بے حرکت کہانی - رضوانہ فاروق

حرکت کرتی ہوئی کہانی کیسی ہوتی ہے سر؟
فارحہ نے الجھے ہوئے لہجے میں سر فاران علی سے پوچھا۔

فاران علی شہر کے مشہور لکھاری تھے اور اکثر نوآموز لکھاریوں کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ کسی طرح خوبصورت کہانیاں لکھنا سیکھ لے، اسی لیے ان سے ملاقات کا وقت مانگا۔ آج جب وہ ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے فارغ ہوئے تو الحمرا آرٹس کونسل کے ایک نسبتاخاموش گوشے میں اس کی تحریروں کی اصلاح کی غرض سے ایک چھوٹی سی ملاقات ٹھہری۔ فاران علی نے کاغذ پہ کاڑھے حرفوں کے پھولوں میں دھڑکتی خوشبو محسوس کی، مگر عجیب بات تھی کہ کہانی سانس تو لیتی تھی مگر اس میں کردارحرکت نہیں کرتے تھے، منظر ٹھہرا رہتا تھا، تخیل کے پانیوں میں بہاؤ نہیں تھا، سب ساکت سا تھا۔

وہ دوبارہ گویا ہوئے
''فارحہ جی! ان میں کردار ڈالیں، واقعات اور مکالمے کے تسلسل سے کہانی کو بنیں، جیسے آپ لوگ سویٹر بنتے ہیں، کبھی خانے ڈالتے ہیں، بڑھاتے ہیں اور کبھی گھٹاتے ہیں۔''
وہ سمجھاتے ہوئے بولے اور سگار کا لمبا کش لیا، دھواں مرغولوں کی صورت میں اڑا، ان کی گہری سبز آنکھیں پورے منظر پہ چھا گئیں، کچھ لمحوں کے لیے وہ بھول گئی ملاقات، آنے کا مقصد۔ اس نے سوچا جیسے وہ ان مہربان آنکھوں کو صدیوں سے جانتی ہو، ہلکی سبز پانیوں کے رنگ کی، رنگ بدلتی ہوئی، وہی تھیں یا مشابہت تھی، وہ ان آنکھوں کو کہیں پہلے بھی دیکھ چکی تھی، مسکراہٹ، آنکھوں کا رنگ اس سے ملتا ہوا تھا جس کے ساتھ زندگی جینا سیکھی تھی۔ ہوا پتوں کی پازیب پہنے سریلی گھنٹیاں بجانے میں مصروف تھی، ٹنڈ منڈ درختوں کے خالی پن کا دکھ وہ کیوں جانے بھلا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے کہیں ڈوب گئی۔

''آپ سن رہی ہیں ناں فارحہ!''
انہوں نے اسے متوجہ کیا۔
''سچے جذبوں کے اپنے رنگ ہوتے ہیں، ہمیں ان کو محسوس کرنا ہوتا ہے، اور لوگوں کے دکھوں سے خود کوگزارنا ہوتا ہے، جیسے وہ ہم پہ بیت گئے ہوں۔''
اس نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
''جی سر! جان جوکھوں کا کام ہے یہ تو۔''
وہ مسکرائے۔
''کیا آپ نے کبھی محبت کا ذائقہ چکھا؟''
آنکھوں کے سمندر میں اسرار کی لہریں ابھریں، اور وہ بس اتنا کہہ پائی،
''جی سر!''
تو بس وہی گھول کر سب کو پلا دیں۔
کیا جان لیوا مسکراہٹ تھی، کیا واقعی آنکھیں روح کی کھڑکیاں ہوتی ہیں، کبھی ہم اپنی گم شدہ چیزوں کو دوسروں میں بےوجہ کھوجتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کیا کیوں کیسے؟ - ڈاکٹر محمد عقیل

جب ایک کھویا ہوا انسان تھوڑا سا بھی دوسرے میں سے نظر آئے تو ہمارے احساس تشنگی کی تسکین ہوتی ہے۔ مماثلت میں سے انسیت کے نغمے پھوٹتے ہیں۔ فارحہ کا دل چاہا کہ سر فاران علی کو بتائے کہ آپ کی آنکھیں اس کی آنکھوں کے رنگ کی ہیں، ہلکی سبز، جن میں اتر کے میں نے محبت کی عظیم دیوی کے قدموں کو چھوا۔ مجھے اس کی سنگت میں لگا کہ میں کسی بحری جہاز کے عرشے پہ ہوں، اور کائنات ایک نرم سمندر کی طرح میرے پاؤں کے نیچے پر سکون بہہ رہی ہے، جھاگ اڑاتی جل پریاں نرم موجوں سے کھیل رہی ہیں۔ محبت ہماری روح میں چھپے تنہائی کے زرد جنگل کو آن ہی آن میں ہرا کر دیتی ہے، پر موسم کبھی ٹھہرتے تھوڑی ہیں، سب بیت جاتا ہے اور ہم عمر بھر ان کی قیمت چکاتے رہتے ہیں۔

سر فاران ایک کال میں مصروف تھے، اور وہ اپنے خیالات کے پھول چننے میں مگن، اچانک تتلیوں کے پیچھے بھاگتے بچوں پہ اس کی نظر پڑی، اسے اپنا لخت جگر یاد آیا جو اس کی مدد کے بغیر ہلنے جلنے سے قاصر تھا۔ اللہ جانے آیا نے اس کی مالش کی ہوگی، اسے کھانا وقت پہ دیا ہوگا یا نہیں؟ بےچینی سے اس نے کاغذ اور قلم سمیٹا اور سر سے اجازت چاہی۔

آپ کے کتنے بچے ہیں؟ سر نے اس سے ذاتی سوال پوچھا،
ایک ہی بیٹا ہے سر!
میں آپ کو ڈراپ کر دوں گھر، آپ کے بیٹے سے بھی مل لیں گے، اور شوہر سے بھی،
نہیں سر! میرے شوہر تو سعودیہ ہوتے ہیں، ان کی جاب ہے وہاں، اس نے جلدی سے بات بنائی۔
وہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ محبت کے تحفوں کو سینے سے لگانے کی ذمہ داری اکیلے اسی کی تھی۔
سبز آنکھیں مسکرائیں، ''اوکے! جیسے آپ مناسب سمجھیں.۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ سر فاران علی یہ جان جائیں کہ کہانیوں میں بعض اوقات کردار اور مکالمے کیوں حرکت نہیں کرتے، کہانی جامد کیسے ہو جاتی ہے۔ اس نے تیزی سے بھاگ جانے میں عافیت جانی۔ ممتا بھرے دل سے بڑی کون سی کہانی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سراب زندگی (3) - احسن سرفراز

شادی کے پانچ سال تو ہنستے کھیلتے گزر گئے تھے، پھر جب قدرت نےجھولی بھری تو ایک سانس لیتا ہوا وجود مگر معذور اسے عطا ہوا۔ ممتا نے بڑھ کر اسے یوں سینے سے لگایا کہ کسی اور کا احساس ہی نہ رہا، دن رات اسی کاخیال رہتا۔ ہائے ننھی سی جان، ٹھیک تو ہے؟ کیسے ٹھیک ہوگا؟ کیسے جیے گا؟ کیسے کیسے دن رات ہسپتال اور معالج، دوائیاں، دعائیں اور نسخے۔ وقف ہوگئی وہ تو، ایک بےچینی، تڑپ اور مسلسل خدمت، اس کی بےطرح خدمت نے اسے دنیا بھلا دی، حتی کہ محبت کرنے والا اس کی عدم توجہی کو وجہ بنا کر اسے چھوڑ کے پردیس نکل گیا تھا، اور وہ محبت کو، وفا کی صورت دینے کو تنہا رہ گئی۔

مرد چاہے تو اس کے پاس راہ فرار کے ہزار راستے، مگر عورت اس معاملے میں مختلف ہے، کیونکہ اس کے وعدے کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے ہوتے ہیں۔ جذبوں کے تار عنکبوت سے بندھی ہوئی وہ کہاں بھاگتی۔ گھر پہنچی تو لخت جگر منتظر تھا، اس کی آنکھوں کا رنگ بالکل فارحہ جیسا تھا۔ کالی رات میں چمکتے جگنوؤں کی طرح، بھلے اس کا وجود دنیا والوں کے لیے ایک بےحرکت کہانی ہو، مگر فارحہ کی زندگی کا محور و مرکز وہی تھا، اس کا پیارا لاڈلا، سات جنم بھی ہوتے تو وہ اس پہ وار دیتی۔ محبت سے دیوانہ وار گلے سے لگاتے ہوئے اس نے بھرپور یقین سے سوچا، ایک دن آئےگا جب میرا لاڈلا بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ دعا روشنی بن کر پوری کائنات میں پھیلتی گئی۔ جب زندگی ایک لمبے عرصے تک ایک ہی صبرآزما صورت حال میں تقدیر کی بےرحم قید میں مصلوب دکھائی دے تو صرف امید ہی دعا بن کر اس سے نکالنے کی کوئی سبیل ڈھونڈتی ہے، اور بےحرکت کہانی میں نیا موڑ شامل ہوتا ہے۔

سر فاران کے بولے ہوئے تجربہ کار الفاظ نے اسے ڈھارس بندھائی۔ کبھی کبھی کسی انجانے کی ذرا سی اپنائیت اور تسلی کے دو حروف وہ کام کر جاتے ہیں جو بڑے سے بڑا مرہم بھی نہیں کرتا۔ فارحہ اپنے بستر سے اٹھی اور ایک نئے عزم سے کہانیوں کے نئے اسلوب دریافت کرنے لگی۔

Comments

رضوانہ فاروق

رضوانہ فاروق

رضوانہ فاروق شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔ دعا عظیمی کے قلمی نام سے لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں