ترکوں کے دیس میں (12) – احسان کوہاٹی

آرام دہ ٹیکسی استنبول کی ہموارشاہراہ پر پیلی زرد روشنیوں کے بیچ میں چلتی جارہی تھی اور سیلانی مبہوت ہو کر ٹیکسی کے شفاف شیشے سے جگمگاتا استنبول دیکھ رہا تھا۔ دوکروڑ سے زائد آبادی کا یہ شہر ترکی کا ثقافتی، تہذیبی اورسیاسی دارالخلافہ ہے۔ سیاسی ان معنوں میں کہ جو استنبول سوچتا ہے وہی ترکی سوچتاہے۔ یہ قدم جما کر کھڑے ہوجانے والے اسلام پسندوں و اصلاح پسندوں کاشہر ہے۔ یہ ان اولو العزم لوگوں کا شہرہے جو مسلح باغیوں کے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کررکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہ ان شیرنیوں کا شہر ہے جو گولیوں کی گھن گھرج میں گھروں میں دبکنے کے بجائے سر پر اسکارف باندھے اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل آتی ہیں۔ یہ ان شیر دل جوانوں کا شہر ہے جو باغی فوجیوں کا مقابلہ سینوں پر گولیاں کھا کر کرتے ہیں۔ یہ ان ماؤں کا شہر ہے جو باغیوں کوپیٹنے کے لیے گھر سے بیلن اور ڈنڈے اٹھالاتی ہیں۔ یہ ان بزرگوں کا استنبول ہے جو بغاوت کے اعلان کے بعد ایک ہاتھ میں لاٹھی اور دوسرے میں قرآن لیے سڑکوں پر آموجودہوتے ہیں۔ سیلانی کو بغاوت کے خلاف عوامی مزاحمت کی وہ ساری تصاویر یاد آنے لگیں جو کیمرا مینوں کے ہاتھوں کی کلک سے دنیا بھر کے سوشل میڈیا میں گردش کرتی رہیں۔ اخبارات میں تین، تین چار، چار کالم کی جگہ لے کر دنیا کو بتاتی رہیں کہ اب ترک کسی آمر کے لیے نظریہ ضرورت گھڑنے کو تیار نہیں۔ انہیں اپنے ووٹوں اور دلوں میں بسنے والے طیب اردوان کی بے حرمتی کسی طور پر قبول نہیں۔

ٹیکسی ڈرائیورٹریفک کے منظم اور پرسکوت ریلے کا حصہ بنا’’فاتح‘‘ کی طرف بڑھتا جا رہا تھا۔ فاتح اس نوجوان سالار سے منسوب علاقہ ہے جس نے قسطنطنیہ کو استنبول بنایا۔ استنبول دو براعظموں میں تقسیم دنیا کے منفرد شہروں میں سے ہے۔ اس کا ایک حصہ یورپ میں اور دوسرا ایشیا میں ہے۔ لگ بھگ دوکروڑ کی آبادی کا یہ شہر کئی تہذیبوں کا شاہدرہا ہے۔ بزنطینی، رومی اور عثمانی حکمرانوں نے اس شہر سے اپنی سلطنتیں سنبھالیں۔ قسطنطنیہ ہی وہ شہر ہے جو کسی زمانے میں عیسائیت کا ’’ویٹی کن ‘‘تھا۔ اس شہر کے فاتح کے لیے رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔ سلطان محمد فاتح وہ خوش نصیب سالار تھا جس نے اس شہر کی فصیل گرائی اور آگے بڑھ کر اسلام کا پرچم لہرادیا۔

ٹیکسی میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ پاکستان کے ’’سیلانی‘‘جگمگاتا استنبول دیکھنے میں محو تھے۔ بڑی بڑی کثیر المنزلہ عمارتیں روشنی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں توسڑکوں پر اسٹریٹس لائٹس کے کھمبے بھی ہاتھوں میں قندیل لیے ہوئے موجود تھے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا ازدحام تھا، مگر شور نام کو نہیں تھا۔ گاڑیاں ایک ترتیب میں چل رہی تھیں۔ منظم ٹریفک کو دیکھنے سے اندازہ ہورہا تھا کہ ترک ہماری طرح ’’آزاد‘‘ قوم نہیں۔ کسی موٹرسائیکل کو درد زہ میں مبتلا دکھیاری کی طرح چیختا دیکھا، نہ کسی کار کو جھگڑالو شوہر کی طرح چلاتے، یہ رونقیں صرف ادھر ہی کے لیے ہیں۔ تقریباً گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد ٹیکسی ٹریفک کے ریلے سے کٹ کر ایک دوسرے روڈ پر آگئی۔ یہاں ٹریفک بھی کم تھااور روشنیوں سے جگمگاتی عمارتیں بھی نہیں تھیں۔ بالآخر ٹیکسی ایک جگہ رک گئی ۔

’’آجاؤ بھائی منزل آگئی ہے!‘‘

مفتی ابولبابہ صاحب کے کہنے پر سب ہی نیچے اتر گئے۔ ٹیکسی سے سامان لیا اور رشیدیہ ہوٹل میں داخل ہوگئے۔ یہ درمیانے درجے کا مگر صاف ستھراہوٹل معلوم ہوتاتھا۔ کمروں کی بکنگ پہلے ہی ہو چکی تھی۔ استقبالیے پرپاسپورٹ دیے گئے جو ضروری اندراج کے بعد واپس کر دیے گئے اور ساتھ میں ایک ایک کارڈ اور پرچی دے دی گئی۔ پرچی پر کچھ ہندسے لکھے ہوئے تھے۔ سیلانی نے استفہامی نظروں سے مفتی صاحب کی جانب دیکھا کہ ترکی میں یہ کیسی پرچی؟ وہ مسکرا کر کہنے لگے ’’یہ مسافری ہے ‘‘

’’مسافری؟‘‘

’’جی یہاں وائی فائی کو مسافری کہتے ہیں اور یہ اس کا پاس ورڈ ہے رکھ لو‘‘۔ وائی فائی کا پاس ورڈ سیلانی نے جھٹ سے پرچی مٹھی میں دبا لی اور لفٹ کی طرف چل پڑا۔ یہ لگ بھگ تیس برس پرانی لفٹ تھی۔ سیلانی نے چوتھی منزل کا بٹن دبایا۔ لفٹ ذرا سست تھی لیکن اس نے اوپر جانے میں تامّل نہیں کیا اور اٹھ گئی۔ چوتھی منزل پر سیلانی دروازہ کھول کر باہر نکلا تو سامنے تاریک کوریڈور تھا۔ لمحہ بھر کے لیے سیلانی ٹھٹکا پھر اسے کچھ یاد آیا اور اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی یہاں بھی خودکار روشنیوں کا انتظام تھا۔ کوریڈور میں قدم رکھتے ہی بلب جل اٹھااور جیسے جیسے وہ قدم بڑھاتا چلا گیا سامنے روشنیاں جلتی اور پیچھے بندہو تی چلی گئیں۔ سیلانی نے اپنا مطلوبہ کمرہ تلاش کیاا ور اندر داخل ہو گیا۔ صاف ستھرا ڈبل بیڈ تھا۔ غسل خانے میں تین قسم کے تولیے، صابن اور شیمپو کی چھوٹی چھوٹی شیشیاں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ سیلانی نے اپنا بیگ ایک طرف رکھااور مفتی صاحب کی ہدایت کے مطابق فوراً ہی پلٹ کر ہوٹل کی لابی میں آگیا، جہاں بیضوی چہرے والا نوجوان خالص پاکستانی مسکراہٹ لیے موجود تھا۔ مفتی صاحب نے تعارف کرایا ’’یہ عاطف ہیں، اپنے پاکستانی بھائی ہیں، یہاں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی آئی ایچ ایچ سے بھی منسلک ہیں۔‘‘

عاطف نے سب سے مسکرا کر مصافحہ کیا اور اپنے ہم وطنوں کو لے کرکھانا کھلانے قریب ہی ایک فوڈ اسٹریٹ قسم کی جگہ پر آگیا۔ فاتح بڑا قدیم علاقہ ہے۔ یہاں فاتح استنبول بھی آسودۂ خاک ہیں۔ عاطف گردیزی نے بتایا کہ یہ ’’کدن پازار ‘‘ہے۔ عثمانیوں کے دور میں یہ خواتین کے لیے بازار بنایا گیا تھا یعنی یہ مینا بازار تھا جہاں خواتین ہی خریدار اور خواتین ہی دکاندار ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی قدریں بدلیں توکدن پازار کے خریدار اور دکاندار بھی بدل گئے لیکن نام وہی رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   پھولوں کا ٹیلہ - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

عاطف بھائی کو مفتی صاحب نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اچھا سامسلمانوں والا کھانا کھانا ہے۔ عاطف بھائی ترکی زبان میں ویٹر کو کھانے کا آرڈر نوٹ کروانے لگے۔ ویٹرآرڈر نوٹ کرکے جانے لگا تومفتی صاحب نے اسے اشارے سے روک کر کہا’’آئرن آئرن‘‘

ترکی میں آئرن کے نام سے آپ شربت فولاد نہ سمجھ لیجیے گا، نہ ہی اپنے گالوں پر ہاتھ پھیر کرچیک کیجیے گا کہ یہ پچک تو نہیں گئے جنہیں دیکھ کر میزبان نے آئرن منگوا لیا ہے۔ ترکی زبان میں آئرن لسی کو کہتے ہیں۔ سیلانی وہاں بیٹھاآس پاس کا جائزہ لینے لگا۔ ان کے پیچھے ایک نوجوان جوڑا باجماعت سگریٹ کے کش لگ رہا تھا۔ لڑکی کی گوری گوری مخروطی انگلیوں میں بھی پتلی سی سگریٹ تھی اور نوجوان کی انگلیوں میں بھی۔ اس سے پرے کچھ اور دوست بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے، وہاں بھی سگریٹ کے کش لگ رہے تھے۔ ترک سگریٹ بہت پیتے ہیں، بلا کے تمباکو نوش ہیں۔

راقم الحروف استنبول میں آئرن سے روایتی ترک انداز میں مستفید ہوتے ہوئے

تھوڑی دیر میں نوجوان ویٹر اپنے ہاتھ میں چادریں لیے آگیا اور سردی سے بچانے کے لیے گاہکوں کواوڑھانے لگا۔ سیلانی سردی سے لطف اندوز ہونے والا ہے، اسے سردی زیادہ تنگ نہیں کرتی اس لیے اس نے تو چادر نہ اوڑھی۔ دیگر ساتھیوں نے کاندھوں پر چادر ڈالی۔ چادر پوشی کے بعددوسرا ویٹر لسی سے بھرے بڑے بڑے کانسی کے پیالے لے آیا جن میں چھوٹی چھوٹی ڈوئیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس کے پیچھے ویٹر سلاد لے کر آگیا۔ سیلانی اپنے ہمسفروں کے ساتھ ڈوئی بھربھر کر لسی پینے لگا۔ لسی نوشی کے دوران ہی تین بڑے بڑے تھال بھی آگئے، جن میں ٹماٹر کی چٹنی، ماش کی دال کی طرح پکی ہوئی ثابت گندم، پیاز، انگاروں پر سکا ہوا ٹماٹر، سیخ کباب اور چکن بوٹیاں رکھی ہوئی تھی۔ سیلانی نے گرم گرم نان کے ساتھ لقمہ لیا، مزہ آگیا۔ ترک بھی اپنے پشتون بھائیوں کی طرح گوشت خور واقع ہوئے ہیں۔ سب ساتھیوں نے کھانے کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ الحمدللہ تینوں تھال خالی واپس گئے جس کے بعد عاطف گردیزی نے ایک خاص قسم کا میٹھا کھلانے کی پیشکش کی۔ ایسی پیشکشیں بھلا کون کافر رد کر تا ہے اوراگر یہ پیشکش مولوی صاحبان کو کی جائیں توانکار کی تک ہی نہیں بنتی۔ برادرعاطف نے ترکی میں ویٹر سے کچھ کہا۔ اس کہے کا اثرمیزپر سوجی کے حلوے کی صورت میں دکھائی دیا۔ حلوہ دیکھ کر باریش ساتھیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ ان میں سیلانی کا کلین شیو چہرہ بھی شامل تھا۔ اب جو چمچ بھر کر حلوہ حلق سے نیچے سرکایا تو عقدہ کھلا کہ سوجی تلے آئسکریم بھی پوشیدہ ہے یعنی آئسکریم اور سوجی کے حلوے کا ملاپ،جیسے استنبول میں یورپ اور ایشیا بغلگیر ہوئے ہیں ویسے ہی پلیٹ میں سوجی کا حلوہ اورآئسکریم ملے ہوئے تھے۔ سیلانی نے زندگی میں پہلی بار آئسکریم او ر سوجی کا حلوہ ملا کر کھایا۔ ذرا عجیب سا لگا مگر ذائقہ برا نہ تھا۔

استنبول کی جامع فاتح،سلطان محمد فاتح نے یہ مسجد فتح استنبول کے بعد تعمیر کی تھی

کھانے کے بعد دوستوں نے ہوٹل کا رخ کیاخمارگندم سر چڑھ کر بولنے لگا تھا۔ سب چپ تھے لیکن عاطف گردیزی چلتے چلتے فاتح کے بارے میں بتارہا تھا۔ ان ہی سے پتہ چلا کہ قریب ہی جس مسجد کے مینار دکھائی دے رہے ہیں، یہ جامع فاتح ہے۔ یہ مسجد فاتح استنبول سلطان محمد فاتح نے تعمیر کروائی تھی۔ ان کی آخری آرام گاہ بھی ساتھ ہی ہے۔ عاطف گردیزی کے ساتھ باتیں کرتے کرتے پتہ ہی نہیں چلا اور ہوٹل آگیا۔ عاطف نے اجازت لی اور سب ساتھیوں نے بھی ایک دوسرے کو شب بخیر کہہ کر اپنے کمروں کا رخ کیا۔ سیلانی نے کمرے میں پہنچتے ہی بلب بند کیے اور لمبی تان کے سو گیا اور ایسا سویا کہ اس کی آنکھ صبح ہی کھلی۔ نیم وا آنکھوں سے سیل فون میں وقت دیکھا تو فجر کا وقت ہورہا تھا۔ سیلانی نے کمبل ایک طرف اچھالا، لباس تبدیل کیا اور کوٹ پہن کر جامع فاتح کی جانب چل پڑا۔ صبح صبح کے وقت استنبول میں اچھی خاصی ٹھنڈمحسوس ہوئی لیکن یہ ایسی نہ تھی کہ سیلانی بغلوں میں ہاتھ دے لیتا۔ مسجدہوٹل کے قریب ہی تھی، پہنچنے میں بمشکل پانچ منٹ لگے۔ جامع فاتح مسجد بہت بڑی اور تاریخی مسجد ہے۔ زمین سے تقریباً نو، دس فٹ کی بلندی پر تعمیرکی گئی، جس کے لیے سنگی سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ اندر نہایت ہی خوبصورت دلکش انداز میں خطاطی کی گئی ہے۔ بڑے سے گنبد کے چارو ں طرف خلفائے راشدین کے اسمائے گرامی خوشخطی سے کندہ ہیں۔ بیچ میں قرآن کی کوئی سورہ تحریر ہے۔ منبر کے دائیں بائیں اللہ تبارک وتعالیٰ اور محمد مصطفٰی ﷺ کا نام نامی آنکھوں کو ٹھنڈک دینے کے لیے کیا ہی خوبصورت انداز میں نقش کیا گیا ہے۔ مسجد کا فرش سرخ دبیز قالین سے چھپا ہوا ہے۔ یہاں عقبی حصے میں خواتین کے لیے جگہ ہے۔ لکڑی کی جالی دار دیوار کھڑی کردی گئی ہے۔ اس مسجد میں بھی نامناسب لباس والوں کے لیے ایک گوشے میں عبائے موجود ہیں۔ بالکل پیچھے مانیٹرنگ روم ہے جس میں نوّے کیمروں کی مدد سے مسجد کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے اس کے لیے باقاعدہ عملہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (آخری قسط) – احسان کوہاٹی
جامع فاتح میں نماز فجر کا وقت،صفیں بنائی جا رہی ہیں

ترکی کی مساجد میں خوش الحانی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ خوبصورت آواز اور لہجے کے موذن اور امام محراب و منبرسنبھالتے ہیں۔ تقریباً تمام مساجد میں ایک ہی طرح سے اذان دی جاتی ہے۔ موذن صاحب کسی قسم کی عجلت میں نہیں ہوتے بہت اطمینان سے لوگوں کو فلاح کی طرف بلاتے ہیں۔ خوب طویل اذان ہوتی ہے۔ جامع فاتح میں نماز فجر کے بعد سیلانی باہر نکلا تو مشرق سے ابھرتا سورج تاریکی کا بوریا بستر گول کرتا دکھائی دیااور اس ہلکی ہلکی روشنی میں’’ بلدیسی ‘‘ کا متحرک عملہ بھی نظر آیا۔ نارنجی ڈانگریوں والے خاکروبوں نے مسجد کا بیرونی حصہ چمکا دیا تھا۔ صبح صبح کا وقت تھا، سرخ وسپید صحت مند ترک بچے بچیاں اسکول بیگ کاندھوں سے لٹکائے تیز تیز قدموں سے جاتے دکھائی دیے۔

ترکی صحت مند لوگوں کا ملک ہے، یہاں کے لوگ قابل رشک صحت کے مالک ہیں اور اچھی خاصی طویل عمر پاتے ہیں۔ ترکی جانے کا اتفاق ہو تو کسی بھی قبرستان میں جا کر قبروں کے کتبوں پر نظر ڈالیے گا۔ ہر صاحب قبر کی عمر اسّی، پچاسی برس سے کم نہ ملے گی۔ اس کی ایک بڑی وجہ ترکوں کی عادات اور غذا ہیں۔ یہاں ابھی تک لال اینٹوں کے چورے سے سرخ مرچ بنانے والے پہنچے ہیں، نہ سرف اور کیمیائی مادوں کے ملاپ سے خالص گاڑھا دودھ بنانے والے۔ جب بچوں کو ناشتے میں خالص دودھ کا گلاس،انجیر، ٹماٹر، کھیرے اورشہد لگی ڈبل روٹی ملے گی تو ان کی صحت قابل رشک نہ ہوگی توہماری نسلوں کی ہوگی؟

جامع فاتح کا اندرونی منظر، یہاں کی گئی خطاطی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے

ہوٹل پہنچ کر سیلانی نے لیپ ٹاپ کھول لیا، جو کچھ دیکھا تھا وہ لکھااور پھر پیٹ پوجا کے لیے ڈائننگ ہال میں آگیا۔ یہاں بھی ہوٹل میں ٹھہرنے والوں کے لیے ناشتہ مفت ہوتا ہے۔ رشیدیہ ہوٹل میں بھی کھیرے، ٹماٹروں، پنیروں اور زیتون سے بوفے سجا ہوا تھا۔ یہاں ہاٹ ڈاگ اور آملیٹ نہ تھے البتہ ابلے ہوئے انڈے وافر مقدار میں تھے۔ سیلانی کو اب تک زیتون، پنیر اور ٹماٹر کھیرے کھانے کی خاصی پریکٹس ہوچکی تھی لہٰذا اس نے انہی سبزیوں اورپھلوں سے پلیٹ بھرلی، البتہ ناشتے کے بعد تلخ کافی کی چسکیوں نے کراچی یاد دلادیا۔

ناشتے پر امیر سفر مفتی ابولبابہ بھی آگئے انہوں نے بتایا کہ آج طیب اردوان کی اصل عوامی طاقت کے منبع میں چلیں گے۔ آئی ایچ ایچ (انسان حق حریت)ترکی ہی کی نہیں عالم اسلام کی سب سے بڑی این جی او ہے اور دنیا بھر کے ۱۴۴ ممالک میں متحرک ہے۔ اس کے رضاکار یروشلم میں بھی ملیں گے اور نئی دہلی میں بھی۔آئی ایچ ایچ کا دفتربھی قریب ہی تھا۔ سیلانی کے ہمسفر استنبول آمد پر تین ٹولیوں میں بٹ گئے تھے۔ انظر شاہ صاحب کی ٹولی ترکی میں ہی مقیم ان کے ایک دوست اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اویس پاشا صاحب کی ٹولی کسی اور ہوٹل میں جا ٹھہری تھی اور تیسری ٹولی کی قیادت مفتی ابو لبابہ صاحب کے پاس تھی۔ مفتی صاحب کی ہدایت کے مطابق دونوں ٹولیاں ناشتہ کرکے ہوٹل رشیدیہ آگئی تھیں۔ یہاں سے پاکستانی کاردشوں کا قافلہ آئی ایچ ایچ کے دفتر پہنچا۔ خبیب فاؤنڈیشن کے سربراہ ندیم احمد ایڈوکیٹ وہیں ملے۔ برادر ندیم احمدایڈوکیٹ ترکی اور ترکوں سے بہت قریب ہیں، ان کے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ آدھے ترکی ہیں یا آدھے پاکستانی۔ وہ پاکستان میں ترکی کے سفیر ہوتے ہیں اور ترکی میں پاکستان کے۔ ان کا ایک تعارف فریڈم فوٹیلا بھی ہے، وہی فریڈم فوٹیلا جس نے 2010ء میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے غزہ کا محاصرہ توڑاتھا۔ یہ بھی اسی جہاز میں سوار تھے۔ معروف پاکستانی صحافی طلعت حسین بھی اسی فریڈم فوٹیلا میں تھے اور ندیم احمد ہی کی توسط سے فریڈم فوٹیلامیں سوار ہوئے تھے۔ یہ جہازامدادی سامان اور بائیس این جی او کے تین سو نہتے رضاکاروں اورصحافیوں کو لے کرجولائی 2010کو غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا جس پر اسرائیل نے وارننگ کے بغیر حملہ کرکے سب کو گرفتار کر لیا تھا۔ ندیم احمد بھی انہی بہادر رضاکاروں میں شامل تھے تب ہی سے ترکوں نے ندیم احمد کو اپنا ندیم بنالیا۔

ترک طالبات استنبول اور جامع فاتح میں آئی ایچ ایچ کا ہیڈ آفس

برادر ندیم صاحب کی توسط سے آئی ایچ ایچ کے نائب سربراہ حسین اروق سے ملاقات ہوئی۔ ہردم مسکراتے چہرے والے آئی ایچ ایچ کے ان گنے چنے کارکنوں میں سے ہیں جو انگریزی جانتے ہیں۔ دیگر سارے ساتھی محبت او رخلوص کی زبان سمجھتے ہیں۔ آئی ایچ ایچ ہی میں ندیم صاحب ہی نے بتایا کہ آج آئی ایچ ایچ کے صدر بلند یلدرم سے بھی ملاقات کا امکان ہے، وہ آج ہیڈآفس میں فلسطین کے ایک وفد سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ سن کر ہی سیلانی کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ بلند یلدرم وہی بہادر ترک ہے جس نے طیب اردوان کے خلاف مسلح بغاوت کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا تھا۔ بلند یلدرم ہی کے اعلان پر تو ترک اپنے گھروں سے دیوانہ وار نکل ّآئے تھے۔ استنبول کی سڑکوں کو مزاحمت کار لوگوں سے بھرنے والا یہی بلند یلدرم تو تھا۔(جاری ہے)

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں