ن لیگ کو کیسی عدلیہ چاہیے - آصف محمود

جسٹس کھوسہ بنچ کے سربراہ بنائے گئے تب اعتراض اور وہ اس سے الگ ہو گئے تب بھی اعتراض۔سوال یہ ہے کہ قانون غنوں کو کیسی عدلیہ چاہیے؟۔ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں شاہ والا تبار کے سابق وزیر خارجہ جناب گوہر ایوب خان کی کتاب ''Glimpses into the Corridors of Power'' کی ورق گردانی کرنا ہوگی۔

گوہر ایوب 1997 کے نومبرکی کہانی لکھتے ہیں جب اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ صاحب نے سپریم کورٹ کو ’’شرافت کی عدالت‘‘ بنانے سے انکار کر دیا اور شاہ معظم نے اس گستاخی پر وقت کے چیف جسٹس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا۔

گوہر ایوب لکھتے ہیں:
’’وزیر اعظم اور چیف جسٹس کے درمیان کشمکش اپنے عروج پر تھی۔5 نومبر 1997 کو مجھے وزیر اعظم کی کال آئی۔وزیر اعظم نے مجھے کہا میں قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے چیمبر میں آ کر ان سے ملاقات کروں۔جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ استحقاق کمیٹی کے اراکین (نوابزادہ اقبال مہدی اور کئی دیگر)ٌ کیبنٹ روم میں موجود تھے۔وزیر اعظم نے استحقاق کمیٹی کے چیئر مین کو ہدایت کی کہ وہ ساری صورت حال مجھے بتائیں۔چیئر مین نے بتایا کہ وہ یہ چاہتے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان کو استحقاق کمیٹی کے حضور طلب کیا جائے اور وہاں استحقاق کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم بھی موجود ہوں۔میں نے انہیں بتایا کہ یہ قوانین بطور سپیکر قومی اسمبلی میں نے ہی بنائے ہیں اور قوانین میں ایسے سنگین اقدام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔آپ چیف جسٹس کو طلب نہیں کر سکتے اور اگر آپ نے انہیں طلب کرنے کی غلطی کر دی تو چیف جسٹس آپ کی اس طلبی کا ذرہ سا بھی احترام نہیں کریں گے۔اور یوں استحقاق کمیٹی اور وزیر اعظم کی توہین ہو گی۔اس کے ساتھ ہی بحث ختم ہو گئی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   آرمی چیف کسی کا بندہ نہیں ہوتا - نصرت جاوید

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ آگے کیا ہوا؟۔۔۔۔ گوہر ایوب خان صاحب کی زبانی سنیے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’وزیر اعظم نے مجھے کہا کہ میں ان کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس تک چلوں۔ کار میں وزیر اعظم نے میرے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دیے اور کہا، گوہر صاحب مجھے راستہ بتائیں کہ میں اس چیف جسٹس کو گرفتار کر سکوں اور ایک رات کے لیے اسے جیل میں ڈال دوں۔‘‘

گوہر ایوب وزیراعظم کی انا کی تسکین کے لیے راستہ نہ نکال سکے تو پھر حکمرانوں نے خود ہی ایک راستہ نکال لیا۔ یہ 27 نومبر کا دن تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان عدالت میں کیس کی سماعت کر رہے تھے کہ مسلم لیگ نون اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نون غنوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا۔ ایک صحافی دوڑتا ہوا کمرہ عدالت میں داخل ہوا اور چیف جسٹس کو بتایا کہ سپریم کورٹ پر حملہ ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری مشتاق طاہر خیلی حملہ آوروں کی قیادت کر رہے تھے اور ہجوم سپریم کورٹ کے اندر چیف جسٹس کے خلاف نعرے لگا رہا تھا اور توڑ پھوڑ کر رہا تھا۔ نیلام گھر والے طارق عزیز نے توشاہ کی وفاداری میں حد ہی کر دی۔ ایک مؤقر انگریزی روزنامے نے روایت کیا کہ ایم این اے طارق عزیز نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کاپورٹریٹ اٹھا کر پھینکا اور توڑ دیا۔

شاہ معظم کے طرز حکومت میں کسی ایسے ادارے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو ان کی جنبش ابرو پر نہ چلتا ہو۔سپریم کورٹ نے 1993میں نواز حکومت کی بحالی کا حکم سنایا تھا مگر جسٹس سجاد علی شاہ نے اس پر اختلافی نوٹ لکھا تھا۔یہی گستاخی کیا کم تھی کہ شاہ ذی وقار نے کچھ افسران کو ہتھکڑی لگوا دی لیکن چیف جسٹس کے حکم پر ہتھ کڑی کھل گئی۔اس کے بعد جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ جو کیا گیا وہ ہماری تاریخ کا ایک شرمناک باب ہے۔سپرم کورٹ کو تقسیم کر دیا گیا اور ججوں سے چیف جسٹس کے خلاف فیصلہ لے لیا گیا۔ چیف جسٹس نے سیکورٹی مانگی وزیر اعظم نے انکار کر دیا۔بعد میں جسٹس رفیق تارڑ کو صدر پاکستان بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا میاں نوازشریف کی واپسی ممکن ہے؟ عبیداللہ عابد

بات بڑی واضح ہے، انہیں عدلیہ چاہیے جو فیصلے سے پہلے پوچھے : بتا تیری رضا کیا ہے؟ اور پھر نکے بھا جی فون کر کے بتائیں کہ وڈے بھای جی کی رضا یہ ہے۔ایسی عدلیہ ہو تو قانون غنے اس کے گن گائیں گے لیکن اگر عدلیہ رضا پوچھنے سے انکار کر دے تو پھر ان عدلیہ کے ساتھ نون لیگ کا وہی رشتہ ہوتا ہے جو مشکیزے کے ساتھ تیر کا

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں