹ فرائیڈے منا لیتے، بلیک فرائیڈے ہی کیوں ؟ بلیک سنڈے یا بلیک سٹر ڈے کیوں نہیں ؟ اس وقت پورا پاکستان بلیک فرائیڈے منا رہا ہے۔ آخر یہ جو اتنا ڈسکاؤنٹ دیا جا رہا ہے یہ رمضان کے مہینے میں کہاں مر جاتے ہیں؟ تب مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں، ہر چیز مہنگی نہیں مہنگی ترین کر دی جاتی ہے۔" میرا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

لیکن بندو بابا کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، "بلیک فرائیڈے منانے سے تمہارے جذبات مجروح ہوئے، دن تو سب اللہ کے ہیں۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عید کا ہے۔ دنوں کا سردار ہے، بڑا بابرکت دن ہے ۔ خیر، یہ بتاؤ پورے رمضان میں ہو شربا مہنگائی کے ذمہ دار کا فر ہیں ؟ کیاعید پر مہنگائی کفار کرتے ہیں ؟ یہ سب مسلمان ہی کرتے ہیں نا ؟"

"یہ کافر اپنے کافرانہ تہوار کو تو آپ کے ملک میں بھی آکر منا کر چلے جاتے ہیں اور آپ کسی اور کے ملک میں جا کر تو کیا اپنا تہوار منائیں گے آپ تو اپنےملک میں اپنا تہوار بھی اچھے طریقے سے نہیں منا سکتے۔ مہنگائی کرکے سرمایہ دار آپ کا معاشی استحصال شروع کر دیتے ہیں۔

"دیکھو ! بلیک فرائیڈے پر تم صرف لمبی چوڑی تحریریں لکھ سکو گے، گرما گرم تقریریں بھی ہو جائیں گی مگر وہ اگلے سال پھر بلیک فرائیڈے منائیں گے، بلکہ وہ ہر سال منائیں گے اور ہماری قوم خریدے گی، سستی چیز ملے گی تو لازمی خریدے گی اور آپ اس کو نہیں روک سکیں گے۔

"زیادہ سے زیادہ آپ بائیکاٹ کریں گے۔ کچھ لوگ ، وہ بھی گنتی کے ، آپ کی بات مانیں گے باقی اکثریت آپ کا ہی بائیکاٹ کر دے گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ آپ سے یعنی مذہبی طبقے سے بد ظن ہو گی اور جب آپ سے دور ہوجائےگی تو شیطان لعین کا آسان چارہ بن جائے گی۔ کیا آپ ان کو شیطان کے جال میں پھینکنا چاہتے ہیں؟"

یہ بھی پڑھیں:   خوددار بنو، خودغرض نہیں - تبریک السحر

"نہیں،" میرے منہ سے بے ساختہ نکلا "لیکن پھر کریں کیا؟" میں نے بندو بابا سے پوچھا

"دیکھو ! اس کا ایک علاج بتاتا ہوں تمہارے پاس ربیع الاول کامبارک مہینہ ہے۔ تم اس مہینے میں اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام سے عقیدت و محبت کا ظہار یوں بھی کر سکتے ہو کہ تم اپنی دکان کے باہر سیل کا بورڈ لکھ کر لگا دو ’’میلاد النبی ﷺ کی خوشی میں دودھ 50 روپے کلو ‘‘۔ شیرینی کی دکان پر لکھ کر لگا دو ’’عیدمیلاد النبی ﷺ کی خوشی میں 50 فیصد ڈسکاؤنٹ ‘‘۔ آپ فریج بیچتے ہو ں یا موٹر سائیکل، آپ اگر بتی کا کاروبار کرتے ہوں یا عطر فروش ہوں، آپ کا میڈیسن کا کاروبار ہو کپڑوں کا آؤٹ لیٹ، آپ اپنی اس پروڈکٹ پر اس مہینے یا اس مہینے کے کچھ دنوں میں یا صرف ایک دن یعنی 12 ربیع الاول کے دن ہی کے لیے خصوصی ڈسکاؤنٹ دیجیے۔ آپ کا جو بھی کاروبار ہو آپ اس طرح بھی عید میلاد النبی ﷺ منا سکتے ہیں۔ آپ کے خطباء اپنی تقریروں میں لوگوں کو اس جانب راغب کریں۔ میڈیا کے ذریعے بھی سرمایہ داروں کو اس جانب راغب کیا جا سکتا ہے آپ دیکھیں گے آپ کے شہر میں ہر طرف میلادالنبی ﷺ کی خوشی میں ڈسکاؤنٹ کے اتنے بینر لگیں گے جو نہیں مناتے خواہ وہ عیسائی ہوں، یہودی ہو ں لیکن آپ کے ملک میں کاروبار کررہے ہیں، وہ بھی یہ ہی اشتہار لگا کر اپنا کاروبار کررہے ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر وہ کاروباری افراد جو پاکستان سے باہر ایسے ملک میں کاروبار کرہے ہیں، جہاں غیر مسلم رہتے ہیں۔ 12 ربیع الاول پر رعایت دیں تو اسلام کا پیغام بھی عام ہونے میں مدد ملے گی۔ آپ کو یاد ہے نا وہ کنواں، جو مدینے کے یہودی کی ملکیت تھا اور آپ ﷺ کی خواہش پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔ آپ بھی میلادا لنبی ﷺ کے موقع ایسے کام کر سکتے ہیں اور ہاں یاد آیا، ایک اور کام بھی آپ انجام دے سکتے ہیں۔ "

یہ بھی پڑھیں:   بلیک فرائیڈے کیا ہے، غصہ کیوں ہے؟ ملک جہانگیر اقبال

"وہ کیا ؟"

"یہ کام برکاتی فاؤنڈیشن ہر سال کرتی تھی ، اب شاید یہ سلسلہ انہوں نے بھی ختم کر دیا ۔ وہ کراچی کے نشتر پارک کے باہر ایک اسٹال لگواتےتھے اور اس دن 70 فیصد ڈسکاؤنٹ پر کتب فروخت کرتے تھے۔ باقی کی ادائیگی برکاتی فاؤنڈیشن خود کرتا تھا۔ یہ قابل تحسین اور قابلِ تقلید عمل ہے، آپ بھی اپنے شہروں میں اس طرح کی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔ دراصل ہمارا حال عجیب ہے جو کام ہم روک نہیں سکتے اس کو روکنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتے ہیں اور جو کر سکتے ہیں اس کے بارے میں سوچتے تک نہیں۔ "

آئیے تبدیل کیجیے، جذبات کے بجائے جذبے کو فروغ دیجیے، ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کیجیے۔