سعودی ولی عہد، اتاترک یا طیب اردوان؟ حافظ یوسف سراج

اٹھارھویں صدی عیسوی کے وسط میں آل ِ سعود کے جدِ امجد مانع بن ربیعہ المریدی نے نواحِ قطیف سے نجد کے لئے رختِ سفر باندھا اور درعیہ نامی شہر کی بنیاد رکھی۔ محمد بن سعود انھی کی آل سے تھے، جنھوں نے مقامی مصلح محمد بن عبد الوہاب کے تعاون سے نجد میں آلِ سعود کی اولیں حکمرانی کی داغ بیل ڈالی اور درعیہ شہر کو دارالحکومت قرار دیا۔ طے پایا آل ِسعود سیاسی جبکہ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان مذہبی معاملات کا ذمے دار رہے گا۔ معاہدے کا ہمیشہ احترام ہوا۔ آج بھی آلِ سعود امورِ سلطنت جبکہ آلِ شیخ مذہبی امور میں بروئے کار آتے ہیں۔ آلِ سعود کی حکمرانی کا پہلا دور ’امارتِ درعیہ‘ کہلایا اور 1744 تا 1818یعنی 74 سال جاری رہا۔ دروع آلِ سعود کے اجداد سے ایک ممتاز شخصیت تھی، جس کے نام پر نئے شہر کا نام دروع یا درعیہ رکھا گیا۔ درعیہ ہی کے نام سے ایک بستی آلِ سعود پہلے قطیف کے نواح میں بھی بسا چکے تھے۔ 1818 میں ابراہیم پاشا کی قیادت میں عثمانی حملہ آوروں نے مصری تعاون سے لشکر کشی کی اور زمامِ اقتدار آل سعود کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اس دور میں چار حکمرانوں، محمد بن سعود ، عبدالعزیز بن محمد، سعود بن عبدالعزیز اور عبداللہ بن سعود نے دادِ حکومت دی۔

وقتی پسپائی کے بعد آلِ سعود نے قبائل کو منظم کر کے کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا۔ یہ دوسرا دور، آلِ سعود کی تاریخ میں ’امارتِ نجد‘ کہلاتا ہے۔ یہ سلسلۂ حکمرانی 1818 سے1891 تک رہا اور اس میں بالترتیب سات بادشاہوں نے حکمرانی کی۔ یہ تھے، ترکی بن عبداللہ بن محمد، مشاری بن عبدالرحمن بن مشاری، فیصل بن ترکی، عبداللہ بن ثنیان، عبداللہ بن فیصل،سعود بن فیصل اورعبدالرحمن بن فیصل۔

تیسرے دورمیں سعودی ریاست کو موجودہ نام ، مقام اور حدود اربعہ نصیب ہوا۔ فروغ اور دفاعِ سلطنت کیلئے مقامی قبائل سے جنگیں تو اس سارے دورانئے میں جاری ہی تھیں، البتہ یہ عبدالعزیز آلِ سعود تھے، جن کے ہاتھوں موجودہ سعودی مملکت تخلیق ہوئی۔ 1925 تک نجد وحجاز اور مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ جیسے مقدس شہر بھی عثمانیوں کے ہاتھوں سے نکل کر آلِ سعود کے قبضے میں آ گئے تھے۔ اور یوں گویا آلِ سعود کی حکومت حجاز اور عالمِ عربی کیلئے ہی نہیں، عالمِ اسلام کیلئے بھی اہم ہو گئی تھی۔

یہ 23 ستمبر 1932 کا دن تھا کہ جب تازہ مملکت کے اصول و ضوابط طے ہوئے۔ مملکت کا نام المملکۃ العربیہ السعودیہ قرار پایا۔ 23 ستمبر ہی کو سعودی عرب قومی دن مناتا ہے۔ ممتاز قبائل کو اپنائیت دے کر مملکت کو استحکام بخشنے کیلئے شاہ عبدالعزیز نے چیدہ قبائل میں شادیاں کیں۔ عبدالعزیز کے ہاں 45 بیٹے تولد ہوئے اور آج آلِ سعود کے افرادِ خاندان 25 ہزار تک شمار کئے جاتے ہیں۔ موجودہ شاہ سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کی ولی عہدی تک جن میں سے 200 شہزادے زیادہ موثر سمجھے جاتے تھے۔ اب مگر لگتا یہ ہے کہ ولی عہد کی جانشینی نے ہر طاقت ور کو غیر موثر کر دیا ہے۔ اس تیسرے دور میں اب تک سات حکمران ہو چکے ہیں۔ جدید سعودیہ کے بانی عبدالعزیز بن عبدالرحمن اور پھر ان کے چھ بیٹے، سعود بن عبدالعزیز، فیصل بن عبدالعزیز، خالد بن عبدالعزیز، فہد بن عبدالعزیز، عبداللہ بن عبدالعزیز اور موجودہ حکمران سلمان بن عبدالعزیز۔

یہ بھی پڑھیں:   آل سعود کے لیے بصیرت کی دعا - یاسر محمود آرائیں

1938میں تیل کی دریافت سے پہلے، خشک صحراؤں پر مشتمل سعودی عرب غریب اور کم آباد ملک تھا۔ تب خصوصاً برصغیر کے راجاؤں ، تاجروں اور امرا نے اس سلطنت کو دل کھول کر امداد پہنچائی۔ پاکستان بنا تو سرکاری اور عوامی دونوں سطحوں پر سعودی عرب سے تعلقات مستحکم رہے۔ جدید سعودی ریاست کے (شاید پہلے) امیر حج بھی ایک پاکستانی (گوجرانوالہ کے ممتاز عالم مولانا اسمٰعیل سلفی) رہے۔ لا تعداد پاکستانی قراء کرام نے سعودی عوام کو قرآن پڑھایا۔ مدینہ یونیورسٹی قائم ہوئی تو کئی پاکستانی علما نے عربوں کو حدیث پڑھائی۔ کئی سرکاری سعودی شخصیات آج بھی احترام سے اپنے پاکستانی اساتذہ کا نام لیتی ہیں۔ پاکستان تشریف لانے والے امامِ کعبہ شیخ خالد الغامدی بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ لا تعداد پاکستانی ورکرز نے بھی سعودی تعمیر وترقی میں مشقت سے بھرا اپنا خون پسینہ نچوڑا۔

عربوں کے ہندوستان سے تعلقات کی شاندار شہادتیں توعہد نبوی اورعہد صحابہ سے ملتی چلی آئی ہیں۔ عرب تاجر سمندر کی راہ سے ہندوستان پہنچتے اور یہاں سے مسالہ جات اور دوسری سوغاتیں لے جاتے۔ ہندی تلوار کا تذکرہ خصوصیت سے عرب کے قدیم لٹریچر میں موجود ہے۔ سید سلمان ندوی نے ’عرب و ہند کے تعلقات ‘نامی کتاب میں، اور مولانا اسحق بھٹی نے ’برصغیر میں اسلام کی آمد کے اولیں نقوش‘ نامی اپنی کتاب میں اس پہلو پر خصوصیت سے روشنی ڈالی۔ سید سلمان ندوی کی تحقیق آشکار کرتی ہے کہ عباسی دور کی ترقی کو ستون فراہم کرنے والا خاندانِ برامکہ بھی اس وقت کی جغرافیائی حد بندیوں کے تحت ہندوستانی ہی قرار پاتا ہے۔

آلِ سعود کی خدمات میں حج کو سہل اور پر امن بنانا اور شاہی پریس پر تمام بڑی زبانوں میں قرآنِ مجید کے تراجم چھاپ کر دنیا بھر میں تقسیم کرنا سرِ فہرست ہے۔ شاہ سلمان نے اسی پیمانے پر حدیث کی اشاعت کے منصوبے کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ مقاماتِ حج کو نت نئی وسعتوں، اجتہادی جہتوں اور ممکنہ آسائشوں سے ہمکنار کر دینا بھی معمولی کام نہیں۔ سعودی ریاست اپنے شہریوں کے لئے ایک فلاحی ریاست ثابت ہوئی۔ آلِ سعود نے آج تک اپنے عوام سے کسی چیز پر ٹیکس نہیں لیا۔ آزادی ٔ اظہارِ رائے البتہ بتدریج سعودی عوام سے چھین لی گئی۔ جس سر زمین سے پیغمبر اور اس کے خلفا نے انسانیت کو تنقید کی آزادی کا تحفہ دیا تھا، وہیں آج شاہ پر تنقید کی سزا پانچ سے دس سال قید کر دی گئی ہے۔
شاہی پردوں کے پیچھے کروٹیں لیتی تازہ سعودی بے چینی سے محسوس ہوتا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان آلِ سعود کو اب ایک چوتھے دور میں لے جانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کو اس وقت دو چیزیں بہ یک وقت در پیش ہیں۔ پہلی بار نوجوان قیادت اور نازک ترین عالمی حالات۔ عالمی گاؤں بننے کے بعد دنیا اب عالمی محلے کا روپ دھار چکی اور بادشاہت کے خلاف یکسو بھی ہو چکی۔ تیل کی آمدن سے ایک عرصہ آلِ سعود نے مغربی دنیا کو رجھائے رکھا، اب مگر تیل کے کنویں بھی قیمت کھو رہے ہیں اور سفاک مغربی دنیا سعودیہ کو نظر اٹھا کے دیکھنے ہی نہیں، گھورنے بھی لگی ہے۔ یہ گھورتی دنیا اور سعودی معیشت اب بھر پور اقدام مانگتی ہے۔ چنانچہ پہلے مرحلے پر سعودی حکام کی تنخواہیں کم کی گئیں۔ غیر ملکیوں پر انحصار کم کیا گیا۔ خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دینے پر آمادگی ظاہر کی گئی اور اب عالمی اقتصادی شہر نیوم بسانے کا منصوبہ بھی سامنے لایا جا چکا ہے۔ گیارہ شہزادوں ، متعدد وزرا اور کئی اہم شخصیات کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن کو بھی اسی تناظر میں دو طرح سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک تو وہی کرپشن کے خلاف مہم کہ جس نام سے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسرا کرپشن کے نام پر ان لوگوں سے نجات جو کسی بھی حیثیت سے سعودیہ کے پالیسی شفٹ بیانئے سے متصادم ہو سکتے ہیں۔ کئی جید علما اس سے پہلے ہی سرکاری تحویل میں لئے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (9) - احسان کوہاٹی

اب عالم یہ ہے کہ سعودی عرب تو عالم ِ اسلام کا قبلہ ہے مگر خود سعودیہ کا قبلہ دھند میں لپٹا ہے۔ یہ وقت ہی بتا پائے گا کہ ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے کمال اتاترک ثابت ہوتے ہیں یا طیب اردوان۔ وطن کو قومیت کا لبادہ پہناتے پہناتے اتا ترک نے ترکی قوم کی اسلامی شناخت ہی گم کر دی تھی اور طیب اردوان نے ترکی کو نہ صرف وہ گمشدہ شناخت واپس دلانے کی ٹھانی ہے بلکہ ترکی معیشت کی کیچڑ میں پھنسی گاڑی بھی ترقی کی شاہراہ پر رواں کر دی ہے۔ ایسے میں سعودی ولی عہد سعودیہ پر چھائی بےیقینی کی اس دھند سے کیا بن کے نکلتے ہیں؟
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں